شَفاعَت واجِب ہوگئی

شَفاعَت واجِب ہوگئی 

حضرتِسَیِّدُنا رُوَیفَع بن ثابِت  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں  کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:
 ’’جس شخص نے یہ دُرُود شریف پڑھا : ’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃ‘‘تو اس کیلئے میری شفاعت واجب ہوگئی ۔‘‘(معجم کبیر،رویفع بن ثابت الانصاری،۵  / ۲۶،حدیث :۴۴۸۰ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس دُرُود کو یاد کرلیجئے اور اُٹھتے بیٹھتے ،چلتے پھرتے کثرت کیساتھ پڑھتے رہئے اجِسکی برکت سے روزِ قیامت ہم گُناہ گاروں  کو رَحْمَۃُ لِّلْعٰلمِیْن، شفیعُ المُذْنبین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت نصیب ہوگی ۔ اس کے علاوہ دُرُودپاک کے بے شُمار فوائد میں  سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہدُرُودپاک  کی بَرَکت سے دُعائیں  قَبول ہوتی ہیں  جیساکہ 
Advertisement

قَبُولیتِ دُعا کا پَروانہ 

حضرتِ سَیِّدُنافُضَالہ بن عُبَید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ 

الْمُبلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (مسجد میں  ) تشریف فرما تھے کہ ایک آدَمی آیا، اس نے نماز پڑھی اور پھر ان کَلِمات سے دُعا مانگی : ’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ ،یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رَحم فرما۔ ‘‘ رسولُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ عَجِلْتَ اَیُّہَاالْمُصَلِّیْ اے نمازی تُو نے جلدی کی۔ اِذَاصَلَّیْتَ فَقَعَدْتَّ فَاحْمِدِ اللّٰہَ بِمَا ہَُوَاَہْلُہٗ وَصَلِّ عَلَیَّ ثُمَّ ادْعُہٗ،جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو (پہلے ) اللّٰہتعالیٰ کی ایسی حَمد کر جواس کے لائق ہے اور مجھ پر دُرُودِپاک پڑھ، پھر اسکے بعد دُعا مانگ۔‘‘

راوی کا بیان ہے کہ اسکے بعدایک اور شخص نے نماز پڑھی ،پھر(فارِغ ہوکر ) اللّٰہتعالیٰ کی حَمدبیان کی اورحُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام پر دُرُودپاک  پڑھا تو سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ اَیُّہَا الْمُصَلِّی اُدْعُ تُجَبْ،اے نمازی ! تُو دُعا مانگ ، قبول کی جائے گی۔‘‘ (ترمذی کتاب الدعوات، ‚باب‚ماجاء فی جامع الدعوات…لخ۵/۲۹۰ حدیث:۳۴۸۷) 
بیان کردہ رِوایت سے معلوم ہوا کہ اگر دُعا مانگنے والا قَبُولیت کا طالب ہے تو اس پر لازم وضروری ہے کہ دُعا کے اَوَّل وآخر نبیِّکریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسْلِیمپر دُرُودپاک پڑھا کرے جیساکہ 

دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ 318 صفحات پر مشتمل کتاب’’فضائلِ دعا‘‘صفحہ68پر والدِ اعلیٰ حضرت،رئیسُ الْمُتَکَلِّمِین حضرتِ علّامہ مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالمنّان دُعا کے آداب بیان کرتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں ’’ اَوَّل وآخر نبی صلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہ  وَسَلَّم اور اِن کے آل واَصحاب پر دُرُود بھیجے کہ دُرُود اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  مَقْبول ہے اور  پَرْوَرْدْگار کریم اس سے برتر کہ اَوَّل وآخر کو قبول فرمائے اور وسط (دَرمیان) کو رد کردے۔‘‘

زَمین وآسمان کے دَرمیان مُعلَّق دُعا

حضرت سَیِّدُنا عُمَربن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :’’اِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوْفٌ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْئٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،یعنی دُعا زمین وآسمان کے دَرمیان روکی جاتی ہے جب تک تُو اپنے نبیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمپر دُرُود نہ بھیجے بلند  نہیں   ہوپاتی۔‘‘ (ترمذی، کتاب الوتر، باب ما جاء فی فضل الصلاۃ علی النبی…الخ، ۲/ ۲۸،حدیث: ۴۸۶) اسکے حاشیے میں  میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلسُنَّت مُجدِّدِدین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰن ارشاد فرماتے ہیں:بلکہ بَیہقی وابُو الشیخ سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے راوی،حُضُورسَیِّدُالْمُرسَلِین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   فرماتے ہیں:’’اَلدُّعَاءُ مَحْجُوْبٌ عَنِ اللّٰہِ حَتّٰی یُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَہْلِ بَیْتِہٖیعنی دُعا اللّٰہتعالیٰ سے حِجاب میں  ہے جب تک محمد  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کے
 اَہلِ بیت پر دُرُود نہ بھیجا جائے۔‘‘ (کنز العمال،کتاب الأذکار‚الباب‚الثامن فی الدعاء۱/ ۳۵، الجزء الثانی،حدیث: ۳۲۱۲)اے عزیز! دُعا طَائِر ہے اور دُرُود شَہْپَر، طائر بے پَر کیا اُڑ سکتاہے! 
پرندے کے بازُو کا سب سے بڑا پَرکہ جس کے بغیر کوئی پرندہ پرواز  نہیں   کرسکتا اسے شَہْپر کہا جاتا ہے ۔ یعنی دُعا ایک پرندہ اور دُرُودِ پاک اسکے شَہْپر کی مانِنْد ہے لہٰذا ایسا پرندہ جس کا شَہْپر ہی نہ ہو وہ کیا اُڑے گا ایسے ہی وہ دُعا جو دُرودِ پاک سے خالی ہو کیونکر مَقبُول ہوسکتی ہے! (فضائلِ دُعا،ص۶۹)
لہٰذاہمیں  بھی اپنی دُعا کی اِبتداواِنتہا میں  نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ طیبہ پر دُرُودپاک پڑھنے کی عادت بنالینی چاہیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اسکی بَرَکت سے ہماری دُعائیں  بارگاہِ الہٰی میں  مَقبُول ہوں  گی۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہتعالیٰ کے مَعصُوم فِرِشتے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رَوضۂ انور پر حاضری دے کردُرُدوسلام کا تُحفہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں  ۔چنانچہ 

دَربارِ نبی میں  فِرِشْتوں  کی حاضِری

حضرتِسَیِّدُناابنِ وَہَب رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِسے روایت ہے کہ حضرتِ

 سَیِّدُنا کَعب  رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی خِدْمَت میں  حاضِر ہوئے ۔ لوگوں  نے رسُول اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا تذکرہ کیا تو حضرتِ سَیِّدُناکَعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’ہر دن ستَّر ہزار فِرِشتے اُترتے ہیں  جو رسُولُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قَبر شریف کو گھیرلیتے ہیں  اپنے پر بچھادیتے ہیں  اور رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر  دُرُودشریف پڑھتے رہتے ہیں  ، حتّٰی کہ جب شام پاتے ہیں  تووہ چڑھ جاتے ہیں  اور ان کی مِثْل(دوسرے فِرِشتے) اُترتے ہیں  وہ بھی اِسی طرح کرتے ہیں  ’’حَتّٰی اِذَاانْشَقَّتْ عَنْہُ الْاَرْضُ خَرَجَ فِی سَبْعِیْنَ اَلْفًا مِّنَ الْمَلَائِکَۃِ یَزِفُّوْنَہٗ، حتیّٰ کہ جب زمین کھلے گی توحُضُور ستَّرہزارفِرِشتوں  میں  نکلیں  گے جوحُضُورکو پہنچائیں  گے۔ ‘‘(مشکاۃ،کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق،باب الکرامات، ۲/۴۰۱ ،حدیث: ۵۹۵۵)

اس روایت کے تحت  مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحنّان ارشاد فرماتے ہیں  :’’خیال رہے کہ ہمیشہ سارے ہی فِرِشتے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجتے ہیں  مگر یہ ستَّرہزارفِرِشتے وہ ہیں  جن کو عمر میں  ایک بار حاضِریٔ دَربار کی اِجازَت ہوتی ہے۔ یہ حضرات حُضُور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بَرَکت حاصل کرنے کو حاضِری دیتے ہیں  ۔ جوفِرِشتہ ایک بار حاضِری دے جاتا ہے اسے دوبارہ حاضِری کا شَرف  نہیں   ملتا ۔
 ساری عمر میں  صِرف چند گھنٹے یعنی آدھے دن کی حاضِری نصیب ہوتی ہے۔ یَزِفُّوْن بنا ہے زَفٌّ سے، زَفٌّ کے معنیٰ ہیں  : محبوب کو محبوب تک پہنچانا،اسی سے ہے  زَفَاف (یعنی رخصتی ) کہ اس میں  دُولہا کو دُلہن کے گھر تک پہنچایا جاتا ہے،یعنی قِیامت کے دن اس دن کی ڈیوٹی والے فِرِشتے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دُولہاکی طرح اپنے جُھرمٹ میں  لے کر رَبّ تعالیٰ تک پہنچائیں  گے۔ ‘‘(مراٰۃ، ۸ /۲۸۲تا ۲۸۳)
میرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اَہلسُنَّت مُجدِّدِدین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ’’حدائقِ بخشش شریف‘‘ میں  اسی بات کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے کیا خُوب ارشاد فرماتے ہیں  :
سَتّر ہزار صبح ہیں  سَتّر ہزار شام
یوں  بندگِیٔ زُلف و رُخ آٹھوں  پہر کی ہے
جو ایک بار آئے دوبارہ نہ آئیں  گے
رُخصَت ہی بار گاہ سے بس اس قَدَر کی ہے
تڑپا کریں  بدل کے پھر آنا کہاں  نصیب
بے  حُکْم کب مجال پرندے کو پَر کی ہے
اے وائے بے کسی تمنّا کہ اب اُمید
دن کو نہ شام کی ہے نہ شب کو سَحر کی ہے

یہ بدلیاں  نہ ہوں  تو کروڑوں  کی آس جائے

اور بارگاہ مرحمتِ عام تر کی ہے
مَعْصُوموں  کو تو عُمر میں  صِرف ایک بار ،بار
عاصِی پڑے رہیں  تو صَلا عُمر بھر کی ہے (حدائقِ بخشش، ص۲۲۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دن ہویارات ہمیں  اپنے مُحسن وغمگسار آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردُرُدوسلام  کے پُھول نِچھاور کرتے ہی رہنا چاہیے۔ اِس میں  ہرگز کوتاہی  نہیں   کرنی چاہے ۔یُوں  بھی سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ہم پر بے شُماراِحسانات ہیں  ۔ بَطَنِ سَیِّدہ آمنِہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے دُنیائے آب و گِل میں  جَلوہ اَفروز ہوتے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سَجدہ فرمایا اور ہونٹوں  پر یہ دُعا جاری تھی:رَبِّ ھَبْ لِیْ اُمَّتِییعنی پَرْوَرْدَگار! میری اُمَّت میرے حوالے فرما۔(فتاوی رضویہ،۳۰/۷۱۲)
امام زرقانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبَّانی نَقْل  فرماتے ہیں  :’’ اُس وَقْت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُنگلیوں  کو اِس طرح اُٹھا ئے ہوئے تھے جیسے کو ئی گِرْیَہ وزاری کرنے والا اُٹھا تا ہے۔‘‘(زرقانی علی المواہب،ذکرتزویج عبداللّٰہ آمنۃ،۱/ ۲۱۱)
حدیث شریف میں  ہے:آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: 

’’یَااُمَّ ہَانِیْ اِنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَام اَخْبَرَنِیْ فِیْ مَنَامِیْ اَنَّ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَہَبَ لِیْ اُمَّتِیْ کُلَّہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘اے اُمِّ ہانی! جِبریل (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے مُجھے سوتے میں  خَبر دی کہ میرا رَبّ قیامت کے دن میری ساری اُمَّت (کامعاملہ ) میرے سِپُرد کردے گا۔‘‘(تفسیرمقاتل،۲/۹ ۳۴)

’’رَبِّ ھَبْ لِی اُمَّتِی‘‘کہتے ہوئے پیدا ہوئے
حق نے فرمایا کہ بخشا ’’الصَّلٰوۃُ والسَّلام ‘‘(قبالۂ بخشش ،ص۹۴)
اِسی طرح رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفرِمِعراج پر روانگی کے وقت اُمَّت کے عاصِیوں  کو یاد فرما کر آبدیدہ ہوگئے، دیدارِ جمال خداوندی عَزَّوَجَلَّاور خصُوصی نواز شات کے وقت بھی گُنہگارانِ اُمَّت کو یاد فرمایا ۔ (بخاری، کتاب التوحید،باب قولہ تعالٰی وکلم اللّٰہ موسٰی تکلیمًا،۴/ ۵۸۱، حدیث:۷۵۱۷ مفہوماً) عُمر بھر(وقتافوقتا) گُنہگارانِ اُمَّت کے لیے غمگین رہے۔ (مسلم، باب دعاء النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملامتہ وبُکائہ شفقۃ علیہم،ص۱۳۰،حدیث:۳۴۶ مفہومًا) جب قَبر شریف میں  اُتارا لبِ جاں  بخش کو جُنْبِش تھی ،بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوان نے کان لگا کرسُنا، آہستہ آہستہ اُمَّتِیْ (میری اُمَّت) فرماتے تھے۔ 
قِیامت میں  بھی اِ نہیں   کے دامن میں  پناہ ملے گی، تمام اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامسے ’’نَفْسِی نَفْسِی اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِی‘‘(یعنی آج مجھے اپنی فکر ہے کسی اور کے پا س چلے جاؤ )سُنو گے اوراس غَمْخوارِ اُمَّت کے لب پر ’’یَارَبِّ اُمَّتِیْ
 اُمَّتِیْ‘‘ (اے رَبّ !میری اُمَّت کو بخش دے ) کا شور ہوگا۔ (مسلم،باب ادنی اہل الجنَّۃ منزلۃ فیہا، ص۱۲۶ ، حدیث:۳۲۶ )
لہٰذا مَحَبَّت اور عَقیدت بلکہ مُروَّت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ غَمْخوارِ اُمَّت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یاد اوردُرُدوسلام  سے کبھی غَفْلَت نہ کی جائے۔
جو نہ بھُولا ہم غریبوں  کو رضا
ذِکر اُس کا اپنی عادت کیجئے (حدائقِ بخشش ،ص۱۹۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہم سے کس قَدرمَحَبَّت فرماتے ہیں  کہ ہر وقت اپنی گُناہ گار اُمَّت کی بخشش کے لیے اپنے رَبّ کے حُضُور التجائیں  اور دُعائیں  کرتے ہیں  یقینا آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہم پربے شُمار احسانات ہیں  ۔ مگر یہ کب مُمکن ہے کہ ہم اُن کا شکریہ ادا کرسکیں  ۔ بس اِتنا ہی کریں  کہ اُن پردُرُدوسلام  کے تُحفے بھیجا کریں  یعنی آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حق میں  دُعائے رَحمت کیا کریں ۔ جیسے فُقرا سخی داتا کو دعائیں  دیتے ہیں  ۔ 
شُکر ایک کرم کا بھی اَدا ہو  نہیں   سکتا
دِل تم پہ فِدا جانِ حسن تم پہ فِدا ہو (ذوقِ نعت، ص۱۴۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جوخُوش نصیب لوگ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر

 دُرُدوسلام بھیجنے کو وظِیفہ بنالیتے ہیں  اور لوگوں  کو بھی دُرُودپاک پڑھنے کی ترغیب دِلاتے ہیں  ، زِندَگی بھر سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عَظْمَتو مَحَبَّت کا دَرس دیتے ہیں  اور لوگوں  کو عشقِ رسُول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رَنگ میں  رَنگ دیتے ہیں  ، جب وہ اَہلِ دُرُود اور اَہلِمَحَبَّت اس دُنیائے فانی سے عالَمِ جاوِدانی کی طرف سَفر کرتے ہیں  تو اُن پر کیسا کرم ہوتا ہے، آئیے اس کی ایک جھلک مُلاحَظَہ فرمائیے۔

قَبْرسے مُشْک کی خُوشبُو!

حضرتِ سَیِّدُنا ابُوعَبْدُاللّٰہ مُحمَّدبن سُلیمان اَلجُزُوْلی  عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے دُرُود شریف کی بہت ہی جامع کِتاب بنام  ’’دَلائِلُ الْخَیْرات‘‘ لکھی ہے جو بہت ہی مشہور اور اَہلِ مَحَبَّت میں  کافی مَقبول ہے۔ چُنانچہ صاحب ِ’’مَطَالِعُ الْمَسَرَّات‘‘ لکھتے ہیں  : ’’یہی وہ حضرتِ شیخ جزولی ہیں  جن کے مُتعلِّق یہ بات پایۂ ثُبوت تک پہنچ چُکی ہے کہ آپ کی قبرِ اَنور سے کستُوری (یعنی مُشک ) کی خُوشبُو مَہکتی تھی کیونکہ آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اپنی زِندگی میں  دُرُودِپاک بہت زِیادہ پڑھا کرتے تھے۔‘‘ (مطالع المسرات مترجم،ص۵۴)

 77 سال بعد بھی جِسم سَلامَت 

آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکے وصال کے ستتر(۷۷)سال کے بعد آپ 

کے جسدِمُبارک کو مقامِ ’’سَوْس‘‘ سے’’ مراکش‘‘منتقل کرنے کے لیے قَبر سے نکالا گیا تو آپ کا کَفنِ مبارک بھی بوسیدہ نہ ہوا تھا۔ آپ کا جسمِ مبارک بالکل صحیح و سالم تھا۔ وِصال سے قَبْل آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے داڑھی مُبارک کاخَط بنوایا تھا، ایسا لگتا تھا جیسے آج ہی خَط بنوا کر لیٹے ہیں  ۔ بلکہ کسی نے اِمتحاناً آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے رُخسارِ مُبارک کو اُنگلی رکھ کر دَبایا، جب اُنگلی اُٹھائی تو اُس جگہ سے خُون ہٹ گیا اور وہ جگہ سفید ہوگئی، جیسے زِندوں  کا ہوتا ہے۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ جگہ سُرخ ہوگئی ( یعنی جس طرح زِندوں  کے جسم میں  خُون رَواں  ہوتاہے اور دبانے سے یُوں  ہی ہوتا ہے) اور یہ ساری بہاریں  دُرُودِپاک کی کثرت کی بَرَکت سے ہیں  ۔(مطالع المسرات مترجم،ص۵۴ملخصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فُضُول وبیکار باتوں  کی عادت چُھڑاکر اپنی زبان کو ذِکر ودُرُود، تِلاوَت ونعت اور دیگر اچھی باتوں  کا عادی بنانے کیلئے ہر دَم تبلیغِ قُرآن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوتِ اِسلامی کے مُشکبارمَدَنی ماحول سے وابَستہ رہئے ۔ اپنے اپنے شہروں  میں  ہونے والے ہفتہ وار اِجتِماعات میں  اَوَّل تا آخر شِرکَت کو اپنا مَعمول بنالیجئے۔ہراِسلامی بھائی اپنا یہ مَدنی ذِہن بنائے کہ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں  کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے۔‘‘ اپنی اِصلاح کی کوشش کیلئے مَدَنی اِنعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں  کی

 اِصلاح کی کوشش کیلئے مَدنی قافِلوں  میں  سَفر کرنا ہے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّعاشقان رسول کے ساتھ مدنی قافلے میں  سَفرکی بڑی بَرَکتیں  ہیں  ،بے شُمار اَفراد جو گُناہوں  بھری زِندَگی بَسر کررہے تھے مَدَنی قافِلے کی بَرَکت سے تائِب ہوکر پابندِ صلوۃ وسُنَّت بن گئے۔ چُنانچہ

مارشل آرٹ کا ماہر مُبَلِّغ کیسے بنا؟

سَردارآباد (فیصل آباد) میں  مُقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے کہ دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول میں  آنے سے قَبل میں  بگڑے ہوئے کِردار کا مالک تھا، جُھوٹ، غیبت، چُغْلی جیسے گُناہ میری نوکِ زبان پر رہتے اور بَدنِگاہی کرنا میرے روز کے معمولات میں  شامل تھا۔ میں  مارشل آرٹ سیکھا ہوا تھا جس کے بَل بوتے پر لوگوں سے خواہ مخواہ جھگڑا مول لیتا۔ ہر نئے فیشن کواَپنانا میرا وَطِیرہ تھا۔ آہ! نمازوں  سے اس قَدَر دُوری تھی کہ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھاکہ کس نمازکی کتنی رَکعتیں ہوتی ہیں  ۔ آخرکارعِصْیاں  کے دِن خَتْم ہوئے، رَحمت کا دَر کُھلا اور میری قِسمت یُوں چمکی کہ میری مُلاقات اپنے ایک دوست سے ہوئی جو تبلیغِ قُراٰن وسُنَّت کی عالمگیرغیر سیاسی تَحریک  دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوگئے تھے۔ اُنہوں  نے اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھیمدَنی قافِلے میں  سَفر کرنے کی دعوت دی، دوست کی بات نہ ٹال سکا اور ہاتھوں  ہاتھ تین دن کے مَدَنی 

قافلے کا مُسافِر بن گیا۔ مَدَنی قافِلے میں  عاشِقانِ رسُول کی صُحبت کی برکت سے مجھے مَقْصدِ حیات معلوم ہوا تو اپنے گناہوں  پر ندامت ہونے لگی کہ زِندگی کا طویل حصَّہ میں  نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں  گُزاردیا! میری آنکھوں  سے غَفْلَت کا پردَہ ہَٹ چکا تھا، میری قَلبی کیفیت ہی بدل گئی میں  جب بھی بیان سُنتا میری آنکھوں  سے سَیلِ اَشک رَواں ہوجاتا حتّٰی کہ مَدَنی قافِلے کی واپَسی کے وَقت بھی مجھ پر رِقَّت طاری تھی۔ چند دنوں  بعدمجھے اَمیرِاَہلسُنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی زِیارت نصیب ہوئی دیکھتے ہی ان کیمَحَبَّت میرے دل میں  گھر کر گئی، میں  ہاتھوں  ہاتھ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے مرید ہو کر عَطَّارِی ہو گیا۔ تمام گُناہوں  سے توبہ کی اور دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول میں  زِندگی گزارنے لگا۔ یہ بیان دیتے وَقت میں  ڈویژن مُشاوَرَت میں  مَدَنی قافِلہ ذِمَّہ دارکی حیثیت سے َمدَنی کاموں  کی دُھومیں  مچانے میں  مَصرُوف ہوں  ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں  نبیِّ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرکثرت سے دُرُودِپا ک پڑھنے کی تَوفیق عطا فرما اورتادَمِ حیات دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ رہنے کی سعادَت نصیب فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭…٭…٭…٭

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!