ڈاکوؤں کے سردار کی توبہ

ڈاکوؤں کے سردار کی توبہ

ايک قافلہ گيلان سے بغداد کی طرف رواں دواں تھا۔جب يہ قافلہ ہمدان شہر سے روانہ ہوا تو جيسے ہی جنگل شروع ہوا ڈاکؤں کا ايک گروہ نمودار ہوا اور قافلے والوں سے مال واسباب لوٹنا شروع کر ديا ۔اس قافلے ميں ايک نوجوان بھی تھا جس کی عمر اٹھارہ (18)سال کے لگ بھگ تھی ۔ايک راہزن اس نوجوان کے پاس آيا اور کہنے لگا : ”صاحب زادے!تمہارے پاس بھی کچھ ہے ؟۔”نوجوان بولا :”ميرے پاس چاليس دينار ہيں جو
کپڑوں ميں سلے ہوئے ہيں ۔”راہزن نے کہا کہ” صاحب زادے! مذاق نہ کرو سچ سچ بتاؤ؟”نوجوان نے بتايا ”ميرے پاس واقعی چاليس دينار ہيں يہ ديکھو ميری بغل کے نیچے ديناروں والی تھيلی کپڑوں ميں سلی ہوئی ہے”راہزن نے ديکھا تو حيران رہ گيا اور نوجوان کو اپنے سردار کے پاس لے گيا اور سار اواقعہ بيا ن کيا سردار نے کہا ”نوجوان !کيا بات ہے لوگ تو ڈاکوؤں سے اپنی دولت چھپاتے ہيں مگر تم نے سختی کيے بغير اپنی دولت ظاہر کر دی؟”نوجوان نے کہا ”ميری ماں نے گھر سے چلتے وقت مجھے نصيحت فرمائی تھی کہ” بيٹا!ہر حال ميں سچ بولنا ۔”بس ميں اپنی والدہ کے ساتھ کيا ہو اوعدہ نبھا رہا ہوں۔”
نوجوان کا يہ بيا ن تاثير کاتير بن کر ڈاکوؤں کے سردار کے دل ميں پيوست ہوگيا اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا درياچھلکنے لگا ۔اس کاسويا ہوامقدر جاگ اٹھا ، وہ کہنے لگا”صاجزادے!تم کس قدر خوش نصيب ہو کہ دولت لٹنے کی پرواہ کيے بغير اپنی والدہ کے ساتھ کيے ہوئے وعدے کو نبھا رہے ہو اور ميں کس قدر ظالم ہوں کہ اپنے خالق ومالک کے ساتھ کيے ہوئے وعدے کو پامال کر رہا ہوں اور مخلوق خدا کا دل دکھا رہا ہوں۔ ”يہ کہنے کے بعدوہ ساتھيوں سميت سچے دل سے تائب ہو گيا اورلوٹا ہوا سارا مال واپس کر ديا۔ (تاریخ مشائخ قادریہ ، ص ۶۶)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *