نگاہِ کرامت

نگاہِ کرامت

 

حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے بعد جو قبائل عرب مرتد ہوکر اسلام سے پھر گئے تھے ان میں قبیلہ کندہ بھی تھا۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس قبیلہ والوں سے بھی جہاد فرمایا اورمجاہدین اسلام نے اس قبیلہ کے سردار اعظم یعنی اشعث بن قیس کو گرفتار کرلیا اورلوہے کی زنجیروں
میں جکڑ کر اس کو دربارِ خلافت میں پیش کیا۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے آتے ہی اشعث بن قیس نے بآواز بلند اپنے جرمِ ارتداد کا اقرارکرلیا اور پھر فوراً ہی توبہ کرکے صدق دل سے اسلام قبول کرلیا۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوش ہوکر اس کا قصور معاف کردیا اوراپنی بہن حضرت ”ام فروہ”رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس کا نکاح کر کے اس کو اپنی قسم قسم کی عنایتوں اورنوازشوں سے سرفراز کردیا۔ تمام حاضرین دربارحیران رہ گئے کہ مرتدین کا سردارجس نے مرتد ہوکر امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بغاوت اور جنگ کی اوربہت سے مجاہدین اسلام کا خون ناحق کیا۔ ایسے خونخوارباغی اوراتنے بڑے خطرناک مجرم کو امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس قدر کیوں نوازا؟لیکن جب حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صادق الاسلام ہوکر عراق کے جہادوں میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر ایسے ایسے مجاہدانہ کارنامے انجام دیئے کہ عراق کی فتح کا سہرا انہیں کے سر رہا اورپھر حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جنگ قادسیہ اورقلعہ مدائن وجلولاء ونہاوند کی لڑائیوں میں انہوں نے سرفروشی وجانبازی کے جوحیر تناک مناظر پیش کئے انہیں دیکھ کر سب کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ واقعی امیر المؤمنین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگاہ کرامت نے حضر ت اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات میں چھپے ہوئے کمالات کے جن انمول جوہروں کو برسوں پہلے دیکھ لیا تھا وہ کسی اور کو نظر نہیں آئے تھے ۔ یقینا یہ امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بہت بڑی کرامت ہے ۔(1)(ازالۃ الخفاء،مقصد۲،ص۳۹)
اسی لئے مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ عام طور پر یہ فرمایا
کرتے تھے کہ میرے علم میں تین ہستیاں ایسی گزری ہیں جوفراست کے بلند ترین مقام پر پہنچی ہوئی تھیں ۔
اول :امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کہ ان کی نگاہ کرامت کی نوری فراست نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کمالات کو تاڑلیا اورآپ نے حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے بعد خلافت کے ليے منتخب فرمایا جس کو تمام دنیا کے مؤرخین اور دانشوروں نے بہترین قراردیا۔
دوم:حضر ت موسیٰ علیہ الصلو ۃ والسلام کی بیوی حضرت صفوراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے روشن مستقبل کو اپنی فراست سے بھانپ لیا اوراپنے والد حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ آپ اس جوان کو بطور اجیر کے اپنے گھر پر رکھ لیں۔ جبکہ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں فرعون کے ظلم سے بچنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اکیلے ہجرت کر کے مصر سے ”مدین”پہنچ گئے تھے۔ چنانچہ حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو اپنے گھر پر رکھ لیا اوران کی خوبیوں کو دیکھ کر اور ان کے کمالات سے متأثر ہوکر اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ان سے نکاح کردیا اوراس کے بعد خداوند قدوس نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو نبوت ورسالت کے شرف سے سرفراز فرمادیا۔
سوم:عزیز مصر کہ انہوں نے اپنی بیوی حضرت زلیخا کو حکم دیا کہ اگرچہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے زرخرید غلام بن کر ہمارے گھر میں آئے ہیں مگر خبردار ! تم ان کے اعزازواکرام کا خاص طو رپر اہتمام وانتظام رکھنا کیونکہ عزیز مصر نے اپنی نگاہِ فراست سے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے شاندارمستقبل کو سمجھ لیا تھا کہ گویا آج غلام

ہیں مگر یہ ایک دن مصرکے بادشاہ ہوں گے ۔(1)

(تاریخ الخلفاء ،ص۵۷وازالۃ الخفاء مقصد۲،ص۳۳)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!