اسلام

فعل نہی کا بیان

فعل نہی کی تعریف:
     وہ فعل جس کے ذریعہ کسی کو کسی کام سے روکا جائے ۔جیسے لاَ تَفْعَلْ(نہ کر تو ایک مرد ) 
تنبیہ:
    اس کی بھی دو قسمیں ہیں:(۱) فعل نہی معروف (۲) فعل نہی مجہول۔
فعل نہی معروف بنانے کاطریقہ:
    فعل مضارع معروف کے شروع میں”لائے نہی”لگانے سے فعل نہی معروف بن جاتا ہے ۔ جیسے تَفْعَلُ سے لاتَفْعَلْ۔
فعل نہی مجہول بنانے کاطریقہ:
    فعل مضارع مجہول کے شروع میں لائے نہی لگانے سے فعل نہی مجہول بن جاتاہے ۔ جیسے یُفْعَلُ سے لا یُفْعَلْ۔
تنبیہ:
     لائے نہی فعل مضارع پرداخل ہوکراس میں دو طرح کا عمل کرتاہے:
(۱) لفظی اور (۲) معنوی۔
٭۔۔۔۔۔۔لائے نہی کالفظی عمل:
    (۱)۔۔۔۔۔۔لائے نہی فعل مضارع پر داخل ہوکرلفظی عمل وہی کرتاہے جو لفظ”لَمْ”کرتا ہے۔ یعنی پانچ مرفوع صیغوں کو جزم دیتا ہے ۔جیسے تَفْعَلُ سے لاتَفْعَلْ۔
    (۲)۔۔۔۔۔۔اگران پانچ صیغوں کے آخر میں حرف علت ہو تو ا سے گرادیتا ہے ۔ جیسے یَدْعُوْسے لا یَدْعُ۔
    (۳)۔۔۔۔۔۔سات صیغوں کے آخرسے نون اعرابی کو گرا دیتا ہے ۔جیسے یَفْعَلَانِ سے لایَفْعَلاَ۔
    (۴)۔۔۔۔۔۔دو صیغوں(جمع مؤنث غائب وحاضر)میں مبنی ہونے کی بناء پر لفظاکوئی عمل نہیں کرتا۔ جیسے یَفْعَلْن َسے لایَفْعَلْنَ۔
٭۔۔۔۔۔۔لائے نہی کامعنوی عمل:
    فعل مضارع کو مستقبل کے ساتھ خاص کردیتا ہے اوراس میں کسی کام سے روکنے کے معنی پیداکردیتاہے ۔
نوٹ:
فعل نہی کے آخر میں بھی نون ثقیلہ و خفیفہ لاحق ہوتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!