مادر پدر آزادی کی نحوست اور بگڑتی صورتِ حال

مادر پدر آزادی کی نحوست اور بگڑتی صورتِ حال

Advertisement

پیارے اسلامی بھائیو! اپنے پاکیزہ مذہب اسلام کی نکھری ستھری تعلیمات آپ نے ملاحظہ کی کہ اسلام ایک مسلمان کو اور پورے مسلم معاشرے کو کس قدر پاک و صاف اور شرم و حیاء سے بھر پور دیکھنا چاہتا ہے اس کے برعکس مغربی معاشرے کا مادر پدر آزاد ذہنیت کی بناء پر جو حال ہو رہا ہے اور مادی ترقیوں اور آسائشوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت سے حیوانیت کی سمت بڑھنے کا جو سفر جاری و ساری ہے اور اپنے نقطۂ عروج کو پہنچ چکا ہے، وہ بھی ملاحظہ ہو بد قسمتی سے گلوبلائزیشن کے اس دور میں ہماری نوجوان نسل بھی اپنی شرم و حیا کا خود گلا گھونٹ رہی ہے، نہ کوئی سمجھنے کے لئے تیار ہوتا ہے نہ کوئی سمجھانے کے لئے اور رہی سہی کسر مغربی نظریات کی لوریوں میں پروان چڑھنے والے وہاں کے بے ہودہ کلچرکو میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ کے تَوَسُّط سے مزید فروغ دے کر پوری کررہے ہیں ،

دین سے دوری کے باعث نظریاتی اور اخلاقی طور پر کمزور و نحیف مسلمانوں کی نگاہوں میں اسلامی تہذیب و تَمَدُّن، قرآنی نظریات اور نبوی تعلیمات کو فرسودہ قرار دے کر ان کے ذہنوں میں گمراہی کے بیج تسلسل کے ساتھ بو رہے ہیں ، بے حیائی پر مشتمل دنوں اور تہواروں کا رواج بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی اور ان میں سے ایک مشہور دن جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں مست ہو کر کھلم کھلا احکامِ شریعت کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ ہے۔
مغربی آزادی جس کی تقلید میں عقل سے پیدل ہوکر بعض مسلمان بھاگ رہے ہیں اس کا نقشہ اور بھیانک نتائج ذکر کر دینا ضروری ہے تاکہ حقیقت نگاہوں کے سامنے آئے اور اپنے کئے پر اور جن کے پیچھے لگ کر یہ حال ہورہا ہے اس پر افسوس و ندامت شاید کسی کے دل میں پیدا ہوجائے۔
علامہ بدر القادری مصباحی مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی جو طویل عرصے سے یورپ کے ایک ملک میں دین کی خدمت کے لئے مصروف کار ہیں اور وہاں کے حالات سے اچھی طرح واقف ہیں اپنی کتاب ’’آدابِ زندگی‘‘ میں لکھتے ہیں :
آپ جانتے ہیں ترقی یافتہ دنیا کسے کہتے ہیں ؟
جہاں شراب پینا فیشن اور اُمُّ الخبائث کو بقائے صحت کی ضمانت سمجھا جائے۔
قمار بازی (جوا کھیلنا) اعلیٰ سوسائٹی کا فرد ہونے کی سند ہو۔
ناچ، رقص، اچھل کود، دَھما چوکڑی شور و شر میں ہر نوجوان لڑکا اور لڑکی از خود رفتہ ہو۔

مذہب، دھرم اور رلیجن جہاں طاقِ نسیاں میں رکھی ہوئی فرسودہ کتاب سمجھی جائے۔
تعلیم کے نام پر جہاں اسکولوں اور کالجوں میں بے حیائی اور بد تمیزی کا کوئی عمل دیکھنے سے رہ نہ جائے۔
رات گئے دیر کو لوٹتے ہوئے ہر نوجوان لڑکا اس شب کی من پسند لڑکی کو بھی بغل کرکے لانے میں آزاد ہو۔
یا لڑکی کلب سے لوٹتے ہوئے ساتھ آئے اپنے نوجوان دوست کا چہک چہک کر گھر والوں سے تعارف کرانے میں کوئی باک نہ محسوس کرے۔
جہاں سنِّ شعور کو پہنچنے سے پیشتر ہی لڑکے اور لڑکیاں جنسی اِختلاط کے فطری اور غیر فطری طریقہ آزما چکیں ۔
جہاں شادی بیاہ، خاندان، حمل اور ولادت کو فرسودہ طریقہ اور بلاوجہ کی زحمت سمجھا جائے۔
جہاں مرد ہر رات عورتیں بدلتے اور عورت ہر شب نیا بوائے فرینڈ منتخب کرنے میں آزاد ہو۔
اسقاطِ حمل اور اولادِ زنا کی پرورش کے جملہ انتظامات حکومت اپنا ذمہ سمجھے۔
جہاں مردوں کو مردوں کے ساتھ اور عورتوں کو عورتوں کے ساتھ ہم جنسی کی آزادی ہی نہیں بلکہ قانونی تحفظ بھی حاصل ہو۔
جہاں انسانی اخلاق کا معیار اتنا گرجائے کہ بوڑھے بوڑھیاں اولاد سے
زیادہ کتے بلیوں کو فرمانبردار سمجھنے لگیں ۔
جہاں ایسے واقعات عام ہوں کہ متعدد اولاد رکھنے کے باجود ماں یا باپ تنہا ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجائے، جب لاش سے تعفن اٹھے تو پڑوسیوں کے ذریعہ اولاد کو اس کی موت کا علم ہو۔
یہ ہے ترقی یافتہ دنیا کی آزادی اور ترقی کا مختصر خاکہ(1)
غور کیجئے! اس قسم کے آزاد معاشرے اور اس میں جنم لینی والی برائیوں سے مسلم معاشرہ کیوں محروم ہے اس فکر میں مغربی مفکرین اور اسلام دشمن قوتیں ہر لمحہ مصروف رہتی ہیں اور ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ جیسے دنوں کے نام پر اپنی ان خرافات سے مسلم دنیا کو بھی روشناس کرانا چاہتی ہیں اور جانتی ہیں کہ موجودہ حالات میں اکثر مسلمان دین سے اور دینی تعلیمات سے دور ہیں اور نفس و شیطان کے مکر و فریب میں بآسانی مبتلا ہوجاتے ہیں اس لئے ایک ایک دن کی حد تک ہی سہی جب ہماری طرح جدت و لذت کے نشہ میں مدہوش ہو کر بے حیائی و بے پردگی اور وہ بھی سرعام کریں گے تو پھر ا س لت سے پیچھا چھڑانا ان کے لئے مشکل ہوجائے گا اور آہستہ آہستہ یہ برائیاں ان کے معاشرے میں بھی جڑ پکڑ لیں گی اور دیمک کی طرح اسے چاٹتی رہیں گی چونکہ دینی و روحانی پاکیزگی سے روشناس کرانے والے علمائے حق جو ان کے معالج بھی ہیں اور رہبر بھی ان سے تو پہلے ہی قوم دور ہے اس لئے ان کا سمجھانے کا ان پر اثر تو کم ہی ہوتا ہے ان بے حیائیوں کے باعث ان سے مزید دور ہوکر ان کی برکات سے مزید محروم ہوجائے گی پھر اس لاعلاج مرض کا علاج ان

