امید سحر

ڈاکٹر غلام ربانی فدا
شام کا وقت تھا. ندی کا کنارہ تھا. ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہواؤں کی سنسناہٹ خاموشیوں کو توڑ رہی تھی. نیلگوں فلک پر ستارے جھلملا رہے تھے. اوزیب ان ستاروں کے درمیاں اپنا ستارہ تلاش کر رہا تھا وہ ستارہ جو اس نے عرصہ پہلے کھو دیا تھا جس کے کھونے کے بعد زندگی کا پہیہ تھم سا گیا تھا. وقت کی سانسیں رک سی گئی تھیں. کتنا حسین تھا وہ لمحہ جب اوزیب زیبا کے سنگ جینا چاہتا تھا. اوزیب کی زندگی کی صبح اور شام زیبا سے بات کرتے ہوتی تھی. مگر کتنا کٹھن تھا وہ لمحہ اور کتنی منحوس تھی وہ ساعت جو تیز و تند طوفان کی طرح آیا اور سب کچھ بکھیر کر گیا چلا.
اوزیب زیبا کے یوں مکر جانے کی وجہ سے سخت اذیت میں تھا اور اوزیب ندی میں کنکر پھینکتے ہوئے سوچنے لگا. 
شاید سب جانے والوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے کہ ساری زندگی ہم ان کے وجود سے بےخبر رہتے ہیں۔۔۔ لیکن جیسے ہی کوچ کی گھنٹیاں سنائی دیتی ہیں۔۔۔ ہماری سوئی ہوئی محبتیں بیدار ہوجاتی ہیں۔ انسان ساری زندگی توجہ کے لمس کا طلبگار رہتا ہے اور جب ہرضرورت سے بےنیاز ہونے لگتا ہے تو بےموسم کی بارش کی طرح سب اپنا اپنا حصہ ڈالنے آ جاتے ہیں۔
انہیں لمحے اسے ایک ہمدرد و مؤنس کی جھلملاتی سرگوشی سنائی دی وہ ہمدرد جس کی معیت کے پانچ سال  اوزیب کو زندگی کے معنی و مفہوم سکھا دئیے تھے. جو اوزیب کو کامیابیوں کے آسمان پر کھڑا کر کے خود ابدی سفر پر  رخصت ہو گئی تھی. جس شخصیت میں بلا کی دور اندیشی. حکمت و دانائی تھی. مدھم مدھم سا رس گھولتا لہجہ اوزیب کو سنائی دینے لگا. 
“تمہیں لگتا ہے ! کہ صرف تمہاری زندگی میں مسئلے ہیں؟ باقی سب خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں؟ نہیں میری جان! یہاں تو ہر شخص دکھی ہے۔ ہر ایک کا دل ٹوٹا ہوا ہے۔ سب کو کسی “ایک” چیز کی طلب ہے۔ کسی کو مال چاہیے‘ کسی کو اولاد‘ کسی کو صحت تو کسی کو رتبہ۔ کوئی ایک محبوب شخص یا کوئی ایک محبوب چیز‘ بس یہی ایک مسئلہ ہے ہماری زندگی میں‘ ہم سب کو ایک شئے کی تمنا ہے۔ وہی ہماری دعاؤں کا موضوع ہوتی ہے‘ اور وہ ہمیں نہیں مل رہی ہوتی۔ وہی چیز ہمارے آس پاس کے لوگوں کو بےحد آسانی سے مل جاتی ہے اور ہم ان پہ رشک کرتے رہ جاتے ہیں‘ یہ جانے بغیر کہ ان لوگوں کی خاص تمنا وہ چیز ہے ہی نہیں۔ وہ تو کسی اور چیز کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ یوں ہم اس ایک شے کے لیے اتنا روتے ہیں کہ وہ ہماری زندگی پہ حاوی ہو جاتی ہے۔۔”
اوزیب آنسو پونچھتے ہوئے دنیا و آخرت کی نعمتیں سمیٹنے کے ایک نیے عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا . بادلوں میں چھپا چاند اپنی تابانیاں بکھیرنے لگا. اوزیب کو لگا جیسے چاند بھی اس سے کہہ رہا ہو
‏ دیکھو میں  تنہا آسمان پر براجمان ہوں مگر میں نے اپنی تنہائ کو اپنےمقصد پر حاوی نہیں ہونے دیا،خود تنہا ہوں مگر اندھیرے میں کل کائنات کو روشنی سےمنور کرتاہوں.

Advertisement
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!