مسلمان کے ساتھ بد دیانتی کرنے والا ہم سے نہیں

مسلمان کے ساتھ بد دیانتی کرنے والا ہم سے نہیں

Advertisement

سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللّہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ مُسْلِمًا أَوْضَرَّہُ أَوْ مَاکَرَہیعنی جس نے کسی مسلمان

کے ساتھ بددیانتی کی یا اسے نقصان پہنچایا یا دھوکا دیا وہ ہم سے نہیں۔(جامع الاحادیث،۶/۱۹۰،حدیث:۱۸۰۹۶)

قیمت بڑھ جانے پر بھی نہ بڑھائی

حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے باداموں کا ایک ’’کُرّ‘‘ (ایک پیمانے کانام) 60 دینار میں خریدا اور اپنے روزنامچے (ہرروزکے حساب لکھنے کی کتاب ) میں اس کا نفع تین دینار لکھ دیا ، گویا کہ انہوں نے ہر دس دینار پر صرف آدھا دینار نفع لینا بہتر خیال فرمایا ۔ کچھ ہی دنوں میں باداموں کا ایک ’’کُرّ‘‘90 دینار کا ہو گیا ۔ دَلّال (کمیشن ایجنٹCommission Agent/) آیا اور اس نے بادام طلب کئے ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا : لے لو ! ۔ اُس نے پوچھا : کتنے کے ؟ فرمایا : 63 دینار کے ۔ دَلاّل بھی نیک لوگوں میں سے تھا ، اس نے کہا : اس وقت یہ بادام 90 دینار کے ہو چکے ہیں ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا : میں نے ایک عہد کیا ہے جسے میں ہرگز نہیں توڑ سکتا ، لہٰذا میں انہیں63 دینار میں ہی فروخت کروں گا ۔ دلّال نے جواب دیا : میں نے بھی اپنے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مابین اس بات کا عہد کررکھا ہے کہ کسی مسلمان کو دھوکا نہیں د وں گا ۔ اس لئے میں آپ سے یہ بادام90دینار میں ہی خریدوں گا ۔(احیاء علوم الدین ، ۲ /۱۰۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو مسلمانوںکا خیر خواہ بنائے ،اس کو نقصان پہنچانے یا دھوکہ دینے سے بچائے ۔ جو خوش نصیب دعوتِ

اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جاتا ہے وہ لوگوں کو تکلیف دینے ، مسلمانوں کا مال لوٹنے جیسے بڑے بڑے گناہوں سے تائب ہو کر سنتو ں کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والا بن جاتا ہے چنانچہ

میں چوریاں کرتا تھا

(پنجاب ،پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی اپنی زندگی کے سابقہ احوال کچھ اس طرح قلم بند کرتے ہیں : گھر میں مذہبی ماحول ہونے کے باوجود افسوس اسلامی اَحکام کی بجاآوری سے کوسوں دور تھا ۔ چند روپے کی خاطر چوریاں کرنا،راہ گیروں کی جیبیں صاف کرنااور ان کے مال کو ہڑپ کر جانا میرا شیوہ بن چکا تھا ۔ شایدیہ اچھی صحبت سے دوری کا نتیجہ تھا جس کی وجہ سے میں برائیوں کے سمندر میں ڈوبتا جارہاتھا۔ہوا کچھ اس طرح کہ مدنی ماحول سے منسلک ایک باعمامہ اسلامی بھائی جو سفید لباس زیب تن کئے ہوئے تھے میرے پاس تشریف لائے اور نہایت ہی محبت بھرے انداز میں سلام و مصافحہ کرنے کے بعد مجھے نیکی کی دعوت دینے لگے اور آخرت کی ہمیشہ رہنے والی زندگی کوسنوارنے کے لئے اعمال صالحہ کرنے کی ترغیب دلانے لگے ۔ دوران گفتگو بذریعہ انفرادی کوشش انہوں نے مجھے دعوت اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کی دعوت دی۔ یوں اجتماع کی حاضری کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ اجتماع کی برکت سے آہستہ آہستہ دعوت اسلامی کی محبت دل میں گھر کرتی چلی گئی ۔شیخ طریقت ،امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا نورانی جلوہ خواب میں دیکھا تو میرا
ایمان تازہ ہوگیا ۔آپ انتہائی سادہ مگر صاف وشفاف لباس زیب تن کئے اور سبز عمامہ کا تاج سجائے ہوئے تھے، آپ کے چہرے پر بزرگی کے آثار نمایاں نظر آرہے تھے ، پھر وہ وقت بھی آیا کہ میں نے سر کی آنکھوں سے دیدارِامیرِ اہلسنّت کا شرف پایا ، دولتِ دیدار ملنے کے بعد نسبت ِعطار سے مشرف ہونے کے لئے بے قرار ہوگیا اور جلد ہی آپ دامت برکاتہم العالیہ کے دامن سے وابستہ ہوکر عطاری بن گیا ۔ نسبتِ عطار حصے میں کیا آئی میری زندگی میں سنتوں کی بہار آگئی ، چہرے پر داڑھی سجالی ، سر پر سبز عمامہ شریف پہن لیا اور مدنی حلیہ بھی اپنا لیا تادمِ تحریر شہر مشاورت میں مدنی انعامات کا ذمہ دار ہوں اور مدنی کام کرنے کے لئے کوشاں ہوں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!