اسلام

غنی کا زکوٰۃ لینا

    حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:”زکوٰۃ کسی مال میں نہ ملے گی مگر اسے ہلاک کردے گی ۔” امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے معنی یہ کئے کہ مالدار شخص زکوٰۃ لے لے تو یہ اس کے (بقیہ)مال کو ہلاک
کردے گی۔  (الترغیب والترھیب،کتاب الصدقات،باب الترھیب من منع الزکوٰۃ،الحدیث۱۸،ج۱،۳۰۹)
     زکوٰۃ تو فقیروں کے لئے ہوتی ہے،غنی کو زکوٰۃ لینا حرام ہے اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ ایسے شخص کو اس مال ِ حرام کے سبب قبروحشر اور میزان کی پریشانیوں اور عذاباتِ جہنم کا سامناکرنا پڑے گا ۔
 (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجہ،ج۱۰، ص۲۶۱ ملخصًا)
جس کے پاس چھ تولے سونا ہو!
    جس کے پاس چھ تولے یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابرسونا ہو اگرچہ اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی کہ سونے کی نصاب ساڑھے سات تولے ہے مگر ایسا شخص زکوٰۃ لے نہیں سکتا ۔
 (ماخوذ از بہارِ شریعت ،ج۱،حصہ۵،مسئلہ ۲۷ص۹۲۹)
حاجتِ اصلیہ سے زائد سامان ہو تو؟
    جس کے پاس ضرورت کے سواایسا سامان ہے جو مال نامی نہ ہو اور نہ ہی تجارت کے لئے اور وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہےتو اسے زکوٰۃ نہیں دے سکتے اگرچہ خُود اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔  (ماخوذ از بہارِ شریعت ،ج۱،حصہ۵،مسئلہ ۲۷ص۹۲۹)

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!