اسلام

جُمُعہ کے دن دُرُودِ پاک کی کَثرت

جُمُعہ کے دن دُرُودِ پاک کی کَثرت

سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے: ’’اَکْثِرُوا الصَّلَاۃَ عَلَیََّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَاِنَّہٗ مَشْہُوْدٌ تَشْہَدُہُ الْمَلَائِکَۃُ وَاِنَّ اَحَدًا لَنْ یُّصَلِّیَ عَلَیَّ اِلَّا عُرِضَتْ عَلَیَّ صَلَا تُہُ حَتَّی یَفْرُغَ مِنْہَا،یعنی جُمُعہ کے دن مجھ پر کثرت سے دُرُود بھیجا کرو کیونکہ یہ یومِ مشہود (یعنی میری بارگاہ میں  فِرِشتوں  کی خُصُوصی حاضِری کا دن)ہے،اس دن فِرِشتے (خُصُوصی طو ر پر کثرت سے میری بارگاہ میں  )حاضِر ہوتے ہیں،جب کوئی شخص مجھ پر دُرُود بھیجتا ہے تو اس کے فارغ ہونے تک اس کا دُرُود میرے سامنے پیش کردیا جاتا ہے ۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا ابُو دَرْداء رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہکا بیان ہے کہ میں  نے عرض کی: ’’(یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!) اور آپ کے وصال کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ارشاد فرمایا:’’ہاں  (میری ظاہری) وَفات کے بعد بھی (میرے سامنے اسی طرح پیش کیا جائے گا۔‘‘)’’اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ،یعنیاللّٰہ تعالیٰ نے زمین کیلئے اَنبیائے کرام علیھم الصَّلوۃ والسَّلام کے جسموں  کا کھانا حرام کر دیا ہے۔‘‘ فَنَبِیُّ اللّٰہِ حَیٌّ یُرْزَقُ،پس اللّٰہتعالیٰ کا نبی زِندہ ہوتا ہے اور اسے رِزْق بھی عطا کیا جاتا ہے۔‘‘(ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ذکر وفاتہ…الخ، ۲/ ۲۹۱، حدیث:۱۶۳۷(
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں  کوشش کرکے باِلخُصُوص جُمُعۃ ُالمبارک کے دن دُرُود شریف کی کثرت کرنی چاہیے کہ اَحادیثِ مُبارَکہ میں  اِس روز کثرتِ دُرُود کی خاص طور پر تاکید کی گئی ہے جیسا کہ آپ نے ابھی سَماعت فرمایا۔ اور زَمین اَنبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام کے مُبارک جسموں  کو کیوں   نہیں   کھاتی ، اس کی اِیمان اَفروز تَوجِیہ بیان کرتے ہوئے حضرتِ علَّامہ عبدالرؤف مَنَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَویارشاد فرماتے ہیں  : ’’لِاَنَّہَا تَتَشَرَّفُ بِوَقْعِ اَقْدَامِہِمْ عَلَیْہَا وَتَفْتَخِرُ بِضَمِّہِمْ اِلَیْہَا فَکَیْفَ تَأْکُلُ مِنْہم،اسلئے کہ زمین اَنبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃ والسَّلام کے مُبارک قَدموں  کے بوسے سے مُشرَّف ہوتی ہے اور اسے یہ سَعادت ملتی ہے کہ َانبیائے کرام کے مُبارک اَجسام زمین سے مَس ہوتے ہیں  تو یہ اِن کے جسموں  کو کیسے کھا سکتی ہے ۔ (فیض القدیر،حرف الھمزۃ،۲/۶۷۸،تحت الحدیث:۲۴۸۰)
جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سَیِّد عالَم
اس خاک پہ قُرباں  دلِ شیدا ہے ہمارا (حدائقِ بخشش ،ص۳۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیثِ پاک سے معلوم ہواکہ اَنبیائے کرامعَلَیْھمُ الصَّلٰوۃ والسَّلام اپنے اپنے مَزاراتِ طَیبا ت میں  زِندہ ہیں  ۔ بَعض اَوقات اس مُعامَلے میں  مَردُود شیطان طرح طرح کے وَسوَسے ڈالتا ہے، آئیے اس حوالے سے کچھ سُننے کی سَعادت حاصل کرتے ہیں  ۔

