نمازِاستسقاء کے آداب

نمازِاستسقاء کے آداب(۱)

نمازِ استسقاء سے پہلے روزہ رکھا جائے، توبہ میں جلدی کی جائے، بقدرِ استطاعت ظلم روکنے کی پوری پوری کوشش کی جائے، ایک دوسرے پربرتری نہ جتائی جائے، نمازِ استسقاء کے لئے نکلنے سے پہلے غسل کیاجائے، خاموشی کی عادت بنائی جائے اور اُس حالت پرغوروفکرکیاجائے جس کی وجہ سے بارش روک دی گئی،ان گناہوں کا اعتراف کیا جائے جن کی وجہ سے یہ سزا ملی اور آئندہ ان گناہوں کونہ کرنے کا پختہ ارادہ کیا جائے، خطبہ سننے کے لئے خاموشی اختیارکی جائے، تکبیرات کے درمیان کثرت سے تسبیحات وغیرہ کی جائیں،استغفارکی کثرت کی جائے،اوردعاکرتے ہوئے چادر کوپلٹ دیاجائے (یعنی اوپرکاکنارہ نیچے اورنیچے کااوپرکردے کہ حال بدلنے کی فال ہو)۔

1۔۔۔۔۔۔ صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ”بہارِشریعت” میں نقل فرماتے ہیں: ”استسقا دعاواستغفارکانام ہے۔استسقاکی نمازجماعت سے جائز ہے،مگرجماعت اس کے لئے سنت نہیں، چاہیں جماعت سے پڑھیں یاتنہا تنہادونوں طرح اختیارہے۔” (بہارشریعت،حصہ چہارُم،ج۱،ص۷۹۳، مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *