Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

فقہ کے باب میں مناظرۂ محدثین

فقہ کے باب میں مناظرۂ محدثین

م ک ۔ یحییٰ ابن آدم کہتے ہیں کہ کوفہ کی مسجد فقہ سے بھری ہوئی تھی ،ابن ابی لیلیٰ اور ابن شبرمہ اور حسن بن صالح اور شریک جیسے فقہاء کثرت سے تھے ،لیکن ابو حنیفہ کے مقابلہ میں اُن کی کساد بازاری ہوئی اور اُن ہی کے اقوال پر خلفاء اور حکام اور امراء فیصلہ کرنے لگے ، اور تمام بلاد میں اُن کے اقوال دائر سائر ہوئے اور اُسی پر عمل قرار پایا ۔
اس سے ظاہر ہے کہ اسی وقت تمام بلاد اسلامیہ میں عموماً امام صاحب کی تقلید اور فقہ حنفیہ پر عمل تھا اور ہر چند حاسدوں نے فکریں کیں کہ فقہ حنفیہ کو ضرر پہنچائیں مگر نہ ہوسکا ، چنانچہ کردری اور موفق ؒ نے لکھا ہے کہ فتح بن عمر والورّاق کہتے ہیںکہ جس زمانہ میں نضر بن شمیل ؒ مرو میںتھے ، میں بھی وہاں تھا ، وہاں کے بعض محدثین نے کمال تعصب سے امام صاحب کی کتابیں نہر جاری میں دھلوا ڈالیں ۔ یہ خبر خالد بن صبیح قاضی مرو کو پہونچی اور وہ اُن کے قرابت دار۔ جن میں پچاس سے زیادہ ایسے ممتاز اشخاص تھے کہ خدمت قضا کی لیاقت رکھتے تھے ۔ سوار ہو کر فضل بن سہل کے یہاں گئے اور اُن کے ساتھ ابراہیم بن رستم اور سہل بن مزاحم بھی تھے ، سب نے فضل سے اس باب میں استغاثہ کیا ، انہوں نے خلیفہ مامون کی خدمت میں عرض حال کی ، مامون نے پوچھا : وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے یہ تعدی کی ؟ کہا : کم عمر لوگ ہیں ، جن میں اسحاق بن راہویہ ‘ احمد بن زبیر اور فضل ہیں مگر نضر

بن شمیل بھی اُن کے ساتھ ہیں۔ حکم ہوا کہ کل دونوں جماعتوں کے لوگوں کو مناظرہ کے لئے دربار میں حاضر رکھو ، میں خود دیکھوں گا کہ کس کی حجت قوی ہے اور خود میں فیصلہ کروں گا ۔ یہ خبر اسحاق اور اُن کی جماعت کو پہونچی ، انہوں نے مشورت کی کہ گفتگو کون کرے گا ، نضر بن شمیل تو خلیفۃ المسلمین کے مقابلہ میں نہ کلام میں تاب لاسکتے ہیں نہ حدیث میں آخر یہ رائے قرار پائی کہ احمد بن زبیر گفتگو کریں ، وقت مقرر پر جب دونوں جماعتیں حاضر دربار ہوئیں ، خلیفۃ المسلمین برآمد ہوئے اور سب پر سلام کر کے نضر بن شمیل کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا آپ لوگوں نے ابو حنیفہ کی کتابوں کو کیوں دھلوا دیا ؟ نضر نے اس کا کچھ جواب نہ دیا، احمد بن زبیر نے کہا کہ امیر المومنین ! کیا مجھے بات کرنے کی اجازت ہے ؟ فرمایا : ہاں ! اگر عمدگی سے بات کرسکتے ہو تو کرو ۔
کہا : ہم نے اُن کتابوں کو قرآن و حدیث کے مخالف پایا، فرمایاکہ کس مسئلہ میں ؟ احمد بن زبیر نے خالد بن صبیح سے ایک مسئلہ پوچھا کہ ابو حنیفہؒ کا اُس میں کیا قول ہے ؟ انہوں نے بیان کیا ، احمد نے اُس کے خلاف میں ایک حدیث پڑھی یہ سنکر خود مامون نے امام صاحب کے قول کی تائید میں کئی حدیثیں پڑھیں ، جن کو وہ لوگ جانتے بھی نہ تھے ۔ جب بہت دیر تک مناظرہ ہوا اور وہ ساکت ہوگئے تو مامون نے کہا کہ اگر فقہ کو ہم مخالف ِکتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاتے تو اُس پر عمل کرنے کی اجازت نہ دیتے ۔ پھر فرمایا : خبردار ! آئندہ کبھی اس قسم کی حرکت نہ کرنا ، اگر تم میں یہ بزرگ نہ ہوتے تو تم لوگوں کو میں ایسی سخت سزا دیتا کہ کبھی نہ بھولی جاتی ۔ اُس کے بعد خلیفۃ المسلمین مامون نے ایک مجلس کی ، جس میں دو سو فقیہ رہا کرتے ، اگر کوئی اُن میں سے مرجاتا تو تکمیل کی جاتی ، اس مجلس کے کل ارکان اجلاس شاہی میں ہمیشہ حاضر رہاکرتے تھے ۔ انتہی
معلوم نہیں نضر بن شمیل ؒ کو حاسدوں نے کس تدبیر سے اپنے ساتھ کرلیا تھا ، ورنہ وہ تو
امام صاحب کے مداحوں میں ہیں۔
بہر حال اس موقع میں بھی منجانب اللہ فقہ کی تائید ہوئی، اور خود خلیفۃ المسلمین کو وہ حدیثیں یاد آگئیں جن کی اُس معرکہ میں ضرورت تھی ۔
اہل انصاف ، اکابر محدثین کے اقوال و افعال کو امام صاحب سے متعلق بیان کئے گئے ہیں پیش نظر رکھ کر غور کریں تو یہ بات مبرہن ہوجائے گی کہ ان حضرات کی خوش اعتقادی کا اثر اُن کے اتباع اور احباب میں ضرور ہوا ، جس سے امام صاحب کو انہوں نے مقتدا مان لیا۔
یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب جس کی تعریف یا شکایت کرتے ہوں گے تقریباً کل ہندوستان میں وہ بات مسلم ہوجاتی ہوگی ، اسی طرح ابن تیمیہ کے اقوال کا ایک جماعت پر یہ اثر ہے کہ ولی کو شیطان بنا دینا ایک ادنیٰ سی بات ہے ۔ کیا اعمش ، اوزاعی، وکیع اور ابن مبارک رحمھم اللہ وغیرہ صدہا محدثین کے اقوال کا اثر ان صاحبوں کے اقوال کے برابر بھی نہ ہوگا ؟ حالانکہ اُن حضرات کے اقوال پر تمام اہل سنت و جماعت کے اعتقادات کا مدار ہے۔
غرضکہ اہل حق نے جس طرح احادیث کو انہی حضرات کے اعتبار پر مان لیاتھا ، امام صاحب کے مقتدا ہونے کو بھی انہی حضرات کے اقوال سے تسلیم کرلیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ سے آج تک قرناً بعد قرن لاکھوں علماء اور صلحاء امام صاحب کی تقلید کرتے آئے اور اس تواتر سے وہ مُسَلَّمْ مذہب ہم تک پہونچا ۔

ابویوسف کی وجہ فقہ حنفیہ شائع نہیں ہوئی

اب دیکھئے ! جو کہا جاتا ہے کہ مذہب حنفیہ ابو یوسف ؒ صاحب کی خدمت قضاء کے دباؤ سے شائع ہوا ، اس میں کس قدر اکابر محدثین کی درپردہ بے قدری ہے ۔ ادنیٰ تامل سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ قول ایسا ہے جیسے بعضے کہا کرتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلایا گیا

