شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی کی شاہکار تصنیف انوار احمدی‘ ایک مطالعہ

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
کی شاہکار تصنیف انوار احمدی‘ ایک مطالعہ
Advertisement

از:حضرت ڈاکٹر محمد عارف الدین شاہ قادری ملتانی
، Ph.Dفارسی، Ph.Dعربی، عثمانیہ یونیورسٹی

الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی من کان نبیا و آدم بین الماء والطین وعلی آلہ الطاھرین وصحبہ المھدیین الی یوم الدین۔
کتاب مستطاب ’’انوار احمدی‘‘در حقیقت ۲۴۸ ابیات پر مشتمل ایک مسدس کی شرح ہے حضر ت مولف شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ نے یہ مسدس قیام مدینہ طیبہ زادہا اللہ شرفا‘ کے دوران میں نظم کیا اور اس کے مضامین کو باعث ایجاد عالم وفخر آدم علیہ افضل الصلوۃ وازکی التحیات کی میلاد شریف فضائل اور معجزات سے مزین کیا۔ اس کے بعد اس خیال کے تحت کہ قاری کو اشعار میں بیان کردہ مضامین پر اعتماد واطمینان حاصل ہو، خود ہی اس کی شرح لکھی، شرح کی بنیاد قرآن مجید ، کتب احادیث وسیر پر رکھی۔ اس کی تسوید کے بعد حضرت مولف علیہ الرحمہ مکہ معظمہ زادہااللہ تشریفا و تکریما پہنچے اور اپنے مرشد قدوۃ المحققین حضرت مولاناحاجی امدادا للہ صاحب فاروقی قدس سرہ (مہاجر مکی) کی خدمت میں اپنی اس تالیف کا ذکر فرمایا۔ حضرت نے کمالِ شوق سے اس کو از اول تا آخر سماعت فرمایا اور اس کے ایک ایک جملہ اور تحقیق کو مشرب اہل حق کے موافق ہونے کی تصدیق فرمائی اور اس تالیف کا نام ’’انوار احمدی‘‘ تجویز فرمایا کتاب کے صفحہ ۴ پر اردو عربی دونوں زبانوں میں یہ تصدیق حضرت مولانا امداد اللہ علیہ الرحمۃ کی مہر کے ساتھ ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ عربی میں آپ نے یہ فقرہ لکھا ہے انما ھذا مذہبی وعلیہ مدار مشربی۔ 
  کتاب کا آغاز ان اشعار سے ہوتا ہے۔
شکرِ حق ا س نظم میں ہیں وہ مضامین دلپذیر
جن سے اترے رحمت اور ہوویں دلِ اعداپر تیر
چونکہ منصوصات سے ہیں وہ تمامی مستنیر
اہل ایماں مان لیں گے ان کو دل سے ناگزیر
گرچہ ہیں اشعار یہ، پر شاعری اس میں نہیں
ترجمہ منقول کاہے، خود سری اس میں نہیں
  پہلے شعر کے دوسرے مصرعہ ’’جن سے اترے رحمت اور ہوویں دل اعداپہ تیر’’کی شرح میں لکھتے ہیں کہ امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں سفیان بن عینیہ کا قول نقل کیا ہے عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ جب صالحین کے ذکر پر نزول رحمت ہونے کی خبردی گئی ہے تو اصلح الصلحاء والانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکر کے وقت رحمت الہی کیونکر جوش میں نہ آئے گی۔ ’’دل اعداد پہ تیر‘‘ کی تائید میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کر تے ہیں جسمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو حرم شریف میں شعر پڑھنے سے روکا تو آنحضرت ا نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر! رواحہ سے تعرض نہ کرو کیونکہ ان کے اشعار کافروں کے دل میں تیر سے زیادہ پیوست ہونے والے ہیں۔ تیسرے شعر ’’چونکہ منصوصات سے ہیں وہ تمامی مستنیر‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کتاب کے مضامین میں اس امر کا التزام کیا گیا ہے کہ وہ احادیث اور آثار سے اخذ کئے جائیں البتہ کہیںکہیں کچھ منقول نکات اضافہ کئے گئے ہیں۔ صحاح ستہ کے علاوہ حدیث کی دوسری کتابوں سے بھی سند لائی گئی ہے کیونکہ کل احادیث کاانحصار صحاح ستہ پر نہیں ہے۔ جیسا کہ شیخ محمد بن علی الفارسیؒ نے ’’جواہر الاصول‘‘ میں تحریر کیاہے کہ صحیحین میں بلا تکرار کل چار ہزار احادیث ہیں اور شاہ عبدالعزیز صاحب ؒ نے ’’بستان المحدثین‘‘ میں لکھا ہے کہ ابوداؤد میں مع مکررات چار ہزار آٹھ سو حدیثیں ہیں اور وہ احادیث بھی ہیں جو صحیحین میں موجود ہیں۔ اسطرح صحاح ستہ کی کل احادیث کی تعداد دس تا بارہ ہزارہوتی ہے اس کے بالمقابل ’’جواہر الاصول‘‘ میں امام احمد بن حنبل ؒ کا یہ قول ملتا ہے کہ صحیح احادیث کی تعداد ساڑھے سات لاکھ سے زاید ہے۔ اور علامہ قسطلانی نے شرح بخاری کا قول نقل کیا ہے کہ مجھے ایک لاکھ احادیث یاد ہیں۔ اس کے باوجود امام بخاری نے چار ہزار یا اس سے کچھ زاید احادیث کو اپنی صحیح میں درج کیا جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر محدث نے ایک مقصد کے تحت احادیث کو جمع کیا ہے یہ نہیں کہ کل صحیح احادیث جمع کردی جائیں۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ دعوی کرتے کہ ہماری تصنیف کے سوا کل حدیثیں موضوع یا ضعیف ہیں۔ لہذا ہر بات پر صحاح ستہ کی حدیث کا طلب کرنا درست نہیں۔
حضرت کعب بن زبیرص  کو ان کے قصیدہ ’’بانت سعاد‘‘ پر چادر مبارک عنایت ہوئی۔ حضرت معاویہؓ نے ان سے یہ چادر دس ہزار درہم میں خریدنی چاہی لیکن انہوں نے انکار کیا۔ حضرت کے انتقال کے بعد حضرت معاویہؓ نے ان کے ورثاء سے وہ چادر بیس ہزار درہم میں خریدی۔
اس روایت سے حضرت مؤلف علیہ الرحمہ نے پانچ باتوں پر استدلال کیا ہے:۔
۱}ایسا نعتیہ قصیدہ لکھنا جسکے اشعار میں تمہید و گریز ہو۔
۲}معشوقہ جمیلہ اجنبیہ کا ذکر اور اپنی شیفتگی کا حال بیان کرنا۔ ابن فارضؔ، حافظؔ، جامیؔ وغیرہ نے اس کا اتباع کیا ہے۔
۳}شاعر کو ازقسم لباس عطا کرنا۔
۴}لباس کو تبرک سمجھنا‘ باوجود اس کے کہ وہ جز و بدن نہو۔
۵}حصول تبرکات میں رغبت اور مال خرچ کرنا اور اس کو اسراف نہ سمجھنا۔
نعتیہ اشعار کو سنکر آنحضرت ا خوشی و مسرت کا اظہار کرنے کے بارے میں حضرت نابغہ جعدی ؓ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے واقعات درج کئے ہیں کہ آپ نے ان دونوں کو دعادی کہ اللہ تمہارا منہ سلامت رکھے ’’لاَیَفْضُضُ اللّٰہُ فَاکَ‘‘۔ جسکی شرح دانت کے نہ گرنے سے کی گئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت نابغہ کی عمر سو برس اور ایک دوسرے قول کے مطابق دو سو تیس برس کی ہوئی اسوقت بھی ان کے دانت صحیح و سالم اور اولوں کی مانند سفید تھے اور اگر کوئی دانت گرتا تو اسکی جگہ دوسرا دانت نکل آتا۔
ساتویں تسدیس میں حضرت مولف علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’ہے درود پاک ہی ذکر شہ عالی مقام‘‘ اس کی شرح لکھنے سے پہلے راقم سطور سامعین کی توجہ شان خلت اور شان محبوبیت کے امتیاز کی طرف مبذول کراتا ہے۔ یعنی خلیل اللہ نے اپنے ذکر خیر کو آنے والی نسلوں میں قائم رکھنے کی دعا کی ’’وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِیْ الْاٰخَرِیْنَ‘‘۔ لیکن محبوب کبریا سید الانبیاء کو مژدہ سنایا گیا ’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘ خلیل نے جس چیز کی طلب اور درخواست کی وہ حبیب کو بلا طلب و خواہش عطا ہوئی۔
حضرت مولف فرماتے ہیں کہ حق تعالی نے رفع ذکرکا مژدہ سنا کر ذکر کے بلند کرنے کے ذرائع بھی قائم کردئے جسمیں درود شریف کو اولیت وفوقیت حاصل ہے۔ درود کے پڑھنے کا امر اس خوبی کے ساتھ فرمایا کہ میں خود اس میں مشغول ہوں اور تمام ملائکہ بھی‘ اے اہل ایمان تم کوبھی چاہئے کہ اس کام میں مصروف رہو۔ اسکا صاف مطلب یہ ہے کہ جس کام میں اللہ اور اس کے فرشتے ہمیشہ مشغول ہیں اس کام میں مومنین کو بطریق اولی مشغول ہونا چاہئے نہ یہ کہ ایک دوبار پر اکتفا کرلیا جائے۔ امتی آنحضرت ا کی ذات گرامی کے عظیم احسانات کو کیونکر فراموش کرسکتا ہے۔
مولف نے یہ نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ درود شریف کے لئے وہ نام سر فراز ہوا جو خاص معبود حقیقی کی عبادت کا ہے یعنی صلوۃ حق تعالی کے ارشاد ’’اِذَا ذُکِّرْتُ ذُکِْرتَ مَعِیْ‘‘جب میرا ذکر ہو تو میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر ہو۔ اس تلازم طرفین سے نکتہ سنجان و رمز شناس آیت شریفہ ’’مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَاقَلٰی‘‘ کے معنی بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ ایسا امر وجدانی ہے کہ بیان میں نہیں آسکتا۔
آگے چل کر معجم طبرانی سے حضرت ابوطلحہ انصاریؓ سے مروی وہ حدیث بیان کرتے ہیں جس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ رحمۃ للعالمین ا کے پاس حضرت جبرئیل حاضر ہوئے اور فرمایا کہ جو بھی امتی آپ پر درود پڑھتا ہے حق تعالی اسکے عوض دس نیکیاں لکھتے ہیں۔ دس گناہ محو کرتا اور دس درجے بلند کرتا ہے نیز ایک فرشتہ آپ کی ولادت سے قیامت تک اس غرض کے لئے متعین ہے کہ درود پڑھنے والے امتی کے جواب میں ’’وانت صلی اللہ علیہ‘‘کہے یہ حدیث بیان کر کے مولف وضاحت کرتے ہیں کہ درود شریف کا حکم شعبان دو ہجری میں نازل ہوا اور حکم نازل ہونے سے ایک فرشتہ اس کام پر متعین کردیا گیا۔ اس سے اہتمام درود شریف ظاہر ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حکم سے پہلے درود شریف پڑھنے والے موجود ہوں گے۔
اس کے بعد مولف علیہ الرحمہ فہم حدیث کے بارے میں ایک اہم بات بیان فرماتے ہیں کہ اگر حدیث کے مضمون میں استبعاد عقلی معلوم ہو تو نجات اسی میں ہے کہ خدائے تعالی کی قدرت پر ایمان لاؤ کیونکہ آدمی جو صفت اپنی جنس یا محسوسات میں نہیں پاتا اس کے لئے اس کا سمجھنا دشوارہوتا ہے۔ اور جب سمجھ کام نہیں کرتی تو انکار پیدا ہوتا ہے اور یہ انکار کبھی کفر تک بھی پہنچادیتا ہے۔ مولانا روم فرماتے ہیں۔
داند آنکو بخت و محرم است
زیرکی زابلیس وعشق از آدم  است
زیرکی بفروش، وحیرانی بخر
زیرکی ظنست وحیرانی نظر
عقل قربان کن بہ پیش مصطفی
حسبی اللہ گو و اللہ ہم کفی
درود شریف کے مختلف پہلوؤں پر جیسے لفظ صلوۃ کے معنی اللہ اور فرشتو ں اور اہل ایمان کی نسبت سے کیا ہیں اور درود شریف پڑھنے کا حکم کہ وہ فرض ہے واجب اور مستحب ہے اور اس کے اوقات اور ایمان کے کم وزیادہ اور سماع موتی کے بارے میں نہایت نفیس اور دقیق علمی بحث کی گئی ہے۔ یہ بحث صفحہ۵۵ سے صفحہ۱۷۵ تک پھیلی ہوئی ہے۔ قیام بوقت سلام کے مسئلہ پر بھی علماء کے موافق اور مخالف اقوال نقل کر کے محاکمہ کیا ہے۔
