ہجرت کا تیسرا سال

ہجرت کا تیسرا سال

نصف محرم کو ’’ غزوۂ قَرْقَرَۃُ الْکُدْر ‘‘ اور رَبیع الاوَّل میں غزوۂ اَنمار یا غَطَفَان اور جُمَادَی الا ُولیٰ میں غزوۂ بنی سُلَیم وُقوع میں آیا۔ ان میں سے کسی میں مقابلہ نہیں ہوا۔ غزوۂ اَنمار میں دُعْثُوْرغَطَفَانی اسلام لایا۔ ماہ ربیع الاوَّل میں کعب بن اشرف یہودی شاعر جو اسلام کی ہَجوکیا کرتا تھا حضرت محمد بن مَسلَمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ ماہ ِجُمَادَی الاخریٰ میں ابو رافع سلاَّم بن ابی الحُقَیق یہودی جو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اذیت دیا کرتا تھا حضرت عبد اللّٰہ بن عَتِیک اَنصاری خَزْرَجی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ سے مارا گیا۔ (1)

Advertisement

غزوۂ احد

ماہِ شوال میں غزوۂ اُحُد (2) وقوع میں آیا۔ جب قریش بَدْر میں شِکَسْتِ فاش کھا کر مکہ میں آئے تو ابو سفیان کے قافلے کا تمام مال دار ا لنَدْوَہ میں رکھا ہوا پایا۔ عبداللّٰہ بن اُبی رَبیعہ اور عِکْرَمَہ بن اَبی جہل اور صفوان بن اُمَیَّہ وغیرہ روسائے قریش جن کے باپ بھائی اور بیٹے جنگ بَدْر میں قتل ہوئے تھے، ابو سفیان اور دیگر شرکاء کے پاس آکر کہنے لگے کہ اپنے مال کے نفع سے مدد کرو تاکہ ہم ایک لشکر تیار کریں اور (حضرت) محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے بدلہ لیں ۔ سب نے بخوشی منظور کیا چنانچہ تمام مال فروخت کردیا گیااور حسب قَرا رْدَاد ْ رَأس المال (3) مالکوں کو دیا گیااور نفع تجہیز لشکر (4) میں کام آیا۔ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ (۳۶) (انفال: ع۴)
جو لوگ کافر ہیں خرچ کرتے ہیں اپنے مال تاکہ روکیں اللّٰہ کی راہ سے سوا بھی اور خرچ کریں گے پھر آخر ہوگا ان پر پچھتاؤ پھر آخر مغلوب ہوں گے اور جو کافر ہیں دوزخ کو ہانکے جائیں گے۔ (5)
قریش نے بڑی سرگرمی سے تیاری کی اور قبائل عرب کو بھی دعوت جنگ دی۔ مردوں کے ساتھ عورتوں کی ایک جماعت بھی شامل ہوئی تاکہ ان کو مقتولین بَدْر کی یاد دلا کر لڑائی پر ابھارتی رہیں چنانچہ ابو سفیان کی زوجہ ہند بنت عُتْبہ، عِکرَمہ بن ابو جہل کی زوجہ اُم حَکِیم بنت حارِث بن ہِشام، حارث بن ہِشام بن مُغَیرہ کی زوجہ فاطمہ بنت وَلید بن مُغیرہ، صفوان بن اُمَیَّہ کی زوجہ بَرزَہ بنت مسعود ثَقَفِیَہ، عَمروبن عاص کی زوجہ ریطہ بنت منبہ سہمیہ، (1) طلحہ حَجَبِی کی زوجہ سُلافہ بنت سعد اپنے اپنے شوہروں سمیت نکلیں ۔ اسی طرح خناس بنت مالک اپنے بیٹے ابو عزیز بن عمیر کے ساتھ نکلی۔ کل جمعیت تین ہزار تھی جن میں سات سو زِرَہ پوش تھے ان کے ساتھ دو سو گھوڑے تین ہزار اونٹ اور پندرہ عورتیں تھیں ۔ جُبَیر بن مُطْعِم نے اپنے حبشی غلام وحشی نام کو بھی یہ کہہ کر بھیج دیا کہ اگر تم محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے چچا حمزہ کو میرے چچا طُعَیْمَہ بن عدی کے بدلے قتل کردو تو میں تم کو آزاد کردوں گا۔
یہ لشکر ِقریش بسر کردگی ابو سفیان (2) مدینہ کی طرف روانہ ہوا، اور مدینہ کے مقابل احد کی طرف بطن وادی میں اترا۔ حضرت عباس بن عبدالمُطَّلِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواَب تک مکہ میں تھے بذریعہ خط آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو قریش کی تیاری کی خبر دی۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت انس ومونس پسر انِ فضالہ بن عدی انصاری کو بطور جاسوس بھیجا۔ وہ خبر لائے اور کہنے لگے کہ مشرکین نے اپنے اونٹ اور گھوڑے عَرِیض (3) میں چھوڑ دیئے ہیں جنہوں نے چرا گاہ میں سبزی کا نام و نشان نہیں چھوڑا پھر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت حُباب بن مُنْذِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بھی بغرضِ تجسس بھیجا وہ لشکر کی تعداد وغیرہ کی خبر لائے۔ جمعہ کی رات (۱۴ شوال) کو حضرت سعد بن معاذ اور اُسید بن حُضَیر اور سعد بن عُبَادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ایک جماعت کے ساتھ مسلح ہو کر حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دولت خانے پر پہرہ دیتے رہے اور شہر پر بھی پہرہ لگا رہا۔ اسی رات حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خواب میں دیکھا کہ گویا آپ مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہیں ، آپ کی تلوار ’’ ذوالفقار ‘‘ ایک طرف سے ٹوٹ گئی ہے، ایک گائے پر نظر پڑی جو ذبح کی جارہی ہے اور آپ کے پیچھے ایک مینڈھا سوار ہے۔ صبح کو آپ نے یہ تعبیر بیان فرمائی

کہ مضبوط زرہ مدینہ ہے۔ تلوار (1) کی شِکَستگی ذات شریف پر مصیبت ہے۔ گائے آپ کے وہ اصحاب ہیں جو شہید ہوں گے اور مینڈھا ’’ کَبْش (2) الْکَتِیبَہ ‘‘ ہے جسے اللّٰہ تعالٰی قتل کرے گا۔ اس خواب کے سبب سے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رائے تھی کہ لڑائی کے لئے مدینہ سے باہر نہ نکلیں ۔ عبداللّٰہ بن اُبی کی بھی یہی رائے تھی۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا تو اکابر مہاجرین و انصار بھی آپ سے متفق ہوگئے مگر وہ نوجوان جو جنگ بَدْر میں شامل نہ تھے آپ سے درخواست کرنے لگے کہ مدینہ سے نکل کر لڑنا چاہیے ان کے اصرار پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نکلنے کی طرف مائل ہوئے نماز جمعہ کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وعظ فرمایا، اہل مدینہ و اہل عوالی جمع ہوگئے۔ آپ دولت خانہ میں تشریف لے گئے اور دوہری زِرہ پہن کر نکلے یہ دیکھ کر وہ نوجوان کہنے لگے کہ ہمیں زیبا نہیں کہ آپ کی رائے کے خلاف کریں اس پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ ’’ پیغمبر خدا کو شایاں نہیں کہ جب وہ زِرَہ پہن لے تو اسے اتار دے یہاں تک کہ اللّٰہ تعالٰی اس کے اور دشمن کے درمیان فیصلہ کردے اب جو میں حکم دوں وہی کرو اور خدا کا نام لے کر چلو اگر تم صبر کروگے تو فتح تمہاری ہوگی۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین جھنڈے تیار کیے۔ اَوس کا جھنڈا حضرت اُسید بن حضیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اور خزرج کا جھنڈا حضرت حُباب بن مُنذِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اور مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی ابن ابی طالب کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو عطا فرمایا اس طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک ہزار کی جمعیت کے ساتھ نکلے جن میں سے ایک سو نے دوہری زِرَہ پہنی ہوئی تھی۔ حضرت سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا زرہ پہنے ہوئے آپ کے آگے چل رہے تھے جب آپ ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع کے قریب پہنچے تو ایک فوج نظر آئی آپ کے دریافت فرمانے پر صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا کہ یہ یہود میں سے ابن اُبی کے حلیف ہیں جو آپ کی مدد کو آئے ہیں آپ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ لوٹ جائیں کیونکہ ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد نہیں لیتے۔ جب آپ موضع شَیْخَان (3) میں اترے تو عرضِ لشکر کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بعض صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو بوجہ صغر سنی (4) واپس کردیا۔ چنانچہ اُسامہ بن زید، ابن عمر،

زید بن ثابت، براء بن عازب، عمروبن حزم، اُسید بن ظُہَیر انصاری، ابو سعید خُدری، عَرَابہ بن اَوس، زید بن ارقم، سعد بن عُقَیب، سعد بن حَبْتَہ، زید بن جاریہ انصاری اور جابر بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم واپس ہوئے۔ حضرت سَمُرَہ بن جندب اور رافع بن خَدِیج رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جو پندرہ پندرہ سال کے تھے پہلے روک دیئے گئے پھر عرض کیا گیا کہ یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رافع اچھا تیر انداز ہے اس لئے وہ بھی رکھ لئے گئے پھر سَمُرَہ کی نسبت کہا گیا کہ وہ کشتی میں رافع کو پچھاڑدیتے ہیں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ دونوں کشتی لڑیں چنانچہ سمرہ نے رافع کو پچھاڑ دیا، اس طرح حضرت سمرہ بھی رکھ لئے گئے۔ رات یہیں بسر ہوئی دوسرے روز باغ شَوط میں جو مدینہ اور اُحُد کے درمیان ہے فجر کے وقت پہنچے اور نماز باجماعت ادا کی گئی اسی جگہ ابن اُبی اپنے تین سو آدمی لے کر لشکر اسلام سے علیحدہ ہوگیا اور یہ کہہ کر مدینہ کو چلا آیا کہ ’’ حضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کا کہا مانا میرا کہا نہ مانا، پھر ہم کس لئے یہاں جان دیں ۔ ‘‘ جب یہ منافقین واپس ہوئے توصحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ایک گروہ نے کہاکہ ہم ان سے قتال کرتے ہیں اور دوسرے گروہ نے کہا کہ ہم قتال نہیں کرتے کیونکہ یہ مسلمان ہیں اس پر آیت نازل ہوئی:
فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْاؕ-اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا (۸۸) (نساء، ع۱۲)
پس کیا ہے واسطے تمہارے بیچ منافقوں کے دو فرقے ہو رہے ہو اور اللّٰہ نے الٹا کیا ان کو بسبب اس چیز کے کہ کمایا انہوں نے ۔ کیا ارادہ کرتے ہو تم یہ کہ راہ پر لاؤ جس کو گمراہ کیا اللّٰہ نے ؟ اور جس کو گمراہ کرے اللّٰہ پس ہر گز نہ پاوے گا تو واسطے اس کے راہ۔ (1)
ابن اُبی کا قول سن کر خزرج میں سے بنو سلمہ اور اوس میں سے بنو حارثہ نے دل میں لوٹنے کی ٹھہرائی مگر اللّٰہ تعالٰی نے ان کو بچالیا چنانچہ قرآن کریم میں ہے:
اِذْ هَمَّتْ طَّآىٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَاۙ-وَ اللّٰهُ
جب قصد کیا دو فریقوں نے تم میں سے یہ کہ نامردی کریں اور

وَلِیُّهُمَاؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (۱۲۲) (آلِ عمران: ۱۳) دوستدار تھا ان کا اللّٰہاور اوپر اللّٰہ کے پس چاہیے کہ توکل کریں ایمان والے۔ (1)
اب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ سات سو آدمی اور دو گھوڑے رہ گئے۔ آپ نے ابو خَیْثمہ انصاری کو بطورِ بدرَقَہ (2) ساتھ لیا تاکہ نزدیک کے راستے سے لے چلے۔ اس طرح حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حرہ بنی حارثہ اور ان کے اموال کے پاس سے گز رتے ہوئے مِرْبَع بن قَیْظِی منافق کے باغ کے پاس پہنچے وہ نا بینا تھا۔ اس نے جب لشکر اسلام کی آہٹ سنی تو ان پر خاک پھینکنے لگا اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کہنے لگا کہ اگر تو اللّٰہ کا رسول ہے تو میں تجھے اپنے باغ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔یہ سن کر صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اسے قتل کرنے دوڑے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرو یہ آنکھ کا اند ھا دل کا بھی اند ھا ہے۔ مگر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے منع کر نے سے پہلے ہی سعد بن زید اَشْہَلی نے اس پر کمان ماری اور سر توڑ دیا۔ یہاں سے روانہ ہو کر لشکر اسلام نصف شوال یوم شنبہ (3) کو کوہِ احد کی شعب (درہ ) میں کَرانہ وادی (4) میں پہاڑ کی طرف اُترا۔ (5) حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صف آرائی کے لئے پہاڑ کو پس پشت اور کوہ عینَین کو جوواد یٔ قَنات میں ہے اپنی بائیں طرف رکھا۔ کوہِ عَینَین میں ایک شگاف یا درہ تھاجس میں سے دشمن عَقْب سے مسلمانوں پر حملہ آور ہو سکتا تھا۔ اس لئے آپ نے اس دَرَّے پر اپنے پچاس پیدل تیراَنداز مقرر کیے اور حضرت عبداللّٰہ بن جُبَیر کو ان کا سردار بنا یا اور یوں ہدایت کی: ’’ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہم کو اُچک لے گئے ہیں تو اپنی جگہ کو نہ چھوڑ و یہاں تک کہ میں تمہارے پاس کسی کو بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے دشمن کو شکست دی ہے اور مار کر پامال کر دیا ہے تو بھی ایسا ہی کر نا۔ ‘‘ (6)
مشرکین نے بھی جو عینَین میں وادیٔ قنات کے مدینہ کی طرف کے کنارے پر شور ستان میں اتر ے ہو ئے تھے،
صفیں آراستہ کیں چنانچہ انہوں نے سواروں کے مَیْمَنہ پر خالد بن وَلید کو، مَیْسَرہ پر عِکرَمہ بن ابی جہل کو، پیدلوں پر صفوان بن اُمَیَّہ کو اور تیر اندازوں پر جو تعداد میں ایک سو تھے، عبداللّٰہ بن ابی رَبیعہ کو مقرر کیا اور جھنڈ اطلحہ بن ابی طلحہ کو دیا۔ جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیکھاکہ مشرکین کا جھنڈا بنو عبد الدار کے پاس ہے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لشکر اسلام کا جھنڈا حضرت مُصْعَب بن عمیر بن ہاشم بن عبد مناف بن عبدالدار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیا اور میمنہ پر حضرت زبیر بن عوام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور میسرہ پر حضرت منذر بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مقرر فرمایا۔
مشرکین میں سب سے پہلے جو لڑائی کے لئے نکلاوہ ابو عامر انصاری اَوسی تھا۔ اس کو راہب کہا کر تے تھے مگر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کا نام فاسق رکھا۔ زمانہ جاہلیت میں وہ قبیلۂ اَوس کا سر دار تھا۔جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہجرت فرماکر مدینہ میں تشریف لے گئے تو وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مخالفت کر نے لگا اور مدینہ سے نکل کر مکہ میں چلا آیا۔ اس نے قریش کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے لڑنے پر آمادہ کیا اور کہا کہ میری قوم جب مجھے دیکھے گی تو میرے ساتھ ہو جائے گی۔ اس لئے اس نے پکار کر کہا: ’’ اے گروہِ اَوس! میں ابو عامر ہوں ۔ ‘‘ اوس نے جواب دیا: ’’ اے فاسق! تیری مراد پوری نہ ہو۔ ‘‘ فاسق کا نام سن کر کہنے لگاکہ میری قوم میرے بعد بگڑ گئی ہے۔ اس کے ساتھ غلامان قریش کی ایک جماعت تھی وہ مسلمانوں پر تیر پھینکنے لگے۔ مسلمان بھی ان پر سنگباری کر نے لگے یہاں تک کہ ابو عامر اور اس کے ساتھی بھاگ گئے۔ (1)
مشرکین کا علم بر دار طلحہ صف سے نکل کر پکارا: ’’ مسلمانو! تم سمجھتے ہو کہ ہم میں سے جو تمہارے ہاتھوں مر جاتا ہے وہ جلددوزخ میں پہنچ جا تا ہے اور تم میں جو ہمارے ہاتھوں مرجاتا ہے وہ جلد بہشت میں پہنچ جا تا ہے۔ کیا تم میں کوئی ہے جس کو میں جلد بہشت میں پہنچا دوں یا وہ مجھے جلد دوزخ میں پہنچا دے۔ ‘‘ حضرت علی ابن ابی طالب کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نکلے اور طلحہ کے سر پرایسی تلوارماری کہ کھوپڑی پھاڑ دی اور وہ گر پڑا۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کَبْشالْکَتِیبَہ کے مارے جانے پر خوش ہوئے آپ نے تکبیر کہی۔ مسلمانوں نے بھی آپ کا اقتداء کیا۔ طلحہ کے بعد اس کے بھائی عثمان بن ابی طلحہ نے جھنڈا ہاتھ میں لیا۔ اس کے پیچھے عورتیں اشعار پڑھتی آتی تھیں اور وہ ان کے آگے یہ
رجز پڑھتا تھا :
اِنَّ عَلٰی اَھْلِ اللِّوَآئِ حَقَّا اَنْ تُخْضَبَ الصَّعْدَۃُ اَوْ تَنْدَقًا
بیشک علم برداروں پر واجب ہے کہ نیزہ خون سے سر خ ہو جائے یا ٹوٹ جائے۔
حضرت حمزہ بن عبد المُطَّلِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مقابلے کے لئے نکلے اور عثمان کے دو شانوں کے درمیان اس زور سے تلوار ماری کہ ایک بازو اور شانے کوکاٹ کر سرین تک جاپہنچی۔ حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ واپس آئے اور زبان پر یہ الفاظ تھے : اَنَا ابْنُ سَاقِی الحَجِیْج۔ (1) میں ساقی حجاج (2) (عبدالمُطَّلِب ) کا بیٹا ہوں ۔
اب میدان کارزار گرم ہوا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک میں ایک تلوار تھی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کون ہے جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کر ے۔ یہ سن کر کئی شخص آپ کی طرف بڑھے مگر آپ نے وہ تلوار کسی کو نہ دی۔ ابو دُجانہ (سِمَاک بن خَرَشہ انصاری ) نے اٹھ کر عرض کیا: یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کا حق کیا ہے؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس کا حق یہ ہے کہ تو اس کو دشمن پر مارے یہاں تک کہ ٹیڑھی ہوجائے۔ ابودُجانہ نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابو دُجانہ کو عنایت فرمائی۔ ابو دُجانہ مشہور پہلوان تھے اور لڑائی میں اَکڑ کر چلا کر تے تھے۔ جب سر خ رومال سر پر باندھ لیتے تو لوگ سمجھ جا تے تھے کہ لڑیں گے۔ انہوں نے تلوار لے کر حسب عادت سر پر سرخ رومال باندھا اور اَکڑتے تَنتے نکلے یہ دیکھ کر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ ’’ یہ چال خدا عَزَّوَجَلَّ کو ناپسند ہے۔ ‘‘ (3) حضرت ابو دُجانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ صفوں کو چیرتے اور لاشوں پر لاشیں گراتے دامن کو ہ (4) میں مشرکین کی عورتوں تک جا پہنچے جو بغرضِ ترغیب دف پر اشعار ذیل گا رہی تھیں : ؎

نحن بنات طارق
نمشی علی النمارق
ان تقبلوا نعانق
او تدبروا نفارق
ہم (علووشرف میں ) پروین ستارے ہیں ۔ ہم قالینوں پر چلنے والیاں ہیں اگر تم آگے بڑھو گے تو ہم تم سے گلے ملیں گی پیچھے ہٹو گے تو ہم تم سے جدا ہو جائیں گی۔
حضرت ابو دجانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تلوار اٹھا ئی کہ ہند بنت عتبہ کے سر پر ماریں پھر بدیں خیال رک گئے کہ یہ سزاوار نہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تلوار ایک عورت پر ماری جائے۔ (1)
حضرت ابو دجانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرح حضرت حمزہ و حضرت علی وغیرہ بھی دشمنوں میں جا گھسے اور صفوں کی صفیں صاف کردیں ۔ حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو آخر کار وَحْشی نے جو بعد میں ایمان لا ئے، شہید کر دیا۔ وحشی اپنا قصہ یوں بیان کر تے ہیں : ’’ حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے طُعَیْمَہ بن عَدی بن الخِیار کو بَدْر میں قتل کر دیا تھا اس لئے میرے آقا جبیر بن مطعم نے کہا: اگر تو ـحمزہ کو میرے چچا کے بدلے قتل کر دے تو آزاد ہو جائے گا۔ جب سال عینَین میں (عینین احد کے مقابل ایک پہاڑ ہے اور دونوں کے درمیان ایک وادی ہے) لوگ نکلے تو میں لوگوں کے ساتھ لڑائی کے لئے نکلا جب لڑائی کے لئے صف بستہ ہوئے تو سِباع (بن عبد العُزّٰی) نکلا اور کہا کیا کوئی مُبارِزہے؟ یہ سن کر حمزہ بن عبدالمُطَّلِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس کی طرف نکلے اور یوں خطاب کیا: اے سِباع ! اے عورتوں کے ختنہ کرنے والی ام اَنمار (2) کے بیٹے! کیا تو خدا اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ جنگ کر تا ہے! ! یہ کہہ کر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس پر حملہ کیا پس وہ کل گز شتہ کی طرح ہو گیا۔ (3) میں ایک پتھر کے نیچے حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تا ک میں تھا جب حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مجھ سے نزدیک ہوا میں نے اپنا حربہ (4) اس پر مارا وہ اس کی ناف وعانہ (5) کے درمیان لگا۔ یہاں تک

کہ اس کی دو ر انوں میں سے نکل گیا اور یہ اس کا آخرامر (1) تھا۔ جب لوگ واپس آئے میں ان کے ساتھ واپس آیااور مکہ میں ٹھہرا یہاں تک کہ اس میں اسلام پھیل گیا پھر (فتح کے بعد ) طائف کی طرف بھاگ گیا جب اہل طائف نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف اپنے قاصدبھیجے تو مجھ سے کہا گیا کہ حضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قاصدوں کو تکلیف نہیں دیتے۔ اس لئے میں قاصدوں کے ساتھ نکلا اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب آ پ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے دیکھا تو پوچھا: کیا تو وحشی ہے؟ میں نے کہا: ہاں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا: کیا تو نے حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو قتل کیا؟ میں نے کہا: ایسا ہی وقوع میں آیا ہے جیسا کہ آپ کو خبر پہنچی ہے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تو میرے سامنے نہ آیا کر، پس میں چلا گیا۔ جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہوا تو مُسَیْلمہ کذاب ظاہر ہوا میں نے کہا کہ میں مسیلمہ کی طرف ضرور نکلوں گا شاید میں اسے مار ڈالوں اور اس طرح سے قتل حمزہ کی مکافات (2) کر دوں اس لئے میں لوگوں کے ساتھ نکلا مسیلمہ کا حال ہوا جو ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک شخص ہے دیوار کے درمیان کھڑا ہوا۔ گو یا کہ وہ ایک ژَوْلِیْدَہ مو (3) خاکستری (4) اونٹ ہے۔ میں نے اس پر اپنا حربہ (5) مار اجو اس کے دو پستان کے درمیان لگا یہاں تک کہ اس کے دونوں شانوں کے درمیان سے پار ہو گیا۔ انصار میں سے ایک شخص اس کی طرف کودا اور اس کے سر پر تلوار ماری پس ایک لونڈی نے گھر کی چھت پر (نوحہ کر تے ہوئے ) کہا : ’’ وائے امیر المؤمنین! (6) اسے ایک حبشی غلام وحشی نے قتل کر دیا ‘‘ ۔ (7)
حضرت حنظلہ بن ابی عامر انصاری اَوسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مشرکین کے سپہ سالا رابو سفیان پر حملہ کیا اور قریب تھا کہ ابو سفیان کو قتل کر دیتے مگر شدَّاد بن الا سود نے ان کے وار کو روک لیااور اپنی تلوار سے حضرت حنظلہ رَضِیَ

اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو شہید کر دیا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ فرشتے حنظلہ کو غسل دے رہے ہیں ۔ ان کی بیوی سے ان کا حال دریافت کرو۔ بیوی نے کہاکہ شب اُحُد کو ان کی شادی ہوئی تھی۔ صبح کو اٹھے تو غسل کی حاجت تھی غسل کے لئے آدھا سر دھویا تھا کہ دعوت جنگ کی آواز کان میں پڑی۔ فوراً اسی حالت میں وہ شریک جنگ ہو گئے۔ یہ سن کر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ اسی سبب سے اسے فرشتے غسل دے رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے حضرت حنظلہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو غَسِیْل الملائکہ (1) کہتے ہیں ۔ (2)
بہادر ان اسلام نے خوب دادِ شجاعت دی۔ (3) مشرکین کے پاؤں اکھڑ گئے۔ عثمان بن ابی طلحہ کے بعد ان کے علمبر دار ابو سعید بن ابی طلحہ، مُسَافِع بن طلحہ، حارِث بن طلحہ، کِلاب بن طلحہ، جُلَّاس بن طلحہ، اَرْطات بن شُرَحْبِیْل، شُریح بن قارِظ اور ابو زید بن عمرو بن عبد مناف یکے بعد دیگرے قتل ہو گئے۔ ان کا جھنڈا زمین پر پڑا رہ گیا کوئی اس کے نزدیک نہ آتا تھا، عَمْرہ بنت عَلقَمہ حارِثِیَّہ نے اٹھا لیا ، جس سے ایک حبشی غلام صُواَب نام نے لے لیا۔ قریش اس کے گرد جمع ہو گئے، لڑ تے لڑ تے صُو اب کے دونوں با زو کٹ گئے وہ سینے کے بل زمین پر گر پڑا اور جھنڈے کو سینے اور گر دن کے درمیان دبا لیا اس حالت میں یہ کہتا ہواما را گیا کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ (4)
صو اب کے بعد کسی کو جھنڈا اٹھا نے کی جرأت نہ ہوئی۔ مشرکین کو شکست ہوئی۔ وہ عورتیں جو دف بجاتی تھیں اب کپڑے چڑھا ئے بر ہنہ ساق پہاڑ پر بھاگی جارہی تھیں ۔ مسلمان قتل وغارت میں مشغول تھے۔ یہ دیکھ کر عینَین پر تیر اَندازوں نے آپس میں کہا: ’’ غنیمت! غنیمت! تمہارے اصحاب غالب آگئے ہیں ۔اب تم کیا دیکھتے ہو۔ ‘‘ حضرت عبداللّٰہ بن جبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد یاددلایا مگر وہ بدیں خیال کہ مشرکین اب واپس نہیں آسکتے اپنی جگہ چھوڑ کر لوٹنے میں مشغول ہو گئے اور صرف چند آدمی حضرت عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی

عَنْہُ کے ساتھ رہ گئے۔ خالد بن وَلید اور عِکرَمہ بن اَبی جہل نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر حضرت عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کیا اور سب کو شہید کر دیا۔ پھر درّۂ کو ہ میں سے آکر عقب سے لشکر اسلام پر ٹوٹ پڑے اور ان کی صفوں کو در ہم بر ہم کر دیا۔ ابلیس لعین نے پکار کر کہا: ان محمد ا قد قتل (محمد قتل ہوچکے ) مسلمان سراسیمہ (1) بھاگنے لگے اور ان کے تین فر قے ہوگئے۔ فرقہ قلیل بھاگ کر مدینے کے قریب پہنچ گئے اور اختتام (2) جنگ تک واپس نہیں آئے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہو ئی ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِۙ-اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْاۚ-وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ (۱۵۵) (آلِ عمران، ع۱۶)
تحقیق جو لوگ کہ پیٹھ مو ڑ گئے تم میں سے اس دن کہ ملیں دو جماعتیں ۔ سوائے اس کے نہیں کہ ڈگا دیا ان کو شیطان نے کچھ ان کے گناہوں کی شامت سے اور تحقیق معاف کیا اللّٰہ نے ان سے بیشک اللّٰہ بخشنے والا بردبار ہے۔ (3)
دوسرا فرقہ یعنی اکثرصحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمیہ سن کر کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قتل ہو گئے، حیر ان ہو گئے۔ ان میں سے جہاں کو ئی تھا وہیں رہ گیا اور اپنی جان بچا تا رہا یا جنگ کر تا رہا۔ تیسرا فرقہ جو بار ہ یا کچھ اوپر صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم تھے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ثابت رہا۔
فتح کے بعد مسلمانوں کو جو شکست ہو ئی اس کی وجہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ارشاد کی خلاف ورزی تھی جیسا کہ آیا ت ذیل سے ثابت ہے :
وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ
فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَؕ-مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ
اور البتہ تحقیق سچا کیا ہے تم سے اللّٰہ نے وعدہ اپنا جس وقت کاٹتے تھے تم ان کو اسکے حکم سے یہاں تک کہ جب نامردی کی تم نے اور جھگڑ اکیا تم نے اپنے کا م میں اور نافر مانی کی تم نے بعد اسکے کہ

مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَۚ-ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْۚ-وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْؕ-وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ (۱۵۲) اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (۱۵۳) (آل عمران، ع۱۶)
دکھلا یا تم کو جو چاہتے تھے تم، بعض تم میں سے وہ تھا کہ ارا دہ کر تا تھا دنیا کااور بعض تم میں سے وہ تھا کہ ارادہ کرتا تھا آخرت کا، پھر پھیر دیا تم کو ان سے تاکہ آزما وے تم کو اور البتہ تحقیق معاف کیا تم سے اور اللّٰہ صاحب فضل کا ہے ایمان والوں پر جس وقت چڑ ھے جاتے تھے تم شہر کو اور پیچھے نہ دیکھتے تھے کسی کو اور رسول پکار تا تھا تم کو پچھاڑی میں پس دوبارہ دیا تم کو غم ساتھ غم کے تاکہ تم غم نہ کھاؤاس چیز کا جو چوک گئی تم سے اور جو نہ پہنچی تم کو اور اللّٰہ کو خبر ہے اس چیز کی کہ کرتے ہو تم۔ (1)
خالد بن ولید کے حملے پر مسلمانوں میں جو لوٹنے میں مشغول تھے ایسی ابتری و سرا سیمگی ( ) پھیلی کہ اپنے بیگانے میں تمیز نہ رہی۔ چنانچہ حضرت حُذَیفہ کے والد حضرت یَمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو مسلمانوں ہی نے شہید کردیا۔
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہادت کی آواز نے بڑے بڑے بہادروں کو بد حواس کر رکھا تھا۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میرے چچا حضرت اَ نَس بن نَضْررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنگ بَدْر میں حاضر نہ تھے۔ وہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کر نے لگے: یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں پہلے قتال میں کہ آپ نے بذات شریف مشرکین سے کیا ہے حاضر نہ تھا۔ اگر خدا مجھے

مشرکین کے قتال میں حاضر کر ے تو دیکھئے گاکہ میں کیا کر تا ہوں ۔ جب احد کا دن آیا اور مسلمانوں نے شکست کھا ئی تو کہا: یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں عذر چاہتا ہوں تیرے آگے اس سے جوا ن لوگوں نے کیا یعنی اصحاب کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے اور بیزار ہوں تیرے آگے اس سے جو ان لوگوں نے کیا یعنی مشرکوں نے۔ پھر لڑائی کے لئے آئے۔ حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُان کو ملے، ابن نَضْر نے کہا: سعد! میں بہشت چاہتا ہوں اور نضر کے رب کی قسم کہ میں احد کی طرف سے اس کی خو شبو پاتا ہوں ۔ سعد نے کہا: یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں نہ کرسکا جو ابن نضر نے کیا۔ انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ ہم نے ابن نَضْرپر اَسی80 سے کچھ اوپر تلوارو نیزہ وتیر کے زخم پائے اور وہ شہید تھے، مشرکین نے ان کو مُثلہ کردیا تھا، ان کو فقط ان کی بہن نے انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ راوی کا بیان ہے کہ ہم گمان کر تے تھے کہ آیت ذیل ابن نَضْر اور اس کی مثل دوسروں کے حق میں نازل (1 ) ہوئی ہے:
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ (۲۳) (2 ) (احزاب، ع۳) مسلمانوں میں سے وہ مر دہیں کہ سچ کر دکھا یا انہوں نے اس چیز کو کہ عہد با ند ھا تھا اللّٰہ سے اس پر۔پس بعض ان میں سے وہ ہے کہ پورا کر چکا کام اپنا اور بعض ان میں سے وہ ہے کہ انتظار کر تا ہے اور نہیں بدل ڈالا انہوں نے کچھ بدل ڈالنا۔ (3 )
ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن نَضْررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے راستے میں مہا جرین وانصار کی ایک جماعت کو دیکھاجس میں حضرت عمر فاروق وطلحہ بن عبید اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی تھے وہ ما یوس ہو کر بیٹھ رہے تھے۔ ابن نضر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے پوچھاکہ کیوں بیٹھ رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شہادت پاچکے ہیں ۔ ابن نضررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد تم زندہ رہ کر کیا کرو گے، تم بھی اسی طرح دین پر شہید ہو جاؤ۔ پھر ابن نضر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جنگ کیا اور شہید (4 ) ہو

گئے۔ (1 )
حضرت ابن نضر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرح ثابت بن دَحْدَاح آئے اور انصار سے یوں خطاب کیا: ’’ اے گروہِ انصار! اگر حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شہید ہو چکے تو اللّٰہ تو زندہ ہے مر تا نہیں ، تم اپنے دین کے لئے لڑو۔ ‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے چند انصار کے ساتھ خالد بن ولید کی فوج پر حملہ کیا مگر خالد بن ولید نے ان کو شہید (2 ) کر دیا۔ (3 )
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قتل کی افواہ اور مسلمانوں کی نظر وں سے غائب ہو نے کے بعد سب سے پہلے حضرت کعب بن مالک انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پہچانا، سر مبارک پر مِغْفَر (4 ) تھا جس کے نیچے سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھیں چمک رہی تھیں ۔ حضرت کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے زور سے پکار کر کہا: ’’ مسلمانو! تم کو بشارت ہو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ ہیں ۔ ‘‘ یہ سن کر ایک جماعت حاضر خدمت ہو ئی اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت ابوبکر صدیق، عمر فاروق، علی المرتضیٰ، طلحہ بن عبید اللّٰہ، زبیر بن العوام اور حارث بن صَمَّہ وغیرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ساتھ شعب (5 ) کی طرف متوجہ ہو ئے تاکہ اپنے باقی اصحاب کا حال دیکھیں ۔ اب کفار نے بھی سب طرف سے ہٹ کر اسی رخ پر زوردیا۔ وہ بار بار ہجوم کر کے حملہ آور ہو تے تھے۔ ایک دفعہ ہجوم ہو اتو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ کون مجھ پر جان دیتا ہے ‘‘ حضرت زِیاد بن سَکَن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پانچ یا سات انصاری ساتھ لے کر حاضر ہوئے جنہوں نے یکے بعد دیگر ے جانبازی سے لڑکر جانیں فدا کر دیں ۔ عُتْبَہ بن ابی وَقَّاص نے پتھر مار کر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دانت مبارک (رباعیہ یمنٰی سفلٰی) شہید کر دیا (6) اور نیچے کا ہو نٹ زخمی کردیا۔ ابن قَمِئَہ لعین نے چہر ۂ مبارک ایسا زخمی کیاکہ خَود کے دو حلقے رخسار

مبارک میں گھس گئے اور آپ ان گڑ ھوں میں سے ایک گڑھے میں گر پڑے جو ابو عامر فاسق نے بدیں غرض (1 ) کھودے تھے کہ مسلمان بے علمی میں ان میں گرپڑ یں ۔ اس حالت میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرما رہے تھے: کیف یفلح قوم شجوا نبیھم (وہ قوم کیا فلاح پا سکتی ہے جس نے اپنے پیغمبر کو زخمی کر دیا۔عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ (۱۲۸) (آلِ عمران، ع۱۳)
تیر ااختیار کچھ نہیں یاان کو تو بہ دیو ے یا ان کو عذاب کرے کہ وہ ناحق پر ہیں ۔ (2 )
حضرت علی مرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہا تھ مبارک پکڑا اور حضرت طلحہ بن عبید اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اٹھایایہاں تک کہ آپ سید ھے کھڑے ہو گئے۔ حضرت ابو عبید ہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے دانتوں سے خود کا ایک حلقہ نکالا تو ان کا ایک سامنے کا دانت گر پڑا دوسرا حلقہ نکالا تو دوسرانکل گیا۔ حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے والد مالک بن سِنان نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خون چوس کر پی لیا۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود بھی کپڑے سے اپنے چہرے کا خون پونچھ رہے تھے کہ مبادا (ایسا نہ ہو) زمین پر گر پڑے تو عذاب نازل ہو اور یوں فرمارہے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْن (اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نہیں جانتے۔) (3 )
اس موقع پر بعض اصحاب نے جانبازی کی خوب داددی چنانچہ حضرت طلحہ بن عبید اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اس کثرت سے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سے تیرروکے کہ ہاتھ بیکار ہوگیا۔ حضرت ابو دُجانہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آگے ڈھا ل بنے کھڑے تھے۔ ان کی پشت پر تیر لگ رہے تھے مگراپنے آقا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جھکے ہو ئے تھے۔ حضرت سعدبن ابی وقاص
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدافعت میں تیر چلا رہے تھے اور کہہ رہے تھے آپ پر میرے ماں باپ قربان۔ ( ) حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود ان کو اپنے تَرکَش میں سے تیر دیتے تھے اور فرماتے تھے: ’’ پھینکتے جاؤ ‘‘ حضرت ابو طلحہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بڑے تیرا نداز تھے، انہوں نے اس قدر تیر برسائے کہ دو تین کمانیں ٹوٹ ٹوٹ کر ان کے ہاتھ میں رہ گئیں ۔ وہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر چمڑے کی ڈھال کی اوٹ بنا ئے کھڑے تھے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کبھی گردن اٹھا کر دشمنوں کی طرف دیکھتے تو ابو طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عرض کر تے: ’’ آپ پر میرے ماں باپ قربان! گردن اٹھا کر نہ دیکھئے ایسا نہ ہو کہ کوئی تیر لگ جائے۔یہ میرا سینہ آپ کے سینے کے لئے ڈھال ہے۔ ‘‘ حضرت شَمَّاس بن عثمان قرشی مخزومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تلوار کے ساتھ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مدافعت کر رہے تھے۔ دائیں بائیں جس طرف سے وار ہو تاوہ ڈھال کی طرح آپ کو بچار ہے تھے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ ابھی رمق حیات باقی تھا ( ) کہ ان کو اٹھا کر مدینے میں حضرت ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس لے گئے۔ وہاں ایک دن رات زندہ رہ کر وفات پائی۔ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ اس دن ڈھال کے سوا مجھے کوئی ایسی چیز نہ سوجھی کہ جس سے شَمَّاس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو تشبیہ دوں ۔ اسی طرح سہل بن حنیف انصار ی اَوسی تیروں کے ساتھ مدافعت کر رہے تھے اور حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرمارہے تھے: ’’ سہل کو تیردو۔ ‘‘ حضرت قَتَادَہ بن نعمان انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرے مبارک کو بچا نے کے لئے اپنا چہرہ سامنے کیے ہو ئے تھے۔آخر کا رایک تیر ان کی آنکھ میں ایسا لگا کہ ڈیلا رخسارے پر آگرا۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دست مبارک سے اس کی جگہ پر رکھ دیا اور یوں دعا فرمائی: ’’ خدا یا! تو قتادہ کو بچا

جیسا کہ اس نے تیرے نبی کے چہر ے کو بچا یا ہے۔ ‘‘ پس وہ آنکھ دوسری آنکھ سے بھی تیز اور خوبصورت ہو گئی۔ ( )
اَثنا ئے جنگ میں مشرکین کی عورتیں شہد ائے عِظام کو مُثلہ کر نے میں مشغول تھیں ۔ عُتْبَہ کی بیٹی ہندنے اپنے پاؤں کے کڑے، بالیاں اور ہار حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قاتل وحشی کو دے دیئے اور خود شہد اء کے کا نوں اور ناکوں سے اپنے واسطے کڑے بالیاں اور ہار بنا ئے اور حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جگر کو پھاڑ کر چبایا نگل نہ سکی تو پھینک ( ) دیا۔ ( )
حضرت مُصْعَب بن عمیر علمبر دار لشکر اسلام نے بھی آقا ئے نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جان فدا کر دی۔ جب ابن قَمِئَہ لعین حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قتل کے ار اد ے سے حملہ آور ہوا تو حضرت مُصْعَب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مُدافعت کی مگر شہید ہوگئے۔ حضرت محمد بن شُرَحْبِیْل عَبدَرِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کر تے ہیں کہ حضرت مُصْعَب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا داہنا ہاتھ کٹ گیا تو انہوں نے جھنڈا بائیں ہاتھ میں لے لیااور وہ کہہ رہے تھے: وَمَا محمد اِلاَّ رَسُولٌ (الآیہ) ( ) پھر با یاں ہاتھ بھی کٹ گیا تو جھک کر جھنڈے کو دونوں بازوؤں کے ساتھ سینہ سے لگا لیا اور آیۂ مذکور زبان پر تھی۔ راوی کا قول ہے کہ یہ آیت بعد میں نازل ہوئی مگر اس دن اللّٰہ تعالٰی نے بجواب قول قائل: ’’ قَدْ قُتِلَ محمد ‘‘ ان کی زبان پر جاری کر دی تھی۔ ( ) حضرت مُصْعَب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بعد اسلامی جھنڈا حضرت علی مر تضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو دیا گیا۔
جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شعب پر چڑ ھے تو اُبی بن خَلَف سامنے آکر کہنے لگا: ’’ اے محمد ! (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اگر تم بچ گئے تو میں نہ بچوں گا۔ ‘‘ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا: اگر اجازت ہو تو ہم میں سے ایک اس کا فیصلہ کر دے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اجا زت نہ دی اور بذات شریف حضرت

حارث بن صَمَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے نیز ہ لے کر اس کی گر دن پر ماراجس سے فقط خراش آئی اور لہونہ نکلا، اُبی مذکور مکہ میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کہا کر تا تھاکہ میرے پاس ایک گھوڑ ا ہے جسے میں ہر روز آٹھ یا دس سیر پختہ ذُرَّہ (جُوار ) کھلا تا ہوں اس پر سوار ہو کر آپ کو قتل کروں گا۔ آپ فرماتے: بلکہ میں ان شَآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تم کو قتل کروں گا۔ جب وہ قریش میں واپس گیا تو کہنے لگا: اللّٰہ کی قسم! مجھے محمد نے قتل کر دیا۔ وہ کہنے لگے: تو بے دل ہو گیا ہے۔ اس خراش کا کچھ ڈر نہیں ۔ اس نے کہا کہ مکہ میں مجھ سے محمد نے کہاتھا کہ میں تجھے قتل کر وں گا۔سواللّٰہ کی قسم! اگر وہ مجھ پر صرف تھوک دے تو میں مر جاؤں گا۔ چنانچہ قریش اس دشمن خدا کو مکہ کی طرف لے جارہے تھے کہ راستے میں مقام سَرَ ف میں مرگیا۔ (1 )
جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شعب کے دہا نے پر پہنچے تو حضرت علی مرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم مہراس (2 ) (کُنْڈ) سے اپنی ڈھال پانی سے بھر لا ئے تاکہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پئیں مگر آپ نے اس میں بُو پائی اور نہ پیا۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اس سے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرے سے خون دھویا اور سر مبارک پر گر ایا۔ اس وقت حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ اِشْتَدَّ (3 ) غَضَبُ اللّٰہِ عَلٰی مَنْ دَمّٰی وَجْہَ نَبِـیِّـہٖ ‘‘ ۔ (4 )
مشرکین اب تک تعاقب میں تھے چنانچہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اصحاب مذکورۂ بالا کے ساتھ شعب میں تھے تو ان کے سواروں کا ایک دستہ بسر کر دگی خالد بن ولید پہاڑ پر چڑھا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمائی کہ خدایا ! یہ ہم پر غالب نہ آئیں ۔ پس حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مہاجرین کی ایک جماعت نے قتال کیا یہاں تک کہ ان کو پہاڑ سے اتا ردیا۔یہاں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک چٹان پر چڑھنے لگے تو ناتوانی اور دہر ی زرہ کے سبب سے نہ چڑھ سکے۔ یہ دیکھ کر حضرت طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کے نیچے بیٹھ گئے اور آپ ان کی پشت پر سے چڑھ گئے۔ اس وقت حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اوجب طلحۃ (یعنی حضرت طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ کام کیا کہ جس سے وہ بہشت کے مستحق ہو گئے۔) اس روز زخموں کی وجہ سے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ

وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز ظہر بیٹھ کر ادا کی اور مقتدیوں نے بھی بیٹھ کر پڑھی۔ (1 )
جب ابو سفیان نے میدان سے واپس ہونے کا ار ادہ کیا تو سامنے کی ایک پہاڑ ی پرچڑھ کر پکارا: کیا تم میں محمد ہیں ؟ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس کا جواب نہ دو۔ وہ پھر پکار ا: کیا تم میں ابن ابی قحافہ ہے؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اس کا جواب نہ دو۔ اس نے پھر پکار کر کہا: کیا تم میں ابن خطاب ہے؟ جب جواب نہ ملا تو کہنے لگا کہ یہ سب مارے گئے کیونکہ اگر زندہ ہو تے تو ضرور جواب دیتے۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رہا نہ گیا بول اٹھے: ’’ اود شمن خدا! تو نے جھوٹ کہا، وہ سب زندہ ہیں ۔ اللّٰہ نے تیرے واسطے وہ باقی رکھا ہے جو تجھے غمگین کر ے گا۔ (فتح کے دن) ابو سفیان بولا:
’’ اُعْلُ ھُبل ‘‘ اے ہبل! تو اُو نچارہ۔
صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے حسب ار شاد حضور جواب دیا :
’’ اَ للّٰہُ اَعْلٰی وَ اَجَلُّ ‘‘ اللّٰہ اونچا اور بڑا ہے ۔
ابو سفیان نے کہا :
’’ لَنَا الْعُزّٰی وَ لَا عُزّٰی لَکُمْ ‘‘ ہمارے پاس عزیٰ ہے اور تمہارے پاس عزیٰ نہیں
صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے حسب ار شاد نبوی جواب دیا :
’’ اَ للّٰہُ مَوْلَانَا ولَا مَوْلٰی لَکُمْ ‘‘ اللّٰہ ہمارا ناصر ومد د گار ہے اور تمہارا کوئی ناصر نہیں ۔
ابو سفیان نے کہا: آج کا دن بَدْر کے دن کا جواب ہے۔ لڑائی میں کبھی جیت کبھی ہار ہوتی ہے۔ تم اپنی قوم میں ناک کان کٹے پاؤ گے۔ میں نے اپنی فوج کو یہ حکم نہیں دیامگر اس پر کچھ رنج بھی نہیں ہوا۔ ( 2) اس کے بعد ابو سفیان یہ کہہ کر واپس ہواکہ ہمارا اور تمہارا مقابلہ آیندہ سال مقام بَدْر میں ہو گا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمادیا کہ کہہ دیجئے: ہاں ! بَدْر ہمارا اور تمہارا مَوْعِدہے۔ (3 ) اس طرح جب مشرکین مکہ کو لوٹے تو

صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو خدشہ ہو اکہ مبادا (1 ) وہ مدینہ کا قصد کریں اس لئے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے علی مرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو در یافت حال کے لئے بھیجا اور فرمادیا کہ اگر وہ اونٹوں پر سوار ہوں اور گھوڑوں کو پہلو میں خالی لئے جارہے ہوں تو سمجھنا کہ وہ مکہ کو جاتے ہیں اگر اس کا عکس کریں تو مدینہ کا قصد رکھتے ہیں ۔ حضرت مرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم خبر لائے کہ وہ اونٹوں پر سوار گھوڑوں کو خالی لے جارہے ہیں اور مکہ کی طرف متوجہ ہیں ۔ (2 )
سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ (آل عمران، ع۱۶) (3 )
مشرکین کے اسی فرار کی طرف اشارہ ہے جیساکہ پہلے آچکا ہے۔
خواتین اسلام نے بھی اس غزوہ میں حصہ لیا چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ اور ام سُلَیم (والدۂ انس) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم پائینچے چڑھا ئے ہوئے کہ جس سے ان کے پاؤں کی جھانجھیں (4 ) نظرآتی تھیں ، مشکیں بھر بھرکر لاتی تھیں اور مسلمانوں کو پانی پلا تی تھیں ۔ جب مشکیں خالی ہوجاتیں تو پھر بھر لاتیں اور پلا تیں ۔ حضرت اُم سَلِیط (والدۂ حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ) بھی یہی خدمت بجالا رہی تھیں ۔ حضرت ام اَیمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا (رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دایہ ) اور حَمنَہ بنت جحش (ام المؤمنین زینب کی بہن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما ) پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مر ہم پٹی کر تی تھیں ۔ حضرت ام عَمَّارہ نَسِیْبَہ بنت کعَب انصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا (زوجہ زید بن عاصم انصاری مازنی ) اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں کے ساتھ مشک لے کر نکلیں ۔ جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ صرف چند جانباز رہ گئے تو یہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس پہنچیں اور تیر اور تلوارسے کا فر وں کو رو کتی رہیں ۔ جب ابن قَمِئَہ لعین، حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف بڑھاتوحضرت مُصْعَب بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور چند اور مسلمان مقابل ہوئے۔ ان میں ام عَمَّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی تھیں ۔ ابن قَمِئَہ نے ان کے کندھے پر ایسی ضرب لگائی کہ غار

پڑ گیا۔ ام عَمَّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بھی کئی وار کیے مگر وہ دشمن خدا دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لئے کار گر نہ ہوئے۔ حضرت صَفْیَہ (حضرت امیر حمزہ کی بہن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ) مسلمانوں کی شکست پر اُحُد میں نیز ہ ہاتھ میں لئے آئیں اور بھاگنے والوں کے منہ پر مار کر کہتی تھیں کہ تم رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو چھوڑ کر بھاگتے ہو۔ پھر بھائی کی لاش دیکھ کر بڑے استقلال سے ’’ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ‘‘ پڑھا اور دعائے مغفرت کی۔
جب مشرکین میدان کا رزار سے چلے گئے تو مدینہ کی عور تیں صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی مدد کو نکلیں ۔ ان میں حضرت فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی تھیں ۔ جب حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا تو خوشی کے مارے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گلے لپٹ گئیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زخموں کو دھونے لگیں ۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ڈھال سے پانی گرارہے تھے۔ جب فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے دیکھا کہ پانی سے خون زیادہ نکل رہا ہے تو چٹائی کا ایک ٹکڑ اجلا کر لگا دیا جس سے خون (1 ) بند ہو گیا۔ پھر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰہِ عَلٰی قَوْمٍ دَ مُّوْا وَجْہَ رَسُوْلِہٖ (2 ) پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْن (3 ) اس کے بعد آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضرت سعد بن ربیع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا حال معلوم کرنے کے لئے بھیجا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مقتولین میں زخمی پایا۔ ( ان پر تیر ، تلوار اور نیزے کے ستر زخم تھے۔) ان میں فقط رمق حیات باقی تھا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ مجھے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم دیا ہے کہ میں دیکھوں کہ تم زندوں میں ہو یا مر دوں میں ۔ حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دھیمی آواز سے جواب دیا: ’’ میں مردوں میں ہوں ، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں میرا سلام پہنچانا اور عرض کر ناکہ سعد بن ربیع آپ سے گز ارش کر تا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی آپ کو ہماری طرف سے اچھی سے اچھی جزادے جو اس نے کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام کو ان کی امت کی طرف سے دی ہے اور اپنی قوم کو میرا سلام پہنچانا اور ان سے کہنا کہ اگر کوئی (دشمن )

تمہارے پیغمبر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک (بارا دۂ قتل ) پہنچ جائے اور تم میں سے ایک بھی زندہ ہو تو خدا عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں تمہا را کوئی عذرنہ ہو گا۔ ‘‘ حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ یہ کہہ کر واصل بحق ہوگئے۔ حضرت محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں صورت حال عرض کر دی۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سن کر فرمایا: ’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس پر رحم کرے اس نے حیات وموت میں خدا عَزَّوَجَلَّ اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خیر خواہی کی۔ ‘‘ (1 )
اس غزوہ میں مسلمانوں میں سے ستر یا کچھ کم وبیش شہید ہو ئے۔ اِبن نَجَّار نے ان سب کے نام دیئے ہیں ۔ جن میں سے چار مہاجرین میں سے اور باقی چھیا سٹھ انصار میں سے ہیں (2 ) اختتامِ جنگ پر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شہدائے کرام کی لاشوں پر تشریف لے گئے۔ حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی لاش مبارک کو دیکھ کر فرمایا کہ ’’ ایسا دردنا ک منظر میری نظر سے کبھی نہیں گزرا۔ حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ساتوں آسمانوں میں شیر خدا اور شیر رسول لکھے گئے۔ ‘‘ پھر تمام لاشوں پر نظر ڈالتے ہو ئے فرمایا : (3 ) اَنَا شَھِیْدٌ عَلٰی ھٰٓـؤُلَآئِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ۔میں قیامت کے دن ان کا شفیع ہوں ۔
بعد ازاں (4 ) حکم دیا کہ ان کو دفن کر دیا جائے۔ کپڑے کی قلت کا یہ عالم تھا کہ عموماً دودو تین تین ملا کر ایک ہی کپڑے میں ایک ہی قبر میں دفن کردیئے گئے۔ جس کو قرآن زیادہ یا دہوتا اس کو مقدم کیا جاتا اور ان شہداء پر اس وقت نماز جنازہ نہ پڑھی گئی بلکہ بے غسل اسی طرح خون میں لتھڑے ہوئے دفن کر دیئے گئے۔ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن۔ (5 )
سید ا لشُہَداء امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک چا در میں دفن کیا گیا مگر چادر کو تا ہ تھی اگر منہ ڈھا نپتے تو قدم ننگے

رہتے، قدموں کو چھپاتے تو منہ ننگا رہتا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ منہ کو ڈھا نپ دو اور قدموں پر حَرمَل (1) ڈال دو چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ (2 )
حضرت مُصْعَب بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب شہید ہو ئے تو ان کے پاس صرف ایک کملی (3 ) تھی اس سے سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے رہتے اور پاؤں چھپا تے تو سر ننگا رہتا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشاد سے سر کملی سے ڈھانپ دیا گیا اور پاؤں اِذ ْخَر ( 4) گھاس (5 ) سے چھپا دیئے گئے۔ (6 )
حضرت وَہْب بن قابُوس مُزَنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کا بھتیجا حارث بن عُتْبَہ بن قابو س ( 7) بکریاں چراتے مدینہ میں آئے۔ جب معلوم ہوا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غزوۂ اُحُد پر تشریف لے گئے تو اسلام لا کر حاضر خدمت اقدس ہو ئے۔ خالد و عِکرَمہ کے حملہ کے وقت حضرت وَہْب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بڑی بہادری سے لڑے۔ مشرکین کا ایک دستہ آگے بڑھا تو آپ نے تیروں سے ہٹا دیا، دو سر اآیا تو اسے تلوار سے بھگا دیا، تیسر اآیا تو تلوار سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ ان کا بھتیجا بھی اسی طرح لڑکر شہید ہوا۔ مشرکین نے حضرت وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بری طرح سے مثلہ کر دیا تھا۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اگر چہ زخموں سے نڈھال تھے مگر دونوں لا شوں پر کھڑے رہے اور حضرت وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْکَ فَاِنِّیْ عَنْکَ رَاضٍ ‘‘ اللّٰہتجھ سے راضی ہو، میں توتجھ سے راضی ہوں ۔
حضرت وہب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو لحد میں رکھا گیا تو حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کا سر ان ہی کی چادر سے چھپادیا مگر وہ چادر ان کی نصف ساق (8 ) تک پہنچی اس لئے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے

ارشاد سے پاؤں پر حَرمَل (1 ) ڈال دی گئی۔ حضرت عمر فاروق اور حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا تمنا کیا کرتے تھے کہ کاش! ہم خدا تعالٰی سے مُزَنی کے حال میں ملیں ۔ (2 )
حضرت عبداللّٰہ بن عَمرو بن حِزَام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا جنازہ اٹھا یا گیا تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک رونے والی عورت کی آواز سنی اور دریافت فرمایا کہ یہ کون ہے؟ عرض کیا گیا کہ مقتول کی بہن یا پھو پھی ہے۔ فرمایا کہ یہ کیوں روتی ہے یا فرمایا کہ نہ روئے کیونکہ جنازہ اٹھنے تک فرشتے اسے اپنے بازوؤں سے سایہ کر تے رہتے ہیں ۔ (3 ) ترمذی (ابواب تفسیر القرآن ) میں حضرت جابربن عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھ سے ملے فرمایا کہ تو غمگین کیوں ہے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرا باپ احد کے دن شہید ہو گیا اور قرض وعیال چھوڑ گیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کیا میں تجھے بشارت نہ دوں کہ خدا تیرے باپ سے کس طرح ملا ہے؟ اللّٰہ تعالٰی نے کبھی شہدائے احد میں سے کسی سے بے پردہ کلام نہیں کیا مگر تیرے باپ سے روبر وکلام کیا اور کہا: مجھ سے مانگ کہ تجھے عطا کر وں ۔ تیرے باپ نے کہا: اے پروردگار! عَزَّوَجَلَّ تو مجھے حیات دنیوی عطا کر تا کہ میں دو بارہ تیر ی راہ میں شہید ہو جاؤں ۔ رب عَزَّوَجَلَّنے کہا : میری طرف سے وعدہ ہوچکا ہے کہ وہ (مر کر) دنیا کی طرف نہ لوٹیں گے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: ’’ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا ‘‘ (4 ) (الآیہ) (5 ) حضرت عبد اللّٰہ بن عَمر وبن حزام بھی ایک کملی (6 ) میں دفن ہو ئے تھے، پاؤں حَرمَل سے چھپا دیئے گئے تھے۔
حضرت عبد اللّٰہ بن جُبَیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تیر اَ ندازوں کے امیر تھے جب ان کے ساتھ صرف چند آدمی رہ

گئے تو مشرکین نے ان پر حملہ کیا وہ سب شہید ہو گئے مگر اپنی جگہ کو نہ چھوڑا۔ حضرت عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پہلے دشمنوں پر تیر پھینکتے رہے جب تیر ختم ہو گئے تو نیز ہ سے کام لینے لگے جب نیز ہ بھی ٹوٹ گیا تو تلوار سے لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ کفار نے آپ کو بری طرح سے مثلہ کر دیاتھاآپ کے بھائی حضرت خَوَّات بن جُبَیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کمانوں سے گڑ ھا کھود کر آپ کو دفن کر دیا۔ (1 )
حضرت عَمر وبن جَمُوح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ لنگڑے تھے۔ ان سے کہا گیاکہ آپ معذور ہیں آپ پر جہاد فرض نہیں ، مگر وہ مسلح ہو کر نکلے اور کہنے لگے کہ مجھے امید ہے کہ میں اسی طرح بہشت میں ٹہلا کروں گا۔ پھر قبلہ رو ہو کر یوں دعا کی: ’’ خدا یا! مجھے شہادت نصیب کر اور اپنے اہل کی طرف محروم واپس نہ لا۔ ‘‘ چنانچہ اُحُد میں شہید ہوگئے۔ (2 )
اَثنا ئے جنگ (3 ) میں ایک مسلمان کھڑا ہوا کھجور یں کھارہا تھا اس نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھا کہ اگر میں مارا گیا تو کہاں ہو ں گا؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ بہشت میں ۔ ‘‘ یہ سن کر اس نے کھجوریں ہاتھ سے پھینک دیں اور لڑ تا ہو اشہید ہو گیا۔ (4 )
شہدائے کرام کی تد فین کے بعد رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ کو واپس آئے۔ راستے میں جو عورتیں اپنے اہل واقارب کا حال دریافت کر تی تھیں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبتاتے جاتے تھے۔ آپ بنودینار کی ایک عورت کے برابر سے گز رے جس کا شوہر اور بھائی اور باپ احد میں شہید ہو گئے تھے، لوگوں نے اسے تینوں کی شہادت کی خبر دی تو اس نے کچھ پر وانہ کی اور پو چھا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیسے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ بخیر ہیں ۔ کہنے لگی کہ مجھے دکھا دو تاکہ میں آنکھوں سے دیکھ لوں چنانچہ اس وقت حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف اشارہ کر دیا گیا۔ اس نے جب حضور انور بِاَبِیْ ہُوَ وَاُمِّی کو دیکھا تو پکا ر اٹھی: (5 ) ’’ کُلُّ مُصِیْبَۃٍ بَعْدَکَ

جَلَلٌ ‘‘ (1 ) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہو تے ہوئے ہر ایک مصیبت ہیچ ہے۔
جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انصار کے محلہ بنی عبد الا َشْہَل میں پہنچے تو ان کی عورتوں کو دیکھا کہ اپنے مقتولین پر رو رہی ہیں ۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور زبان مبارک سے نکلا: ’’ اَمَّا حَمْزَۃُ فَلَا بَوَاکِیْ لَہٗ ‘‘ لیکن حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لئے کوئی رونے والیاں نہیں ۔
یہ سن کر حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُن عورتوں کے پاس گئے اور کہا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دردولت پر جاکر افسوس کر و، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ہم بھی شامل گریہ ہو گئیں ۔ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سو گئے اور ہم رور ہی تھیں ، آپ نے جاگ کر نماز عشا پڑھی اور سوگئے پھر جو آنکھ کھلی اور رونے کی آواز سنی تو فرمایا: کیا تم اب تک رورہی ہو۔ یہ فرماکر آپ نے رونے والیوں کو رخصت کیا اور ان کیلئے اور انکے ازواج واولا د کیلئے دعا ئے خیر فرمائی۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے نو حہ سے منع فرمادیا۔ (2 )
اس واقعہ سے آٹھ برس کے بعد ایک روز آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس طرف کو نکلے اورشہدائے اُحُد پر نماز جنازہ پڑھی۔ اس کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منبر منیف (3 ) پر رونق افر وز ہو کر یہ خطبہ دیا: (4 )
اِنِّیْ فَرَطٌ لَّکُمْ وَ اِنِّیْ وَ اللّٰہِ لَاَنْظُرُ اِلٰی حَوْضِی الْاٰنَ وَ اِنِّیْ اُعْطِیْتُ مَفَاتِحَ خَزَآئِنِ الْاَرْضِ اَوْ مَفَاتِحَ الْاَرْضِ وَ اِنِّیْ وَ اللّٰہِ مَآ اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِیْ وَ لٰکِنْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنَافَسُوْا فِیْھَا۔ ( 5)
بیشک میں تمہارے واسطے فرط (6 ) (پیشرو) ہوں ، اللّٰہ کی قسم! میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیا ں یا زمین کی کنجیاں عطا کی گئی ہیں ۔ خدا کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم میرے بعد مشرک بن جاؤ گے لیکن یہ ڈر ہے کہ تم دنیا میں پھنس جاؤ۔

 

 

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!