’’معاذ اللہ ‘‘اسلام فی نفسہ ایسا پرُزور دین ہے کہ جس کو عقل ِسلیم ہو اور اصولِ دین سے واقف ہو جائے ممکن نہیں کہ اسلام کو قبول نہ کرے۔
غرضکہ بہت سی روایتوں سے ثابت ہے کہ مخالفِ فقہ مخذول ہوتے گئے اور فقہ حنفیہ کی شہرت جمیع بلاد اسلامیہ میں بہت جلد بلکہ امام صاحب ہی کے زمانہ میں ہوگئی اور اُس کے اسباب مختلف ہوئے ، ایک سبب یہ تھا کہ نئی بات ہونے کی وجہ سے اکابر محدثین اُس کی تحقیق کی طرف متوجہ ہوئے اور بعد تحقیق جب اُس کی توثیق کی تو اوساط الناس اور عوام نے اُس کو قبول کرلیا۔
دوسرے : حاسدوں نے اس خیال سے کہ لوگ بدظن ہوں ، نئی نئی فقہ کی باتیں پہونچانے میں کوششیں کیں ، جن کو جانچ کر محدثین نے مان لیا ۔ غرض دوست ، دشمن نے نہایت سرگرمی سے ہاتھوں ہاتھ تمامی بلاد اسلامیہ میں فقہ حنفیہ کو پہونچا دیا۔
تیسرے : اکابر محدثین نے امام صاحب کے اقوال پر فتوی دیئے اور تقلید کی ، جن میں سے چند محدثین کا ذکر کیا جاتا ہے۔

اکابرِ محدثین نے امام صاحب کی تقلید کی

اب یہاں قابل توجہ یہ بات ہے کہ ’’فقہ ‘‘جس پر تمام اقسام کے اعتراض کئے جاتے ہیں کوئی نئی چیز نہیں بلکہ یہ وہی فقہ ہے جو امام صاحب ہی کے زمانہ میں علماء کے جلسوں میں پیش ہوگئی تھی ، اس کو دیکھ کر ہر طرف چہ میگوئیاں ہو رہی تھی۔ اسی کو حاسدوں نے امام صاحب کی بدنامی کا ذریعہ بنا رکھا تھا ، اسی کو دیکھ کر کوئی کہتا تھا کہ وہ قیاس کو حدیث پر مقدم رکھتے ہیں۔ کوئی کہتا تھا : وہ حدیث جانتے ہی نہیں ، اس وجہ قیاس کیا کرتے ہیں ۔ اسی کو پیش کر کے طالبین حق کو اُن کی صحبت سے روکتے تھے ، کوئی اُن کو بدعتی کہتا ، کوئی مرجی قرار

دیتا ۔ اور خدا جانے اس کے سوا کیاکیا الزام لگاتے تھے ۔ مگر ’’الحمد للہ ‘‘اسی زمانہ کے مُتَدَیِّنْ اہل حدیث نے جو تقریباً کل بعد وا لے محدثین کے اساتذہ اور معتمد علیہ جمیع اہل سنت و جماعت کے ہیں ، تمام اُن افتراؤں کو رد کر کے اُس مطعون فقہ کو مستند اور قابل اعتماد بنا دیا ۔ اور معترضین کی نسبت صاف کہدیاکہ وہ حاسد اور کم علم اور بے سمجھ لوگ ہیں اور صرف زبانی گفتگو نہیں بلکہ تقلید کر کے عملاً ثابت کر دیا کہ فقہ حنفیہ قابل تقلید ہے ۔
یہ بات اوپر معلوم ہوچکی ہے کہ وکیعؒ اوائل میں امام صاحب کے سخت مخالف تھے ، یہاں تک کہ محدثین سے کہا کرتے تھے کہ اگر تم لوگ فقہ حدیث سیکھ لو گے تو اصحاب الرائے تم پر غالب نہ آئیں گے ۔
مولانا شاہ ولی اللہ صاحب ’’حجۃ اللہ البالغۃ ‘‘میں لکھا ہے کہ سائب کہتے ہیں کہ ہم ایک بار وکیع ؒکے پاس بیٹھے تھے اور اصحاب الرائے سے بھی ایک شخص موجود تھے ، وکیع ؒ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا ہے اور ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ وہ ’’مثلہ ‘‘ ہے۔ اُس شخص نے کہا : ابو حنیفہ ابراہیم نخعیؒ سے روایت کرتے ہیں کہ اشعار مثلہ ہے ۔ سائب کہتے ہیں کہ وکیع یہ سنتے ہی غضبناک ہوگئے اور کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بیان کرتا ہوں اور تم کہتے ہو کہ ابراہیم نے کہا ؟ تم اس قابل ہو کہ قید کر دیئے جائیں ، اور جب تک اس اعتقاد سے توبہ نہ کریں رہا نہ کئے جائیں ۔
دیکھئے ! ایسی حرارت والے محدث جب امام صاحب کے حالات اور طریقۂ اجتہاد پر مطلع ہوئے تو اس قدر اُن کے معتقد ہوگئے کہ یہ آرزو کرنے لگے کے امام صاحب کے تفقہ کا عُشْرْ ہی اپنے کو حاصل ہو جائے اور اہلحدیث سے کہا کرتے تھے کہ جب تک تم اصحاب ابوحنیفہؒ کے ساتھ نہ بیٹھو اور اُن کے اقوال کی تفسیر نہ بیان کریں ، تم میں سمجھ نہ پیدا ہوگی اور حدیث کا سننا کچھ نفع نہ دیگا ۔ اور خود بھی امام صاحب ہی کے قول پر فتویٰ دیا

