کاش !یہ پیالہ مجھے نہ ملاہوتا

کاش !یہ پیالہ مجھے نہ ملاہوتا

Advertisement

کسی بادشاہ کو فیروزہ ( ایک قیمتی پتھر) سے بنا ہوا پیالہ پیش کیا گیا ، جس پر جَواہر جَڑے ہوئے تھے اور وہ پیالہ بڑا شاندار تھا ۔بادشاہ اس کے ملنے پر بہت خوش
ہوااور اس نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک سمجھدار سے پوچھا : اس پیالے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اس نے کہا : میں تو اسے مصیبت یا فقر سمجھتا ہوں ۔بادشاہ نے پوچھا : وہ کیوں ؟ اس نے جواب دیا : اگر یہ ٹوٹ جائے تو ایسا نقصان ہوگا جس کی تلافی ممکن نہیں اور اگر چوری ہوجائے تو آپ اس کے محتاج ہوجائیں گے اورآپ کو اس جیسا نہیں ملے گا ، اورجب تک یہ آپ کے پاس نہیں تھا تو آپ مصیبت اور فقرسے امن میں تھے ۔اِتفاق سے ایک روز وہ پیالہ ٹوٹ گیا یا چوری ہوگیا تو بادشاہ بہت غمگین ہوا اوراس نے کہا : اس شخص نے سچ کہا تھا، کاش ! یہ پیالہ مجھے نہ ملاہوتا ۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم المال، بیان علاج البخل، ۳/ ۳۲۴)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!