مبین منور۔۔۔۔جہان نعت کاباسی

مبین منور۔۔۔۔جہان نعت کاباسی
غلام ربانی فداؔ
gulamrabbanifida@gmail.com
مبین اردو کے فعال اور متحرک شخصیت ہیں۔موجودہ کرناٹک اردواکادمی کے صدرنشین ہیں۔ اردوادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کی خدمات میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ممکن ہے کہ ذاتی طورپرمجھے اپنے تحفظات کے تئیں مبین منورسے اختلاف ہوسکتا ہے مگر ان کی ادبی ونعتیہ خدمات اپنے اندرایک جہان سموئے ہوئے ہیں۔
مبین منور کی پیدائش ضلع ٹمکور میں 22مئی 1948کوہوئی۔تعلیم ایس ایس ایل تک حاصل کی ہیں۔آپ بنگلور ہی میں مستقل قیام پذیرہیں۔ آپ گوناگوں شخصیت اور خوبصورت ترنم کے مالک ہیں۔آپ اسد ؔاعجازسے شرف تلمذ رکھتے ہیں۔آپ نے پہلی نعت 1970میں کہی۔ جس کے اشعاریہ تھے۔
مجھے کونین سے نسبت نہ یارا  یارسول اللہ
میرے سب کچھ ہو تم میں ہوں تمہارا یارسول اللہ
ہے میرا ایک عرصہ سے ارادہ  یا رسول اللہ
کہ دیکھوں روضۂ انور تمہارا یارسول اللہ
بنگلور کاشایدوباید ہی کوئی مشاعرہ ہو جس میں منورصاحب کی نعت خوانی نہ ہوتی ہو آپ جہاں شاعر وادیب ہیں وہیں ۔ایک بے باک سیاسی لیڈربھی ہیں۔اعزازت وانعامات کی ایک لمبی فہرست ہے،۔آپ کے تصانیف
۱)اذکارمبین
۲)متاعِ مبین
۳)رازمبین
 مبین منورؔ نعت کے حوالے سے خاصے اچھے اشعار لکھے ہیں۔ جن میں حضور کی ذاتِ پاک سے عقیدت و و ابستگی اور اُن کے پیغام سے تعلق کا اظہار سلیقے سے ہوا ہے۔ ، یہ شعردیکھیے                  ؎
ایوب کے جو گھر پہ سواری اتر گئی
سارے مدینے والوں کی قسمت سنور گئی
مظہر ذاتِ خدا ہے ہستیٔ خیرالبشر
سرورکونین سے ہے کون بڑھ کر معتبر
اس سے بڑھ کر کیا ملے گا پھر رفاقت کا صلہ
بازوئے سرکار ہیں صدیق اکبر  وعمر
کتابِ زیست کا روشن ترین باب ہیں آپ
تمام نبیوں میں سچ ہے کہ لاجواب ہیں آپ
ظہور نور ہر ایک شئے میں آپ ہی کاہے
مٹی  ہیں ظلمتیں جس سے وہ آفتاب ہیں آپ
یہی دیکھتا ہوں جدھر دیکھتا ہوں
کرم ہائے خیرالبشر دیکھتا ہوں
مداح ہوں جنابِ رسالت مآب کا
پھر کیسے خوف ہو مجھے روز حساب کا
مبین منور کا نعتیہ چمن ایسا ہے جو اپنے اندر مدحتِ رسول کے خوش رنگ پھولوں سے مزین کیاریاں رکھتا ہے۔گلہائے خوش رنگ رنگ میں کس کاانتخاب کروں ؟ 
مبین منور نے حضور حبیب پاک ﷺ کے اوصاف اوران کے عشق کی بے چینی کوپانے اشعارمیں ڈھالاہے۔یہ اشعاردیکھئے:
جب بھی زبان پہ نام محمد آگیا
گونجی فضائیں ساری درود وسلام سے
ایک بار مجھ کو آقا مدینے بلایئے
ہوگانہ کوئی مدعا اس التجا کے بعد
تخلیق کائنات کا مقصد ہے جس کا نام
بعد از خدا مقدس و امجد ہے جس کا نام
ہیں جتنے نام ان میں مجدد ہے جس کا نام
محمود ، حامد اور محمد ﷺ ہے جس کانام
جب کسی کو یادِ محبوبِ خدا آنے لگی
ٹھنڈی ٹھنڈی پھر مدینے کی ہوا آنے لگی
لے کے  کیا صورت جاؤں میں آپ کے دربار میں
کارواں بڑھنے لگا شرم وحیا آنے لگی
مدینہ شہرِ آرزوئے عاشقانِ رسول ہے، یہیں پر انھیں جلوۂ رسول میں آپ کے لطف عمیم سے معرفت کے بحر تجلیٔ ناپیدا کنار سے کنارہ حاصل ہوتا ہے۔ یہیں پر پیارے رسولﷺ کی محبت کے صلہ میں عرفانِ الٰہی کے دریچے کھلتے ہیں۔ دیدار و حضوریِ روضۂ اقدس عام مسلمانوں کی بھی معراج ہے۔یہیں پر انھیں نبی سے قریب ہونے کا احساسِ جمیل ہوتا ہے کہ مسجدِ نبوی میں آپ کے شب و روز گزرتے تھے اور اس کا ایک ایک چپہ دیدارِ نبی کا گواہ ہے اور ان چپوں کی بوسہ کنانی ہر اُمتی کی معراج ہے۔ اس لیے مدینہ منورہ کی تابانی، اس کے چپے چپے کی جلوہ سامانی، روضۂ اقدس پر صلوٰۃ و سلام کے وردِ والہانہ پر نعت گو شعرا نے اپنی عقیدت کے خوب خوب نگینے تراشے ہیں۔ منور نے بھی مدینہ کی شان میں آب دار نگینوں کی لڑیاں تخلیق کی ہیں۔ ملاحظہ ہو ایسی ایک نعت کے چند اشعار:
کس درجہ ہوگئی ہے معطر یہ انجمن
طیبہ سے ہو کے آیا یہ جھونکا ہوا کاہے
ہے مدینہ شہر سب سے جدا سب سے الگ
سبزگنبد کا ہے منظر باخدا سب سے الگ
ہو گیا معلوم آتے ہی دیارِ مصطفیٰ 
جنت الفردوس کا رستہ ملا سب سے الگ
نور کی برسات آٹھوں پہر برسے ہے جہاں
مسجدِ نبوی  کا ہر ذرہ لگا سب سے الگ
سرکارِ دوعالم کے روضہ کا وہ عالم ہے
رحمت کو وہاں ہر دم اک جوش میں پایا ہوں 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *