ضیائے دُرُود وسلام

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

ضیائے دُرُود وسلام

  40 حدیثیں  دوسرے تک پہنچانے کی فضیلت

        فرمانِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے:جو شخص میری اُمّت تک پہنچانے کیلئے دینی اُمور کی 40 حدیثیں  یاد کر لے گا تو اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّ قِیامت کے دن عالِمِ دین کی حیثیت سے اُٹھائے گااور بروزِ قیامت میں  اس کا شفیع اور گواہ ہوں  گا۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۲ ص۲۷۰حدیث۱۷۲۶) اس سے مراد چالیس احادیث کالوگوں  تک پہنچانا ہے اگرچہ وہ یاد نہ ہوں  ۔(اشعۃُ اللّمعات ج ۱ ص ۱۸۶)  چنانچہ حدیث مبارَکہ میں  وارِد فضیلت کے حصول کی نیت سے فضائل دُرُود شریف پر مَبنی چالیس فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پیش کئے جاتے ہیں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

40 فرامِینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

{1}جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھااللہ عَزَّ وَجَلَّاُس پر دس رحمتیں  بھیجتا ہے۔
(مُسلِم ص۲۱۶ حدیث۴۰۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{2}بروزِ قیامت لوگوں میں  سے میرے قریب تر وہ ہوگا جس نے دُنیا میں  مجھ پر زیادہ دُرُودِ پاک پڑھے ہوں گے۔                                       (تِرمِذی ج۲ ص۲۷ حدیث۴۸۴ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{3}جس نے مجھ پر ایک مرتبہ دُرودِ پاک پڑھااللہ عَزَّ وَجَلَّاُس پر دس رحمتیں بھیجتا اور اس کے نامۂ اعمال میں  دس نیکیاں  لکھتا ہے۔                   (تِرمِذی ج۲ ص۲۸ حدیث۴۸۴ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{4}مسلمان جب تک مجھ پر دُرُود شریف پڑھتا رہتا ہے فرشتے اُس پر رحمتیں  بھیجتے رہتے ہیں  ،اب بندے کی مرضی ہے کم پڑھے یا زیادہ ۔          (ابنِ ماجہ ج۱ ص۴۹۰حدیث۹۰۷ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{5} نماز کے بعد حمد و ثناء و دُرُود شریف پڑھنے والے سے فرمایا :’’دُعا مانگ قبول کی جائے گی، سوال کر، دیا جائے گا۔‘‘     (نَسائی ص۲۲۰ حدیث۱۲۸۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{6}جبرائیل(عَلَیْہِ السَّلَام )نے مجھ سے عرض کی کہ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اے محمد! کیا تم اِس بات پر راضی نہیں  کہ تمہارا اُمَّتی تم پر ایک سلام بھیجے، میں  اُس پر دس سلام بھیجوں ؟‘‘
(نَسائی ص۲۲۲ حدیث۱۲۹۲ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{7}جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس پر دس رحمتیں  نازل فرماتا ہے، دس گناہ مٹاتا ہے اور دس دَرَجات بُلند فرماتا ہے۔      (نَسائی ص۲۲۲ حدیث۱۲۹۴ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{8}جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس پر دس رحمتیں  نازل فرماتا ہے اور جو مجھ پر دس مرتبہ دُرُود ِ پاک پڑھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس پر سو رحْمتیں  نازل فرماتا ہے اور جو مجھ پرسو مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھےاللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کی دونوں  آنکھوں  کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ نِفاق اور جہنَّم کی آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قِیامت شُہَداء کے ساتھ رکھے گا۔
 (مُعْجَم اَوسَط  ج۵ ص۲۵۲ حدیث۲۷۳۵ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{9}جو مجھ پر ایک دن میں  50بار دُرُودِ پاک پڑھے قیامت کے دن میں  اس سے مصافحہ کروں (یعنی ہاتھ ملاؤں  )گا۔         (اَلْقُرْبۃُ اِلٰی ربِّ العٰلمین، لابن بشکوال ص۹۰حدیث۹۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{10}جو مجھ پر ایک دن میں  ایک ہزار بار دُرُودِ پاک پڑھے گا وہ اُس وقت تک نہیں  مرے گا جب تک جنت میں  اپنا مقام نہ دیکھ لے۔
(اَلتَّرغِیب فی فضائل الاعمال لابن شاہین ص ۱۴حدیث۱۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{11}جس نے دن اور رات میں  میری طرف شوق و مَحَبَّت کی وجہ سے تین تین مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا اللہ عَزَّ وَجَلَّپر حق ہے کہ وہ اُس کے اُس دن اور اُس رات کے گناہ بخش دے۔
(مُعْجَم کبیر ج۱۸ ص۳۶۲ حدیث۹۲۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{12}تم جہاں  بھی ہو مجھ پر دُرُود پڑھو کہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے۔
(مُعْجَم کبیر ج۳ ص۸۲ حدیث  ۲۷۲۹ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{13}بے شک تمہارے نام مَع شناخْتْ مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں  ، لہٰذا مجھ پر اَحْسن (یعنی بہترین الفاظ میں )  دُرود ِ پاک پڑھو۔     (مُصَنَّفعَبْد الرَّزّاق ج۲ ص۱۴۰ حدیث۳۱۱۶ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{14}بے شک جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام) نے مجھے بِشارت دی: جو آپ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پر دُرُودِ پاک پڑھتا ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس پر رَحمت بھیجتا ہے اور جو آپ (صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )پر سلام پڑھتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس پر سلامتی بھیجتا ہے۔
(مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۱ ص۴۰۷ حدیث۱۶۶۴ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{15}حضرتِ سیِّدُنا اُبَیْ بِنْ کَعبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عَرْض کی کہ میں (سارے وِرد،وظیفے چھوڑ دوں  گااور)اپنا سارا وقت دُرُود خوانی میں  صرف کروں  گا۔ تو سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا:یہ تمہاری فکریں دور کرنے کے لئے کافی ہوگا اور تمہارے گناہ معاف کر دئیے جائیں  گے۔ (تِرمِذی ج۴ ص۲۰۷ حدیث۲۴۶۵ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{16}جس نے مجھ پر صبح وشام دس دس باردُرُود ِ پاک پڑھا اُسے قیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔ (مَجْمَعُ الزَّوائِدج۱۰ ص۱۶۳ حدیث۱۷۰۲۲ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{17}مجھ پر دُرُود پاک کی کثر ت کرو بے شک تمہارا مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھنا تمہارے لئے پاکیزگی کا باعث ہے۔ (مُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی ج۵ ص۴۵۸ حدیث۶۳۸۳ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{18}اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر آپس میں  مَحَبَّت رکھنے والے جب باہم(یعنی آپس میں ) ملیں  اور مُصافَحَہ کریں (یعنی ہاتھ ملائیں ) اور نبی (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پر دُرُودِ پاک
بھیجیں  تو ان کے جدا ہونے سے پہلے دونوں  کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔                                   (مُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی ج۳ص۹۵حدیث۲۹۵۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{19}جس نے یہ کہا: ’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ القِیامَۃِ‘‘ ۱؎ اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔
(مُعْجَم کبیر ج۵ ص۲۵ حدیث۴۴۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{20}جس نے کتاب میں  مجھ پر دُرُود پاک لکھا تو جب تک میرا نام اُس میں  رہے گا فرشتے اُس کے لیے ا ستغفار(یعنی بخشش کی دعا) کرتے رہیں  گے۔
(مُعْجَم اَوسط ج۱ ص۴۹۷ حدیث۱۸۳۵ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{21}اے لوگو! بے شک بروزِ قیامت اس کی دہشتوں  (یعنی گھبراہٹوں )اور حساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہوگا جس نے تم میں  سے مجھ پر دُنیا کے اندر بکثرت دُرود شریف پڑھے ہوں  گے۔(اَلْفِردَوس بمأثور الْخِطاب ج۵ص۲۷۷ حدیث۸۱۷۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{22}مجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھو بے شک تمہارا مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھنا تمہارے گناہوں  کے لیے مغفرت ہے۔(اِبنِ عَساکِرج۶۱ ص۳۸۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{23}جو مجھ پر ایک بار دُرُود شریف پڑھتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کے لیے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے۔ (مُصَنَّفعَبْدُ الرَّزّاق ج۱ ص۳۹ حدیث۱۵۳ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{24}بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایک فرشتہ میری قبر پرمقرر فرمایا ہے جسے تمام مخلوق کی آوازیں  سننے کی طاقت دی ہے ، پس قیامت تک جوکوئی مجھ پر دُرود پاک پڑھتا ہے تو وہ مجھے اِس کا اور اس کے باپ کا نام پیش کرتا ہے، کہتا ہے :’’ فلاں  بن فلاں  نے آپ پر اِس وقت دُرُود پاک پڑھا ہے۔‘‘(مسند بزار ج۴ص۲۵۵حدیث۱۴۲۵)
              سُبْحٰنَ اللہ!دُرُود شریف پڑھنے والا کس قدر بخت ور ہے کہ اُس کا نام مع وَلدِیّت بارگاہِ رِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  پیش کیا جاتا ہے، یہاں  یہ نکتہ بھی انتہائی ایمان افروز ہے کہ قبرمنور پر حاضر فرشتے کو اس قدر زیادہ قوت سماعت دی گئی ہے کہ وہ دنیا کے کونے کونے میں  ایک ہی وقت کے اندر دُرُودشریف پڑھنے والے لاکھوں  مسلمانوں  کی انتہائی دھیمی آواز بھی سن لیتا ہے۔جب خادِم دربار کی قوت سماعت (یعنی سننے کی طاقت ) کا یہ حال ہے تو سرکارِ والا تبار، مکّے مدینے کے تاجدار، محبوبِ پَروَرْدَگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے
اختیارات کی کیا شان ہوگی ! وہ کیوں  نہ اپنے غلاموں  کو پہچانیں  گے اور کیوں  نہ اُن کی فریاد سُن کر بِاذنِ اﷲ(یعنی اللہ کی اجازت  سے) اِن کی اِمدادیں  فرمائیں  گے! 
اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں  ہو بھلا جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں  درود
میں  قرباں  اِس ادائے دَسْتْ گیری پر مِرے آقا مدد کو آگئے جب بھی پُکارا یارسول اللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{25}جسے یہ پسند ہو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں  پیش ہوتے وَقْت اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس سے راضی ہو اُسے چاہیے کہ مجھ پر کثرت سے دُرود شریف پڑھے۔
(فِردَوسُ الاَخبار بمأثور الْخِطاب ج۲ ص۲۸۴ حدیث ۶۰۸۳ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{26}فرض حج کرو، بے شک اِس کا اجر بیس غَزوات میں  شرکت کرنے سے زیادہ ہے اور مجھ پر ایک مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھنا اِس کے برابر ہے۔   (اَیضاً ج۱ ص۳۳۹ حدیث۲۴۸۴ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{27}قیامت کے روزاللہ عَزَّ وَجَلَّکے عرش کے سوا کوئی سایہ نہیں  ہو گا، تین شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکے عرش کے سائے میں  ہوں  گے۔ عرض کی گئی:یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَوہ کون لوگ ہوں  گے؟ارشاد فرمایا:(۱)وہ شخص جو میرے اُمّتی کی پریشانی دُور کرے (۲) میری سُنّت کو زِندہ کرنے والا(۳) مجھ پر کثرت سے دُرود شریف پڑھنے والا۔
(اَلبُدورُ السّافرۃ لِلسُّیُوطی ص ۱۳۱حدیث ۳۶۶ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{28}جس نے یہ کہا :’’جَزَ ی اللہُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَّاھُوَ اَھْلُہٗ‘‘2؎   70 فرشتے ایک ہزار دن تک اس کے لئے نیکیاں  لکھتے رہیں  گے۔ (مُعْجَم اَوسط ج۱  ص۸۲ حدیث۲۳۵ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{29}مجھ پر دُرُود شریف پڑھو ،اللہ عَزَّ وَجَلَّتم پر رحمت بھیجے گا۔
(اَلکامِل لابنِ عَدِی ج۵ ص۵۰۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{30}جب تم رسولوں  (عَلَیْہمُ السَّلَام ) پر دُرُودِ پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو ،بے شک میں  تمام جہانوں  کے ربّ کا رسول ہوں۔(جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی  ج۱ ص۳۲۰ حدیث۲۳۵۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{31}جس نے قر اٰنِ پاک پڑھا، ربّ تعالیٰ کی حمد کی اور نبی (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پر دُرود شریف پڑھا نیز اپنے ربّ سے مغفرت طلب کی تو اُس نے بھلائی اُس کی جگہ سے تلاش کر لی۔
(شُعَبُ الْاِیمان   ج۲ ص۳۷۳ حدیث۲۰۸۴ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{32}مجھ پر دُرُود شریف پڑھ کر اپنی مجالس کو آراستہ کرو کہ تمہارا دُرُودِ پاک پڑھنا
بروزِ قِیامت تمہارے لیے نور ہوگا۔(فِردُوسُ الاخبار ج۱ ص۴۲۲ حدیث۳۱۴۹ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{33} شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ مجھ پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھو کیونکہ تمہارا دُرُود پاک مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔(مُعْجَم اَوسط ج۱ ص۸۴ حدیث۲۴۱ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{34}شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ (یعنی جمعرات کے غروبِ آفتاب سے لے کر جمعہ کا سورج ڈوبنے تک) مجھ پر دُرُودِ پاک کی کثرت کرلیا کرو، جو ایسا کرے گا قیامت کے دن میں  اس کا شفیع و گواہ بنوں  گا۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۳ ص۱۱۱ حدیث۳۰۳۳ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{35}جب جمعرات کا دن آتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّفرشتوں  کو بھیجتا ہے جن کے پاس چاندی کے کاغذ اور سونے کے قلم ہوتے ہیں ،وہ لکھتے ہیں ، کون یومِ جمعرات اور شبِ جمعہ مجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھتا ہے۔ (ابنِ عَساکِر ج۴۳ص۱۴۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{36}مجھ پر دُرُود پاک پڑھنا پُلْ صراط پرنور ہے ،جو روزِ جمعہ مجھ پر80 بار دُرُودِ پاک پڑھے اُس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوجائیں  گے۔ (ایضاً ج۲ص۴۰۸ حدیث۳۸۱۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{37}جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں  قیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں  گا۔
(جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۷ ص۱۹۹حدیث ۲۲۳۵۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{38}جو شخص بروزِ جمعہ مجھ پر سو بار دُرُود ِ پاک پڑھے، جب وہ قیامت کے روز آئے گا تو اُس کے ساتھ ایک ایسا نور ہوگا کہ اگر وہ ساری مخلوق میں  تقسیم کردیا جائے تو سب کوکِفایت کرے۔
(حِلیۃُ الاولیاء ج۸ ص۴۹ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{39}جو مجھ پر شبِ جمعہ اور روزِ جمعہ سو بار دُرُود شریف پڑھے اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کی سو حاجتیں  پوری فرمائے گا ،70 آخرت کی اور تیس دُنیا کی۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۳ ص۱۱۱ حدیث ۳۰۳۵ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{40}جس نے مجھ پر روزِ جمعہ دو سو بار دُرُودِ پاک پڑھا اُس کے دو سوسال کے گناہ معاف ہوں  گے۔
 (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۷ ص۱۹۹حدیث ۲۲۳۵۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!حضرتِ محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پررحمت نازِل فرما اور انہیں قیامت کے روز اپنی بارگاہ میںمُقَرَّب مَقام عطا فرما۔
2:اللہ عَزَّ وَجَلَّہما ری طرف سے حضرتِ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایسی جزاعطافرما ئے جس کے وہ اہل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *