(1) کَمْسِن مُبلّغ کی انفرادی کوشش

   ایک اُستاذ صاحب مَدْرسے میں حسبِ معمول بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے جن میں عِلمی گھرانے سے تَعَلُّق رکھنے والا ایک مَدَنی مُنّا بھی شامل تھا ۔ اس کی ہر ہر ادا میں وَقار اورسلیقہ تھا۔ نُورانی چہرہ اسکی قَلبی نُورانیت کی عَکَّاسی کر رہا تھا۔سُرمگیں چمکتی ہوئی آنکھیں اسکی ذَہانت و فَطَانت کی خبر دے رہی تھیں۔ وہ بڑی تَوَجُّہ سے اپناسبق پڑھ رہا تھا ۔ اتنے میں ایک بچے نے آکر سلام کیا ۔ اُستاذصاحب کے منہ سے نکل گیا: ”جیتے رہو۔”یہ سُن کر مَدَنی مُنّاچونکا اور کچھ یوں عرض کی :”یااُستاذی!
Advertisement
سلام کے جواب میں تو وَعَلَیْکُمُ السُّلَام کہنا چاہيے!”استاذصاحب کَمْسِن مُبَلِّغ کی زبان سے اِصلاحی جملہ سن کر ناراض نہ ہوئے بلکہ خیرخواہی کرنے پر خوشی کا اِظہار فرمایا اوراپنے اس ہونہار شاگرد کو ڈھیروں دعائیں دی۔
 ( ملخصاَحیات اعلیٰ حضرت ،ج۱، ص۶۳)

کَمْسِن مُبَلِّغ کون تھا؟

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ جانتے ہیں وہ کَمْسِن مبلغ کون تھا؟ وہ چودھویں صدی ہجری کے مجدّدِدین وملت، اعلٰیحضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، عظیمُ البَرَکت، عَظِیمُ المَرْتَبت، پروانۂ شمعِ رِسالت ، مُجَدِّدِ دِین ومِلَّت، حضرتِ علَّامہ مولٰینا الحاج الحافظ القاری شاہ امام احمد رَضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن تھے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی وِلادت باسعادت بریلی شریف (ہند)کے مَحَلّہ جَسولی میں ۱۰ شَوَّالُ الْمُکَرَّم  ۱۲۷۲؁ھ بروز ہفتہ بوقتِ ظہر مطابِق 14 جون 1856ء کو ہوئی۔اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے صرف تیرہ سال دس ماہ چار دن کی عمر میں تمام مُروَّجہ عُلُوم کی تکمیل اپنے والدِ ماجد رئیسُ المُتَکَلِّمِین حضرت مولانا نقی علی خان علیہ رحمۃ المنّان سے کرکے سَنَدِفراغت حاصل کرلی۔ اُسی دن آپ نے ایک سُوال کے جواب میں پہلا فتویٰ تحریر فرمایا تھا۔ فتویٰ صحیح پا کر آپ کے والدِ ماجد نے مَسندِ اِفتاء آپ کے سپرد کردی اور آخر وقت تک فتاویٰ تحریر فرماتے رہے۔یوں توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نے ۱۲۸۶؁ھ سے  ۱۳۴۰؁ھ تک لاکھوں فتوے لکھے، لیکن افسوس! سب کو نَقل نہ کیا جاسکا۔جو نَقل کرلیے گئے تھے ان کا نام ” اَلْعَطَایَا النَّبَوِیَّۃ فِی الْفَتَاوَی الرَّضَوِیَّۃِ ” رکھا گیا ۔ ہر فتوے میں دلائل کا سمندر موجزن ہے۔فتاوٰی رضویہ (غیر مخرجہ )کی 12اور تخریج شدہ کی 30جِلدیں ہیں۔یہ غالباً اُردو زبان میں دنیا کا ضَخیم ترین مجموعۂ فتاویٰ ہے جو کہ تقریباً بائیس ہزار(22000)صَفَحات، چھ ہزار آٹھ سو سینتا لیس (6847) سُوالات کے جوابات اور دو سو چھ (206)رسائل پر مُشتَمِل ہے۔ جبکہ ہزارہا مسائل ضِمناً زیرِ بَحث آ ئے ہیں۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 55سے زائد عُلُوم پر عُبُور رکھنے والے ایسےماہرعالم تھے کہ درجنوں علومِ عقلیہ ونقلیہ پر آپ کی سینکڑوں تصانیف موجود ہیں، ہرتصنیف میں آپ کی علمی وجاہت،فقہی مُہارت اور تحقیقی بصیرت کے جلوے دکھائی دیتے ہیں ، بالخصوص فتاوٰی رضویہ توغَوَّاصِ بحرِفِقہ کے لئے آکسیجن کا کام دیتا ہے ۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے قرآنِ مجید کا ترجَمہ کیاجو اُردو کے موجودہ تراجم میں سب پر فائِق ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ترجَمہ کا نام ”کنزُالایمان” ہے ۔جس پر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلیفہ صدر الافاضل مولانا سَیِّد نعیم الدین مُراد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حاشیہ خزائن العِرفان لکھا ہے۔۲۵صفَر الْمُظَفَّر۱۳۴۰؁ھ بمطابق  ۱۹۲۱؁ء کو
جُمُعَۃُ الْمبارَک کے دن ہندوستان کے وقت کے مطابق ۲  بج کر ۳۸ منٹ پر،عین اذان کے وقت اِدھر مُؤَذِّن نے حَیَّ عَلَی الفَلاح کہا اور اُدھر اِمامِ اَہلسُنَّت ، مُجَدِّدِ دین ومِلّت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِطریقت، حضرتِ علامہ مولٰینا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے داعئی اَجل کو لبیک کہا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزارِپُراَنوار بریلی شریف (ہند)میں آج بھی زیارت گاہِ خاص و عام بنا ہوا ہے۔
    اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت حافظ ِ قراٰن، فقہیہ، مفتی، محدث ،مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ دینِ اسلام کے عظیم مبلِّغ بھی تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی تحریروتقریر میں جابجا نیکی کی دعوت پیش کی ہے۔ ایسی ہی 20 حکایات ”اعلیٰ حضرت کی اِنفرادی کوششیں” کے نام سے دعوتِ اسلامی کے عِلمی شعبے کی مجلس المدینۃ العلمیۃ کی طرف سے پیش کی جارہی ہیں ۔ یاد رکھئے کہ ایک کو الگ سے نیکی کی دعوت دینے (یعنی اسے سمجھانے)کو ”اِنفرادی کوشش” کہتے ہیں جبکہ سنّتوں بھرے اجتماع میں بیان کے ذریعے،مسجِد درس،چوک درس وغیرہ کے ذریعے مسلمانوں تک نیکی کی دعوت پہنچانے (یعنی انہیں سمجھانے )کو ”اجتماعی کوشش ”کہتے ہیں۔یقینا نیکی کی دعوت کے کام میں اِنفرادی کوشش کو بڑا عمل دَخل ہے حتّٰی کہ ہمارے میٹھے میٹھے آقا،مدینے
والے مصطَفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نیز سب کے سب اَنبیاءِ کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے نیکی کی دعوت کے کام میں اِنفرادی کوشش فرمائی ہے۔ہمیں بھی چاہے کہ انفرادی کوشِش کے ذَرِیعے خوب خوب نیکی کی دعوت دیتے جائیں اور ثواب کا خزانہ لوٹتے جائیں۔انفرادی کوشش کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت برکاتہم العالیہ کے بیان کے تحریری گلدستے”جنّتی محل” اور مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب”انفرادی کوشش” کا ضرورمطالعہ کیجئے اور عملی طریقہ سیکھنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سفر اختیار کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں”اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش” کرنے کے لئے مَدَنی انعامات پر عمل کرنے اور مَدَنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس المدینۃ العلمیۃکو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے ۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!