محبت و عشق

محبت و عشق:

رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت واجب ہے۔چنانچہ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اﰳقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ (۲۴) (توبہ، ع۳)
کہہ دیجئے اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا قبیلہ و کنبہ اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے مندا ہونے سے تم ڈرتے ہو اور گھر جو تم پسند رکھتے ہو تمہارے نزدیک اللّٰہاور اسکے رسول اور اسکی راہ میں جہاد سے زیادہ پیارے ہیں تو تم انتظار کرویہاں تک کہ اللّٰہ اپنا حکم بھیجے اور اللّٰہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (۲ )
اس آیت سے ثابت ہے کہ ہر مسلمان پر اللّٰہ اور رسول کی محبت واجب ہے کیونکہ اس میں بتا دیا گیا ہے کہ تم کو اللّٰہاور رسول کی محبت کا دعویٰ ہے اس لئے کہ تم ایمان لائے ہو پس اگر تم غیر کی محبت کو اللّٰہ اور رسول کی محبت پر ترجیح دیتے

ہو تو تم اپنے دعوے میں صادق نہیں ہو۔اگر تم اس طرح محبت غیر سے اپنے دعوے کی تکذیب کرتے رہو گے تو خدا کے قہر سے ڈرو۔آیت کے اَخیر حصے سے ظاہر ہے کہ جس کو اللّٰہ و رسول کی محبت نہیں وہ فاسق ہے۔
حضرت اَنس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی مومن (کامل) نہیں بن سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں کی نسبت زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔ (بخاری، کتاب الایمان) ( ۱)
ذیل میں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں جن سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور سلف صالحین کو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کیسی محبت تھی۔
{1} ایک روز حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا کہ بیشک آپ سوائے میری جان کے جو میرے دو پہلوؤں میں ہے میرے نزدیک ہر شے سے زیادہ محبوب ہیں ۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ تم میں سے کوئی ہرگز مومن (کامل ) نہیں بن سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ۔ ‘‘ یہ سن کر حضرت عمر نے جواب میں عرض کیا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پرکتاب نازل فرمائی بیشک آپ میرے نزدیک میری جان سے جو میرے دو پہلوؤں میں ہے زیادہ محبوب ہیں ۔اس پر حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اَلْاٰنَ یَا عُمَریعنی اے عمر! اب تمہارا ایمان کامل ہوگیا۔ (صحیح بخاری) (۲ )
{2} حضرت عمرو بن العاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کا وقت آیا تو آپ نے اپنے صاحبزادے سے اپنی تین حالتیں بیان کیں ۔ دوسری حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ کوئی شخص میرے نزدیک رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے زیادہ محبوب اور میری آنکھوں میں آپ سے زیادہ جلالت و ہیبت والا نہ تھا۔میں آپ کی ہیبت کے سبب سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکتا تھا۔ ‘‘ (صحیح مسلم) (۳ )

{3} جب فتح مکہ کے دن حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے والد ابو قحافہ ایمان لائے تو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خوش ہوئے۔اس پر حضرت صدیق نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو دین حق دے کر بھیجا ہے اس (ابو قحافہ) کے اسلام کی نسبت (آپ کے چچا) ابو طالب کا اسلام (اگر وہ اسلام لاتے) میری آنکھوں کو زیادہ ٹھنڈا کرنے والا ہوتا اس واسطے کہ ابو طالب کا اسلام آپ کی آنکھ کو (بہت سے امور کی نسبت) زیادہ ٹھنڈا کرنے والا تھا۔ (۱ )
{4} حضرت ثمامہ بن اُثال یمامی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُجو اہل یمامہ کے سردار تھے ایمان لاکر کہنے لگے: ’’ اے محمد ! خدا کی قسم! میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرے سے زیادہ مبغوض نہ تھا آج وہی چہرہ مجھے سب چہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللّٰہ کی قسم ! میرے نزدیک کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ مبغوض نہ تھا۔اب وہی دین میرے نزدیک سب دینوں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللّٰہ کی قسم! میرے نزدیک کوئی شہر آپ کے شہر سے زیادہ مبغوض نہ تھا۔ اب وہی شہر میرے نزدیک سب شہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ ‘‘ (صحیح بخاری، باب وفد بنی حنیفہ ) (۲ )
{5} حضرت ہند بنت عتبہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا (زوجہ ابو سفیان بن حرب) جو حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کلیجہ چبا گئی تھیں ایمان لاکر کہنے لگیں : ’’ یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رُوئے زمین پر کوئی اہل خیمہ میری نگاہ میں آپ کے اہل خیمہ سے زیادہ مبغوض نہ تھے لیکن آج سے میری نگاہ میں رُوئے زمین پر کوئی اہل خیمہ آپ کے اہل خیمہ سے زیادہ محبوب نہیں رہے۔ ‘‘ (صحیح بخاری، باب ذکر ہند بنت عتبہ) (۳ )
{6} حضرت صفوان بن اُمیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ حنین کے دن رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے مال عطا فرمایا حالانکہ آپ میری نظر میں مبغوض ترین خلق تھے آپ مجھے عطا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ میری نظر میں محبوب ترین خلق ہوگئے۔ (جامع ترمذی۔ باب ماجاء فی اعطاء المولفۃ قلوبہم) ( ۴)

{7} فتح مکہ میں حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ابو سفیان بن حرب کو جواب تک ایمان نہ لائے تھے اپنے پیچھے خچر پر سوار کر کے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں لائے۔ حضرت عمر فاروق نے عرض کیا: اگر اجازت ہو تو اس دشمن خدا کی گردن اڑادوں ۔ حضرت عباس نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں نے ابو سفیان کو پناہ دی ہے۔ حضرت عمر فاروق نے اصرار کیا تو حضرت عباس نے کہا: اے ابن خطاب! اگر ابوسفیان قبیلہ بنو عدی میں سے ہوتے تو آپ ایسا نہ کہتے۔اس پر حضرت عمر فاروق نے کہا: اے عباس! جس دن آپ اسلام لائے آپ کا اسلام میرے نزدیک خطاب کے اسلام سے (اگر وہ اسلام لاتا) زیادہ محبوب تھا کیونکہ آپ کا اسلام رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نزدیک زیادہ محبوب تھا۔ (۱ )
{8} جنگ احد میں ایک عفیفہ ( ۲) کے باپ ، بھائی اور شوہر شہید ہوگئے۔اسے یہ خبر لگی تو کچھ پروا نہ کی اور پوچھا کہ یہ تو بتاؤ کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیسے ہیں ؟ جب اسے بتا دیا گیا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبحمد اللّٰہ بخیر ہیں تو بولی کہ مجھے دکھادو! حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کو دیکھ کر کہنے لگی: کُلُّ مُصِیْبَۃٍ بَعْدَکَ جَلَلٌ ۔ تیرے ہوتے ہر ایک مصیبت ہیچ ہے۔ (۳ ) (سیرت ابن ہشام) ؎
بڑھ کر اُس نے رُخِ اَقدس کو جو دیکھا تو کہا تو سلامت ہے تو پھر ہیچ ہیں سب رَنج و اَلم
میں بھی اور باپ بھی شوہر بھی برادر بھی فدا اے شہ دیں ترے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم
{9} حضرت عبد الرحمن بن سعد کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا پاؤں سن ہوگیا۔ان سے یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ آپ کے نزدیک جو سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے اسے یاد کیجئے۔یہ سن کر آپ نے کہا: یا محمد ! (۴ ) (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) (اور آپ کا پاؤں اچھا ہوگیا) ( ۵)

{10} حضرت بلال بن رَباح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کا وقت آیا تو ان کی بیوی نے کہا: وَا حُزْنَا (ہائے غم) یہ سن کر حضرت بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا: وَا طَرَبَاہ غَدًا اَ لْقی الْاَحِبَّۃَ محمد ا وَ حِزْبَہ ۔ ( ) وارے خوشی! میں کل دوستوں یعنی محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اور آپ کے اصحاب سے ملوں گا۔ ( ۱)
{11} جب ۷ ھ میں قبیلہ اشعریین میں سے حضرت ابو موسیٰ وغیرہ مدینہ شریف کو آئے تو زیارت سے مشرف ہونے سے پہلے پکار پکار کر یوں کہنے لگے: غَدًا نَلْقِی الْاَحِبَّۃَ محمد ا وَ حِزْبَہ۔ہم کل دوستوں یعنی محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے دوستوں سے ملیں گے۔ (۲ )
{12} جنگ اُحد کے بعد قبیلہ عضل و قارَہ کے چند اشخاص آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کہنے لگے کہ آپ اپنے چند اصحاب کو ہمارے ساتھ روانہ کردیں تاکہ وہ ہم کو اسلام کی تعلیم دیا کریں ۔ آپ نے مرثد بن ابی مرثد، خالد بن بکیر، عاصم بن ثابت، خبیب بن عدی، زید بن ( ۳) دَثِنِّہ اور عبد اللّٰہ بن طارق کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ جب وہ آب رجیع پر پہنچے تو انہوں نے بے وفائی کی اور قبیلہ ہذیل کو بلالیا اور ہذیل کے ساتھ مسلح ہوکر ان اصحاب کو گھیر لیااور کہا کہ خدا کی قسم! ہم تم کو قتل کرنا نہیں چاہتے۔ ہم تمہارے عوض میں اہل مکہ سے کچھ لینا چاہتے ہیں ۔ حضرت مرثد و خالد و عاصم نے اپنے تئیں دشمنوں کے حوالے نہ کیااور مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ باقی تینوں کے ہاتھ انہوں نے جکڑ لئے۔جب ظہران میں پہنچے تو عبد اللّٰہ بن طارق نے اپنا ہاتھ نکال لیا اور تلوار ہاتھ میں لی۔ دشمن پیچھے ہٹ گیا اور دور سے پتھر پھینکتے رہے یہاں تک کہ حضرت عبد اللّٰہ شہید ہوگئے۔ باقی دو کو انہوں نے قریش کے ہاتھ بیچ دیا۔ چنانچہ حضرت زید کو صفوان بن امیہ نے خریدا تاکہ ان کو اپنے باپ امیہ بن خلف کے بدلے قتل کردے۔ صفوان نے
حضرت زید کو اپنے غلام نسطاس کے ساتھ تنعیم بھیج دیا۔حضرت زید کو قتل کرنے کے لئے حد حرم سے باہر لے گئے تو ابو سفیان نے (جو اب تک اسلام نہ لائے تھے) ان سے یوں کہا: ’’ اے زید! میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم یہ پسندکرتے ہو کہ اس وقت ہمارے پاس بجائے تمہارے محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہوں جن کو ہم قتل کردیں اور تم آرام سے اپنے اہل میں بیٹھو ۔ ‘‘
حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا: ’’ اللّٰہ کی قسم! میں پسند نہیں کرتا کہ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم اس وقت جس مکان میں تشریف رکھتے ہیں ان کو ایک کانٹا لگنے کی تکلیف بھی ہو، اور میں آرام سے اپنے اہل میں بیٹھا رہوں ! ‘‘
یہ سن کر ابو سفیان نے کہا: ’’ میں نے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ دوسروں سے ایسی محبت رکھتا ہو جیسا کہ محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے اصحاب محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے رکھتے ہیں ۔ ‘‘
اس کے غلام نسطاس نے حضرت زید کو شہید کردیا۔رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (سیرت ابن ہشام بروایت ابن اسحاق)

________________________________
1 – صحیح البخاری،کتاب الایمان، باب حب الرسول من الایمان، الحدیث:۱۵، ج۱، ص۱۷۔علمیہ
2 – صحیح البخاری،کتاب الأیمان والنذور،باب کیف کانت یمین النبی، الحدیث: ۶۶۳۲،ج۴، ص۲۸۳ والشفاء، القسم الثانی فیما یجب علی الانام، الباب الثانی فی لزوم محبتہ، ج۲ ص۱۹۔علمیہ
3 – صحیح مسلم ،کتاب الأیمان،باب کون الاسلام یھدم ما قبلہ ۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۹۲، ص۷۴-۷۵ ۔علمیہ

________________________________
1 – بیہقی و بزار۔ اصابہ، ترجمہ ابو طالب بحوالہ ابن اسحاق۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ،حرف الطاء المھملۃ،اصابۃ،۱۰۱۷۵ ابوطالب،ج۷،ص۲۰۰-۲۰۱ ۔علمیہ)
2 – پارسا عورت۔
3 – السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، غزوۃ احد، ص۳۴۰ ۔علمیہ
4 – الادب المفرد للبخاری، باب مایقول الرجل اذاخدرت رجلہ۔
5 – الأدب المفرد للبخاری،باب ما یقول الرجل اذاخدرت رجلہ،الحدیث:۹۹۳،ص۲۶۲ ۔علمیہ

________________________________
1 – شفاء شریف۔
2 – الشفاء، القسم الثانی فیما یجب علی الأنام، الباب الثانی۔۔۔الخ، فصل فی علامات محبتہ،ج۲،ص ۲۳ ۔علمیہ
3 – زرقانی علی المواہب بحوالہ امام احمد وغیرہ۔ (الشفاء، القسم الثانی فیما یجب علی الأنام، الباب الثانی۔۔۔الخ، فصل فی علامات محبتہ،ج۲،ص ۲۵۔علمیہ)
4 – سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ’’ زید بن مثنہ ‘‘ لکھا ہے یہ ہمیں نہیں ملا البتہ’’ السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، اسد الغابۃ ، المستدرک علی الصحیحن للحاکم‘‘اور حدیث و سیرت کی دیگرکتب میں ’’ زَید بن دَثِنَّہ ‘‘ہے لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے یہاں ’’ زَید بن مثنہ ‘‘کے بجائے ’’ زَید بن دَثِنَّہ ‘‘ لکھا ہے ۔و اللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب ۔علمیہ

________________________________
1 – السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ،غزوۃ احد، ذکر یوم الرجیع فی سنۃ ثلاث،ج۳، ص۳۶۹- ۳۷۱ ۔علمیہ

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *