اسلام

خاصیات ابواب کا بیان

    خاصیات خاصیۃ کی جمع ہے اس سے مراد کسی فعل کے وہ زائد معنی ہیں جو اس کے مادے کے معنی کے علاوہ ہوں مثلا: لَبَنٌ کے معنی صرف”دودھ”کے ہیں اور اَلْبَنَتِ النَّاقَۃُ۔ کے معنی ہیں:(اونٹنی دودھ والی ہوگئی)اس میں ”دودھ والی ہونے”کے معنی زائد ہیں۔
تنبیہ:
    (۱)۔۔۔۔۔۔خیال رہے اس باب میں خاصیت یا خاصہ کے وہ معنی مراد نہیں جو مناطقہ کے یہاں مشہورہیں یعنی: ”خَاصَّۃُ الشَّيْءِ مَایُوجَدُ فِیْہِ وَلَایُوْجَدُ فِيْ غَیْرِہٖ”۔ بلکہ یہاں اس کے وہی معنی ہیں جو اوپر ذکر کیے گئے اس لیے کہ بہت سے خواص متعدد ابواب میں مشترک ہیں۔
    (۲)۔۔۔۔۔۔اس باب میں”ماخذ”سے مراد فعل کا مادہ اشتقاق (جس سے فعل بنایا گیاخواہ وہ مصدر ہو یا اسم جامد )ہوگا۔
    (۳)۔۔۔۔۔۔” مدلول ماخذ”سے مراد وہ معنی ہیں جس پرماخذ دلالت کرے مثلاً : اَلْبَنَتِ النَّاقَۃُ۔ میں فعل”اَلْبَنَتْ ”کا ماخذ”لَبَنٌ”ہے اور مدلول ماخذوہ ہے جس پر لفظ”لَبَنٌ ”دلالت کررہاہے یعنی(دودھ)
    (۴)۔۔۔۔۔۔اس باب میں ذکر، ماخذ کاکیا جائے گا اور مراد ہر جگہ مدلول ماخذ ہی ہوگا۔ مثلاً :فاعل کے صاحب ماخذہونے کی مثال میں کہا جائے: ”اَلْبَنَتِ النَّاقَۃُ” تو اس کا مطلب ہوگا: ”اونٹنی دودھ والی ہوگئی ” نہ یہ کہ ”اونٹنی لفظ لبن والی ہوگئی”۔ وَھُوَظَاہِرٌجَلِيٌّ غَیْرُخَفِيٍّ۔
    بیان امثلہ میں ہرفعل کے ساتھ اس کاماخذاورماخذکے ساتھ قوسین میں مدلول ماخذبھی ذکر کر دیا جائے گا۔ اِنْ شَاءَ اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ۔
    (۵)۔۔۔۔۔۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ خاصیات میں بیان کیے جانے والے تمام معانی، سماعی ہیں ،قیاس کواس میں دخل نہیں ۔
    (۶)۔۔۔۔۔۔یہ بھی دھیان رہے کہ ضروری نہیں کہ کسی فعل میں ایک وقت میں ایک ہی خاصہ پایاجائے بلکہ ایک وقت میں ایک سے زائدخواص بھی پائے جاسکتے ہیں جیسے: اَخْرَجْتُ زَیْداً۔  (میں نے زید کونکالا)اس میں تعدیہ اورتصییر دونوں خواص پائے جارہے ہیں۔
    تعد یہ اس طرح کہ خَرَجَ (مجرد)لازم تھا اور باب اِفْعَالٌ میں آکر متعدی ہوگیا، اور تصییر اس طرح کہ اس میں مفعول کو صاحب ماخذکرنے کامعنی بھی پایا جار ہا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں: جَعَلْتُ زَیْداً ذَاخُرُوْجٍ۔  (میں نے زید کوخروج والاکردیا)۔
(۱) باب ضرب یضرب
(۱)۔۔۔۔۔۔قطع ماخذ:
    فاعل کا ما خذ کوکا ٹنا۔ جیسے : خَلَیْتُ۔( میں نے تر گھاس کاٹی ) (اس مثال میں ”تُ” ضمیرفاعل اور ماخذلفظ اَلْخَلَی اورمدلول ماخذ((ترگھاس)) ہے )۔
(۲)۔۔۔۔۔۔اعطاء ماخذ:
    فاعل کا مفعول کو ماخذدینا۔ جیسے: اَجَرْتُ الْمَرْءَ۔ (میں نے مرد کو اجرت دی ) (اس مثال میں”تُ” ضمیر فاعل ، الْمَرْءَ مفعول اورماخذ لفظاَلْاُجْرَۃُ ((بدلہ)) ہے )۔
(۳) ۔۔۔۔۔۔ اطعام ماخذ :
    فاعل کا مفعول کو ماخذکھلانا ۔جیسے: تَمَرْتُہُمْ۔ ( میں نے ان کو کھجور کھلائی ) (اس مثال میں”تُ” ضمیر فاعل ، لفظ ھُمْ مفعول ،اورماخذ لفظ تَمْرٌ((کھجور)) ہے)۔ 
(۴)۔۔۔۔۔۔سلب ماخذ:
    فاعل کا مفعول سے ماخذ کو دور کر دینا۔ جیسے:مَرَضَ الطَّبِیْبُ الْمَرْءَ
۔(طبیب نے مر دسے بیماری کو دور کردیا ) (ماخذلفظ مَرَضٌ((بیماری))ہے)۔
(۵)۔۔۔۔۔۔اتخاذ ماخذ:
    فاعل کا مفعول سے ماخذ لینا ۔جیسے:عَشَرَالْمَالَ ۔(اس نے ما ل کا دسواں حصہ لیا) (ماخذ لفظ عُشْرٌ((دسواں حصہ)) ہے)۔
(۲) باب سمع یسمع
(۱)۔۔۔۔۔۔صیرورت :
    فاعل کا صاحب ماخذ ہوجانا۔ جیسے:مَرِضَ الْمَرْءُ۔ (مردصاحبِ مرض(بیمار)ہوگیا) (ماخذ لفظ مَرَضٌ((بیماری)) ہے)۔
(۲)۔۔۔۔۔۔تألم ماخذ :
    فاعل کا ماخذ میں اَ لَمٌ ((درد))والاہونا۔ جیسے:ظَہِرَ الْمَرْءُ ۔(مرد پیٹھ میں درد والا ہوگیا) (ماخذ لفظ ظَھْرٌ((پیٹھ)) ہے)۔
(۳)۔۔۔۔۔۔تحول :
    فاعل کا ماخذ بن جانا(حقیقۃً یا وصفاً)۔ جیسے:اَسِدَ زَیْدٌ۔ (زید اوصاف میں شیر کی طرح ہوگیا)حَجِرَالطِّیْنُ۔ (مٹی پتھر بن گئی)(ماخذ لفظ اَسَد((ششیر))اورحَجَرٌ((پتھر)) ہیں)۔
 (۴)۔۔۔۔۔۔تعمل ماخذ :
    فاعل کا ماخذ کو کسی کام میں لانا ۔جیسے: کَلِئَتِ النَّاقَۃُ۔  (اوٹنی گھاس کو کام میں لائی یعنی :اس نے اسے کھایا )(ماخذ لفظ اَلْکَلَأُ((خشک یاترگھاس))ہے) ۔ 
(۵)۔۔۔۔۔۔اتخاذ ماخذ:
    فاعل کاماخذ لینا۔ جیسے:غَنِمْتُ (میں نے غنیمت حاصل کی )(ماخذ لفظ اَلْغُنْمُ ((مال غنیمت))ہے) ۔ 
                (۳) باب نصر ینصر 
(۱)۔۔۔۔۔۔صیرورت :
    فاعل کا صاحب ماخذ ہو جانا۔ جیسے:بَابَ زَیْدٌ۔ ( زیدصاحب دروازہ (دربان)بن گیا)(اس میں ماخذلفظ بَابٌ((دروازہ))ہے)۔ 
(۲)۔۔۔۔۔۔قطع ماخذ:
    فاعل کا ماخذ کو کاٹنا۔ جیسے :حَشَشْتُ۔ (میں نے خشک گھاس کاٹی )(ماخذلفظ حَشِیْشٌ ((خشک گھاس))ہے)۔
(۳)۔۔۔۔۔۔تعمل ماخذ:
    فاعل کا ماخذ کو کام میں لانا۔جیسے:قَلاَ زَیْدٌ۔ (زید گلی ڈنڈے کو کام میں لایا یعنی:وہ اس سے کھیلا )(ماخذلفظ اَلْقُلَۃُ ((گلی ))ہے)۔
(۴)۔۔۔۔۔۔سلب ماخذ:
    فاعل کا مفعول سے ماخذ کو دور کرنا ۔جیسے:قَشَرْتُہ،۔ (میں نے اس سے چھلکا دور کردیا یعنی:ا تاردیا)(ماخذلفظ قِشْرٌ((چھلکا))ہے)۔
 (۵)۔۔۔۔۔۔اتخاذ ماخذ:
    فاعل کا ماخذ بنانا۔ جیسے:مَرَقَتِ الْمَرْأَ ۃُ ۔(عورت نے شوربہ بنایا ) (ماخذلفظ اَلْمَرَقُ((شوربہ))ہے )۔
(۴) باب فتح یفتح 
(۱)۔۔۔۔۔۔صیرورت :
    فاعل کا صاحب ماخذ ہو جانا۔ جیسے: لَعَبَ الصَّبِیُّ۔ ( بچہ صاحب لعاب ہوگیا ) (ماخذ لفظ لُعَابٌ((رال))ہے)۔ 
(۲)۔۔۔۔۔۔اعطاء ماخذ :
    فاعل کا مفعول کو ماخذ دینا ۔جیسے:نَحَلَ الزَّوْجُ الْمَرْأَۃَ ۔(خاوند نے اپنی زوجہ کو مہردیا ) (ماخذلفظ نِحْلَۃٌ((مہر))ہے)۔ 
(۳) ۔۔۔۔۔۔اطعام ماخذ :
    فاعل کا مفعول کو ماخذ کھلانا۔ جیسے:لَحَمْتُ الضِّیْفَانَ۔(میں نے مہمانوں کو گوشت کھلایا )(ماخذلفظ ”لَحْمٌ”((گوشت))ہے)۔ 
(۴)۔۔۔۔۔۔سلب ماخذ:
    فاعل کا مفعول سے ماخذ کو دور کرنا۔ جیسے:حَمَأْتُ الْبِئْرَ۔(میں نے کنویں سے کیچڑکو دور کردیا یعنی نکال دیا)(ماخذلفظ اَلْحَمَأُیااَلْحَمْأَۃُ((کیچڑ))ہے)۔ 
(۵)۔۔۔۔۔۔اتخاذ ماخذ:
    فاعل کا ماخذ بنانا۔ جیسے:جَدَرَالْمِعْمَارُ۔ (مزدورنے دیوار بنائی )(ماخذلفظ جِدَارٌ((دیوار))ہے)۔
(۵) باب کرم یکرم 
(۱)۔۔۔۔۔۔صیرورت:
    فاعل کا صاحب ماخذ ہونا۔جیسے: مَحُضَ نَسْبُ الرَّجُلِ۔  ( مردکانسب خالص ہے ) (ماخذلفظ مَحْضٌ((خالص ہونا))ہے)۔ 
(۲)۔۔۔۔۔۔تالم ماخذ:
    فاعل کا ماخذ میں اَلَمٌ ((درد ،تکلیف))پانا۔جیسے: رَحُمَتِ النَّاقَۃُ۔  (اونٹنی کو رحم میں تکلیف ہوئی)(ماخذلفظ رَحِمٌ یا رِحْمٌ((بچہ دانی))ہے)۔ 
(۳)۔۔۔۔۔۔لزوم:
    فعل کا لازم ہونا ( یہ اس باب کا خاصہ لازمہ ہے یعنی: یہ باب ہمیشہ لازم آتا ہے) جیسے: کَرُمَ (بزرگ ہوا وہ)(ماخذلفظ کَرَامَۃٌ((بزرگ ہونا))ہے)۔
(۴)۔۔۔۔۔۔تحول:
    فاعل کا ماخذکی طرف پھر جانا ۔جیسے: جَنُبَتِ الرِّیْحُ ۔(ہوا جَنوب کی طرف پھر گئی یعنی:جَنوب کی طرف سے چلنے والی ہوگئی )(ماخذلفظ جَنُوْبٌ((مخصوص سمت)) ہے)۔
(۵)۔۔۔۔۔۔بلوغ:
    فاعل کا ماخذ تک پہنچنا ۔جیسے: صَلُبَ الرَّجُلُ ۔ (مرد سختی کرنے تک آ پہنچا ) (ماخذ لفظ صَلَابَۃٌ((سختی))ہے)۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!