اسلام

سَحَری کے مُتَعَلِّق 9فرامِینِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وَسلَّم

”سَحَری سنّت ہے”کے نو حُرُوف کی نسبت سے سَحَری کے مُتَعَلِّق 9فرامِینِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وَسلَّم

سَحَری کھایا کرو کیوں کہ سَحری میں بَرَکت ہے۔”   (صحیح بخاری ج۱ص۶۳۳حدیث۱۹۲۳)
ہمارے اور اَہلِ کِتاب کے دَرمِیان سَحَری کھانے کا فَرق ہے۔      (صحیح مسلم ص۵۵۲حدیث۱۰۹۶)
اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے فِرِشتے سَحَری کھانے والوں پر رَحمت نازِل فرماتے ہیں۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج۵ص۱۹۴حدیث۳۴۵۸)
نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم ،مَحبوبِ ربِّ عظیم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وَسلَّم اپنے ساتھ جب کِسی صَحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سَحَری کھانے کیلئے بُلاتے تَو ارشاد فرماتے ،”آؤ بَرَکت کا کھانا کھالو۔ ” (سنن ابوداو،د ج۲ص۴۴۲حدیث۲۳۴۴)
روزہ رکھنے کیلئے سَحَری کھا کر قُوّت حاصِل کرو اوردن (یعنی دوپہر )
کے وَقت آرام (یعنی قَیلُولَہ ) کرکے را ت کی عِبادت کیلئے طاقت حاصِل کرو۔
  (سنن ابنِ مَاجَہ ج۲ص۳۲۱حدیث۱۶۹۳)
سَحَری بَرَکت کی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم کو عَطا فرمائی ہے، اِس کو مت چھوڑنا۔   (السُّنَنُ الکبرٰی،للنسائی ج۲ص۷۹حدیث۲۴۷۲)
تین آدمی جِتنا بھی کھالیں اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّاُن سے کوئی حِساب نہ ہوگابَشَرطیکہ کھانا حَلال ہو(۱) روزہ دار اِفطار کے وَقت (۲)سَحَری کھانے والے (۳)مجاہِد جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے راستہ میں سَر حدِ اسلام کی حِفاظَت کرے۔
        (اَلتَّرْغِیب  وَالتَّرْھِیب  ج۲ ص۹۰حدیث۹)
سَحَری پوری کی پوری بَرَکت ہے پس تم نہ چھوڑو چاہے یِہی ہو کہ تم پانی کا ایک گُھونٹ پی لو۔ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اسکے فِرِشتے رَحمت بھیجتے ہیں سَحَری کرنے والوں پر ۔   (مُسند امام احمد ج۴ ص۸۸حدیث۱۱۳۹۶)
     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بے چین دلوں کے چَین،رحمتِ دارین، تاجدارِ حَرَمَین، سرورِ کَونَین،نانائے حَسَنَین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اِن تمام فرامِین سے ہمیں یہی دَرْس ملتا ہے کہ سَحَری ہمارے
لئے ایک عظیم نِعمت ہے جس سے بے شُمار جِسمانی اور رُوحانی فوائِد حاصِل ہوتے ہیں۔اِسی لئے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِسے مُبارَک ناشتہ کہا ہے۔جیسا کہ
حضرتِ سَیِّدُناعِرباض بِن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دَفعہ رَمَضانُ الْمُبارَک میں رَسُولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے اپنے ساتھ سَحَری کھانے کیلئے بُلایا اور فرمایا ،” آؤ مُبارَک ناشتہ کیلئے۔”     (سنن ابوداو،دج۲ ص۴۴۲حدیث۲۳۴۴)

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!