چشمہ اُبل پڑا

چشمہ اُبل پڑا!

مقامِ صِفِّین جاتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی ،شیرِ خُدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکا لشکر ایک ایسے میدان سے گزرا جہاں پانی نہیں تھا،پورا لشکر پیاس کی شدَّت سے بے تاب ہوگیا۔وہاں ایک گِرجا گھرتھا،اُس کے راہِب نے بتایا کہ یہاں سے دو فَرسَخ(یعنی تقریباً 14کِلومیڑ) کے فاصلے پر پانی مل سکے گا۔ کچھ حضرات نے وہاں جا کر پانی پینے کی اِجازت طلب کی، یہ سنکر آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اپنے خَچَّر پر سُوار ہو

گئے اور ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے کھودنے کا حکم فرمایا، کُھدائی شروع ہوئی ، ایک پتَّھر ظاہِر ہوا، اُسے نکالنے کی تمام تر کوشِشیں ناکام ہو گئیں ،یہ دیکھ کرمولیٰ مشکلکشا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سُواری سے اُترے، اور دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں اُس پتَّھرکی دراڑ میں ڈال کر زور لگایاتو وہ پتَّھر نکل پڑا اور اُس کے نیچے سے ایک نہایت صاف و شَفّاف اور شیریں (یعنی میٹھے )پانی کا چشمہ اُبل پڑا! اورتمام لشکر اُس سے سیراب ہوگیا۔ لوگوں نے اپنے جانوروں کو بھی پلایا اورمشکیزے بھی بھر لئے، پھرآپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے وہ پتَّھر اُس کی جگہ پررکھ دیا۔ گِرجا گھر کا عیسائی راہِب یہ کرامت دیکھ کر مولیٰ مُشکِلکُشاکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی خدمت میں عرض گزار ہوا: کیا آپ نبی ہیں ؟ فرمایا : نہیں۔ پوچھا: کیا آپ فرشتے ہیں ؟ فرمایا: نہیں ۔ اُس نے کہا: پھر آپ کون ہیں ؟ فرمایا: میں پیغمبرمُرسَل حضرتِ سیِّدُنا محمدبن عبد اللہ خاتَمُ النَّبِیِّین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا صَحابی ہوں اور مجھ کو تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے چند باتوں کی وصیَّت بھی فرمائی ہے۔اتناسنتے ہی وہ عیسائی راہِب کلمہ شریف پڑھ کر مُشَرَّف بہ اسلام ہوگیا۔آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا :تم نے اتنی مدَّت تک اسلام کیوں قَبول نہیں کیا تھا؟ راہِب نے کہا : ہماری کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اِس گِرجا گھر کے قریب پانی کا ایک چشمہ پوشیدہ ہے ، اِس چشمے کو وُہی شخص ظاہر کرے گا جو نبی ہوگا یا نبی کاصَحابی۔ چُنانچِہ میں اور مجھ سے پہلے بَہُت سے راہِب اِس گرجا گھر میں اِسی انتِظار میں مُقِیم رہے۔ آج آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے
یہ چشمہ ظاہِر کردیا تو میری مُراد بَرآئی اس لئے میں نے دینِ اسلام قَبول کرلیا ۔ راہِب کا بیان سن کر شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم روپڑے اور اِس قدر روئے کہ رِیش مبارَک آنسوؤں سے تَر ہوگئی، پھر ارشاد فرمایا: اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّکہ ان لوگوں کی کِتابوں میں بھی میرا ذکر ہے۔ یہ راہِب مسلمان ہوکر آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے خادِموں اور مجاہدوں میں شامِل ہوگیا اور شامیوں سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگیا اورمولیٰ مُشکِلکُشانے اپنے دَست مبارک سے اُسے دَفن کیا اور اُس کے لیے مغفِرت کی دُعا فرمائی۔
(مُلَخَّص از کرامات صحابہ ص۱۱۴، شواہد النبوۃص۲۱۶)
مرتَضٰی شیرِ خدا، مَرحَب کُشا، خیبر کُشا
سروَرا لشکر کشا مشکِل کُشا اِمداد کُن (حدائقِ بخشش شریف)
شَرْحِ کلامِ رضا: اے مُرتضیٰ(یعنی پسندیدہ و مقبول )! اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شیر، اے مَرحَب (مَرحَب بن حارِث نامی یہودی، عرب کے نامور پہلوان اورقَلعۂ خیبر کے رئیسِ اعظم )کو پَچھاڑنے والے! اے فاتحِ خیبر!اے میرے سردار!اے تنِ تنہا دُشمن کے لشکر کو شکست دینے والے!اے مشکِلات حل فرمانے والے! میری اِمداد فرمایئے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *