Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

 تعارف حضرت طلحہ بن عبید اللہ

 تعارف حضرت طلحہ بن عبید اللہ

(26 فروری 2015 کے ہفتہ وار اجتماع کا بیان)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ط
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط
اَلصَّلوٰۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الاعْتِکَاف (ترجَمہ:میں نے سنّتِ اعتکاف کی نیّت کی)
جب بھی مسجد میں داخل ہوں ، یاد آنے پر نفلی اعتکاف کی نیّت فرما لیا کریں ، جب تک مسجد میں رہیں گے، نفلی اعتکاف کا ثواب حاصل ہوتا رہے گا اور ضِمناً مسجد میں کھانا، پینا بھی جائز ہو جائے گا۔

دُرُود شریف کی فضلیت:

اُمُّ الْمُؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے کہ نبیِّ رَحْمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ شَفاعت نِشان ہے : ”مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ کَانَتْ شَفَاعَۃٌ لَّہٗ عِنْدِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃ ،جو شخص جُمُعہ کے دن مجھ پر دُرُود شریف پڑھے گاتو بروزِ قیامت اس کی شَفاعت میرے ذِمۂ کرم پر ہوگی۔” (کنز العمال، کتاب الاذکار،الباب السادس فی الصلاۃ علیہ علی آلہ، ١/٢٥٥، الجزء الاول ،حدیث:٢٢٣٦)
شافعِ روزِ جَزا تم پہ کروڑوں دُرُود
دافعِ جُملہ بَلا تم پہ کروڑوں دُرُود
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!حُصُولِ ثواب کی خاطِر بَیان سُننےسے پہلے اَچّھی اَچّھی نیّتیں کر لیتے ہیں ۔فَرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم ’’ نِیَّۃُ الْمُؤمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ ‘‘ مُسَلمان کی نِیَّت اُس کے عمل سے

بہتر ہے۔ (اَلمُعجمُ الکبیر لِلطّبرانی ج ۶ ص ۱۸۵ حدیث ۵۹۴۲)
دو مَدَنی پھول:(۱)بِغیر اَچّھی نِیَّت کے کسی بھی عملِ خَیْر کا ثواب نہیں ملتا۔
(۲)جِتنی اَچّھی نیّتیں زِیادہ،اُتنا ثواب بھی زِیادہ۔

بَیان سُننے کی نیّتیں :

نگاہیں نیچی کیے خُوب کان لگاکر بَیان سُنُوں گا*ٹیک لگا کر بیٹھنے کے بجائے عِلْمِ دِیْن کی تعظیم کی خاطر جہاں تک ہوسکادو زانو بیٹھوں گا *ضَرورَتاً سِمَٹ سَرَک کر دوسرے کے لیے جگہ کُشادہ کروں گا *دھکّا وغیرہ لگا تو صبر کروں گا، گُھورنے، جِھڑکنے اوراُلجھنے سے بچوں گا* صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ، اُذْکُرُوااللّٰـہَ، تُوبُوْا اِلَی اللّٰـہِ وغیرہ سُن کر ثواب کمانے اور صدا لگانے والوں کی دل جُوئی کے لئے بُلند آواز سے جواب دوں گا*بَیان کے بعد خُود آگے بڑھ کر سَلَام و مُصَافَحَہ اور اِنْفِرادی کوشش کروں گا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بَیان کرنے کی نیّتیں :

میں بھی نِیَّت کرتا ہوں * اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضَا پانے اور ثواب کمانے کے لئے بَیان کروں گا *دیکھ کر بَیان کروں گا *پارہ 14، سُوْرَۃُ النَّحْل ،آیت125:اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (تَرْجَمَۂ کنز الایمان: اپنے رَبّ کی راہ کی طرف بُلاؤ پکّی تدبیر اور اَچّھی نصیحت سے) اوربُخاری شریف ( حدیث3461)میں وارِد اِس فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم : بَلِّغُوْاعَنِّیْ وَ لَوْ اٰیَۃً ۔ یعنی ’’پہنچادو میری طرف سے اگرچِہ ایک ہی آیت ہو ‘‘ میں دیئے ہوئے اَحْکام کی پَیْروی کروں گا

* نیکی کا حکم دوں گا اوربُرائی سے مَنْع کروں گا *اَشْعار پڑھتے نیز عَرَبی، اَنگریزی اور مُشْکِل اَلْفَاظ بولتے وَقْت دل کے اِخْلَاص پر تَوَجُّہ رکھوں گایعنی اپنی عِلْمیَّت کی دھاک بِٹھانی مَقْصُود ہوئی تو بولنے سے بچوں گا *مَدَنی قافلے، مَدَنی انعامات ، نیز عَلاقائی دَوْرَہ، برائے نیکی کی دعوت وغیرہ کی رَغْبَت دِلاؤں گا* قَہْقَہہ لگانے اور لگوانے سے بچوں گا*نظر کی حِفَاظَت کا ذِہْن بنانے کی خاطِر حتَّی الْاِمْکان نگاہیں نیچی رکھوں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بیان کے مدنی پھول

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج عَشْرَۂ مُبَشَّرہ یعنی وہ 10 صَحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن جن کو مالکِ جنت و کوثر، شاہِ بحر و بر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنّت کی بِشارت ارشاد فرمائی، اُن میں سے ایک جَلِیْلُ الْقَدْرصحابی کی سِیْرتِ مُبارَکہ کے چند گوشے بیان کرنے کی سَعادَت حاصل کی جائے گی۔ سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کیا خوب فرماتے ہیں :
وہ دسوں جن کو جنّت کا مُژدہ مِلا
اُس مُبارک جماعت پہ لاکھوں سلام
(حدائق بخشش مطبوعہ مکتبتہ المدینہ ص 311)
سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی سِیْرتِ مُبارَکہ کا ایک واقعہ جوکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے قَبولِ اِسْلام کا سبب بنا،بَیان کیا جائے گا۔اس کے بعد اِن عظیم صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا نام ،نَسَب، کُنیت ،اَلْقابات اورحُضُور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ان کے رشتے کاذکر ہوگا۔پھران کا حُلْیہ ، دُنْیا

سے بے رَغْبتی،سَخاوت اور چند فَضائل پیش کئے جائیں گے۔آخر میں ان کے سفرِآخرت کا ذِکْرِ خَیْر کرنے کے ساتھ ساتھ ناخُن کاٹنے کے مَدَنی پھول بھی پیش کیے جائیں گے ۔ آئیے اوّلاً ایک حکایت سُنتے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بصرہ کا راہب اورقُرَشی تاجر:

سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے اِظْہارِ نُبُوَّت سے قبل اَمِیْرُ الْمُومِنْین حضرت سیِّدُنا ابُو بکر صِدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبیلہ بَنُو تَیْم کا ایک تاجِر، تِجارت کی غَرَض سے بصرہ گیا۔ جب بازار پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک راہب اپنے عبادت خانہ( گِرجا گھر) میں مَوْجُود لوگوں سے کہہ رہا تھا: سَرزمینِ عرب سے آنے والے انمُعَزَّز تاجِروں سے ذرا یہ تو مَعْلُوم کرو کیا ان میں کوئی حَرَم (یعنی مکۂ مکرمہ زَادَ ہَا اللہ شَرَفًاوَّ تَعۡظِیۡمًا)کا رہنے والا بھی ہے؟ تو وہ مُعَزَّزقریشی تاجر آگے بڑھ کر بولا: جی ہاں ! میں حَرَم کا رہنے والا ہوں ۔ راہب کو مَعْلُوم ہوا تو اس نے بڑی بیتابی سے اس قریشی جوان سے پوچھا: ”کیا آپ کے ہاں اَحْمد نامی کسی ہستی کا ظُہُور ہوا ہے؟” تاجر نے پوچھا: ”یہ کون ہیں ؟” تو راہب نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا تعارُف کچھ یُوں کرایا: ” یہ حضرتِ عبدُالمُطَّلِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نُورِ نظر،حضرت عبدُ اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لَخْتِ جگر ہیں ۔ ان کے ظُہُور کا ماہِ مُبارَک یہی ہے، وہ آخری نبی ہیں اور ان کا ظہورسرزمینِ حرم (مکۃُالمکرَّمہ زَادَ ہَا اللہ شَرَفًاوَّ تَعۡظِیۡمًا) سے ہو گا، پھر وہ اس جگہ ہجرت کریں گے جہاں کی زمین تو پتھریلی اور شورْ زَدہ(ناقابلِ زَراعت) ہو گی، مگر وہاں کھجوروں کے باغات کَثْرت سے ہوں گے، تمہیں تو ان کی بارگاہ میں فوراً حاضر ہونا چاہئے۔”
وہ قریشی تاجِر فرماتے ہیں کہ راہب کی باتیں میرے دل میں گھر کر گئیں اور میں فوراً وہاں سے چل

پڑا،یہاں تک کہ مکۂ مکرمہ(زَادَ ہَا اللہ شَرَفًاوَّ تَعۡظِیۡمًا ) پہنچ کر ہی دَم لیا۔ مکہ شریف پہنچتے ہی لوگوں سے پوچھا کہ کوئی نئی خبر ہے؟ تو انہوں نے بتایا :ہاں ! محمد بن عبد ُاللّٰہ،جنہیں ہم امین کے طور پر جانتے ہیں ، اُنہوں نے نُبُوَّت کا دعویٰ کیا ہے اور ابنِ ابی قحافہ (یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکرصِدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ) ان پر ایمان بھی لے آئے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابُوبکر صِدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خِدْمت میں حاضر ہوا اور پوچھا:”کیا آپ نبیِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان لے آئے ہیں ؟” اُنہوں نے جواب دیا: ”ہاں ! اور چلو تم بھی ان کی بارگاہ میں حاضر ہونے میں دیر مت کرو، کیونکہ وہ حق کی دعوت دیتے ہیں ۔” تاجر کا دِل راہب کی باتوں سے اِسْلام کی طرف مائل ہو چُکا تھا۔ عاشقِ اکبر، سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نیکی کی دعوت سے بھرپور باتیں سُن کر مزید مُتأثر ہوا اور اس نے راہب کی تمام باتیں بھی بتا دیں ۔ چُنانچہ، اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت سیِّدُنا ابُو بکر صِدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے قبیلے کے اس نوجوان تاجر کو لے کر دو جہاں کے تاجْوَر، سُلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور بصرہ کے راہب اور عاشقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی باتوں سے مُتأثر ہونے والا یہ قریشی تاجر آخر کار،سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے دامنِ بابَرکت سے وابستہ ہو کر مُسلمان ہو گیا اور جب اس نے آپ کو راہب کی باتیں بتائیں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم بہت خُوش ہوئے۔ (دلائل النبوة للبیھقی، باب من تقدم اسلامہ من الصحابة، ج٢، ص١٦٦)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قر یش کا وہ خُوش نصیب تاجر کوئی اور نہیں بلکہ عَشْرَۂ مُبَشَّرہ میں سے ایک پیارے صحابی حضرت سَیِّدُنا طلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔آیئے!حُصُولِ بَرکت اور نُزولِ رَحْمت کے لئےآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مُبارَک زِنْدگی کےگوشوں سے مُتَعَلِّق چندمدنی پھول سُنتے

ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نام ونَسَب ،کُنیت ولَقَب:

حضرتِ سیدنا علامہ بد رُالدِّین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہ شرح سُنَنِ اَبی داؤد میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سلسلۂ نَسَب اس طرح ذکر کرتے ہیں : حضرتِ طلحہ بن عبیدُ اللہ بن عُثمان قرشی تیمی مدنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کُنیت ابُومحمد ہے،سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبانِ حق پَرسْتْ سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اَلْفَیَّاض، اَلْجُود اوراَلْخَیْر کے لقب عطا ہوئے۔ چنانچہ،حَضْرتِ سیِّدُنا طلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خود بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ اُحد کے دن مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے طَلْحَۃُالْخَیْر، غزوۂ عشیرہ میں طَلْحَۃُ الْفَیَّاض اورغزوۂ حُنَین میں طَلْحۃُ الْجُوْد کے القابات سے یاد فرمایا۔ (المعجم الکبیر، الحدیث:۱۹۷، ج۱، ص۱۱۲)
حَضْرتِ سیِّدُنا امام عَبْدُ الرَّؤف مَناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِی فرماتے ہیں کہ محبوبِ ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے،آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ان القابات سے نوازنے کی وَجہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا کثرت سے سَخاوَت کرنا ہے۔(فیض القدیر، حرف الطاء، تحت الحدیث:۵۲۷۴، ج۴، ص۳۵۷)آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مکۂ مکرمہ(زَادَ ہَا اللہ شَرَفًاوَّ تَعۡظِیۡمًا) کے رہنے والے تھے،حضرت ابُو بکر صِدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبیلہ بنو تَیْم سے تعلق تھا ،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کاحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم سےبھی نَسَبی تَعلُّق ہے،اَمِیْرُالْمُؤمنین حضرتِ سیّدُنا ابُو بکرصِدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح آپ کا سلسلۂ نَسَب بھی ساتویں پُشْت میں (حضرت کعب بن مُرّہ پر)حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم سے جاملتا ہے۔( حضرت سیدنا طلحہ بن عبید اللٰه، ص ۹،ملخصا)

حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم سے رشتہ :

حضرتِ سیِّدُناطلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کےخاندان سے ایک خاص تعلق تھا اور وہ اس طرح کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرت سَیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی بہن حضرت سَیِّدَتُنا حمنہ بنتِ جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے شادی کی تھی اور یہ دونوں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی پُھوپھی سَیِّدہ اُمَیْمَہ بنت ِعبدُ الْمُطَّلِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی صاحبزادیاں تھیں ۔( یُوں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پیارے آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہَم زُلف بھی تھے ۔)(حضرتِ سَیِّدُنا طلحہ بن عبید اللٰه،ص۳۵)

حُلیہ مُبارَک:

امام حاکم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ،حَضْرتِ سیِّدُنا طلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا حُلیہ مُبارَک یُوں بیان فرماتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رَنگت سُرخی مائل سفید تھی، قَد مُتوَسِّط و درمیانہ تھا، سینہ چوڑا اور شانے کُشادہ تھے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب کسی طرف مُڑتے تو پُورے رُخ سے مُتوجِّہ ہوتے، حَسین چہرے پر بڑی خُوبصورت باریک سی ناک تھی، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاؤں بڑے تھے اور بڑی تیزی سے چلا کرتے تھے۔ (المستدرک، کتاب معرفة الصحابة، ذکر مناقب طلحة بن عبید اللّٰہ، ج٤، ص٤٤٩)
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عام طور پر عُصْفُر (زَرْدْرنگ کی ایک بُوٹی جس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں ) سے رَنگا ہوا لباس زَیْبِ تَن فرمایا کرتے تھے۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الرقم٤٧طلحة بن عبیداللّٰہ، ج٣، ص١٦٤)
حَضْرتِ سیِّدُنا زبیر بن عوّام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوی ہے کہ حَضْرتِ سیِّدُنا طلحہ بن عبیدُ اللہ

رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے تمام بیٹوں کے نام اَنْبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے ناموں پر رکھے۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الرقم۳۲ الزبیر بن عوّام، ج۳، ص۷۴)آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گیارہ بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ۔ بیٹوں کے نام یہ ہیں :(1)محمد (2)عمران (3) مُوسیٰ (4)یعقوب (5)اسماعیل (6)اسحاق (7)زَکَرِیّا (8)یُوسُف (9)عیسیٰ (10)یحییٰ (11)صالح رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔

اچھے نام رکھنا بچوں کا حق ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حَضْرتِ سیِّدُنا طلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرتِ مُبارَکہ سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بَرگُزیدہ بندوں کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھنا، صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی سُنَّت ہے۔لہٰذا والدین کو چاہیےکہ بچے کا اچھا نام رکھیں کہ یہ ان کی طرف سے اپنے بچے کے لئے سب سے پہلا اور بُنیادی تُحْفہ ہے جسے وہ عُمر بھر اپنے سینے سے لگائے رکھتا ہے،یہاں تک کہ جب میدانِ حشر بپا ہوگا تو وہ اسی نام سے مالکِ کائنات عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں بُلایا جائے گا۔جیسا کہ حضرت سیِّدُنا ابُودرداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حُضُورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے آباء(باپ دادا) کے ناموں سے پکارے جاؤ گے،لہٰذا اپنے اچھے نام رکھا کرو۔‘‘ (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی تغیر الاسماء، الحدیث ۴۹۴۸، ج۴، ص۳۷۴)
اس حدیثِ پاک سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو اپنے بچے کانام کسی فلمی اداکار، گلوکار،فنکاریا( مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ )غیر مُسلموں کے نام پر رکھ دیتے ہیں ، اس سے بدترین ذِلَّت کیا ہوگی کہ مُسلمانوں کی اَوْلاد کو کل میدانِ محشر میں غیر مُسْلموں کے ناموں سے پُکارا جائے۔

عُموماً دیکھا جاتا ہے کہ ہمارے مُعاشَرے میں بچے کے نام کے اِنْتخاب کی ذِمّہ داری کسی قریبی رشتہ دار مثلاً دادی، پُھوپھی، چچا وغیرہ کو سونپ دی جاتی ہے اور عُموماًشرعی مَسائل سے ناواقِف ہونے کی وَجہ سے وہ بچوں کے ایسے نام رکھ دیتے ہیں ، جن کے کوئی مَعانی نہیں ہوتے یا پھر اچھے مَعانی نہیں ہوتے، ایسے نام رکھنے سے بچنا چاہیے۔اَنْبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے اَسْمائے مُبارَکہ اورصحابۂ کرام وتابعینِ عِظام اور اَوْلیائے کرام رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے نام پر نام رکھےجائیں ، جس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ بچے کا اللہ والوں سے رُوحانی تعلُّق قائم ہوجائے گا اور دوسرا ان نیک ہَستیوں سے مَوسُوم ہونے کی بَرکت سے اس کی زِنْدگی پر مَدَنی اَثرات بھی مُرَتَّب ہوں گے ۔ ان شآء اللہ عَزَّ وَجَلَّ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بچوں کے نام رکھنے سے مُتَعَلِّق شَرَعی اَحْکام جاننے کیلئےمکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 179صَفحات پرمُشْتمل کتاب، ’’نام رکھنے کے اَحکام‘‘کامُطالَعہ کیجئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس کتاب میں مُفید معلومات کے ساتھ ساتھ آخر میں اچھے ناموں کی فہرست بھی درج ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دُنیا سے بے رَغْبتی و سَخاوَت :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی اپنی اولاد کے اچھے نام رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی اچھی تربیت بھی کرنی چاہیے، دُنیا کی مَحَبَّت میں مَسْت رہنے ،دَھن کمانے کی دُھن میں مگن رہنےکے بَجائے،انہیں خوفِ خدا وعشقِ مُصْطفےٰ کے ساتھ ساتھ نیکیوں کی طرف رَغْبَت اور فکرِ آخرت کے لیے کُڑھنے کا ذِہْن بھی دینا چاہیے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُقرَّب ومحبوب بندے خاص طور پر حَضْراتِ انبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام وصحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن دُنیا اور اس کی مَحبَّت سے بے پروا ہوتے

