کا فروں پر رحمت

کا فروں پر رحمت

Advertisement

پہلی اُمتوں میں نافر مانی پر عذاب الٰہی ہو تاتھا مگر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وجود ِباجود کی برکت سے کفار عذاب ِدنیوی سے محفوظ رہے۔
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ- (انفال، ع ۴)
اور خدا ان کو عذاب نہ کرے گا جب تک تو ان میں ہے۔ ( 1)
بلکہ عذابِ استیصال کفار سے تا قیامت مر فوع ہے۔ ( 2)
ایک دفعہ صحابہ کرام رِضْوانَُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ مشرکین پر بددعا کریں ۔ آپ نے فرمایا: ’’ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیامیں تو صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ‘‘ (3 )
حضرت طفیل بن عَمْرو دَوسی کو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبیلہ دَوس میں دعوت اسلام کے لئے بھیجا تھا۔انہوں نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کریوں عرض کیا: ’’ قبیلہ دَوس ہلاک ہو گیاکیونکہ انہوں نے نافرمانی کی اور اطا عت سے انکار کر دیا، آپ ان پر بد دعا کریں ۔ ‘‘ لوگوں کو گمان ہوا کہ آپ بددعاکر نے لگے ہیں مگر آپ نے یوں دعا فرمائی : (4 ) ’’ اَللّٰھُمَّ اھْدِ دَوْسًا وَّ ائْتِ بِھِمْ ‘‘ خدا یا ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور ان کو مسلمان کرکے لا۔ (5 )
جب طائف سے محاصرہ اٹھالیاگیاتو صحابہ کرام نے عرض کیا: ’’ یارسول اللّٰہ! ہم کو قبیلہ ثقیف کے تیروں نے جلا دیاآپ ان پر بددعا کریں ۔ مگرآپ نے یوں دعا فرمائی: (6 ) اَ للّٰہُمَّ اھْدِ ثَقِیْفًا خدایا! ثقیف کو ہدایت دے۔ (7 )
’’ جنگ اُحد ‘‘ میں دانت مبارک شہید ہو گیا تھا اور چہر ہ مبارک خون آلودہ تھا مگر زبان مبارک پر یہ الفاظ تھے : ’’ اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لاَ یَعْلَمُوْن ‘‘ خدا یا ! میری قوم کا یہ گناہ معاف کر دے کیونکہ وہ نہیں جانتے۔ ( 1)
جب قریش نے اَزرُوئے تعنت وعناد ایمان لانے سے انکار کر دیا (2 ) تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں دعا کی: ’’ یااللّٰہ! ان حضرات پر یوسف (عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ السَّلَام) کے سات سالوں کی طرح سات سال قحط لا۔ ‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ قریش نے ہڈیاں اور مردار کھائے۔ اس حالت میں ابو سفیان نے حاضر خدمت ہوکر یوں عرض کیا: ’’ یا محمد ! آپ کی قوم ہلاک ہو گئی۔ اللّٰہ سے دعا کیجئے کہ ان کی مصیبت دور ہو جائے۔ ‘‘ پس حضور رحمۃ للعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمائی اور وہ مصیبت دور ہو گئی۔ (3 )
حضرت ثُمَامہ بن اُثال یمامی کے ایمان لا نے کا قصہ پہلے بیان ہوچکا ہے وہ اسلام لا کر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اجازت سے عمر ہ کے لئے مکہ میں آئے مشرکین میں سے کسی نے ان سے کہا کہ تم ہمارے دین سے بَرگَشْتہ ہو گئے۔ ثمامہ نے کہا کہ میں نے دین محمد ی جو خیر الا َدیان ہے اختیار کر لیاہے۔ ’’ خدا کی قسم! رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اجازت کے بغیر غلہ کا ایک دانہ تم تک نہ پہنچے گا۔ ‘‘ (4 ) مکہ میں غلہ یمامہ سے آیا کر تاتھا۔ جب یمامہ سے غلہ کی آمد بند ہو گئی تو قریش میں کال (5 ) پڑگیا۔انہوں نے تنگ آکر صلہ رحم کا واسطہ دے کر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں لکھا۔ آپ نے حضرت ثمامہ کو لکھا کہ یہ بند ش اٹھا دو چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
حضرتِ اَسماء بنت ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کر تی ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عہد مبارک میں میری ماں میرے پاس آئی وہ مشرکہ تھی۔ میں نے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے دریافت کیا کہ وہ کچھ مانگتی ہے کیا میں اس سے صلہ رحم کروں ؟ حضور نے فرمایا: ( 1) نَعَمْ صَلِیْ اُ مَّکِ۔ ہاں تو اپنی ماں سے صلہ رحم کر۔ ( 2)
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سلوک منا فقین کے ساتھ قابل غور ہے۔ یہ لوگ سامنے تو چاپلوسی کیا کرتے تھے مگر پیٹھ پیچھے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اَذیت دیا کرتے تھے۔ باوُجود علم کے آپ ان کے ساتھ خُلْق سے پیش آتے۔ ان کے لئے استغفار فرماتے اور ان کے جنازے کی نماز پڑھا کر تے یہاں تک کہ اللّٰہ تعالٰی نے منع فرمادیا۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!