کٹا ہوا ہا تھ جوڑد یا

کٹا ہوا ہا تھ جوڑد یا

Advertisement

ایک حبشی غلام جو کہ امیرُالْمُؤمِنِین حیدرِ کرَّار، صاحِبِ ذُوالْفِقار ، حَسنَینِ کریمَین کے والدِ بُزُرگوار ، حضرت مولا مُشکلکشا علیُّ المُرتَضٰیشیرِ خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے بَہُت مَحَبَّت کرتا تھا ، شامتِ اعمال سے اُس نے ایک مرتبہ چوری کرلی۔ لوگوں نے اُس کو پکڑ کر دربارِخِلافت میں پیش کردیا اورغلام نے اپنے جُرم کا اِقرار بھی کر لیا ۔ امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حُکمِ شَرْعی نافِذ کرتے ہوئے اُس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ جب وہ اپنے گھر کو روانہ ہوا تو راستہ میں حضرت سَلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اوراِبنُ الکَوّاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ملاقات ہوگئی۔ ابن الکَوّاءنے پوچھا: تمہارا ہاتھ کس نے کاٹا ؟تو غلام نے کہا :’’ امیرُ الْمُؤمِنِین و یَعسُوبُ المسلمین وزَوجِ بتول (کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم)نے ۔‘‘ ابن الکَوّائنے حیرت سے کہا :’’ انہوں نے تمہارا ہاتھ کاٹ ڈالاپھر بھی تم اِس قَدَراِعزازواِکرام کے ساتھ اُنکا نام لیتے ہو!‘‘ غلام نے کہا: ’’ میں ان کی تعریف کیوں نہ کروں !انہوں نے حق پر میرا ہاتھ کاٹا اور مجھے عذابِ جہنَّم سے بچالیا۔‘‘ حضرتِ سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دونوں کی گفتگو سنی اور حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے اِس کا تَذکِر ہ کیا تو آپکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم
نے اُس غلام کوبُلوا یا اوراُس کا کٹا ہوا ہاتھ کلائی پر رکھ کر رومال سے چُھپا دیاپھر کچھ پڑھنا شُروع کردیا، اِتنے میں ایک غیبی آواز آئی :’’کپڑا ہٹاؤ۔‘‘ جب لوگوں نے کپڑا ہٹا یا تو غلام کا کٹا ہوا ہاتھ کلائی سے اِس طرح جُڑ گیا تھا کہ کہیں کٹنے کا نشان تک نہیں تھا!
(تفسیر کبیرج۷ص۴۳۴)
اے شبِ ہجرت بجائے مصطَفٰے بَر رَختِ خواب
اے دمِ شدّت فِدائے مصطَفٰے امداد کُن(حدائق بخشش شریف)
شرحِ کلامِ رضاؔ: اے ہجرت کی رات سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارَک بچھونے پر لیٹنے والے ! اے ایسے سخت امتحان کے لمحات میں شَہَنْشاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرجان کا نذرانہ حاضِر کرنے والے! میری اِمداد فرمایئے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!