Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی اور سلوک وعرفان

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
اور سلوک وعرفان

از : حضرت مولانا عر فان اللہ شاہ نوری چشتی قادری،
بانی و مہتمم دار العلوم سیف الاسلام، حیدرآباد

حضرت اما م جعفر صادق رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ مَنْ عَاشَ فِیْ ظَاہِرِ الرَّسُوْلِ فَھُوَ سُنِّیٌّ وَمَنْ عَاشَ فِیْ بَاطِنِ الرَّسُوْلِ فَھُوَ صُوْفِیٌ جو ظاہرِرسول پر چلے و ہ سنی ہے ۔ اور جو باطن رسول کے مطابق زندگی بسر کرے و ہ صوفی ہے ۔ظاہررسول سے مراد رسول اکرم  ﷺ کے اعمال ظاہری شرائع او راحکام ہیں جس کوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضورانور ﷺ کے قول و فعل سے اخذ کیا ۔ تابعین کرام ائمہ سلف نے ان کو سیکھا اوران پر عمل کیا ۔ علم کتاب سنت ، تفسیر، فقہ ، وغیرہ انہی کے توابع ہیں ۔ باطن رسول ان اسرار ومعارف کو کہتے ہیں جو علم شرائع اور احکام رسالت ﷺ پر عمل کر نے اور اس کے اصل ماخذ پر واقف ہو نے کانتیجہ ہے۔ حضرت سید ابو عبداللہ محمدبن حنیف رحمۃ اللہ علیہ فر ما تے ہیں التصوف تصفیۃ القلوب واتباع الرسول ﷺ فی الشریعۃ (تصوف دل کی صفائی اور شریعت میں اتباع نبوی ﷺکانام ہے)۔ علم باطن یا علم تصوف کتاب وسنت کے مطابق ہے اور سینہ بہ سینہ منتقل ہو تا ہو ا سرزمین ہند اور اہل دکن کی مقد س شخصیات کے سینوں کو علم و عرفان الہی کا خزینہ بنادیا ۔ قندھاردکن کے علاقہ میں ایک ایسی ذات گرامی بھی منصئہ شہود پر جلوہ افرو زہو ئی جیسا کہ مولوی امیر حمزہ اپنی تالیف ’’تاریخ قندہار دکن‘‘میں رقمطر ازہیں کہ
’’قندھارتصوف وعرفان رشد و ہدایت، علم وفضل شعروسخن، کا تاریخی مقام ہے‘‘ ۔ اسی مقام پربانی جامعہ نظامیہ شیخ الاسلام عارف باللہ محمد انوار اللہ نوراللہ مرقدہ کی ولادت باسعادت ہو ئی آپ کی ولادت کی بشارت حضوررسالت ماب ﷺ نے قبل ازولادت عالم رویا میں دی تھی ۔چنانچہ آپ کی ولادت4ربیع المحبوب1264ھ بمقام ناندیڑخاند ان فاروقی کی عظیم شخصیت پیر طریقت قاضی حضرت ابو محمد شجاع الدین رحمۃ اللہ علیہ کے فر زند ارجمند کی حیثیت سے ہو ئی جو آپ کے استا ذاور شیح طریقت بھی تھے۔ 
فاروقی خاندان میں سید نا فاروق اعظم امیر المومنین عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے لیکر آ ج تک بیشمار شخصیات دین متین کے خدمتگار او رعلم و عمل، شریعت و طریقت کے آفتاب ومہتاب گذرے ہیں ،ہند و پا ک میںحضرت خو اجہ فر ید الدین مسعو د گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ اورحضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہند ی رحمۃ اللہ علیہ و غیر ہ بھی فا روقی النسب بزرگوں میں شامل ہیں ۔ 
جب آپ علوم متداولہ سے فارغ ہو ئے ۔ اپنے والد ماجد جن کو حضرت خواجہ رحمت اللہ نائب رسو ل اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت شاہ رفیع الدین قند ھاری رحمتہ اللہ علیہ جو خا ندان شمس لامراء کے پیر طریقت تھے ۔ تمام سلاسل میں بیعت و خلافت حاصل فر مائی۔
پھر حضرت حافظ سید محمد علی شاہ خیر آبادی ؒ سے سلسلہ چشتیہ میں بیعت و خلافت سے سرفر از ہوئے ۔حضرت نقشبنددکن شاہ سعداللہ رحمہٗ اللہ و خلیفہ حضرت شاہ غلام علی رحمہٗ اللہ دہلوی آپ کے پیر صحبت تھے۔ 
