اسلامواقعات

نباتات کا کلام وطاعت اور سلام وشہادت

نباتات کا کلام وطاعت اور سلام وشہادت

 

جس طرح حیوانات حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے امر کے مطیع تھے اسی طرح نباتات بھی آپ کے فرمانبردار تھے چنانچہ درختوں کا آپ کی خدمت اقدس میں آنا اور سلام کر نا اور آپ کی رسالت پر شہادت دینا

اَحادیث کثیرہ سے ثابت ہے جن میں سے صرف دو تین مثالیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت (1 ) ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جب میری طرف وحی بھیجی گئی تو جس پتھر اور درخت پر میرا گزرہوتا تھا وہ کہتا تھا: اَلسَّلَامُ عَلَـیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ۔ ( 2)
حضرت عبد اللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ ایک سفر میں ہم رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھے ایک بادیہ نشین عرب (3 ) آپ کے سامنے آیا۔ جب وہ نزدیک ہوا تو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے فرمایا کہ کیا تو خدا کی وحد انیت اور محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی رسالت کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا: آپ جو کچھ فرماتے ہیں اس پر کون شہادت دیتا ہے؟ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: یہ درخت! پس آپ نے اسے بلا یا حالانکہ وہ وادی کے کنارے پر تھا وہ زمین کو چیر تا ہوا سامنے آکھڑا ہوا۔ آپ نے تین باراس سے شہادت طلب کی اور اس نے تینوں بار شہادت دی کہ واقع میں ایسا ہی ہے جیسا کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا۔ پھر درخت اپنی جگہ پر چلا گیا۔ (۴ )
حضرت ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت (۵ ) ہے کہ بنی عامر بن صَعْصَعَہ میں سے ایک بادیہ نشین عرب ( ۶) نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں آیا اور کہنے لگا: میں کس چیز سے پہچا نوں کہ آپ اللّٰہ کے رسول ہیں ؟ آپ نے فرمایا: بتا ! اگر میں اس درخت خرماکی شاخ کو بلا لوں تو کیا تو میری رسالت کی گواہی دے گا ؟ اس نے عرض کیا: ہاں ! پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس شاخ کو بلا یا۔وہ درخت سے اترنے لگی یہاں تک کہ زمین
پر گری اور پھد کنے لگی۔ حافظ ابو نعیم کی روایت میں ہے کہ وہ آپ کی طرف اس حال میں آئی کہ سجدہ کر رہی تھی اور اپنا سر اٹھا رہی تھی یہاں تک کہ وہ آپ کے پاس پہنچ گئی اور آپ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ اپنی جگہ پر واپس چلی جا۔ پس وہ اپنی جگہ واپس چلی گئی۔یہ دیکھ کر اس اعرابی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ کے رسول ہیں اور ایمان لے آیا۔ (۱ )
حضرت جابر (۲ ) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ سیر کی یہاں تک کہ ہم ایک فَرَاخ وادی میں اُترے، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کوئی چیز نہ دیکھی جس کے ساتھ پر دہ کرلیں نا گاہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس وادی کے ایک کنارے دو درخت دیکھے آپ نے ان دو میں سے ایک کے پاس قدم رنجہ فرمایا اور اس کی ایک شاخ کو پکڑ کر یوں ارشاد فرمایا: اللّٰہ کے اذن سے میری فرمانبر داری کر۔ اس درخت نے آپ کی اس طرح فرمانبر داری کی جیسے کہ نکیل والا اونٹ شتربان کی فرمانبر داری کر تا ہے یہاں تک کہ آپ دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ایک شاخ کو پکڑ کر فرمایا: اللّٰہ کے اذن سے میری فرمانبر داری کر۔ وہ بھی اسی طرح حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ چلا حتی کہ جب ان دونوں کے بیچ میں ہوئے تو فرمایا: اللّٰہ کے اذن سے تم دونوں مجھ پر مل جاؤ ۔پس وہ درخت باہم مل گئے۔ (حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں : ) میں اپنے دل میں اس امر عجیب کی نسبت حیرت سے سو چنے لگا میں نے جو نظر اٹھا ئی کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری طرف آرہے ہیں اور وہ درخت جدا جدا ہو گئے ہیں اور ہر ایک اپنی اصلی حالت میں اپنے تنے پر قائم ہے۔ (

________________________________
1 – اس حدیث کو بزار وابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ (مواہب لدنیہ) ۱۲منہ
2 – المواھب اللدنیۃ مع شرح زرقانی،المقصد الرابع کلام الشجر لہ۔۔۔الخ،ج۶،ص۵۱۳۔علمیہ
3 – عرب کے دیہات میں رہنے والا۔
4 – مشکوٰۃ، باب فی المعجزات۔ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الفضائل والشمائل،باب فی المعجزات،الحدیث:۵۹۲۵، ج۲، ص۳۹۴۔علمیہ)
5 – اس حدیث کو امام احمد نے اور امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اور دارمی وترمذی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وابویعلی وابن سعد نے روایت کیا ہے اور ترمذی اور حاکم نے صحیح کہاہے۔ (خصائص کبریٰ، جزء ثانی، ص۳۶)۱۲منہ
6 – عرب کے دیہات میں رہنے والا۔

 

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!