فضائل رمضان شریف

فضائل رمضان شریف

دُ رُود شریف کی فضیلت

    اللہ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ تَقَرُّب نِشان ہے،”بے شک بروزِقِیامت لوگوں میں سے میرے قریب تَر وہ ہو گا جو مجھ پر سب سے زیادہ دُرُود بھیجے ۔”
                 (ترمذی ج۲ص۲۷حدیث ۴۸۴)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خُدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں ماہِ رَمَضَان جیسی عظیمُ الشّان نِعمت سے سَرفَراز فرمایا۔ ماہِ رَمَضَان کے فَیضَان کے کیا کہنے !اِس کی تو ہر گھڑی رَحمت بھری ہے۔اِس مہینے
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) جو شخص مجھ پر درود پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔
میں اَجْر و ثَواب بَہُت ہی بڑھ جاتاہے۔نَفْل کا ثواب فَرض کے برابر اور فَرْض کا ثواب ستّر گُنا کردیا جاتا ہے ۔بلکہ اِس مہینے میں تو روزہ دار کاسونا بھی عبادت میں شُمار کیا جاتاہے۔عَرش اُٹھانے والے فِرِشتے روزہ داروں کی دُعاء پرآمین کہتے ہیں اور ایک حدیثِ پاک کے مُطابِق” رَمَضَان کے روزہ دار کیلئے دریا کی مچھلیاں اِفطار تک دُعائے مَغْفِرت کرتی رہتی ہیں۔”                   (اَلتَّرغیب والتَّرہیب ج۲ص۵۵حدیث۶)

عبادت کا دروازہ

روزہ باطِنی عِبادت ہے ،کیوں کہ ہمارے بتائے بِغیر کِسی کو یہ عِلْم نہیں ہوسکتا کہ ہمارا روزہ ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ بَاطِنی عِبادت کو زِیادہ پسند فرماتا ہے ۔ ایک حدیثِ پاک کے مطابِق، ”روزہ عِبادت کا دروازہ ہے۔ ”                 ( الجامع الصغیرص۱۴۶حدیث۲۴۱۵)

نزول قرآن

اِس ماہِ مُبارَک کی ایک خُصُوصِیَّت یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اِس میں قُراٰنِ پاک نازِل فرمایاہے ۔ چُنانچِہ مُقدّ س قُراٰن میں خُدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا نُزُولِ قُراٰن اور ماہِ رَمَضَان کے بارے میں فرمانِ عالیشان ہے :



فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) جس نے مجھ پر ایک باردُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔

 شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلْیَصُمْہُ ؕ وَمَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ۫ وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾

تَرجَمَہ کَنْزُ الْاِیْمَان:رَمَضان کا مہینہ ، جس میں قُراٰن اُترا،لوگوں کے لئے ہِدایت اور رَہنُمائی اور فیصلہ کی رُوشن باتیں ،تَو تُم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضَرور اِس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سَفر میں ہو،تَو اُتنے روزے اور دِنوں میں۔اللہ (عَزَّوَجَلَّ) تُم پر آسانی چاہتا ہے اور تُم پر دُشواری نہیں چاہتا اوراِس لئے کہ تم گِنتی پوری کرواور اللہ (عَزَّوَجَل) کی بڑائی بولو اِس پر کہ اُس نے تمہیں ہِدایت کی اور کہیں تم حق گُزار ہو ۔ ( پ ۲ البقرہ۱۸۵)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *