لعاب دَہَن مبارک

لعاب دَہَن مبارک

Advertisement

حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے منہ مبارک کا لعاب زخمی اور بیماروں کے لئے شفاء تھا چنانچہ فتح خیبر کے دن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا لعابِ دَہن حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی آنکھوں

میں ڈال دیا تو وہ فوراً تندر ست ہو گئے گویا درد چشم کبھی ہواہی نہ تھا۔
غار ثور میں حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاؤں کو کسی چیز نے کاٹ کھایا۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا لعابِ دہن زخم پر لگا یا اسی وقت درد جاتا رہا۔
حضرت رِفاعہ بن رافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ بدر کے دن میری آنکھ میں تیر لگا اور وہ پھوٹ گئی۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس میں اپنا لعاب مبارک ڈال دیا اور دعا فرمائی۔ پس مجھے ذرا بھی تکلیف نہ ہوئی اور آنکھ با لکل د رست ہو گئی۔ (1 )
حضرت محمد بن حاطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ پر ہنڈیا گر پڑی اور وہ جل گیا۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا لعاب مبارک اس پر ڈالا اور دعا کی وہ ہاتھ چنگا ہو گیا۔
حضرت عمرو بن معاذ بن جموح انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا پاؤں کٹ گیا تھا۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس پر اپنا لعابِ مبارک لگا دیا۔ وہ اچھا ہو گیا۔ (2 )
حضرت ابو قتادہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کر تے ہیں کہ غز وۂ ذی قرد (محرم ۷ھ) میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارے چہرے میں یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیاکہ ایک تیر لگا ہے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ نزدیک آؤ۔ میں نزدیک ہوا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس پر لعاب دہن لگادیا۔ اس روز سے مجھے کبھی تیروتلوارنہیں لگی اور نہ خون نکلا۔ (3 )
ایک دفعہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس پانی کا ڈول لایا گیا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے پیا۔ پس خوردہ ( 4) کوئیں میں ڈال دیا گیا۔ پس اس میں سے کستوری کی سی خوشبو نکلی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خادم حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے گھر میں ایک کوآں (1 ) تھا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا لعاب دہن اس میں ڈال دیا۔ اس کا پانی ایسا شیریں ہو گیا کہ تمام مدینہ منورہ میں اس سے بڑھ کر میٹھا کوئی کوآں ( 2) نہ تھا۔
عاشورا کے روز حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بچوں کو بلا کر ان کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈال دیتے اور ان کی ماؤں سے فرما دیتے کہ شام تک ان کو دودھ نہ دینا۔ پس وہی لعاب دہن ان کو کافی ہوتا۔ ( 3)
حضرت عامر بن کریز قریشی عبشمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے صاحبز ادے عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بچپن میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں لائے۔حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے منہ میں اپنا لعاب مبارک ڈالنے لگے اور وہ اسے نگلنے لگے۔ اس پر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ یہ مَسْقی (سیراب ) ہے۔ حضرت عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب کسی زمین (یاپتھر ) میں شگاف کیا کرتے تو پانی نکل آیا کر تا۔ ( 4)
عُتْبَہ بن فَرقَد جنہوں نے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے عہد مبارک میں موصل کو فتح کیا ان کی بیوی اُم عاصم بیان کر تی ہے کہ عتبہ کے ہاں ہم چار عورتیں تھیں ۔ہم میں سے ہر ایک خوشبو لگانے میں کوشش کر تی تھی تا کہ دوسری سے اَطیب ہو اور عتبہ کوئی خو شبو نہ لگا تا تھامگر اپنے ہا تھ سے تیل مل کر ڈاڑ ھی کو مل لیتا تھا اور ہم سب سے زیادہ خوشبودار تھا۔ جب وہ باہر نکلتا تو لوگ کہتے کہ ہم نے عتبہ کی خو شبو سے بڑ ھ کر کوئی خوشبو نہیں سو نگھی۔ ایک دن میں نے اس سے پو چھا کہ ہم استعمالِ خوشبو میں کوشش کرتی ہیں اور تو ہم سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس کا سبب کیا ہے؟ اس نے جواب دیاکہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عہد مبارک میں میرے بدن پر آبلہ ریز ے ( 5) نمودار ہوئے، میں خدمت
نبوی میں حاضر ہوا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس بیماری کی شکایت کی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ کپڑے اتا ر دو۔ میں نے کپڑے اتا ردیئے۔ (1 ) اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا لعاب مبارک اپنے دست مبارک پر ڈال کر میری پیٹھ اور پیٹ پر مل دیا۔ اس دن سے مجھ میں یہ خوشبو پیدا ہو گئی۔ ( 2) اس حدیث کو طبر انی (متوفی ۳۶۰ ھ) نے اوسط میں روایت کیا ہے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!