ہیں ۔ حَضْرتِ سیدنا طلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی اِنہی مُبارَک ہستیوں میں سے ہیں ،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کبھی دُنیا سے دل نہ لگایا اور جو کمایا اسے جَمْع کرنے کے بجائے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا حاصل کرنے کےلیے راہِ خُدا میں لُٹادیا۔ ٍ
مَنْقُول ہے کہ ایک بار حَضْرتِ سیِّدُناطلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو رات کے وَقْت حَضْر مُوْت سے سات(7) لاکھ دِرْہَم مَوصُول ہوئے تو پریشان اور بے چین ہو گئے۔ زَوجۂ مُحترمہ نے عرض کی:’’آج آپ کو کیا ہوا ہے؟‘‘ فرمایا کہ مجھے یہ فِکر دامن گِیرہے (یعنی میں اس وَجہ سے بے چین ہوں )کہ جس بندے کی راتیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں عِبادَت کرتے ہوئے گُزرتی ہوں ، گھر میں اس قَدَر مال کی مَوجُودگی میں آج اس کی بارگاہ میں کیسے حاضر ہو گا؟ تو مَدَنی سوچ رکھنے والی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زَوجہ نے بڑے اَدَب سے عَرْض کی: اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ آپ اپنے نادار دوستوں کو کیوں بُھول رہے ہیں ؟ صُبْح ہوتے ہی انہیں بُلا کر یہ سارا مال ان میں تَقْسیم کرنے کی نِیَّت فرما لیجئے اور اس وَقْت بڑے اِطْمینان کے ساتھ ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیے۔ نیک بخت زَوجہ کی یہ بات سُن کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا دل خُوشی سے سرشار ہو گیا اور آپ نے فرمایا: آپ واقعی نیک باپ کی نیک بیٹی ہیں ۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ نیک باپ کی نیک بیٹی کوئی اور نہیں بلکہ اَمِیْر ُالْمُؤمنین حضرت سیِّدُنا ابُو بکر صِدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آنکھوں کی ٹھنڈک حضرت سَیِّدَتُنا اُم ِّکلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا تھیں ۔
چُنانچہ،صُبْح ہوتے ہی حَضْرتِ سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْدُاللّٰہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مُہاجرین و اَنْصار میں سارا مال تقسیم کرنا شُروع کر دیا اور اس میں سے کچھ حِصّہ اَمِیْر ُالْمُؤمنین حَضْرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ

کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خِدْمت میں بھی بھیجا۔اچانک آپ کی زَوْجۂ مُحْترمہ حاضِر ہوئیں اور عرض کی:’’اے ابُو محمد! کیا اس مال میں گھر والوں کا بھی کچھ حصّہ ہے؟‘‘تو اِرْشاد فرمایا: ’’آپ کہاں رہ گئی تھیں ، چلیں جو باقی بچ گیا ہے وہ سب آپ لے لیں ۔‘‘ فرماتی ہیں کہ جب بقیہ مال کا حساب کیا تو وہ صِرف ایک ہزار دِرْہم ہی رہ گیا تھا۔ (سیر اعلام النبلاء، الرقم ۷ طلحہ بن عبید اللّٰہ، ج۳، ص۱۹۔ مفہوماً)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تجارت کا نَفع:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حَضْرتِ سیِّدُنا طَلْحَہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح جو بھی راہِ خُدا میں اِخلاص واچھی نیّت کے ساتھ مال خَرچ کرتا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے دُنیا و آخرت میں اس کی برکتوں اور اجر و ثواب سے نوازتا ہے۔چنانچہ پارہ 2سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر245میں ارشاد ہوتاہے : مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ-وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ۪-وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۲۴۵) (پ۲، البقرۃ:۲۴۵) تَرْجَمَۂ کنز الایمان:ہے کوئی جو اللہ کو قرضِ حسن دےتو اللہ اس کے لئے بہت گُنا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا۔
صَدرُ الاَفاضل حضرتِ علامہ مَوْلانا مُفتی سیدمحمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِی ’’خزائن العرفان‘‘میں اس آیتِ مُبارَکہ کے تحت فرماتے ہیں : ( اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے)راہِ خُدا میں خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر فرمایا،یہ کمالِ لُطف وکرم ہے۔(کیونکہ ) بندہ اس کابنایا ہوا اور بندے کامال اس کاعطا فرمایا ہوا، حقیقی مالک وہ اور بندہ اس کی عَطاسے مَجازی مِلک رکھتا ہے، مگر قرض سے تَعْبیر فرمانے میں

یہ (بات)دل نشین کرنامنظور ہے کہ جس طرح قرض دینے والا اِطْمینان رکھتا ہے کہ اس کامال ضائِع نہیں ہوا،وہ اس کی واپسی کامُسْتَحِقْ ہے،ایسا ہی راہِ خدا میں خرچ کرنے والے کو اطمینان رکھنا چاہئے کہ وہ اس اِنْفاق کی جَزا بالیقین(لازماً)پائے گا اور بہت زِیادہ پائے گا۔(خزائن العرفان، پ۲، البقرۃ، تحت الایۃ:۲۴۵)

سَیِّدُنَا طَلْحَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا یومیہ نَفع:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!راہِ خُدا میں دی جانے والی چیز ہر گز ضائِع نہیں ہوتی، آخِرت میں اَجْر و ثواب کی حَقْدار ی تو ہے ہی، بعض اَوقات دُنیا میں بھی اضافے کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ اس کا نِعْمَ الْبَدَل (اچھا بدلہ)عطا کیا جاتا ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ راہِ خدا میں دینے سے مال گھٹتا نہیں بلکہ مزید بڑھتا ہے جیسا کہ
حَضْرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرْشاد فرمایا:’’صَدَقہ مال میں کمی نہیں کرتا ۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب استحباب العفو و التواضع، الحدیث۲۵۸۸، ص ۱۳۹۷)
حَضْرتِ سیِّدُنا طلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے پروَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جو مال خرچ کیا،اس کا حقیقی نَفْع تو یقیناً انہیں آخرت میں ملے گا، مگر دُنیا میں بھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس کی بَرَکتوں سے محروم نہ رہے۔ چنانچہ مَروی ہے کہ حَضْرتِ سیِّدُنا طَلْحَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی یو میہ آمدنی ایک ہزار دِرْہم سے زائد تھی۔(المعجم الکبیر، الحدیث:۱۹۶،ج۱،ص۱۱۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ حَضْرتِ سَیِّدُنا طلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی

عَنْہُ کو صدقہ کرنے کا کیسا اِنْعام ملا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی یومیہ آمدنی ایک ہزار درہم سے زائد تھی۔ اورصدقات و خیرات دینے کا معاملہ یہ تھا کہ حَضْرتِ سیِّدُنا قَبِیْصَہ بن جَابِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں حَضْرتِ سیِّدُناطلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی صُحْبتِ بابَرکت میں رہا ،تومیں نے ان سے بڑھ کرکسی کونہیں دیکھا جوبِن مانگے لوگوں میں کثیر مال بانٹتاہو۔ (المعجم الکبیر، الحدیث:۱۹۴، ج۱، ص۱۱۱) اور یہ بھی مَنْقُول ہے کہ بسا اوقات آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں میں اتنا مال تَقْسِیم فرماتے کہ اپنے لیے کچھ بھی نہ چھوڑتے۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ حَضْرتِ سُعْدٰی بنتِ عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا بَیان کرتی ہیں کہ’’حَضْرتِ سیِّدُناطَلْحَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک دن ایک لاکھ دِرہم راہِ خدا میں صدقہ کئے اور اس دن، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نماز کے لئے مسجد نہ جا سکے، کیونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا لباس ایسا نہ تھا، جسے پہن کر مسجد میں چلے جاتے۔‘‘ (موسوعۃ لابن الدنیا،کتاب اِصْلاح المال، باب فضل المال،الحدیث:۹۷،ج۷،ص۴۲۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حَضْرتِ سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا جذبۂ اِیثار بھی خُوب تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےاپنی تمام تَر آسائشوں کو دوسرے مُسلمانوں کی خاطر قربان کردیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بخوبی معلوم تھا کہ اسلام ہمیں باہمی ہمدردی کا پیغام دیتا ہے،اسی لئے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےخیرخواہی کرتے ہوئے اپنی ذات پر دوسرے مسلمانوں کو ترجیح دی ۔
شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت،بانیِ دعوتِ اسلامی، حَضْرتِ علّامہ مَوْلَانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادرِی رَضَوی ضِیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نےاپنی مایہ نازتالیف”فیضانِ سُنَّت“میں اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینے کے مُتَعَلِّق ایک بڑی ہی خُوبصورت حکایت نقل فرماتے ہیں ۔چنانچہ،
حَضْرتِ سیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری عَلَیۡہِ رَحۡمَۃُ اللہ الۡقَوِی فرماتے ہیں : ’’میں نے شیخ احمد

حمّادی سَرخَسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ان کی تَوْبہ کا سبب پوچھا ، تو کہنے لگے:’’ایک بار میں اپنے اُونٹوں کو لے کر’’سَرخَس‘‘سے روانہ ہوا۔ دورانِ سفر جنگل میں ایک بُھوکے شیر نے میرا ایک اُونٹ زَخْمی کر کے گرا دیا اور پھر بُلندٹِیلے پر چڑھ کر ڈَکارنے لگا، اُس کی آواز سُنتے ہی بَہُت سارے دَرِندے اِکٹّھے ہو گئے۔ شَیر نیچے اُترا اور اُس نے اُسی زَخمی اُونٹ کوچِیرا پھاڑا مگر خود کچھ نہ کھایا،بلکہ دوبارہ ٹِیلے پر جا بیٹھا، جَمْع شُدہ دَرِندے اُونٹ پرٹُوٹ پڑے اور کھا کر چلتے بنے، باقی ماندہ گوشْتْ کھانے کیلئے شَیر قریب آیا کہ ایک لنگڑی لُومڑی دُور سے آتی دِکھائی دی، شیر واپَس اپنی جگہ چلا گیا۔ لُومڑی حسبِ ضَرورت کھا کر جب جا چکی، تب شیر نے اُس گوشت میں سے تھوڑا سا کھایا۔
میں دُور سے یہ سب دیکھ رہا تھا، اچانک شیر نے میرا رُخ کیا اور بَزَبانِ فَصِیْح بولا: ’’احمد! ایک لُقْمے کا ایثار تو کُتّوں کا کام ہے ،مَردانِ راہِ حق تو اپنی جان بھی قربان کر دیا کرتے ہیں ۔
میں نے اِس انوکھے واقِعہ سے مُتَأَثِّر ہو کر اپنے تما م گُناہوں سے تَوْبہ کی اور دُنیا سے کَنارہ کَش ہو کر اپنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے لَو لگا لی۔‘‘(کَشَفُ الْمَحْجُوب، مترجم، ص۳۸۳ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! بُھوکے شیر نے اپنا شِکار دوسرے جانوروں پر اِیثار کر کے بُھوک برداشت کرنے کی بہترین مثال قائم کی اور پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطاسے اُس نے کتنی زبردست نصیحت کی کہ’’ ایک لُقْمہ کا اِیثار تو کُتّوں کا کام ہے، مر د کو چاہئے کہ اپنی جان قربان کر دے۔‘‘ سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ بخشِش نشان ہے: ’’جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اُس خواہش کو روک کر اپنے اُوپر(دوسرے کو) ترجیح دے، تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے بخش دیتا ہے۔‘ ‘(اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی ج٩ ص ٧٧٩)

ہمیں بُھوکا رہنے کا اَوروں کی خاطر عَطا کر دے جَذبہ عطا یا الٰہی

اِیثار کا ثواب مفت لُوٹنے کے نُسخے:

اے کاش!ہمیں بھی اِیثارکاجَذبہ نصیب ہو،اگر خَرچ کرنے کو جی نہیں چاہتاتوبِغیر خَرچ کے بھی ایثارکے کئی مَواقِع مل سکتے ہیں ۔ مَثَلاً کہیں دعوت پر پہنچے ، سب کیلئے کھانا لگایا گیاتو ہم عُمدہ بوٹیاں وغیرہ اس نیّت سے نہ اُٹھائیں کہ ہمارا دوسرا بھائی اُس کو کھالے ۔ گرمی ہے کمرے کے اندر یا سُنَّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلے میں مسجِد کے اَندر کئی اسلامی بھائی سوناچاہتے ہیں ،خُود پنکھے کے نیچے قبضہ جَمانے کے بجائے دوسرے اسلامی بھائی کو موقع دیکراِیثار کا ثواب کما سکتے ہیں ۔اسی طرح بس یا ریل گاڑی کے اَندربھیڑ بِھیڑکی صُورت میں دوسرے اسلامی بھائی کو بَاِصرار اپنی نِشَسْت پر بٹھا کر اورخُود کھڑے رہ کر ، کار میں سفر کا موقع مُیَسَّر ہونے کے باوُ جود دوسرے اسلامی بھائی کیلئے قربانی دیکراُسے کار میں بٹھا کر اور خُود پیدل یا بس وغیرہ میں سفر کر کے ، سُنَّتوں بھرے اجتِماع وغیرہ میں آرام دِہ جگہ مل جائے تو دوسرے اسلامی بھائی پر جگہ کُشادہ کر کے یا اُسے وہ جگہ پیش کر کے، کھاناکم ہو اورکھانے والے زِیادہ ہوں تو خُود کم کھاکر یا بالکل نہ کھا کر نیز اسی طرح کے بے شُمار مَواقِع پر اپنے نَفْس کو تھوڑی سی تکلیف دیکر مُفت میں اِیثارکاثواب کمایا جاسکتاہے ۔(مدینے کی مچھلی ،ص۲۷)
سَخاوت کی خَصْلت عنایت ہو یارَبّ
دے جذبہ بھی اِیثار کا یاالٰہی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

روایتِ حدیث میں اِحتیاط:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ابھی ہم نے حضرت طلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جذبۂ اِیثارکے بارے میں سُنا اورضِمْناً اِیثار کا ثواب کمانے کےچند طریقے بھی سیکھے۔یادرہے!صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں پائی جانے والی یہ پاکیزہ عادات وصِفات ،نبیِّ کریم،رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی تربیّت کاہی نتیجہ ہے۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اَکْثر اَوقات جَلوۂ محبوب کی تابانیوں سےمَحظُوظ(یعنی مسرور و خوش) ہوا کرتے،آپ کی صُحبتِ بابَرَکت میں رہتے ہوئے ہرمُعامَلے میں رَہْنمائی طَلَب کرتےاور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی زَبانِ حقِ ترجمان سے بیان ہونے والے فرامین سُن کر نہ صِرف خُود عمل کرتے بلکہ کمی بیشی کیے بغیر اِنْتہائی اِحْتیاط کے ساتھ لوگوں تک پہنچاتے۔
اگر کسی بات میں ذَرّہ برابر بھی شک ہوتا کہ یہ اَلفاظ سرورِ دو جہاں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نہیں ہیں تو کبھی بیان نہ کرتے۔یہی وجہ ہے کہ بعض وہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جواِبْتدائے اِسلام میں ہی اِیمان لائے اورحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی صُحبت بھی پائی، مگر ان سے بہت کم اَحادیثِ مُبارکہ مروی ہیں ۔حَضْرتِ سیِّدُناطلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا شُمار بھی ان جَلِیْلُ الْقَدْر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں ہوتا ہے،جنہوں نے بہت کم اَحادیثِ مُبارَکہ روایت کی ہیں ۔ چنانچہ،حَضْرتِ علامہ بدرُ الدِّین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں کہ حَضْرتِ سیِّدُناطلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے کُل اَڑتیس(38)احادیثِ مُبارَکہ مروی ہیں ،ان میں سے تین(3) اَحادیث بُخاری شریف میں اور چار (4)مُسلم شریف میں ہیں ۔ (شرح ابی داؤد للعینی، کتاب الصلاۃ، باب ما یستر المصلی، الحدیث:۶۶۶، ج۳، ص۲۴۲)

اسی طرح دیگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی اَحادیث بیان کرنے میں اِحْتیاط سے کام لیتے۔ حضرت سیِّدُنا اِبنِ حَوْتَکِیَّہ رَحمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ جب اَمِیْر الْمُؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے حدیث کے مُعامَلے میں بات کی گئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ کہیں حدیث میں مجھ سے کمی بیشی نہ ہوجائے، تو میں تمہیں ضَرور اَحادیثِ مُبارکہ بیان کرتا۔‘‘(طبقاتِ کبریٰ،ذکراستخلاف عمر،ج۳،ص:۲۲۱)
ایک شخص نے اَمِیْر الْمُؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے خرگوش کے مُتَعَلِّق پُوچھا۔ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:مجھے حدیث میں کمی بیشی ناپسند ہے، اس لیے میں تمہیں ایک ایسے شخص کے پاس بھیجتا ہوں ، جو اِس مُعاملے میں تمہاری رَہْنُمائی کرے گا۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُس شخص کو حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس بھیجا ۔ جب اُس شخص نے اُن سے اِس مُعامَلے میں بات کی تو اُنہوں نے فرمایا: ہم نبی ٔکریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ فُلاں فُلاں جگہ پر تھے،تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس ایک خَرگوش بَطورِ تُحْفہ بھیجا گیا تو ہم نے بھی اس کا گوشت تَناوُل کیا۔‘‘(مصنف ابنِ ابی شیبہ،کتاب الاطعمہ،فی اکل الارنب،ج۵،ص:۵۳۵،حدیث:۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے قَطْعی جنَّتی صحابی ہونے کے باوُجُود سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حدیث بیان کرنے کے مُعامَلے میں حد دَرَجہ اِحْتیاط فرمایا کرتے تھے، حالانکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سَفَروحَضر دونوں میں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی طویل رَفاقت کی

