دُرُود نہ پڑھنے کے نقصانات پر 8 فرامینِ نبویﷺ

دُرُود نہ پڑھنے کے نقصانات
 پر 8 فرامینِ نبویﷺ

{1}جو لوگ اپنی مجلس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذِکر اور نبی(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پر دُرُود
شریف پڑھے بغیر اُٹھ گئے تو وہ بدبودار مردار سے اُٹھے۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۲ ص۲۱۵ حدیث ۱۵۷۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{2}جس کے پاس میرا ذِکر ہوا اور اُس نے مجھ پر دُرُودِ پاک نہ پڑھا اُس نے جنت کا راستہ چھوڑ دیا۔(مُعْجَم کبیر ج۳ ص۱۲۸ حدیث۲۸۸۷ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{3}اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذِکر ہو اور وہ مجھ پر دُرودِ پاک نہ پڑھے ۔
(تِرمِذی ج۵ ص۳۲۰ حدیث۳۵۵۶ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{4}جس کے پاس میرا ذِکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو وہ لوگوں میں  سے کنجوس ترین شخص ہے۔(مُسندِ امام احمدبن حنبل ج۱ ص۴۲۹ حدیث۱۷۳۶ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{5}جو قوم کسی مجلس میں  بیٹھے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذِکر اور نبی(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)پر دُرُودشریف نہ پڑھے وہ قِیامت کے دِن جب اُس کی جزا دیکھیں  گے تو اُن پر حسرت طاری ہوگی، اگرچہ جنت میں  داخل ہوجائیں ۔               (ایضاً ج۳ ص۴۸۹ حدیث۹۹۷۲ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{6}جس کے پاس میرا ذِکر ہوا اور اُس نے مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھا اُس نے جفا کی۔
(مُصَنَّفعَبْد الرَّزّاق ج۲ ص۱۴۲ حدیث۳۱۲۶ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{7}جس کے پاس میرا ذِکر ہو ااور اُس نے مجھ پر دُرُودِ پاک نہ پڑھا تحقیق وہ بدبخت ہوگیا۔
(عَمَلُ الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ لابن السُّنّیص۳۳۶ حدیث ۳۸۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{8}جو لوگ کسی مجلس میں  بیٹھتے ہیں  پھر اُس میں  نہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذِکر کرتے ہیں  اور نہ ہی اُس کے نبی (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پر دُرُود پاک پڑھتے ہیں  قیامت کے دن وہ مجلس اِن کے لیے باعث حسرت ہوگی۔(اللہ عَزَّ وَجَلَّ) چاہے تو اِن کو عذاب دے اور چاہے تو بخش دے۔(تِرمِذی ج۵ ص۲۴۷ حدیث۳۳۹۱ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *