گندم کی بالی

گندم کی بالی

حضرت علامہ ابنُ الحاج مکی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نَقْل کرتے ہیں کہ ایک بُزُرگ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اپنے اَصحاب کے ساتھ گندم کے کھیت کے پاس سے گزرے توان کے ساتھ جانے والے ایک شخص نے گندم کی بالی کو چُھوا اور فوراً ہاتھ ہٹالیا۔ بزرگ نے یہ منظر دیکھ لیا اور اسے حکم فرمایا کہ کھیت کے مالک سے اس معاملے کو معاف کروائے۔اس شخص نے عرض کی: حضرت!گندم کی بالی تو اسی طرح موجود

ہے اور میرے ہاتھ لگانے سے اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔بزرگ نے ارشاد فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر ایک ہزار یااس سے زیادہ لوگ یہاں سے گزریں اور سب تمہاری طرح اسے ہاتھ لگائیں تو کیا اسے نقصان پہنچے گا؟اس نے جواب دیا:جی ہاں۔ اِرشاد فرمایا:تم نے جو کیا ہے وہ اس ظُلْم میں سے تمہارا حصہ ہے،پھر اس شخص نے جب تک گندم کے مالک سے معاف نہیں کروالیا آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے نہ اس سے کلام فرمایا اور نہ ہی اسے اپنی صحبت میں رہنے کی اجازت دی۔ (المدخل،۱/۲۸۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم میں سے ہر ایک اس دنیا میں تنہا آتا ہے اور اکیلا ہی رخصت ہوتا ہے لیکن یہاں رہتا تنہا نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے ، ہماری ذات سے کبھی کسی کو راحت پہنچتی ہے تو کبھی تکلیف اور کبھی کچھ بھی نہیں یعنی تکلیف نہ راحت ،اگر دیگر مسلمانوں کو ہم سے راحت پہنچے گی تو نیتِ خیر ہونے کی صورت میں ہمیں اس کا ثواب ملے گا ، بلا وجہِ شرعی تکلیف پہنچائیں گے تو عذاب کی حقداری ہے اور تیسری صورت میں نہ ثواب نہ عذاب ۔ کوشش ہونی چاہئے کہ ہم باعثِ زحمت نہیں سببِ راحت بنیں ۔ اس حوالے سے ہمارے رویّے مختلف ہوتے ہیں ، بعض اسلامی بھائیوں کی اس طرف خوب توجہ ہوتی ہے کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ،اگر ان سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچ بھی جائے تو انہیں احساسِ نَدامت ہوتا ہے اور وہ توبہ کرکے اس سے ہاتھوں ہاتھ معافی مانگ لیتے ہیں ، جبکہ کچھ اسلامی بھائی
اس حوالے سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں اورانہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ انہوں نے کسی کو تکلیف پہنچا دی ہے اور کئی اسلامی بھائی اس بات کی خواہش تو رکھتے ہیں کہ کسی کو ان سے تکلیف نہ پہنچے لیکن معلومات کی کمی اور غیر محتاط انداز کی وجہ سے اکثر انہیں پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ اپنی حرکات وسکنات سے دوسرے کو تکلیف میں مبتلا کرچکے ہیں ، انسان کے ہاتھوں صرف زندہ انسان ہی تکلیف نہیں اٹھاتا بلکہ مُردوں، فرشتوں، جنوں اور جانوروں کو بھی تکلیف پہنچ جاتی ہے ۔ اسی طرح کے تقریباً 78 معاملات کی نشاندہی اس کتاب میں کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم کس کس طریقے سے دوسروں کے لئے باعثِ تکلیف بن سکتے ہیں ؟ نیزمسلمان کو تکلیف پہنچانے کی کیا کیا وعیدیں ہیں؟ اور تکلیف سے بچانے کی کیسی کیسی نویدیں ہیں ؟جس کو کسی سے تکلیف پہنچ جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اس کے لئے کیا کیا بشارتیں ہیں؟ اس کتاب کا نام شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ نے ’تکلیف نہ دیجئے‘‘رکھا ہے جبکہ دعوتِ اسلامی کے ’’دارالافتاء اہلسنّت ‘‘ کے اسلامی بھائی نے اس کی شرعی تفتیش فرمائی ہے ،اس کتاب کو نہ صرف خود پڑھئے بلکہ دیگر اسلامی بھائیوں کو پڑھنے کی ترغیب دے کر اپنا ثواب کھرا کیجئے ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس مَدَنی مقصد کے حصول کے لئے مَدَنی اِنعامات پر عمل اور مَدَنی قافِلوں میں سفر کی سعادت بھی عطا کرے ۔اٰمِین ،شعبہ اِصلاحی کتب (المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی))

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *