مراقبہ :

مراقبہ :

 

پھر معرفت کے مدارج مختلف ہو تے ہیں ،جس قدر توجہ اور صفائی ذہن زیادہ ہو معرفت زیادہ ہوگی ۔ اس زیادتی معرفت کے واسطے اولیاء اللہ اور مرشد ین کامل مراقبہ کی تعلیم کیاکر تے ہیں ۔جس کے معنی نگہبانی کر نے کے ہیں ،ذات کے ساتھ ایک ایک صفت کا مدتوں مراقبہ کر ا تے ہیں ،تاکہ اس صفت سے متعلق لوازم و آثار پورے طورپر ذہن میں راسخ اور متمکن ہو جائیں ۔ جس قدر مدت میں مراقبہ ہوا س میںمشاہدہ ضرور ہو گا ،کیونکہ مشاہدہ کے معنی حضور کے ہیں ۔یہ مشاہدہ گو ذات حق کا ہوگا مگرکسی صفت ِخاصہ کے ساتھ ،کیونکہ ذات بحت کا مشاہدہ قطعاً غیر متصور ہے ، اس لئے کہ ذات کا جب ادراک ہی نہیں تو مشہور کیونکر ہو سکے !!اسی وجہ سے حدیث شریف میں وارد ہے کہ لا تتفکروا فی ذات اللہ ۔
یہ امر پوشیدہ نہیں کہ جب آدمی مدتوں کسی ایک چیز کا مراقبہ کرے یعنی ہمہ تن اس کی طرف مشغول ہو اور کسی دوسری چیز کا خیال تک نہ آنے دے تو اس سے متعلق کیسی کیسی نزاکتوں اور دقائق کا وجود اس کو حاصل ہو گا ۔دیکھئے حکماء و فلاسفہ مسائل حکمیہ میں جو موشگافیاں کیا کر تے تھے اس کا منشا یہی مراقبہ ہو ا رکرتا تھا ،وہ پہلے خلوت اختیار کر تے تھے ،چنانچہ افلاطون کا حال مشہو رہے کہ کہیں سے ایک شکستہ خم اس کو مل گیا تھا اسی میں وہ رات بسرکرتا اور دن کو تنہا ئی میں ،غرضکہ دن رات مسائل حِکمیہ کے مراقبہ میں مشغول رہتا جس کی وجہ سے اس کی ایک غیر معمولی حالت ہو گئی تھی ،چنانچہ تفسیر نیشا پوری میں اس کے متعلق جا لینوس کا قول نقل کیا ہے کہ ھو انسان تالہ او الہ نانس ۔یہی حال تقریباً حکماء کا تھا کہ تنہائی میں ایک ایک مسئلہ میں مدتوں غور اور فکر کر تے یہاںتک اس کے مالہ اور ما علیہ کا علم بقدر حاقتِ بشری حاصل کر لیا کر تے تھے ۔
اب غور کیجئے کہ جو لوگ دنیا کو چھوڑ کر ہمیشہ مراقبہ اور مشاہدہ ٔ الٰہی میں رہتے ہیں ان پر ذات و صفات الٰہیہ سے متعلق کیسے کیسے مسائل غاصفہ منکشف ہو تے ہوں گے !اور ان کا یہ مجاہدہ کس درجہ بار آور ہو تا ہوگا !حق تعالیٰ فرما تاہے والذین جاہد وا فینا لنہدینہم سبلنا یعنی ہماری راہ میں مجاہد ہ کریں تو ضرورہم ان کو اپنے راستے بتا دیں گے ۔جب خداے تعالیٰ ان کو اپنے تک وصول وتقرب کی راہیں بتانے کا ذمہ درا ہو تو ممکن نہیں کہ وہ گمراہ ہو سکیں ۔
مگر یاد رہے کہ ہر مجاہد ہ باعث تقریب نہیں ہو سکتا ،اس میں بڑی شرط یہ ہے کہ خاص خداے تعالیٰ کی خوشنودی اور فرمانبرداری پیش نظر ہو ، اگر مجاہدہ اور ذکر وشغل میں کوئی دوسرا امر پیش نظر ہو مثلاً کثف یا کرامات یا یہ امر کہ ہم مقتدیٰ کہلائیں اور لوگ ہماری قدر و تعظیم و توقیر کریں یا دست غیب حاصل ہو یا اور کوئی ایسی چیزیں جن کی خواہش نفس کو ہو تی ہے مجاہدہ میں ملحوظ ہوںتو سمجھ لینا چاہئے کہ شیطان کو موقعہ مل گیا۔اسی وجہ سے پہلے وہ ذہن نشین کر دیتا ہے کہ :شریعت عام لوگوں کے واسطے ہے اور خاص لوگوں کا درجہ بہت بلند ہے ان کو شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں !!پہلے ہی قدم میں صوفی صاحب کو خاص لوگوں میں شریک کرکے مرفوع القلم بنا دیتا ہے اب ان کو کون روکے ؟نہ خداے کے روکے رکیں نہ رسول کے ،کیونکہ قرآن و حدیث سے تو تعلق رہا ہی نہیں ، اب وہی حالت پیدا ہوگئی جو ایمان لانے سے پہلے تھی ،اس لئے جس طرح ایمان لانے والے کو ایمان سے پہلے بے قیدی تھی اس قسم کے مرفوع القلم ہونے سے بھی وہی بے قیدی ہوجائے گی ،غرضکہ دونوں حالتوں میں عقلاً کوئی فرق نہیں،اس صورت میں شیطان جس طرح چاہے گا کام کر واکے چھوڑے گا ۔ اسی وجہ سے اکابر اولیاء اللہ نے شریعت کی پابندی کو ضروری لکھا ہے ۔چنانچہ اکابرِ طُرق کے قوال اس باب میں جو مروی ہیں اوپر لکھے جا چکے ہیں ۔

موصول وصلہ میں ایک بات یہ بھی ہے کہ صلہ کا اثر موصول پرپڑتا ہے ،دیکھئے کہ جب الذی کہا جائے تو اس سے متعلق نہ عداوت ہو تی ہے نہ محبت وغیرہ بلکہ اس کا مفہوم صرف ایک چیز ہوتی ہے جس سے نہ عداوت متعلق ہے نہ محبت ۔پھر جب اس کے صلہ میں ضربک یا اس کے مثل کوئی افعال ذکر کئے جائیں تو مفہوم موصول سے عداوت دل میں پیدا ہو گی ،او راگر مثل اعطاک کوئی صلہ ذکر کیا جائے تو اس سے محبت پیدا ہوگی ۔اس سے ظاہر ہے کہ صلہ کا اثر موصول پر پڑتا ہے ۔
نفس نا طقہ یاروح انسانی کی حالت بمنزلہء موصول کے ہے کہ اس کے ساتھ افعال کا اتصال لازمی ہے ،جس طرح صلہ کا اتصال موصول کے ساتھ لازمی ہے۔کیونکہ جو صفات نفس ناطقہ میں رکھی گئی ہے جیسے سخاوت ،بخل ، شجاعت وغیرہ ان سے متعلق افعال کا ظہور ضروری ہے ورنہ صفات کا وجود بیکار ہوگا ۔اور افعال کے صدور کے وقت نفس کو ان افعال کا ادراک ضرور ہوتا ہے ،او رہرفعل کے موجود کرنے کا ارادہ کرکے اپنی قوت کو صرف کرتا ہے ، اور جن جن اعضاء سے وہ کام متعلق ہو تا ہے ان کو حرکت دیتا ہے ،اس کے بعد لذت کا احساس بھی اسی کو ہو تا ہے جو وجود فعل سے متعلق ہے ، خواہ وہ لذت جسمانی ہو یا نہ ہو ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!