موئے مبارک

موئے مبارک
سر مبارک کے بال نہ تو بہت گھونگر والے تھے اور نہ بہت سید ھے بلکہ دونوں کے بین بین (7) تھے۔ان بالوں کی درازی میں مختلف روایتیں آئی ہیں ۔کانوں تک، کانوں کے نصف تک، کا نوں کی لوتک، شا نہ مبارک کے نزدیک تک، شانوں تک۔ ان سب روایتوں میں تطبیق یوں ہے کہ ان کو مختلف اوقات واحوال پر محمول کیا جائے۔ یعنی جب آپ کٹوا دیتے تو کان تک رہ جاتے پھر بڑھ کر نصف گو ش یانر مۂ گوش (8) یا شانہ تک پہنچ جا تے۔ اگر مو ئے مبارک خود بخود پراگند ہ
ہو جاتے (1) تو آپ ان کو دو حصے بطورمانگ کر لیتے اور اگر ازخود نہ بکھر تے تو بحال خود رہنے دیتے اور بہ تکلف مانگ نہ نکالتے۔
ڈاڑھی مبارک گھنی تھی اسے کنگھی کر تے اور آئینہ دیکھتے اور سونے سے پہلے آنکھوں (2) میں تین تین بار سرمہ ڈالتے۔ مونچھ مبارک کو کٹوایاکرتے اور فرماتے (3) تھے کہ مشرکین کی مخالفت کرو۔ یعنی ڈاڑ ھیوں کو بڑھاؤ اور مو نچھوں کو خوب کٹواؤ۔ (4) اخیر عمر شریف میں آپ کی ریش مبارک (5) اور سر مبارک میں قریباً بیس بال سفید تھے۔ گلے اور ناف کے درمیان بالوں کا ایک بار یک خط تھااس کے سوا شکم مبارک اور پستان مبارک پر بال نہ تھے۔ دونوں بازوؤں اور شانوں اور سینہ مبارک کے بالائی حصہ میں بال زیادہ تھے۔ موئے مبارک کا باقی حال آثار شریفہ کی تعظیم کے تحت میں آئے گا۔ اِنْ شآء اللّٰہ تعالٰی۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!