شیطان قید میں ہونے کے باوجود گناہ کیوں ہوتے ہیں؟

شیطان قید میں ہونے کے باوجود گناہ کیوں ہوتے ہیں؟

Advertisement
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں:حق یہ ہے کہ ماہِ رَمَضان میں آسمانوں کے دروازے بھی کُھلتے ہیں جن سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاص رَحمتیں زمین پر اُترتی ہیں اور جنَّتوں کے دروازے بھی جس کی وجہ سے جنَّت والے حُوروغِلمان کو خبر ہو جاتی ہے کہ دنیا میں رَمَضان آ گیا اور وہ روزہ داروں کے لئے دعاؤں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ماہِ رَمَضان میں واقِعی دوزخ کے دروازے ہی بند ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس مہینے میں گنہگاروں بلکہ کافِروں کی قبروں پر بھی دوزخ کی گرمی نہیں پہنچتی۔ وہ جو مسلمانوں میں مشہور ہے کہ رَمَضان میں عذابِ قَبر نہیں ہوتا اس کا یِہی مطلب ہے اور حقیقت میں اِبلیس مَع اپنی ذُرِّیَّتوں (یعنی اولاد) کے قید کر دیا جاتا ہے ۔ اِس مہینے میں جو کوئی بھی گناہ کرتا ہے وہ اپنے نفسِ اَمّارہ کی شرارت سے کرتا ہے نہ شیطان کے بہکانے سے۔ (مراٰۃ المناجیح ج۳ ص۳۳ا )
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!