صفحہ۲۱۹پر آیت شریفہ ’’لَا تَجْعَلُوْا دُعَائَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَائِ بَعْضُکُمْ بَعْضًا‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے آنحضرت ا کو آپس میں ایک دوسرے کیطرح یا نام لے کر پکار نے سے منع فرمایا اور خود بھی سوائے چند ایک مقامات کے صفات کمالیہ ’’یاایھا الرسول‘‘ اور ’’یا ایھا النبی‘‘ سے خطاب فرمایا۔
یا آدم است باپدر انبیا خطاب
یا ایھا النبی خطاب محمدی است
اس کا مقصد جناب رسالت مآب ا کی عظمت، شرف، تعظیم وتوقیر کے ظاہر کرنے کے سوا اور کیا ہے۔ صفحہ ۲۱۰ پرفضیلت صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم کے زیر عنوان آیت قرآنی ’’لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتٍ النَّبِیِّ‘‘ پر مفصل کلام کیا ہے۔ تفسیری نکات اور نزول اور آیت کے بعد جانثار صحابہ کے روح پرور واقعات بیان کئے ہیں، جو رسول علیہ الصلاۃ والسلام کی بیمثال محبت، تعظیم اور ادب پر شاہد ہیں۔
راقم سطور کا ذہن آیت مذکورہ سے ایک اور فہم کی طرف منتقل ہوتا ہے یعنی اللہ تعالی نے رفع صوت برصوت نبی کی سزا ’’اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘ فرمائی ہے اور ٹھیک یہی سزا مرتکب شرک کی بھی قرار دی ہے یعنی ’’ وَلَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘‘ اس موازنہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کی آواز پر آواز بلند کرنا خدائے تعالی کے ساتھ کسی کو شریک کر نے کے برابر ہے۔ ’’وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘ والا انجام شاید ہی کسی اور فعل پر مرتب کیاگیا ہے۔ اللہ اکبر نیز رسول اللہ ا کے ادب کو قلب کے تقویٰ کی جانچ وپرکھ کا معیار قرار دیاگیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ’’اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوبَھُمْ لِلتَّقْوٰی‘‘یہی وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے اعضاء و جوارح کے نہیں بلکہ قلوب کے تقویٰ کے لئے پرکھ لیا ہے اور ان ہی کو مغفرت اور اجر عظیم نشارت دی ہے۔ لَھُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ عَظِیْمٌ 
حضرت مولف نے صفحہ ۲۴۱ پر آداب صحابہ کے عنوان سے عشرہ مبشرہ کے ادب کے واقعات کے ساتھ ساتھ ائمہ دین کے واقعات بھی بیان کئے ہیں۔ یہ مضمون صفحہ ۲۶۴ پر ختم  ہوتا ہے اس کے بعد مسئلہ توسل پر مدلل بحث کی ہے اور آخر میں وہابیان نجد کے فتنہ اور دین میں ان کی رخنہ اندازی کی تفصیل لکھی ہے۔
مولف نے یہ کتاب آج سے سوسال پہلے ۱۳۲۳؁ھ میں تالیف کی تھی جبکہ خال خال لوگ ہی فتنہ سے متاثر تھے ان کی فراست مومنانہ نے جو نورِ الہی سے منور تھی (او رکیوں نہوتی کہ وہ انوارِ الٰہ ہیں)اس فتنہ کے عالم گیر ہونے کو دیکھ لیاتھااور آج امت کا سواد اعظم اس کی لپیٹ میں ہے۔ آج توحید اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ توہینِ رسول نہ کی جائے۔ العیاذ باللہ یہ توحید ایمانی نہیں بلکہ توحیدِ شیطانی ہے۔