کرتے تھے ، جیسا کہ ’’تذکرۃ الحفاظ ‘‘میں لکھا ہے ۔
اب غور کیجئے کہ امام صاحب کے قول پر فتویٰ دینے کے معنی سوائے اس کے اور کیا ہوسکتے ہیں کہ جس طرح علماء حنفیہ امام صاحب کے قول پر فتویٰ دیتے ہیں وہ بھی دیتے تھے اور اُن کے جیسے مقلد تھے ۔
’’تذکرۃ الحفاظ ‘‘وغیرہ میں لکھا ہے کہ یحییٰ قطان ،ابو حنیفہؒ کے قول پر فتویٰ دیا کرتے تھے ۔ یحییٰ وہ شخص تھے کہ جب گفتگو کسی مسئلہ میں کرتے تو فقہاء کو ساکت کر دیتے تھے ۔
ک ۔ علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن آدم جو فن رجال کے عالم اور اُن کے اقوال کو خوب جانتے تھے ، فقہ اور حدیث سے بہت واقف تھے ۔ اُن کا میلان ابو حنیفہؒ کی طرف شدت سے تھا ۔ میلان سوا اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ امام صاحب کے قول پر فتویٰ دیتے ہوں گے۔
ک ۔ حسن بن عرفہ کہتے ہیں کہ ’’ہم جھوٹ نہ کہیں گے فقہ میں ہمارے امام ’’ابو حنیفہ‘ ‘ؒ ہیں‘‘ ۔
’’تہذیب التہذیب ‘‘میں حسن بن عرفہ کا حال لکھا ہے کہ وہ ابوداؤد و ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ کے استاذ تھے ۔ یحییٰ بن معین وغیرہ نے اُن کو صدوق کہا ہے ۔
دیکھئے ایسے مستند شیخ کی نسبت جھوٹ کا خیال کیونکر ہو سکتا تھا، مگر انہوں نے دیکھا کہ محدثین جو امام صاحب سے بدگماں ہیں کہیں مبالغہ پر اپنا کلام محمول نہ کریں ، اس لئے تصریح کر دی کہ امام صاحب کو جو ہم امام کہتے ہیں وہ جھوٹ نہیں ہے ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ بھی امام صاحب کے مقلد تھے ۔
ک ۔ مقاتل بن حیان کہتے ہیں کہ میں نے تابعین اور اُن کے بعد کے لوگوں کو دیکھا ، مگر ابو حنیفہ کے جیسا شخص نہیں دیکھا ، جس کو اُن کی سی بصیرت اور ادراک غوامض ہو ۔ وہ امام صاحب کے قول پر فتویٰ دیتے اور کہتے کہ یہ شیخ کوفی کا قول ہے ۔

م ۔ عبد العزیزرواد پر کوئی مسئلہ مشتبہ ہوتا تو امام صاحب سے لکھ کر پوچھ لیا کرتے ۔

error: Content is protected !!