حضر ت شیخ الاسلام کے والد ماجد کا و صال 1288ھ میں ہو گیا اورآپ 1294ھ میں بعمر تیس سال بغرض حج بیت اللہ وزیارت رسول اللہ ﷺ عازم حجازمقد س ہو ئے ۔ شیخ العر ب و العجم حضرت شاہ امداد اللہ مھاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے شر ف ملاقات حاصل فرمایا۔ بلاطلب بیعت و خلافت سے سر فر از ہوئے ،اور شیخ العرب نے دکن کے مرید ین کو سلوک کی تکمیل او رحل مشکلات کیلئے آپ سے مد د لینے کی ہدایت فر مائی ۔ (۱)
انبیاء کر ام علیھم السلام ہر کام ’’وحی الٰہی‘‘ کی روشنی میں کرتے ہیں تو صوفیا ء کرام اپنے ہر کام کو’’ الہام الٰہی‘‘ اور اشارات غیبی پر انجام دیتے ہیں ، چنا نچہ شا ہ دکن میر محبوب علی خان آصف سادس کی تعلیم و تربیت کیلئے مولانا مسیح الزماں خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو مامور کر نے کے لئے تحر یک منظور کر و اکر آپ کو اطلاع دی تو آپ نے اس کو قبو ل کرنے میں تأمل کیا ۔ اصرار کیا گیا تو آپ نے استخارہ کرکے تائید غیبی حاصل کی تب ہی آپ نے اس خدمت کو قبو ل کیا ۔ آصف سابع میر عثمان علی خان کے علاوہ ان کے شہزادگان نو اب آعظم جا ہ بہادر اور نواب معظم جاہ بہادر کو بھی آپ سے شر ف تلمذ حاصل تھا ۔
حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی عبقر ی شخصیت ظاہر ی باطنی تمام علو م پر احاطہ کی ہوئی تھی دنیا کے تمام معاملات پر بھی گہر ی نظر تھی سچ تو یہہ ہے کہ ایک مومن کی یہی شان ہو نی چاہئے کہ وہ ہر جگہ اپنا و قار و عظمت کا سکہ بٹھادے ۔ وہ با زار میں آئے تو ملک التجارہو ، میدان میں آئے سپہ سالار ہو ۔ منبر پرخطیب مکتب میں معلم اور خانقاہ میں شیخ طریقت مرشد کامل کی حیثیت سے جلوہ افروزہو حضرت شیخ الاسلام رحمتہ اللہ تعالی علیہ کی زند گی پر طا ئر انہ نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ۔ آپ میدان سیاست میں حکمرانی بھی کر رہے  ہیں ۔ قانون دا ن بھی ہیں، منطق فلسفہ کے ماہر بھی ہیں ۔ حدیث و فقہ تفسیرمیں بھی لاجو اب ہیں ۔ بہترین استاد بھی ہیں ۔ خانقاہ میںشیخ طریقت کی حیثیت سے تصوف کا درس اورمر ید ین کی اصلاح باطن میں مصروف و مشغول نظر آتے ہیں ۔ حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ تعالی فر ماتے ہیں کہ
’’تصوف ہمارے دین میں اعلی درجے کا علم ہے جن پر اولیا ء اللہ کا عمل رہاہے ۔ اگر وہ فلسفے کا ہم خیال ثابت ہو جائے تو شریعت سے اس کو کچھ تعلق نہ رہا ۔ حالانکہ اولیا ء اللہ شریعت کے نہا یت پابند رہے ہیں‘‘(۲)
اور ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ
 ’’ تصو ف کچھ او رہی چیزہے جس کو قرآن وحدیث اورشریعت کا لب لباب کہنا چاپئے اس کو نہ فلسفہ قدیمہ سے کو ئی تعلق ہے نہ فلسفہ جدیدہ سے کو ئی منا سبت ۔ عجیب بات ہے کہ بعض لوگ اس علم مقد سہ کو غیر اسلامی سمجھ کر نہ صر ف اس سے دور ی اختیار کئے ہو ئے ہیں بلکہ اس کی مخالفت کرکے اپنے ایما ن کو کھورہے ہیں ۔ (۳)
  علم تصوف کی مخالفت در اصل احوال رسول کی مخالفت ہے۔ ذات رسالت ماب  ﷺ  تَخَلَّقُوْابِاَخْلَاقِ اللّٰہْ کی مکمل نمونہ تھی۔ ام المومنین سید تنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے قو ل کے مطا بق کے آپ کے اخلاق قرآن کے مو افق تھے ۔ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ’’عوارف المعارف‘‘ میں لکھا کہ ’’یہ امر بعید نہیں کہ بلاشبہ عا ئشہ صد یقہ رضی اللہ عنہا کے اس قول میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن کے موافق تھے ایک باریک رمزاور خفی اشارہ کی طر ف ہے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت کو اخلاق الہی کا حقیقی مظہر کہنے سے ڈرتے ہوئے اصل حقیقت کو چھا نے کیلئے نہایت خوبی سے اصل مطلب کو اپنے قو ل سے تعبیر کیا ہے کہ حضرت کے اخلاق قرآن کے مطابق تھے اور یہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کمالِ عقل وآداب کی دلیل ہے ۔ الغرض تصوف عین قرآن و حدیث ہے ۔ تما م انبیاء علیھم السلام صوفی تھے ۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنھم صوفی تھے اور تمام اولیاء اللہ صوفی،یہ سلسلہ تاقیام قیامت چلتا رہے گا ۔ اسی طرح حضرت شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی بھی ایک مرشد کامل صوفی باصفا تھے ۔ ذیل میں چند احوال و کیفیات درج کئے جاتے  ہیں جس سے معلوم ہوجائے گاکہ آپ کاباطن میں کیامقام ہے۔ 
 ذکرالٰہی:
صوفی ذکرالٰہی سے کبھی غافل نہیں ہو تا ۔ یاد الٰہی کوحیا ت اورغفلت کو مو ت تصور کر تا ہے ۔ شہنشاہ نقشبند خواجہ بہاء الدینؒ (بخارا)فر ما تے ہیں کہ ’’دست بکار دل بیار ‘‘یعنی اپنے اعضاء وجو ارح دنیا کے معاملات میں مصروف و مشغول رہیں لیکن دل یاد الہی میں لگائے رکھیں صوفیا اہل طریقت نے اس کیلئے ایک طریقہ ’’خاص الخاص بتایا ہے جس سے سالک کبھی بھی ذکر الہی سے غافل نہیں ہو تا ۔ 
حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ تعالی علیہ ذاکروشاغل تھے ۔ کبھی یاد الٰہی سے غافل نہیں ہو تے تھے ۔ سلاسل طر یق کے دیگر اذکار و اشغال کے علاوہ سلطان الاذکار(ذکرآرہ )بھی فرماتے تھے چنانچہ دیوبند کے شیخ طریقت مولانا عبدالغفور قریشی جنکاحال ہی میں انتقال ہو ا ہے اپنے تصوف پر مبنی رسائل میں تذکرہ کیا کہ حضرت شیخ الاسلام انواراللہ رحمہ ا للہ تعالیٰ جب ذکرفرماتے تھے ان کے تمام اعضاء جسم سے علحدہ علحدہ ہوجاتے تھے اللہ تعالی کاارشادہے  رجال لاتلہیھم تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ (چند ایسے بندے ہیں کہ جنکوتجارت اورمعاملہ ذکرالہی سے غافل نہیں کرتا )ہر حال میں وہ ذکرالہی میں مشغول اور احکام الہی کے پابند ہو تے ہیں ۔ حضرت شیخ الاسلام کی فرض نمازوں کاذکر ہی کیا ہے اسکو تو وہ پورے آداب کے ساتھ جماعت اور تمام نوافل کا اہتمام کرتے تھے۔ رمضان شریف کے روزوں کا بڑا اہتمام کرتے ۔ سحر و افطار میں آپ کے ساتھ احباب ودوستان خد اکی کثیر تعد اد شریک رہتی ۔ ان کے لئے پر تکلف اہتمام کر تے اس کے لئے قرض کی بھی نوبت آتی مگر برابر آپ کے ہاں دعوتیں ہو تی تھیں ۔ آپ صوم داؤدی بھی رکھا کرتے تھے تاکہ درس و تدریس اور حکومت کے کامو ں میں رکاوٹ کے بغیر یادو یافت معیت حق کے مزے لو ٹتے رہیں ۔ عمر کی زیادتی کے باعث آخر ی ایام میں صرف ایام بیض کے روزوں پر اکتفاء فرمانے لگے تھے ۔ کثر ت نوافل صوفیاء کرام کی زندگی کا لازمہ ہو تا ہے جس سے حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ تعالی علیہ خوب وابستہ رہے ۔ حضرت بندہ نوازگیسودراز رحمہٗ اللہ نے اسکو مسلکِ فقیری اور طر یقت سے خارج ہوجانے کا حکم دیا جو کم ازکم نمازاوابین اور صومِ ایامِ بیض بھی نہیں رکھتا۔
تصوف اور شاعری:
حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو شاعری سے بھی شغف تھا ۔ یہ بھی عشق رسول اور معارف حقائق کے اظہار کیلئے وقف تھا۔ عشق ومحبت رسول کا صحیفہ ’’انوار احمدی‘‘ در اصل ایک طویل نظم کی تشریح ہے ،شمیمؔ الانوار جو شعر و سخن کا مجموعہ ہے اکثر کلام صرف حقائق ومعارف سے بھر پو رہے ، جسکے مطالعہ سے قر ب ومعیت حاصل ہو سکتی ہے ۔
درس تصوف وفتوحات مکیہ :
وحدۃ الوجو د پر ایک معر کۃ الآرا کتاب جس کو صوفی کبیر امام الموحد ین حصرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سر ہ العزیزنے لکھا ہے ۔ سمجھنا صرف اللہ کے فضل کی بات ہے ورنہ بہتر ے اس کے حقائق و دقائق اورنکات نہ سمجھ کر صاحب کتاب کو کفر کے فتوے دیدئے، حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کواس کتاب او راس فن شریف سے قلبی لگاو تھاکہ آخرزمانہ میں رات12بجے تک درس فتوحات مکیہ ہوتاجس میںمخصوص اعلیٰ استعداد کے طلبہ بھی شریک ہوتے ۔ آپ نے انتخاب فتوحات مکیہ کے 150صفحات قلمبند فر مائے جسکا قلمی نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔ 
تصانیف تصوف:
حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی دلچسپی اس فن سے ہو نے کی یہ بھی دلیل ہے کہ آپ نے اس موضوع پر انوار التمجید، ’’رسالہ انواراللہ الودود فی مسئلۃ وحد ۃ الوجود‘‘ کے علاوہ ’’مقاصد الاسلام‘‘کی گیارہ جلدو ں میں نفس، قلب، روح کی حقیقت‘ ولایت وصاحب ولایت کامقام اور خلق الانسان علی صورتہ کی معر کۃ الارا تشریحات و تو ضیحات فر مائی ہیں ۔ اس کے مطالعہ سے سالکین کبھی بھی راہ ہدایت سے بھٹک نہیں سکتے ۔ افر اط و تفر یط کا شکار نہیں ہو سکتے ۔ آپ کی تصنیف کے بارے میںشیخ العر ب والعجم حضرت شاہ امداد اللہ قدس سر ہ العزیزنے اپنے گرانقدر تاثرات فارسی میں لکھے جس کا ترجمہ پیش ہے ۔
’’کتا ب طالبان حق کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے ، شریعت پہلا مرتبہ ہے او رطریقت دوسرا مرتبہ ۔ ان دونو ں میں فر ق کر نا خلاف مذہب حقہ ہے ۔ ایما ن کے دوجزہیں ۔ مومن دل سے تصد یق کر تاہے اور اعضاء و جوارح سے احکام شریعت بھی اداکرتا ہے یہی ایمان کامل ہے ۔ مومن اپنے ارادے کو اللہ کے اراد ے میں فنا کردیتا ہے اور تسلیم ورضا کے مقام تک پہنچتا ہے ۔ آگے رقمطراز ہیں ’’طالبان شریعت و طریقت کو مولوی انواراللہ کافی ہیں ۔ جو کو ئی انکے انوار کی روشنی میں سلوک طے کر ے گا اللہ کی تائید سے وہ منزل مقصود تک پہنچے گا ‘‘(۴)
حضرت شیخ العرب والعجم کی اس تحریر سے حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی روحانی عظمت اورآپ کے تصانیف کا علمی مقام معلوم ہوتاہے ۔ یہ تمام کمالات دراصل تائید غیبی ربانی اور مدینہ علم وعرفان سرکاردوعالم ﷺ او رسلطان اولیاء غوث اعظم پیران پیر کی توجہات خصوصیہ کے ثمرات ہیں۔ فتوحات مکیہ کے درس میں حضرت شیخ الاسلام رحمتہ اللہ تعالی کی ایک عزیز اور مریدہ محترمہ نجیبہ بیگم صا حبہ جو صاحب کشف خاتون تھیں حضرت مفتی رکن الدین صاحب کے اصرار پر مکاشفات بیان کر تی ہیں کہ بارہا میں نے درس فتوحات کے موقع پر حضور پیران پیر ؒکی زیارت حاصل کی وہ درس کے وقت ایسے جلو ہ افروز ہوکر ملاحظہ فرمارہے ہوں کہ یہ کیسے درس دیتے ہیں ۔اور ایک مرتبہ یہ بھی دیکھا کہ 
’’آقائے دوعالم  ﷺحطیم پاک میں صحابہ کرام کے جھرمٹ میں جلو ہ افروزہیں اور ادھر درس  فتوحات جاری ہے کسی مسئلہ میں شیح الاسلام تفہیم کے دوران بار بار رک جاتے ہیں۔ ادھر حضورپرنو ر ﷺتوجہ ادھر مبذول فرماکر ارشاد فرماتے ہیں کے انواراللہ مسئلہ کی تفہیم میں پر یشان ہے پھرآپ کی توجہات خاص سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔ ‘‘(۵)
تصرف و کرامات :
اللہ تعالی کسی بندہ کو محبوب بناتاہے تو اس کو تین نعمتوں سے سر فرازفر ماتا ہے دوعالم میں اسکا شہرہ کر واتاہے۔ کرامت وبزرگی عطا کر تا ہے ۔ اور تصر ف سر فرازکرتا ہے حضرت شیخ الاسلام رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے محبوب الٰہی ہو نے کی دلیل اظہر من الشمس ہے کہ آپ کو شہر ت کاملہ بھی حاصل ہے۔ بیشمار کرامتوں اور تصرفات کا بھی آپ سے ظہور ہو چکاتھا آپ کی سب سے بڑی کرامت جامعہ نظامیہ ہے جو ہزاروں طوفانوں سے بچ کر سلامت اور باقی ہے ۔ 
وصال بے مثال :
احاطہ جامعہ نظامیہ میں آرام فرمانے والے اسکے بانی حضرت شیخ الاسلام عارف باللہ محمدانواراللہ فاروقی فضیلت جنگ قدس سرہ العزیز کا وصال بے مثال30جمادی الاولیٰ پنجشنبہ بعد مغرب ہوا۔ صاحب ’’نورالانوار‘‘لکھتے ہیں کہ دکن کے صاحب کشف پیر طریقت حضرت یحییٰ پاشاہ رحمہ اللہ نے مراقبہ میں مشاہدہ فرمایا کہ ایک بڑی مجلس منعقد ہے اسکے درمیان ایک منبر سجا ہے اور اس پر جلو ہ افروز ہونے والے آنحـضرت سرکاردوعالم ﷺ کاانتظار ہو رہاہے کچھ دیر بعدہی ایسا معلوم ہواایک عالم دین کے آخروقت آپ کی تشریف فرمائی ہو ئی ۔ عشاء کی نماز تک صاحب مراقبہ کو اس کی اطلاع ہوگئی کہ سر مغرب حضرت شیخ الاسلام کا وصال ہوچکاہے۔  
سلسلہ فیضان:
حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی کو ئی اولاد نرینہ تو باقی نہ رہی لیکن آپ کے تلامیذومریدین جو روحانی اولاد ہیں باقی ہیں۔ آپ ہمیشہ بیعت لینے سے گریزفرماتے نہایت ہی اصرارپر چند حضرات کو سلسلہ میں داخل فرمایا اور انہیںبھی ذکر واشغال سے زیادہ خدمت تعلیم وتعلم میں مصروف رہنے کی تلقین فر ماتے تھے ۔ آپ کے خلفاء میں حضرت مفتی رکن الدین رحمہٗ اللہ ،حضرت مفتی سید محمود رحمہ اللہ، حضرت مفتی محمد رحیم الدین رحمہٗ اللہ،حضرت سید غلام زعمؔ رحمہٗ اللہ کے اسماء آتے ہیں لیکن آخرالذکر حضرت زعمؔ جوڈاکٹرزورؔمرحو م کے والدماجد ہو تے ہیںکے سواکسی نے سلسلہ کو جاری نہیں کیا۔ حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ تعالی علیہ کافیضان مختلف حیثیتو ں سے آج تک جاری ہے اور انشاء اللہ تعالی تاقیامت جاری رہیگا ۔
٭٭٭
حواشی و حوالہ جات
(۱)مولانا مفتی محمد رکن الدینؒ؍مطلع الانوار، ص ۱۷، مجلس اشاعۃ العلوم جامعہ نظامیہ 1405ھ 
(۲) حضرت شیخ الاسلامؒ، مقاصد الاسلام، حصہ ششم، ناشر مجلس اشاعۃ العلوم ، جامعہ نظامیہ)
(۳) امام محمد انوار اللہ فاروقیؒ؍مقاصد الاسلام حصہ سوم ص 126، مجلس اشاعۃ العلوم
(۴) تقریظ برکتاب انوار التمجید، مصنفہ، امام محمد انوار اللہ فاروقیؒ
(۵) مولانا مفتی محمد رکن الدین ؒ ؍مطلع الانوار، ص ۱۷۔ مجلس اشاعۃ العلوم حیدرآباد۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!