Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اگر شوہر نے بیوی کا زیوررہن رکھوایا ہوتو؟

اگر شوہر نے بیوی کا زیوررہن رکھوایا ہوتو؟
    رہن رکھا گیا زیور زکوٰۃ کے حساب میں شامل نہیں ہوگا۔
(فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ،کتاب الزکوٰۃ،ج۱۰، ص۱۴۷)
زیور کی گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ
     اگر کسی کے پاس زیور ہو اور اُس نے کئی سال سے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو توگذشتہ سالوں کی زکوٰۃ کا حساب لگانے کے لئے دیکھا جائے گا کہ صاحبِ نصاب ہونے کے بعد مقدارِزیور میں کوئی کمی بیشی ہوئی یا نہیں ۔ اگر نہیں ہوئی تو پہلا سال ختم ہونے کے دن زیور کی قیمت معلوم کر لے اور اس کی زکوٰۃ ادا کرے پھر اگر بچ رہنے والا زیور نصاب کو پہنچے تواس کی دوسرے سال کے اختتام کے دن کی قیمت معلوم کرکے زکوٰۃ دے ،اس کے بعد بھی بچ رہنے والا زیور نصاب کو پہنچے تو تیسرے سال کے اختتامی دن پر زیور کی قیمت معلوم کرے اور زکوٰۃ دے ۔عَلَی ھٰذَا القیاس
(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ،ج۱۰، ص۱۲۸)
    اور اگر زیور کی مقدار میں کمی ہوئی ہو یا اضافہ ہوا ہو تو ہرسال کے اختتامی دن پر کمی کو نصاب سے منھا(یعنی خارج) کر لے اور قیمت معلوم کر کے زکوٰۃ ادا کرے اور اگر اضافہ ہوا ہو تو نصاب میں شامل کر کے زکوٰۃ ادا کرے ۔
سونے کا ناجائز استعمال کرنے والے پر زکوٰۃ ہے یا نہیں ؟
    سونا چاندی کا استعمال چاہے مالک کے لئے جائز ہویا نہ ہو ،اس پر ان کی زکوٰۃ دیناواجب ہے ۔ درمختار میں ہے :”ان دونوں (یعنی سونا اور چاندی)سے بنی ہوئی اشیاء میں چالیسواں حصہ زکوٰۃ لازم ہے اگرچہ یہ ڈلی کی صورت میں ہوں یا زیورات کی صورت میں ، ان کا استعمال جائز ہو یا ممنوع ۔”
(الدر المختار وردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ،باب زکوٰۃ المال ،ج۱،ص۲۷۰،ملخصاً)
ہیروں اور مو تیوں پر زکوٰۃ
    ہیروں اورموتی پر زکوٰۃ واجب نہیں اگرچہ ہزاروں کے ہوں ،ہاں!اگر تجارت کی نیت سے لئے تو زکوٰۃ واجب ہے ۔ (الدرالمختار،کتاب الزکوٰۃ ،ج۳،ص۲۳۰)
سونے یا چاندی کی کڑھا ئی پر زکوٰۃ
    اگرکپڑوں پر سونے یا چاندی کی کڑھائی کروائی ہو تو اس پر بھی زکوٰۃ ہوگی ۔
(فتاویٰ امجدیہ،کتاب الزکوٰۃ،ج۱، ص۳۷۷)
حج کے لئے جمع کی جانے والی رقم پر زکوٰۃ
   سفرِ حج وزیارتِ مدینہ کے لئے جمع کی جانے والی رقم پر بھی وجوبِ زکوٰۃ کی شرائط پوری ہونے پر زکوٰۃ دینا ہوگی ۔  (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ ، ج۱۰،ص۱۴۰)
error: Content is protected !!