اسلامسوانحِ كربلا مصنف صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ القویفضائل

زمین ِکربلا کا خونیں منظر

زمین ِکربلا کا خونیں منظر

قیامت نما حادثہ

سیدا لشہداء حضرت امام حسین اور انکے رفقاء کی عدیم المثال جانبازیاں
ولادت مبارکہ

سیدا لشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت 5 شعبان 4ھ؁کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کانام حسین اور شبیر رکھا اور آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب سبط رسول اللہ اور رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل ہے اور آپ کے برادرِ معظم کی طرح آپ کو بھی جنتی جوانوں کا سردار اور اپنافرزند فرمایا۔(1)
حضور اقدس نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے ساتھ کمال رافت و محبت تھی۔ حدیث شریف میں ا ر شادہوا: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَنْ اَحَبَّھُمَا فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ ۔(2)

”جس نے ان دونوں (حضرت امام حسن وامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی۔ ”
جنتی جوانوں کا سردار فرمانے سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ راہ خدا عزوجل میں اپنی جوانی میں راہ جنت ہوئے حضرت امامین کریمین ان کے سردار ہیں اور جوان کسی شخص

کو بلحاظ اس کے نو عمری کے بھی کہا جاتا ہے اور بلحاظ شفقت بزرگانہ کے بھی، آدمی کی عمر کتنی بھی ہو اس کے بزرگ اس کو جوان بلکہ لڑکا تک کہتے ہیں، شیخ اور بوڑھا نہیں کہتے ہیں اسی طرح بمعنی فُتُوَّت و جوانمردی بھی لفظ ِجوان کا اطلاق ہوتاہے خواہ کوئی شخص بوڑھا ہومگر ہمتِ مردانہ رکھتا ہو وہ اپنی شجاعت وبَسالَت کے لحاظ سے جوان کہلایا جاتا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف اگرچہ وقتِ وصال پچاس سے زائد تھی۔ مگر شجاعت و جوانمردی کے لحاظ سے نیز شفقت پدری کے اقتضاء سے آپ کو جوان فرمایا گیا اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ انبیائے کرام و خلفائے راشدین کے سوا امامین جلیلین تمام اہل جنت کے سردار ہیں کیونکہ جوانا نِ جنت سے تمام اہل جنت مراد ہیں اس لئے کہ جنت میں بوڑھے اور جوان کافر ق نہ ہوگا۔ وہاں سب ہی جوان ہوں گے اور سب کی ایک عمر ہوگی۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں فرزندوں کو اپنا پھول فرمایا۔ ھُمَا رَیْحَانَیْ مِنَ الدُّنْیَا وہ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ (1)(رواہ الترمذی)
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں نونہالوں کو پھول کی طرح سونگھتے او رسینۂ مبارک سے لپٹا تے۔ (2)(رواہ الترمذی )
حضورپرنورسید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی چچی حضرت ام الفضل بنت الحارث

حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ ایک روزحضورانور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ علیک وسلم آج میں نے ایک پریشان خواب دیکھا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا؟عرض کیا: وہ بہت ہی شدیدہے۔ ان کو اس خواب کے بیان کی جرآت نہ ہوتی تھی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مکرردریافت فرمایا تو عرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ جسد اطہر کاایک ٹکڑا کاٹا گیا اور میری گود میں رکھا گیا۔ ارشادفرمایا :تم نے بہت اچھا خواب دیکھا، ان شاء اللہ تعالیٰ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بیٹا ہوگا او ر وہ تمہاری گود میں دیا جائے گا۔
ایساہی ہوا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے اور حضرت ام الفضل کی گود میں دیئے گئے۔ ام الفضل فرماتی ہیں: میں نے ایک روز حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر حضرت اما م حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں دیا،کیا دیکھتی ہوں کہ چشم مبارک سے آنسو ؤں کی لڑیاں جاری ہیں۔ میں نے عرض کیا: یانبی اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ حضو رپر قربان! یہ کیا حال ہے ؟ فرمایا:جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ خبر فرمائی کہ میری امت اس فرزند کو قتل کرے گی۔ میں نے کہا: کیااس کو؟ فرمایا:ہاں اور میرے پاس ا س کے مقتل کی سرخ مٹی بھی لائے۔(1) (رواہ البیہقی فی الدلائل )

1۔۔۔۔۔۔اسد الغابۃ، باب الحاء والحسین،۱۱۷۳۔الحسین بن علی،ص۲۵،۲۶ملتقطاً
وسیر اعلام النبلاء،۲۷۰۔الحسین الشہید…الخ،ج۴،ص۴۰۲۔۴۰۴
2۔۔۔۔۔۔المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ،باب رکوب الحسن…الخ،الحدیث:۴۸۳۰،
ج۴،ص۱۵۶

1۔۔۔۔۔۔الصواعق المحرقۃ،الباب الحادی عشر،الفصل الثالث، ص۱۹۳
وصحیح مسلم،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا،باب فی دوام نعیم اھل الجنۃ…الخ،
الحدیث:۲۸۳۷،ص۱۵۲۱ماخوذاً
ومشکاۃ المصابیح،کتاب المناقب،باب مناقب اہل البیت…الخ،الحدیث:۶۱۴۵،
ج۲،ص۴۳۷
2۔۔۔۔۔۔سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی محمد الحسن بن علی…الخ،
الحدیث:۳۷۹۷،ج۵،ص۴۲۸

1۔۔۔۔۔۔دلائل النبوۃ للبیہقی،جماع ابواب اخبار النبی…الخ،باب ما روی فی اخبارہ…الخ،
ج۶،ص۴۶۸
والمستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ،باب اول فضائل ابی عبد اللہ الحسین
بن علی…الخ،الحدیث:۴۸۷۱،ج۴،ص۱۷۱

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
error: Content is protected !!