سَعادت حاصل کی تھی۔آپ چاہتے تو وہ حدیثِ مُبارَکہ خُود بھی بیان فرماسکتے تھے، لیکن اپنے اَصْحاب کی تربیت کی خاطِر انہیں دوسرے صاحبِ عِلْم صحابی کے پاس بھیج دیا۔ بیان کردہ روایت سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ خرگوش کا گوشت کھانا،صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان سے ثابِت ہے،وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر ہمیں کسی بات کاصحیح طرح سے عِلْم نہ ہویا عِلْم توہومگر اس میں شک ہو یا ہم اس کیفیَّت میں نہ ہوں کہ اس سُوال کا صحیح جواب دے سکیں ، تو سائل یعنی سُوال کرنے والے کوکسی صَحِیۡحُ الۡعَقِیۡدَہ سُنّی عالِم یامُفْتی صاحب کی طرف بھیج دیں تاکہ اُن کی صحیح رَہْنمائی ہو،خُصُوصاً قرآن وسُنَّت اورشَرعی اَحْکام کے مُعامَلے میں اِحتیاط بہت ضروری ہے، خُود کوئی جواب دینے کے بَجائے عالم ومُفْتی سے رُجُوع کرنے کا مَشْورہ دیں ،اِسی میں دُنیا وآخرت کی بھلائی ہے، اپنے قیاس اور اَٹکل سے کسی کو بغیر تَصْدیق کے کوئی شَرعی مسئلہ بتانے سے سخت اِجْتناب کریں ۔خُدانَخواستہ کسی کو غَلَط مسئلہ بتادیا اور اس نے اس پر عمل کرلیا نیز اس نے آگے بھی پھیلادیا تو ہوسکتا ہےکہ ان تمام کا وبال بھی ہمارے گلے میں آجائے۔

شُجاعت کے ستّر(70) سے زائد تَمغے:

حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْدُاللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شُمار ان جانثار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے ،جنہوں نے اپنا تَن مَن دَھن سب کچھ راہِ خدا میں قُربان کرنے کا عہد کر رکھا تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِسلام کی سَربُلندی کیلئے کئی مَواقع پر شُجاعت وبہادُری کے جَوہر دِکھائے اوراپنی جان کی پروا

کئے بغیر نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی حِفاظت کی خاطِرکُفّار سے مُقابَلہ کیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہمّت وشُجاعت کا ذِکْر کرتے ہوئے اَمِیْرُ الْمُؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابُوبکرصِدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :غزوۂ اُحد میں جب ہم حضرت سیِّدُناطلحہ بن عُبَیْدُاللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف مُتوجّہ ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ محبوبِ ربِّ داوَر، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی حِفاظت کرتے ہوئے ان کے جسمِ اَطہر پر ستّر(70) سے زائد چھوٹے بڑے زَخْم ہیں اور ان کی اُنگلیاں بھی کَٹ چکی ہیں ۔ (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم، معرفۃ طلحۃ بن عبید اللّٰہ، الحدیث:٣٦٩، ج١، ص١١٢)آپ کی شُجاعت وبہادُری دیکھ کرنبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نےاِرْشاد فرمایا:طلحہ کیلئے(جنَّت )واجب ہوگئی۔ (ترمذی ،ج۵،ص۴۱۲)
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کئی غَزوات میں اپنی شُجاعت وبہادُری دِکھائی اوربالآخر جنگِ جَمَل کے دَوران گیارہ(11) جُمادی الاُخریٰ ۳۶ھ؁ (بروز جمعرات) مَروان بن حکم نےآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی ٹانگ میں ایک تِیر مارا، جس سے خُون کی رَگ بُری طرح کَٹ گئی، جب اس کا مُنہ بند کرتے تو ٹانگ پُھول جاتی اور اگر چھوڑتے تو کَثْرت سے خُون بہنے لگتا۔ پس آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرْشاد فرمایا: اس کو ایسے ہی چھوڑ دو،یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےتِیروں میں سے ایک تِیر ہے،یعنی میری شَہادت اسی کے ساتھ مُقَدّر کی گئی ہے۔ بس اسی کے سبب 60 یا 64 سال کی عُمر میں آپ اس وطنِ اِقامت کو چھوڑ کر وَطنِ اَصْلی میں جا بسے۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، طلحۃ بن عبید اللّٰہ التیمی، ج۲، ص۳۲۰۔ ملتقطاً)

شہادت کے بعدحَضْرتِ سَیِّدُنا طلحہ بن عبیدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بصرہ کے قریب دَفْن کر دیا گیا، مگر جس مَقام پر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قَبْر شریف بنی وہ نَشیب(گہرائی ) میں تھا، اس لئے قَبْر مُبارَک کبھی کبھی پانی میں ڈُوب جاتی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو بار بار مُتواتر خواب

میں آ کر اپنی قَبْر بدلنے کا حکم دیا۔ چُنانچہ اس شخص نے حضرت عبدُاللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمَا سے اپنا خواب بیان کیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے دس ہزار دِرْہم میں ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا مکان خرید کر اس میں قبر کھودی اور حَضْرتِ طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی مُقدَّس لاش کو پُرانی قَبْر میں سے نکال کر اس قَبْر میں دَفْن کر دیا۔کافی مُدّت گُزر جانے کے باوُجُود آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا مُقدَّس جسم سلامت اور بالکل ہی تَروتازہ تھا۔ (اسد الغابۃ، طلحۃ بن عبید اللّٰہ التیمی، ج۳، ص۸۷)
دَہَن میلا نہیں ہوتا بدن میلا نہیں ہوتا
خدا کے پاک بندوں کا کفن میلا نہیں ہوتا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غور فرمائیے کہ کچی قبر جو پانی میں ڈوبی رہتی تھی، اس میں ایک مُدّت گُزر جانے کے باوُجُود ایک صحابی کاجسم مُبارَک سَلامت اور تَروتازہ رہا تو حَضْراتِ انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام خُصُوصاً حُضُور سیِّدُ الاَنْبیا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُقدَّس جسم کی سَلامتی اور شان کا عالَم کیا ہوگاجبکہ حُضُور،سراپانُور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کااِرْشادِگرامی بھی مَوجُودہے: اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ (مشکوۃ، ص۱۲۱) (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےزمین پر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے جسموں کو کھانا حرام فرما دیا ہے)اسی طرح اس روایت سےیہ بھی معلوم ہواکہ شُہدائے کرام اپنےلَوازِماتِ زِنْدگی کے ساتھ اپنی اپنی قبروں میں زِنْدہ ہیں ، کیونکہ اگر وہ زِنْدہ نہ ہوتے تو قَبْر میں پانی بھر جانے سے ان کو کیا تکلیف ہوتی؟نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ شُہدائے کرام خواب میں آ کر زِنْدوں کو اپنے اَحوال و کیفیّات سے مُطَّلع کرتے رہتے ہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کو یہ قُدرت عطا فرمائی ہے کہ وہ خواب یا بیداری میں اپنی

قبروں سے نکل کر زِندوں سے مُلاقات اور گفتگو کر سکتے ہیں ۔اب غور فرمائیے کہ جب شہیدوں کا یہ حال ہے اور ان کی جسمانی حیات کی یہ شان ہے تو پھرانبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام خاص کر حُضُور سیِّدُ الاَنبیا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جِسمانی حَیات اور ان کے تَصرُّفات اور ان کے اِخْتیار و اِقْتدار کا کیا عالَم ہوگا۔اعلی حضرت، امام اہلسنَّت، مُجدِّد دین و مِلَّت، پروانۂ شمعِ رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے کیا خُوب اِرْشاد فرمایاہے:
اَنبیا کو بھی اَجَل آنی ہے
مگر ایسی کہ فقط آنی ہے
پھر اس آن کے بعد ان کی حیات
مثلِ سابق وہی جسمانی ہے
رُوح تو سب کی ہے زِنْدہ ان کا
جسمِ پُرنُور بھی رُوحانی ہے
یہ ہیں حیِّ اَبَدی ان کو رضاؔ
صِدْقِ وَعدہ کی قَضا مانی ہے
(حدائقِ بخشش،ص۳۷۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بیان کا خلاصہ:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کے بیان میں ہم نے حَضْرتِ سَیِّدُنا طَلحہ بن عُبید اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرتِ مُبَارَکہ کے بارے میں سُنا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پاکیزہ عادات وصِفات مثلاًدُنیا

سے بے رَغبت ہونا ،خُوب خُوب صَدَقہ وخیرات کرنا،اپنی ذات پر دوسرے مُسلمان بھائی کو ترجیح دینا،احادیثِ مُبارَکہ میں کمی بیشی کے خوف سے بَہُت کم روایات بَیان کرنا،شُجاعت وبہادُری دِکھانا اور نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی حِفاظت کیلئے اپنی جان کی بھی پروا نہ کرنا وغیرہ کے بارے میں سُنا۔ سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ !ہمارے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کس قدر پاکیزہ صفات کے مالک ہواکرتے تھے اوریہ سب نبیِ کریم ،روفٌ رّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی صُحبَت وتَربِیَت کی بَرَکت سے ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ،نبیِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ہمیں اِن مُبارک ہَستیوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زندگی گُزارنے اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحَول میں رہتے ہوئے اِخلاص واِسْتِقامت سے خُوب خُوب نیکی کی دعوت عام کرنے کی توفیق عطافرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نیکی کی دعوت عام کرنےکیلئے ذَیلی حلقے کے 12 مَدَنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصَّہ لیجئے ۔ان 12 مَدَنی کاموں میں سے ایک مَدَنی کام چَوک دَرْس بھی ہے ،یاد رہے کہ چَوک دَرْس میں علمِ دین ہی کی باتیں بَیان کی جاتی ہیں اوراسی طرح چوک دَرْس اَمْرٌبِالْمَعْرُوْفِ و نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ(یعنی بھلائی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے) کا بھی ایک بِہتَرین ذریعہ ہےاورعلمِ دین پھیلانے، نیکی کی دعوت دینے کے تو بے شمُار فَضائل ہیں ،چنانچَہ
خاتَمُ الْمُرْسَلین،رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نےارشادفرمایا،” کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارے لئے کوئی ایسی چیز نہیں بنائی جو تم صَدَقہ کر سکو ؟”پھر فرمایا ،” بیشک سُبْحَانَ اللہ کہنا صَدَقہ ہے

اور اللہ اَکْبَرُ کہنا صَدَقہ ہے اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہنا صَدَقہ ہے اور اَمْرٌبِالْمَعْرُوْفِ یعنی نیکی کی دعوت دینا صَدَقہ ہے اور نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ یعنی بُرائی سے روکنا صَدَقہ ہے۔(صحیح مسلم ،کتا ب الزکاة، باب بیان ان اسم الصدقة یقع..الخ ،رقم ۱۰۰۶، ص ۵۰۳)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ چوک دَرس میں بھی نیکی ہی کی دعوت دی جاتی ہے اور بُرائیوں سے روکا جاتا ہے،تواگر ہم بھی چَوک دَرْس میں شِرکت(یعنی درس دینے یا سُننے والے)والے بن گئے تو نیکی کی دعوت پر مَبنِی اَحادیث کی فضِیلت اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں بھی حاصِل ہوگی،آئیے ہم بھی نیّت کرتے ہیں کہ جب بھی موقع ملا چوک درس میں ضرور شرکت کی سعادت حاصل کریں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
آئیے ترغیب کیلئے ایک مَدَنی بَہار آپ کے گوش گُزارکرتا ہوں ۔
لائنز ایریا(بابُ المدینہ کراچی)کے ایک اسلامی بھائی نے کچھ اس طرح بیان دیا، میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑا تھا کہ میری نظر گلی میں کھڑے دعوتِ اسلامی کے ایک باعمامہ اسلامی بھائی پر پڑی جو اکیلے ہی چوک درس دے رہے تھے ،ایک بھی اسلامی بھائی دَرْس سُننے کیلئے نہیں بیٹھا تھا۔میں یوں تو دین سے عملی طور پر اس قدر دُور تھا کہ سبز عمامے والوں کو دیکھ کر بھاگ جاتا تھا، مگر نہ جانے کیوں ان کو تنہا دَرْس دیتا دیکھ کر مجھے ترس آ گیا، سوچا کہ چلو بے چارے کے ساتھ کوئی نہیں بیٹھا تو میں ہی جاکر بیٹھ جاتا ہوں ،چُنانچِہ میں چوک درس میں شریک ہوگیا۔ میرا چوک درس میں شریک ہونا میری اِصلاح کا سبب بن گیا اور میں مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو گیا۔ یہ بیان دیتے وقت اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے یہاں مَدَنی اِنعامات کا عَلاقائی ذِمّے دار ہوں ۔ ایک دن تو وہ تھا کہ میں سبزعمامے والوں کودیکھ کر بھاگ جایا کرتا تھا

اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آج وہ دن ہے کہ خودمیرے سرپرسبزسبز عمامے شریف کا تاج جگمگا رہا ہے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!بَیان کو اِخْتِتام کی طرف لاتے ہوئے سُنَّت کی فَضیلت اور چند سُنَّتیں اور آداب بَیان کرنے کی سَعَادَت حاصِل کرتا ہوں تاجْدارِ رِسالت ،شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ،مُصطَفٰے جانِ رَحْمت، شمعِ بَزمِ ہدایت ،نوشۂ بَزمِ جنّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سُنَّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ،ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمية بیروت )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!