حضرت مولانا الیاس برنی علیہ الرحمہ ۱۹۳۳؁ ء میں حج و زیارت سے مشرف ہونے کے لئے حرمین شریفین پہنچے۔ وہ اپنے سفر نامہ ’’صراط الحمید‘‘ میں لکھتے ہیں کہ منتخب افراد کو سعودی عرب کے شاہ نے اپنے دربار میں بلایا تھا۔ اس محفل میں شاہ کے آنے پر قصیدہ خوانی اور توحید پر تقریر ہوئی۔ مجھے بھی موقعہ ملاتو میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ توحید کا دہرانا چنداں کار گر نہیں۔ رسالت کے اعلان اور وضاحت کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد اس ایمانی توحید کا دہرا نا جو رسالت کے طفیل میں حاصل ہوتی ہے، جو اسلام کے باہر میسر نہیں آسکتی وہی مطلوب ہیں۔ رسالت میں ہر کوئی سنت پر زور دیتا ہے اور زور دینا بجاہے اس لئے کہ قرآن میں اتباع کی تاکید ہے لیکن بہت سے اس راز سے بے خبر ہیں کہ محبت اور تعظیم اتباع کی جان ہیں۔ انہی دونوں کے صحیح امتزاج سے حقیقی اتباع پیدا ہوتی ہے۔  محبت میں قوت ہے اور تعظیم میں اعتدال جس اتباع کی بنیاد محبت اور تعظیم پر نہو وہ محض ایک رسمی تقلید ہے، اتباع نہیں اور نہ اتباع کی خیر و برکت ہے۔ اتباع کے واسطہ محبت وتعظیم کس درجہ لازم ہے اہل علم اسکی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں توحید کے پہلو رحمۃ للعالمین کی محبت و تعظیم کی جو تعلیم ہے وہ دنیا میں بے نظیر ہے کہ عبدیت میں انتہائی محبوبیت ورفعت موجود ہے۔
بہ مصطفی برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست
اگر باونرسیدی تمام بولہبیست 
٭٭٭
تعارف کتاب : جانشین خواجگان 
پروفیسر سید محمد عزیز الدین حسین ہمدانی نے ’’خانقاہی مدارس میں نظام و نصاب تعلیم‘‘ کے تحت عہد وسطیٰ کے ہندوستان کا ایک تاریخی جائزہ لیتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ
’’ صوفیاء نے دکن میں مدارس قائم کئے اور تعلیم و ترقی کی تحریک شروع کی آج جو گلبرگہ میں ہمیں میڈیکل کالج اور انجینئرنگ کالج دیکھنے کو مل رہے ہیں یہ افتخار ہندوستان کے کسی اور شہر کو حاصل نہ ہوسکا۔ گلبرگہ کی درگاہ کے سجادہ نشین حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینی کے تعلیمی کارناموں سے متاثر ہوکر حکومت ہند نے صدر جمہوریہ ہند کے ہاتھوں ۳؍جون ۲۰۰۴؁ء  ’’پدم شری‘‘ کے اعزاز سے نوازا۔ وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے دہلی آئے…‘‘
تعلیم و تعلم، درس و تدریس سے حضرت سجادہ نشین کو والہانہ عشق تھا چنانچہ برسوں پہلے آپ نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا۔
’’میرے لئے نہ صرف بندہ نوازی ہونا باعث فخر ہے بلکہ علمی خدمت کو جاری رکھنا زیادہ سے زیادہ ہاتھ بٹانا اور علمی درسگاہ کو فروغ دینا اپنی زندگی کا اولین مقصد ہے۔  (مجلہ اعتراف خدمات اکتوبر ۲۰۰۲ء) ‘‘
یہ بات راقم الحروف کے لئے باعث صد سعادت ہے کہ ۶۰۰ سالہ عرس حضرت خواجہ گیسودرازؒکی ایک سالہ طویل تقاریب کے کامیاب انصرام و انعقاد کے لئے تشکیل دی گئی چالیس رکنی استقبالیہ کمیٹی کا  احقر کو رکن نامزد فرمایا اور تصانیف و آثار بندہ نوازؒ کی نمائش کا کنوینر بھی مقرر کیااور اب اس صحیفۂ عقیدت کو مرتب و پیش کرنے اعزاز حاصل ہورہا ہے۔اس سعادت کے لئے احقر شیخ طریقت حضرت سید شاہ اسرار حسین رضوی المدنی صاحب قبلہ کے حسن توسط سے حضرت فضیلت مآب ڈاکٹر سید شاہ خسرو حسینی مدظلہ سجادہ نشین ‘ کا شکر گذار ہے کہ اس سوغات عقیدت و محبت کو پیش کرنے کا حوصلہ بخشا۔ قارئین کرام اس سے فائدہ اٹھائیں تو دعائے نیک میں ضرور یاد فرمائیں۔
٭٭٭
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!