کے بس میں نہ رہے گا بد قسمتی سے کافی حد تک وہ اپنے اس ناپاک منصوبے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں ۔
شرم و حیا کے پیکر، نبیوں کے سرور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کلمہ پڑھنے والے میرے پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھو! حقیقی ترقی ان یورپین خرافات میں نہیں بلکہ اسلامی برکات میں ہے ۔
مغربی معاشرے کی مادر پدر آزاد ی کی یہ جھلکیاں اس لئے نقل کی ہیں تاکہ جو لوگ یہ کہہ کر سمجھانے والوں سے جان چھڑا لیتے ہیں کہ ’’تھوڑا بہت تو چلتا ہے، تہوار ہی تو ہے، ایک ہی دن کی تو بات ہے، ہم کونسے پاک و صاف ہیں ‘‘ اس طرح کے بیباکی اور ناانصافی کے ساتھ جملے ادا کرنے والوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سنجیدگی کے ساتھ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ دین سے محبت اور اس کے احکام اور مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دیئے ہوئے نظام کے مطابق زندگی گزارنے سے محبت کرنے والا طبقہ ان کے بھلے کی بات کر رہا ہے اگر وہ آج ہنس ہنس کر گناہ کریں گے تو کل ان کی اولاد یا اولاد کی اولاد ان مصائب اور گناہوں کی نحوست کی بناء پر دنیا میں بھی آفات کا شکار ہو گی اور آخرت کی تباہی اس پر مزید ہوگی۔
پیارے اسلامی بھائیو! آپ سے اتنی گزارش آخر میں ضرور کرونگا کہ غیر مسلم تو ہمارے نبی مکرم و محتشم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی توہین کے در پے ہوں اور آئے دن مسلمانوں کے دلوں کو توہین آمیز خاکوں سے چھلنی کریں اور مسلمان جو یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ سرکار کے نام پر جان بھی قربان ہے اور ہر بے ادب کی بے ادبی اور شرارت پر سراپا احتجاج ہوتے ہیں اور حقیقتاً اور ایماناً ایسا ہونا بھی چاہئے کہ ہماری عقیدتوں اور محبتوں

کا مرکز نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ مبارکہ ہے ان کی مبارک پُرنور ہستی سے مسلمانوں کو جذباتی وابستگی ہے اوران سے وہ اپنے ماں باپ اولاد بلکہ اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں اور اس کا حکم حدیث شریف میں مسلمانوں کو دیا بھی گیا ہے تو جان سے بڑھ کر عزیز ہستی اللّٰہ کے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں ادنیٰ توہین برداشت نہ کرسکنا بلاشبہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے مگر اس پہلو پر تو غور کیجئے کہ آج کے مسلمان بالخصوص ہمارے نوجوان انہیں غیر مسلموں کے ایجاد کردہ گناہوں سے بھرپور رسم و رواج اور دنوں، تہواروں کے ناپاک واروں کا شکار ہوجائیں جیسا کہ ویلنٹائن ڈے اور اس دن ہونے والے گناہوں کی مذمت پر قرآن و حدیث اور عقلِ صحیح کی روشنی میں اوپر کافی تفصیل بیان کی گئی کہ اس روز بد نگاہی بے پردگی ناجائز تحائف کا لین دین اور شراب و کباب، زنا و لواطت اور اس کے دواعی ہر قسم کی برائیاں عام ہوتی ہیں اور مسلمان بھی اس میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں ۔ اس لئے خدارا ہوش کریں کہ شیطان کے آلہ کاروں کے نقشِ قدم پر چلنا جہنم کی راہ ہے لہٰذا اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے محبوب سے شرم کرتے ہوئے اس دن اور اس کے علاوہ زندگی بھر بے حیائی بے پردگی فسق و فجور سے توبہ کرلیجئے اور آئندہ شریعت کے احکامات کی پابندی ستھری اسلامی زندگی گزارنے کا پختہ عزم کرلیجئے۔
اللّٰہ کرے دل میں اُتر جائے مری بات

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!