اَنبیاء علیہمُ السَّلام اپنی قَبْروں  میں  زِندہ ہیں  

صدرُالشَّریعہ ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علَّامہ مولانا مفتی محمداَمجد علی اَعظمی علیہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَوی تَحریر فرماتے ہیں:’’اَنبیاعَلَیہِمُ السَّلاماپنی اپنی قَبروں  میں  اُسی طرح بحیاتِ حقیقی زِندہ ہیں  ، جیسے دُنیا میں  تھے، کھاتے پیتے ہیں  ،جہاں  چاہیں  آتے جاتے ہیں  ، تصدیقِ وَعدۂ اِلٰہیہ کے لیے ایک آن کو اُن پر موت طاری ہوئی، پھر بدستور زِندہ ہوگئے، اُن کی حَیات، حیاتِ شُہدا سے بہت اَرْفَع و اَعلیٰ ہے فلہذا شہید کا ترکہ تقسیم ہوگا، اُس کی بی بی بعدِ عدت نکاح کرسکتی ہے بخلاف اَنبیا کے، کہ وہاں  یہ جائز  نہیں   ۔ ‘‘(بہارِ شریعت ،ج۱،ص۵۸)
ایک اور مَقام پر اِرشاد فرماتے ہیں  :’’اَنبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام اور اَولیاء کرام و عُلمائے دِین و شُہدا و حافظانِ قرآن کہ قرآنِ مجید پر عمل کرتے ہوں  اور وہ جو مَنْصَبِمَحَبَّت پر فائز ہیں  اور وہ جسم جس نے کبھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی مَعْصِیت نہ کی اور وہ کہ اپنے اَوقات دُرُود شریف میں  مُستغر ق رکھتے ہیں  ، ان کے بَدن کو مَٹّی  نہیں   کھاسکتی۔ جو شخص اَنبیائے کرام عَلَیْہمُ السَّلام کی شان میں  یہ خبیث کلمہ کہے کہ مرکے مَٹّی میں  مل گئے ،گُمراہ ، بَددِین، خبیث ، مُرتکبِ توہین ہے ۔ ‘‘(بہارِ شریعت ،حصہ اول،ص۱۱۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!وِصالِ ظاہری فرمانے کے بعداَنبیائے کرام عَلَیْھمُ الصَّلٰوۃ والسَّلامکا زِندہ ہونا مُتَعَدَّداَحادیثِ مُبارکہ سے ثابت ہے ۔ نیز یہ حضرات اپنے مَزارات میں  نَماز بھی پڑھتے ہیں  ۔چُنانچہ رَحمتِ عالَم، نور ِ مُجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’اَ لْاَنْبِیَاءُ أَحْیَاءٌ فِیْ قُبُوْرِ ہِمْ یُصَلُّوْنیعنی اَنبیائے کرام  عَلَیھِمُ الصَّلٰوۃُ والسَّلام اپنی اپنی قَبروں  میں  زِندہ ہیں  اورنَماز بھی پڑھتے ہیں  ۔‘‘(مسند ابی یعلی،مسند انس بن مالک ،۳ /۲۱۶،حدیث:۳۴۱۲)

ایک اور حدیثِ پاک میں  ارشاد فرمایا گیا:’’مَرَرْتُ عَلَی مُوسٰی لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ عِنْدَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ وَہُوَ قَائِمٌ یُّصَلِّی فِی قَبْرِہٖ،یعنی مِعْراج کی رات میرا گُزرسُرخ ٹیلے کے پاس سے ہوا (تو میں  نے دیکھاکہ) حضرت ِموسیٰ علیہ الصَّلٰوۃُ والسَّلام  اپنی قَبر میں  کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں  ۔‘‘(مسلم،کتاب الفضائل،باب من فضائل موسی ،ص۱۲۹۳، حدیث:۲۳۷۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ٍ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہماری موت اورحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری میں  بہت فرق ہے جیساکہ غزالئی زَماں  رازیٔ دَوراں  حضرت علَّامہ مولانا احمد سعید کاظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْقَوِی تَحریر فرماتے ہیں  :سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موت ہماری موت سے کئی اِعتبارات سے مختلف ہے۔ 

(1)سَیِّد ِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِختیار حاصل تھا کہ دُنیا میں  رہیں  یا رفیقِ اَعلی کے پاس تشریف لے جائیں (بخاری شریف)  لیکن ہمیں  دُنیا میں  رہنے یا آخرت کی طَرف جانے میں  کوئی اِختیار  نہیں   ہوتا بلکہ ہم موت کے وَقت سفرِ آخرت پرمجبور ہوجاتے ہیں  ۔

(2)غُسل کے وقت ہمارے کپڑے اُتارے جاتے ہیں  لیکن رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ا نہیں   مُبارک کپڑوں  میں  غُسل دیا گیا جن میں  وصالِ ظاہری فرمایا تھا۔
(3)سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نمازِ جنازہ ہماری طرح  نہیں   پڑھی گئی بلکہ مَلائکہ کرام، اَہلِ بیتِ عِظام اور حضراتِ صحابہ رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنْھُم اَجْمَعین نے جماعت کے بغیر الگ الگحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نماز پڑھی اور اس نماز میں  معروف دُعائیں  بھی  نہیں   پڑھی گئیں  بلکہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تَعریف وتَوصِیف کے کَلِمات عرض کئے گئے اور دُرُود شریف پڑھا گیا ۔ 
(4)ہماری موت کے بعد جلدی دَفن کرنے کا تاکیدی حکم ہے لیکن سرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصالِ ظاہری کے بعد سخت گرمی کے زمانے میں  پورے دو دن کے بعد قبرِ اَنور میں  دَفن کئے گئے۔

(5)ہماری موت کے بعد ہمیں  عام مسلمانوں  کے قَبرِستان میں  دَفن کیا جائے گا جبکہ سرکارِ دوعالَم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسَلَّم کی تَدْفین اسی مَقام پر کی گئی جہاں  وصالِ ظاہری فرمایا تھا۔

(6)ہماری موت کے بعد ہماری مِیراث تَقسیم ہوتی ہے جبکہ حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے مُسْتَثْنٰی ہیں  ۔
(7)ہماری موت کے بعد ہماری بیویاں  عِدَّت گُزار کر کسی اور سے نِکاح کرسکتی ہیں  جبکہ حُضُورِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اَزْواج کیلئے ایسا کرنا جائز  نہیں   ۔ (مقالاتِ کاظمی ،ج ۲، ص ۹۵ملخصاً)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے پیارے آقاصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نہ صِرف حیات ہیں  بلکہ خُوش نصیبوں  کو اپنی زِیارت اور دَسْت بوسی کی سَعادت بھی عطا فرماتے ہیں  ۔چُنانچہ

دَسْتْ بوسی کا شَرَف

حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکافِیْ تَحریر فرماتے ہیں :’’حضرت سَیِّد احمد کبیررَفاعی عَلَیْہ رَحمۃُاللّٰہ الْقَوی جو مشہور بُزُرگ اور اَکابر صُوفیہ میں  سے ہیں  ان کا واقعہ مشہور ہے کہ جب وہ 555؁ھ میں  حج سے فارغ ہوکر سرکارِ اعظمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت کیلئے مَدینہ طیبہ

 حاضِر ہوئے اور قبرِ انور کے سامنے کھڑے ہوئے تو یہ دو شعر پڑھے:

فِیْ حَالَۃِ الْبُعْدِ رُوْحِیْ کُنْتُ اُرْسِلُہَا تُقَبِّلُ الْاَرْضَ عَنِّی وَہِیَ نَائِبَتِیْ
میں  دُوری کی حالت میں  اپنی رُوح کو خِدمتِ مُبارکہ میں  بھیجاکرتا تھاجو میری نائب بن کر آستانۂ مُبارکہ کو چُوما کرتی تھی۔
وَہٰذِہٖ دَوْلَۃُ الْاَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ فَامْدُدْ یَمِیْنَکَ کَیْ تَحْظٰی بِہَا شَفَتِی
اب جسم کی حاضری کا وَقت آیا لہٰذا اپنا دَستِ اَقدس لائیے تاکہ میرے ہونٹ ان کا بوسہ لے سکیں  ۔ 
فخَرَجَتِ الْیَدُ الشَّرِیْفَۃُ مِنَ الْقَبْرِ الشَّرِیْفِ فَقَبَّلَہَااس عرض پر سرکارِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دَستِ انور کو قبرِ مُنوَّر سے باہر نکالا اور حضرت سَیِّد احمد کبیر رفاعی نے اسے بوسہ دیا ۔ (الحاوی للفتاوی،کتاب البعث،تنویرالحلک فی امکان رؤیۃ النبی …الخ، ۲/۳۱۴)
اس وَقت مسجدِ نَبوی میں  کئی ہزار اَفراد موجود تھے جنہوں  نے دستِ اَقدس کی زِیارت کی۔ (خطباتِ محرم، ص۶۵)
تُو زِندہ ہے واللّٰہ تُو زِندہ ہے واللّٰہ
مری چشمِ عالَم سے چُھپ جانے والے    (حدائقِ بخشش،ص۱۵۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرتسَیِّدَتُنَاعائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالی عنہاکا بھی یہی عقیدہ تھا کہ بعدِ وصال نہ صرف پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بلکہ حضرتِ سَیِّدُنا عُمر فارُوق رَضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہ بھی نہ صِر ف حیات ہیں  بلکہ زائرین کو مُلاحَظہ بھی فرماتے ہیں۔چُنانچہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا ارشاد فرماتی ہیں :’’کُنْتُ اَدْخُلُ بَیْتِی الَّذِیْ دُفِنَ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَاَبِیْ یعنی جب میں  اس حُجرئہ مُبارکہ میں  داخل ہوتی جہاں  سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور میرے والد(حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدِّیقرَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)مدفون ہیں  ۔ ‘‘  فَاَضَعُ ثَوْبِیْ وَاَقُوْلُ اِنَّمَا ہُوَ زَوْجِیْ وَاَبِی،یعنی تومیں  پردے کا کپڑا اُتار دیتی تھی اورکہتی تھی: یہاں  تو صِرف میرے سرتاج اور والد ہیں  (جن سے پردہ ضروری  نہیں   ہوتا) ’’فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَہُمْ فَوَاللّٰہِ مَا دَخَلْتُ اِلَّا وَاَنَا مَشْدُوْدَۃٌ عَلَیَّ ثِیَابِیْ حَیَاءً مِّنْ عُمَرَ،لیکن جب وہاں  ان کے ساتھ حضرتِ عُمر رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی مَدفون ہوگئے تو میں  حضرت عُمر رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے حیا کے باعث مکمل حجاب میں  داخل ہوتی تھی ۔(مسند  احمد ،مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا،۱۰/۱۲،حدیث:۲۵۷۱۸ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ روایت اس بات پر دلیل ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدِّیقہرَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو اس بات میں  کوئی شک نہ تھا کہ حضرت سَیِّدُنا عُمر فارُوق رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وصالِ ظاہری کے بعد بھی زِندہ ہیں  اور اپنی قَبر 

سے ا نہیں   دیکھتے ہیں  اسی لئے آپ حُجرئہ مُبارکہ میں  داخل ہونے سے پہلے پردہ فرمالیا کرتی تھیں  ۔

مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں  :’’اس حدیثِ پاک سے بہت سے مسائل معلوم ہو سکتے ہیں  ایک یہ کہ مَیِّت کا بعدِ وفات اِحتِرام (کرنا)چاہئے، فقہاء فرماتے ہیں  کہ مَیِّت کا ایسا ہی اِحتِرام کرے جیسا کہ اس کی زِندگی میں  کرتا تھا دوسرے یہ کہ بُزُرگوں  کی قُبُور کا بھی اِحتِرام اور ان سے بھی شَرم و حیا چاہئے تیسرے یہ کہ مَیِّت قَبر کے اندر سے باہر والوں  کو دیکھتا اور ا نہیں   جانتا پہچانتا ہے دیکھو حضرتِ عُمر(رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے عائشہ صدیقہ (رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا) ان کی وفات کے بعد شرم و حیا فرمارہی ہیں  اگر آپ باہر کی کوئی چیز نہ دیکھتے تو اس حیا فرمانے کے کیا معنی ۔‘‘(مراٰۃ ، ۲/۵۲۷)
امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عُمر فارُوق رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بعدِ وصال حیات اور مَزار میں  جسمِ مبارک کے سَلامت ہونے پر بُخاری شریف کی یہ روایت بھی دلیل ہے ۔ چُنانچہ حضرت سَیِّدُناعُروہ بن زُبیررَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ خلیفہ وَلید بن عبدالمَلک کے زمانے میں  جب رَوضئہ مُنوَّرہ کی دِیوار گرگئی اور لوگوں  نے (87ھ میں  )اسکی تَعْمِیر شروع کی تو(بنیاد کھودتے وقت )

 ایک قَدم ظاہر ہوا۔ اس پر لوگ گھبراگئے اور اُنھوں  نے گُمان کیاکہ شاید یہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قَدم شریف ہے ا ور وہاں  کوئی جاننے والا نہ ملاتو حضرتِسَیِّدُنا عُروہ بن زُبیررَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ وَاللّٰہِ مَا ہِیَ قَدَمُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ہِیَ اِلَّا قَدَمُ عُمَر ،یعنی خدا کی قسم!یہحُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قَدم شریف  نہیں   بلکہ یہ حضرتِ سَیِّدُنا عُمرفارُوق رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا قَدم مبارک ہے۔   (بخاری، کتاب الجنائز،باب ماجاء فی قبر النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وابی بکر وعمر،۱/ ۴۶۹،حدیث:۱۳۹۰)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ وصال کے تقریباً 64برس کے بعد بھی حضرت سَیِّدُناعمر فاروق رضی اللّٰہ تعالی عنہ کا جسمِ مبارک سَلامت تھااور اس میں  کسی قِسم کی تبدیلی  نہیں   ہوئی تھی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَنبیائے کرامعَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام کی بَرزخی زِندگی ہماری بَرزخی زِندگیوں  کی طرح  نہیں   بس فرق صِرف اتنا ہے کہ وہ ہم جیسے لوگوں  کی نِگاہوں  سے اوجھل ہیں  ۔جیساکہ حضرت سَیِّدُنا شیخ حَسن شُرُنْبُلالیعَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہ الْوَالِی تَحریر فرماتے ہیں  :’’یعنی یہ بات اَربابِ تحقیق کے نزدیک ثابت ہے کہ اَنَّہٗٗ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیٌّ یُرْزَقُ مُمَتِّعٌ بِجَمِیْعِ الْمَلَاذِّ وَ الْعِبَادَاتِ غَیْرَ اَنَّہٗ حَجَبَ عَنْ اَبْصَارِ الْقَاصِرِیْنَ عَنْ شَرِیْفِ

 الْمَقَامَاتِ، یعنی حُضُورصلَّی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ واٰلہٖ وسَلَّم زِندہ ہیں  ،آپ پر روزی پیش کی جاتی ہے، ساری لذَّت والی چیزوں  کا مزہ اورعِبادتوں  کا سُرور پاتے ہیں  لیکن جو لوگ بُلَنْد دَرَجوں  تک پہنچنے سے قاصِر ہیں  ان کی نِگاہوں  سے اوجھل ہیں  ۔( نور الایضاح مع مراقی الفلاح،ص۳۸۰  )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رَئیسُ الْمُحَدِّثِینحضرتِ مُلاّ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْباری فرماتے ہیں  : ’’ فلَاَ فَرْقَ لَہُمْ فِی الْحَالَیْنِ وَلِذَا قِیْلَ اَولیاء اللّٰہِ لَایَمُوْتُوْنَ وَلٰکِنْ یَّنْتَقِلُوْنَ مِنْ دَارٍ اِلٰی دَارٍ،یعنی اَنبیائے کرامعَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام کی قبلِ وصال اور بعدِ وصال کی زِندگی میں  کوئی فرق  نہیں   ۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ محبوبانِ خدا مرتے  نہیں   بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں  منتقل ہوجاتے ہیں  ۔‘‘(مرقاۃ،کتاب الصلاۃ ،باب الجمعۃ،۳/ ۴۵۹ ،تحت الحدیث:۱۳۶۶) 
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں  :’’ لِاَ نَّہٗ حَیٌّ یُرْزَقُ وَیُسْتَمَدُّ مِنْہُ الْمَدَدُ الْمُطْلَقُ،یعنی بیشک حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزِندہ ہیں  ،آپ کو روزی پیش کی جاتی ہے اور آپ سے ہر قسم کی مَدد طلب کی جاتی ہے۔‘‘ (مرقاۃ،کتاب المناسک،باب حرم المدینۃحرسہااللّٰہ تعالٰی،۵/۶۳۲،تحت الحدیث:۲۷۵۶)
مانگیں  گے مانگے جائیں  گے مُنہ مانگی پائیں  گے
سرکار میں  نہ ’’لاَ ‘‘ہے نہ حاجت ’’اگر ‘‘کی ہے   (حدائقِ بخشش،ص۲۲۵)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ  اَہلسُنَّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن نے حَیاتِ اَنبیائعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السّلامکے اسلامی عَقیدے کو اپنے ایک کلام میں  اِنتہائی پیارے اَنداز میں  بیان کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں  :

اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے مگر ایسی کہ فَقَط آنی ہے
پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حَیات مِثلِ سابق وہی جسمانی ہے
رُوح تو سب کی ہے زِندہ ان کا جسمِ پُر نور بھی رُوحانی ہے
اوروں  کی رُوح ہو کتنی ہی لطیف اُن کے اَجسام کی کب ثانی ہے
پاؤں  جس خاک پہ رکھ دیں  وہ بھی رُوح ہے پاک ہے نُورانی ہے
اُس کی اَزواج کو جائز ہے نکاح اُس کا  تَرْکَہ بٹے جو فانی ہے
            یہ ہیں  حَیِّ اَبَدِی اِن کورضاؔ    صِدقِ وعدہ کی قضا مانی ہے
 (حدائقِ بخشش،ص۳۷۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جَنَّت کا پَروانہ

حضرت سَیِّدمحمد کُردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْقَوِیارشاد فرماتے ہیں  :’’میری والدئہ مَاجدہ نے خبر دی کہ میرے والدِ ماجد (یعنی حضرت سیِّد محمد کُردی کے نانا جان)

 جن کا نام محمدتھاانہوں  نے مجھے وَصِیَّت کی تھی کہ جب میرا اِنتقال ہوجائے اور مجھے غُسل دے لیا جائے تو چَھت سے میرے کَفن پر ایک سَبز رنگ کا رُقعہ گرے گا جس میں  لکھا ہوگا ’’ھٰذِہٖ بَرَاءَ ۃُ مُحَمَّدِنِ العَالِمِ بِعِلْمِہٖ مِنَ النَّار یعنی محمدجو عالمِ ہے اس کو اِس کے علم کے سبب جہنم سے چھٹکارا مل گیا ہے۔‘‘اُس رُقعے کو میرے کَفن میں  رکھ دینا ۔ ‘‘چُنانچہ غُسل کے بعد رُقعہ گِرا ،جب لوگوں  نے رُقعہ پڑھ لیا تو میں  نے اسے اِن کے سینے پررکھ دیا ۔اُس رُقعے میں  ایک خاص بات یہ تھی کہ جس طرح اسے صفحہ کے اوپر سے پڑھاجاتا تھااسی طرح صفحہ کے پیچھے سے بھی پڑھا جاتا تھا۔ میں  نے اپنی والدئہ ماجدہ سے پوچھا کہ نانا جان کا عمل کیا تھا؟ اَمّی جان نے فرمایا: ’’ کَانَ اَکْثَرُ عَمَلِہٖ دَوَامُ الذِّکْرِمَعَ کَثْرَۃِ الصَّلٰوۃِ عَلَی النَّبِی، یعنی اُن کا یہ عمل تھاکہ وہ ہمیشہ ذِکرُاللّٰہ کرنے کے ساتھ ساتھ دُرُودِپاک کی کثرت بھی کیا کرتے تھے۔ ‘‘ (سعادَۃ الدارین، الباب الرابع ،اللطیفۃ السادسۃ التسعون، ص۱۵۲ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں  حَیاتِ انبیائے کرام  عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام  کے بارے میں  اِسلامی عَقیدہ اِختیار کرنے اور ذِکر و دُرُود کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرما۔
 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭…٭…٭…٭

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!