مصیبت کے وقت کپڑے پھاڑنے والاہم سے نہیں

مصیبت کے وقت کپڑے پھاڑنے والاہم سے نہیں

Advertisement

رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:لَیْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَمَنْ سَلَقَ وَمَنْ خَرَقَیعنی جو سر منڈائے،چیخیں مار ے اورکپڑے پھاڑے وہ ہم سے نہیں۔(ابوداؤد، کتاب الجنائز،باب فی النوح،۳/۲۶۰،حدیث:۳۱۳۰)
سر منڈانے سے مراد موت پر غم کے لئے سر منڈانا مراد ہے، مُفَسِّرِشَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان ’’جوسر منڈائے‘‘کے تحت لکھتے ہیں :اس سے معلوم ہورہا ہے کہ عرب میں بھی کسی کی موت پر سر منڈانے کا رواج تھا۔ {مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں:}خیال رہے کہ صحابہ کرام ایسی حالت میں تبلیغ اور اپنے بال بچوں کی اِصلاح سے غافِل نہیں رہتے تھے۔(مراٰۃ المناجیح،۲/ ۵۰۲۔۵۰۳)

میں اس سے بیزارہوں

رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر،محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:میںاس سے بیزارہوں جوسر منڈائے اور چلاکر روئے اور گریبان چاک

کرے ۔ ( مسلم،کتاب الایمان،باب تحریم ضرب الخدود،ص۶۶،حدیث:۱۰۴)

عمدہ کپڑے پہن لئے (حکایت )

حضرتِ سیِّدُنا ثابِت بُنانی قُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانیفرماتے ہیں :تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا مُطَرِّف رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے شہزادے حضرتِ سیِّدُنا عبد اللّٰہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکا انتقال ہوگیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا مُطَرِّف رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہعمدہ کپڑے زیب تن کئے ، تیل لگائے لوگوں کے پاس آئے ۔ وہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکو اس حالت میں دیکھ کر بڑے سیخ پا ہوئے اور بولے : تمہارے بیٹے کا انتقال ہوا ہے اور تم ان کپڑوں میں اور تیل لگائے گھوم رہے ہو ؟ فرمایا : تو کیا میں کم ہمتی کا اظہار کروں ؟ میرے رب عَزَّوَجَلَّنے مجھے تین انعامات دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور ہر انعام مجھے دنیا وَمَا فِیْھاسے زیادہ محبوب ہے ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اَلَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾ؕ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ ۟ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہۡتَدُوۡنَ﴿۱۵۷﴾ (پ۲، البقرۃ: ۱۵۶ ۔۱۵۷)
(ترجمہ کنز الایمان : کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللّٰہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ۔ یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دُرودیں ہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں ) ۔ (منہاج القاصدین،کتاب الصبروالشکر،ص۱۰۵۵)

غم سہنے کا ذہن بنا لیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں ہر مصیبت پر صبر کرنا چاہئے اور ثواب کا حق دار بننا چاہئے ،مصیبت پر صبر کیلئے خود کو تیارکرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بڑی بڑی مصیبتوں کا پہلے ہی سے تصوُّر کر کے صبر کا عزم کر لیا جائے ۔ مثلاً یہ تصور کر لیا جائے کہ اگر گھر میں میرے جیتے جی کسی کی فوتگی ہو گئی تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ میں صبر کروں گا ، ہمارے بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین فرمایا کرتے :’’جس کو صبر نہ آئے وہ تکلفاً صبر اختیار کرے ۔‘‘ نیز پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطَفٰیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے :جو تکلفاً صبر کرے گا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کو صبر عطا فر ما دے گا اور کسی کو صبر سے بڑھ کر خیر اور وسعت والی چیز عطا نہیں کی گئی۔(بخاری،کتاب الزکوۃ،باب الاستعفاف عن المسا ئلۃ،۱/ ۴۹۶،حدیث:۱۴۶۹)

جنات نے غم خواری کی (حکایت )

حضرت ابو خلیفہ عبدی علیہ رحمۃا للّٰہ الھادی فرماتے ہیں کہ میرا چھوٹا سابچہ فوت ہوگیا جس کا مجھے بہت سخت صدمہ ہوا اورمیر ی نیند اچاٹ ہوگئی۔ خدا کی قسم!میں ایک رات اپنے گھر میں اپنے بستر پر تھا ۔میرے علاوہ گھر میں کوئی نہ تھا ۔میں اپنے بیٹے کی سوچوں میں گُم تھا کہ اچانک گھر کے ایک کونے سے کسی نے بڑے پیار سے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ یَا اَبَا خَلِیْفَۃَ ۔میں نے گھبراہٹ کے عالم میں کہا وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ۔ پھر اس نے سورئہ آل عمران کی آخری آیتیں

تلاوت کیں جب وہ اس آیت پر پہنچا:
وَمَا عِنۡدَ اللہِ خَیۡرٌ لِّلۡاَبْرَارِ ﴿۱۹۸﴾ (پ ۴،آل عمران: ۱۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اللّٰہ کے پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا ۔
تو اس نے مجھے پکارا:’’ اے ابو خلیفہ!‘‘میں نے کہا:’’ لَبَّیْک‘‘ اس نے پوچھا: ’’کیاتم یہ چاہتے ہو کہ صرف تمہارے بیٹے ہی کے لیے زندگی مخصو ص رہے اور دوسرے کے لیے نہیں ؟کیا تم اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے نزدیک زیادہ شان والے ہو یا رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں؟حضوراقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بھی تو فوت ہوئے تو حضورِ انورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا آنکھیں آنسو بہارہی ہیں دل غمگین ہے ہمیں کوئی ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جو اللّٰہ تعالٰی کو ناراض کردے۔ کیا تم اپنے بیٹے کو موت سے محفوظ رکھنا چاہتے ہو؟جبکہ تمام مخلوق کے لئے موت لکھی جاچکی ہے ، یا تم چاہتے ہو کہ تم مخلوق کے متعلق اللّٰہ تعالٰی کی تدبیر کورد کردو۔ اللہ کی قسم !اگر موت نہ ہوتی توزمین اتنی وسیع نہ ہوتی اگر دکھ اورغم نہ ہوتے تو مخلو ق کسی عیش سے فائدہ نہیں اٹھاسکتی۔‘‘ پھر اس نے کہا : ’’تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے ؟‘‘میں نے پوچھا :’’تم کون ہو؟اللّٰہ تعالٰیتم پر رحم فرمائے ۔‘‘ اس نے انکشاف کیا:’’ میں تیرے پڑوسی جنوں میں سے ایک ہوں۔‘‘ (موسوعۃ امام ابن ابی الدنیا،۲/۴۵۳،رقم:۴۰ ملخصا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!