Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

غصہ

بے محل اور بے موقع بات پر بکثرت غصہ کرنا’ یہ بہت خراب عادت ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان غصہ میں آکر دنیا کے بہت سے بنے بنائے کاموں کو بگاڑ دیتا ہے اور کبھی کبھی غصہ کی جھلاہٹ میں خداوند کریم کی ناشکری اور کفر کا کلمہ بکنے لگتا ہے۔ اور اپنے ایمان کی دولت کو غارت اور برباد کر ڈالتا ہے۔ اسی لئے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنی امت کو بے محل اور بات بات پر غصہ کرنے سے منع فرمایا ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ
علیہ واٰلہٖ وسلّم!مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے مگر بہت ہی تھوڑا ہو تو  آپ نے ارشاد فرمایا کہ ”غصہ مت کر” اس نے کہا کہ کچھ اور ارشاد فرمایئے تو  آپ نے پھر یہی فرمایا کہ ”غصہ مت کر” غرض کئی بار اس شخص نے دریافت کیا مگر ہر مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہی فرمایا کہ ”غصہ مت کر” یہ بخاری شریف کی حدیث ہے۔
 (صحیح البخاری، کتاب الادب ، باب الحذرمن الغضب،رقم ۶۱۱۶،ج۴،ص۱۳۱)
    ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہ ارشاد فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑ دیتا ہے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے نفس پر قابو رکھے۔
(صحیح البخاری، کتاب الادب ، باب الحذرمن الغضب،رقم ۶۱۱۴،ج۴،ص۱۳۰)
غصہ کب بُرا’ کب اچھا ہے؟:۔غصہ کے معاملہ میں یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ غصہ بذات خود نہ اچھا ہے نہ برا۔ درحقیقت غصہ کی اچھائی اور برائی کا دارو مدار موقع اور محل کی اچھائی اور برائی پر ہے اگر بے محل غصہ کیا اور اس کے اثرات برے ظاہر ہوئے تو یہ غصہ برا ہے ۔ اور اگر بر محل غصہ کیا اور اس کے اثرات اچھے ظاہر ہوئے تو یہ غصہ اچھا ہے۔ مثلاََ کسی بھوکے پیاسے دودھ پیتے بچے کے رونے پر تم کو غصہ آگیا اور تم نے بچے کا گلا گھونٹ دیا تو چونکہ تمہارا یہ غصہ بالکل ہی بے محل ہے اس لئے یہ غصہ برا ہے اور اگر کسی ڈاکو کو ڈاکہ ڈالتے وقت دیکھ کر تم کو غصہ آگیا اور تم نے بندوق چلا کر اس ڈاکو کا خاتمہ کردیا تو چونکہ تمہارا یہ غصہ بالکل بر محل ہے۔ لہٰذایہ غصہ برا نہیں بلکہ اچھا ہے۔ حدیث شریف میں جس غصہ کی مذمت اور برائی بیان کی گئی ہے۔ یہ وہی غصہ ہے جو بے محل ہو اور جس کے اثرات برے ہوں۔ بالکل ظاہر بات ہے کہ غصہ میں رحم کی جگہ بے رحمی اور عدل
کی جگہ ظلم، شکر کی جگہ ناشکری، ایمان کی جگہ کفر، ہو تو بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ یہ غصہ اچھا ہے؟ یقینا یہ غصہ برا ہے اور یہ بہت ہی بری خصلت اور نہایت ہی خراب عادت ہے اس سے بچنا ہر مسلمان مردوعورت کے لئے لازم ہے۔
غصہ کا علاج:۔جب بے محل غصہ کی جھلاہٹ آدمی پر سوار ہو جائے تو رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ اس کو چاہے کہ وہ فوراً ہی وضو کرے۔ اس لئے کہ بے محل اور مضر غصہ دلانے والا شیطان ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھ جاتی ہے اس لئے وضو غصہ کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔
(سنن ابی داود ، کتاب الادب ، باب مایقال عند الغضب ، رقم ۴۷۸۴، ج۴،ص۳۲۷)
    اور ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر کھڑے ہونے کی حالت میں غصہ آجائے تو آدمی کو چاہے کہ فوراً بیٹھ جائے تو غصہ اتر جائے گا۔ اور اگر بیٹھنے سے بھی غصہ نہ اترے تو لیٹ جائے تاکہ غصہ ختم ہو جائے۔
    (المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند ابی ذر ، رقم ۲۱۴۰۶،ج۸،ص۸۰)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

error: Content is protected !!