کفار کیسے بھاگے؟

حضرت نعیم بن مسعود اشجعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قبیلہ غطفان کے بہت ہی معزز سردار تھے اور قریش و یہود دونوں کو ان کی ذات پر پورا پورا اعتماد تھایہ مسلمان ہو چکے تھے لیکن کفار کو ان کے اسلام کا علم نہ تھاانہوں نے بارگاہ رسالت میں یہ درخواست کی کہ یارسول اﷲ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں یہود اور قریش دونوں سے ایسی گفتگو کروں کہ دونوں میں پھوٹ پڑ جائے،آپ نے اس کی اجازت دے دی چنانچہ انہوں نے یہود اور قریش سے الگ الگ کچھ اس قسم کی باتیں کیں جس سے واقعی دونوں میں پھوٹ پڑ گئی۔
ابو سفیان شدید سردی کے موسم، طویل محاصرہ،فوج کا راشن ختم ہو جانے سے حیران و پریشان تھاجب اس کو یہ پتا چلا کہ یہودیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے تو اس کا حوصلہ پست ہو گیا اور وہ بالکل ہی بددل ہو گیاپھر ناگہاں کفار کے لشکر پر قہر قہار و غضب جبار کی ایسی مار پڑی کہ اچانک مشرق کی جانب سے ایسی طوفان خیز آندھی آئی
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوۃ الخندق…الخ، ج۳، ص۳۷
اے ایمان والو! خدا کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم پر فوجیں آ پڑیں تو ہم نے ان پر آندھی بھیج دی۔ اور ایسی فوجیں بھیجیں جو تمہیں نظر نہیں آتی تھیں اور اﷲ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا ہے۔ (احزاب)
    ابو سفیان نے اپنی فوج میں اعلان کرا دیا کہ راشن ختم ہو چکا،موسم انتہائی خراب ہے،یہودیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیالہٰذا اب محاصرہ بے کار ہے،یہ کہہ کر کوچ کا نقارہ بجا دینے کا حکم دے دیااور بھاگ نکلا قبیلہ غطفان کا لشکر بھی چل دیابنو قریظہ بھی محاصرہ چھوڑ کر اپنے قلعوں میں چلے آئے اور ان لوگوں کے بھاگ جانے سے مدینہ کا مطلع کفار کے گردو غبار سے صاف ہو گیا۔ (2)(مدارج ج۲ ص۱۷۲ و زرقانی ج۲ ص۱۱۶ تا ۱۱۸)
کہ دیگیں چولھوں پر سے الٹ پلٹ ہو گئیں،خیمے اکھڑ اکھڑ کر اڑ گئے اور کافروں پر ایسی وحشت اور دہشت سوار ہو گئی کہ انہیں راہ فرار اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں رہا،یہی وہ آندھی ہے جس کا ذکر خداوند قدوس نے قرآن میں اس طرح بیان فرمایا کہ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوۡا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیۡکُمْ اِذْ جَآءَتْکُمْ جُنُوۡدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمْ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمْ تَرَوْہَا ؕ وَ کَانَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ۚ﴿۹﴾ (1)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *