Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مسلمانوں کو ایمان پر ثابت قدمی کا حکم کفر کرنے والا دور کی گمراہی میں جا پڑا

مسلمانوں کو ایمان پر ثابت قدمی کا حکم کفر کرنے والا دور کی گمراہی میں جا پڑا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(۱۳۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے نازل کی (ان سب پرہمیشہ)ایمان رکھو اور جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کو نہ مانے تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں جاپڑا ۔ (النسآء : ۱۳۶)
( اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ : الله اور اس کے رسول پرایمان رکھو ۔) یہاں اہلِ ایمان کو مخاطب کرکے فرمایا : ’’ اٰمِنُوْا ‘‘’’ایمان لاؤ‘‘ اگر یہ خطاب حقیقی مسلمانوں کو ہے تو اس کا معنیٰ ہوگا کہ ایمان پر ثابت قدم رہو ۔ اور اگر یہ خطاب یہود و نصاریٰ سے ہو تو معنیٰ یہ ہوں گے کہ اے بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لانے والو! تم مکمل ایمان لاؤ یعنی تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر جن میں قرآن اور محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی داخل ہیں ۔ اور اگر یہ خطاب منافقین سے ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اے ایمان کا ظاہری دعویٰ کرنے والو ! اخلاص کے ساتھ ایمان لے آؤ ۔ یہاں جو فرمایا گیا کہ رسول اور کتاب پر ایمان لاؤ تو رسول سے سیدُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور کتاب سے قرآنِ پاک مراد ہے ۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ اہلِ ایمان کا لفظ حقیقی معنیٰ کے اعتبار سے موجودہ زمانے میں صرف مسلمانوں پر بولا جاسکتا ہے ، کسی اور مذہب والے پر خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی اس لفظ کو نہیں بول سکتے ۔ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ تم الله عَزَّوَجَلَّپر اور اس کے رسول، محمد مصطفیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اور قرآن پر اور اس سے پہلی ہر کتاب اور رسول پر ایمان لاؤ ۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے مگر عمل صرف قرآن شریف پر ہی ہوگا ۔ ان کتابوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بھیجی ہوئی کتابیں ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!