Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

فقہ حنفیہ پر اُسی زمانہ میں اجماع ہوگیا تھا

فقہ حنفیہ پر اُسی زمانہ میں اجماع ہوگیا تھا

اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث فہمی کوئی اور ہی چیز ہے ، جس کی طرف اکابر محدثین محتاج تھے۔ اسی وجہ سے ابن مبارکؒ نے فرمایا ہے کہ آثار و حدیث تو ضروری ہیں ، مگر اُن کے لئے ابو حنیفہ کی ضرورت ہے ۔
یحییٰ بن مَعِین ؒ کا قول ابھی نقل کیا گیا کہ ’’الفقہ فقہ ابی حنیفۃ ، علیہ ادرکت الناس‘‘ یعنی معتبر فقہ ابو حنیفہؒ کی ہے ، اُسی پر میں نے لوگوں کو پایا ہے ۔
یحییٰ بن معین وہ شخص ہیں کہ امام احمد بن حنبلؒ اُن کی نسبت فرماتے ہیں کہ جس حدیث کو یحییٰ نہ جانتے ہوں وہ حدیث ہی نہیں ۔ اس کے سوا اور بھی اقوال مذکور ہوچکے ہیں ۔
اب غور کیا جائے کہ جب تمام دنیا کی حدیثیں اُن کو یاد تھیں تو تمام نہیں تو اکثر علماء سے تو اُن کو ملاقات ضرور تھی ، کیونکہ اُس زمانہ میں حدیثیں رجال ہی سے لیجاتی تھیں ، پھر جب وہ ’’ادرکت علیہ الناس ‘‘کہہ رہے ہیں تو اُس کا مطلب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ جاہلوں کو انہوں نے فقہ پڑھتے پڑھاتے دیکھا تھا :کیونکہ وہ فقہ کی تعریف میںجملہ کہہ رہے ہیں ، ایسے موقع میں جاہلوں کے قول و فعل سے استدلال کرنا عقل کے بالکل مخالف ہے جاہلوں کی طرف وہ امر منسوب کئے جاتے ہیں جن کی توہین مقصود ہوتی ہے ۔ اس دلیل سے یہ ماننا پڑیگا کہ ’’علیہ ادرکت الناس‘‘سے اُن کی مراد اُن کے اساتذہ اور علماء ہیں ، جن سے اُن کو ملاقات تھی اور اُن کے پورے کلام کا مطلب یہ ہوا کہ یوں تو فقہ اوروں کی بھی ہے ؛ مگر معتبر فقہ پوچھو تو ابو حنیفہ کی ہے اور یہ فقط میری رائے نہیں بلکہ علماء اور شیوخ کے ایک جم غفیر کو میں نے اُسی فقہ پر پایا ہے۔
اب غور کیجئے کہ جب اُس زمانہ کے عموماً اہل علم فقہ حنفیہ پر عمل کرتے تھے ، تو اگر یہ کہا جائے کہ اُسی زمانہ میںاجماع ہوگیا تھا کہ فقہ حنفیہ موافق حدیث ہے تو کیا نقصان ؟

یہاں شاید یہ شبہ ہوگا کہ اُس زمانہ میں بعض علماء فقہ حنفیہ کے مخالف بھی تھے ۔ تو اُس کا جواب یہ ہے کہ مخالف ، یا حاسد تھے یا کم فہم ، جیسا کہ ابن مبارک ؒ وغیرہ محدثین رحمہم اللہ کی تصریح سے ثابت ہے اورابراہیم بن رستم نے تصریح کی ہے کہ جو شخص گمان کرے کہ میں ابو حنیفہ ؒ سے مستغنی ہوں وہ جاہل ہے ۔ غرضکہ جہال ، کم فہم اور حاسدوں کے قول قابل اعتبار نہیں ہوسکتے ۔ اس وجہ سے ابن معینؒ نے ’’علیہ ادرکت الناس‘‘ مطلقاً کہدیا ۔
اور قطع نظر اس کے امام صاحب کے مخالف بھی آپ کے اقوال کا انکار نہیں کرسکتے تھے ، جیسا کہ ابو نعیمؒ کے قول سے معلوم ہوا کہ لوگ طوعاً و کرہاً اُن کے منقاد ہوتے جاتے تھے ، چنانچہ ’’الانتصار ‘‘میں یحییٰ بن آدم کا قول نقل کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ابو حنیفہؒ کے بہت سارے مسائل میں نے شریک سے سنے ہیں ، جو اُن سے روایت کیا کرتے تھے ، کسی نے کہا : اُن کو تو ابو حنیفہؒ کے اقوال پسند نہ تھے ، کہا : پسند تھے ، اور سنا بھی کرتے تھے ؛ لیکن حسد کی وجہ سے ظاہر نہیں کرتے تھے ۔ انتہی اس سے ظاہر ہے کہ گو وہ مخالف تھے ، مگر امام صاحب کے اقوال کومانتے ضرور تھے ۔
غرضکہ موافق ، مخالف سب فقہ حنفیہ کو تسلیم کر رہے ہیں ؛ یہاں تک کہ اقصائے بلاد مغرب تک فقہ حنفیہ شائع ہوگئی ۔
اہل انصاف یہاں غور فرماویں کہ فقہ حنفیہ کی نسبت جو یحییٰ بن معینؒ نے ’’علیہ ادرکت الناس‘‘کہا اور یحییٰ بن آدم نے کہا ’’علیہ استقر الامر‘‘جو سابقاً نقل کیا گیا ۔ اِن اقوال کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہوگا کہ اُس زمانہ میں فقہ حنفیہ پر اجماع ہوگیا تھا ، پھر جو بات ایسے دو گواہ عادل کی گواہی سے ثابت ہو ، کیا وہ قابل اعتماد نہ ہوگی ؟
جب ہمارے زمانہ میں معمولی دو گواہوں کی گواہی سے قصاص ثابت ہوجاتا ہے تو اُن اکابر اور شیوخ محدثین کی گواہی سے اتنی بات بھی ثابت نہ ہوگی کہ اُس زمانے میں فقہ حنفیہ

پر اجماع ہوگیاتھا ؟
ہم یہ نہیں کہتے کہ فقہ حنفیہ پر اجماع ہونے کے بعد فقہ شافعیہ وغیرہ قابل اعتبار نہیںکیونکہ ؛ وہ دوسرا مسئلہ ہے ، بلکہ ہمارا مطلب صرف یہاں اسی قدر ہے کہ ایک ایسے زمانے میں کہ محدثین کے شیوخ بکثرت موجود تھے اور احادیث کی تحقیق و تنقید کا بازار گرم تھا ۔ کوئی بے اصل بات رواج نہیں پاسکتی تھی ، ایسے شبابِ علمِ حدیث کے زمانہ میں فقہ حنفیہ پرمحدثین وغیرہ علماء کا اجماع ہونا اس بات پر دلیل بین ہے کہ وہ مخالف حدیث نہیں۔
’’تہذیب التہذیب ‘‘میں حماد بن دلیل ’’ابو زید مداینی ‘‘کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ وہ اصحاب ابوحنیفہؒ میں تھے ۔
اگرچہ اُسی میں امام احمدؒ کا قول نقل کیا ہے کہ ’’ وہ صاحب رائے ہیں ، صاحب حدیث نہیں ‘‘ مگر یہ بھی لکھا ہے کہ ابن معین اور ابن حبان وغیرہ نے اُن کی توثیق کی ہے ، اور ابوداؤد میں اُن کی روایت موجود ہے ۔
م ک ۔ خلف ابن ایوب ؒ سے کسی نے ایک مسئلہ پوچھا ، انہوں نے کہا : ابو حنیفہؒ اور ابو یوسف کا اُس میں یہ قول ہے ۔ اُس نے کہا : پھر آپ کیا فرماتے ہیں ؟ کہا : میں ایسے دو شخصوں کا قول کہہ رہا ہوں جو لوہے کے پہاڑ ہیں اور تو میرا قول پوچھتا ہے ؟
امام صاحب کی کس قدر عظمت اُن کے دل میں تھی کہ اُن کے قول کے مقابل اپنا قول بیان کرنا بھی ناگوار تھا اور اُسی پر فتویٰ دیا۔ اُن کی اس تقریر مبالغہ آمیز سے صاف ظاہر ہے کہ وہ امام صاحب کے مقلد ضرور تھے ۔
’’تہذیب التہذیب ‘‘میں شعیب بن اسحٰق کے ترجمہ میں لکھا ہے کہ وہ امام صاحب کے مقلد تھے ۔ شعیب وہ شخص ہیں کہ اسحٰق ابن راہویہ اور لیث ابن سعد جیسے اُن کے شاگرد ہیں۔ اکابر محدثین نے اُن کی توثیق کی ہے ۔ اوزاعی اُن کو اپنے نزدیک جگہ دیا کرتے تھے

، بخاری مسلم وغیرہ میں اُن کی روایتیں موجود ہیں ۔ کما فی تہذیب التہذیب ۔
اب انصاف کیجئے کہ حنفی مذہب بے اصل ہوتا ، جیسا کہ اس زمانہ کے بعضے مولوی کہتے ہیں ، تو کیا ایسے جلیل القدر محدث یہ مذہب اختیار کرتے ؟
یہ روایت اوپر لکھی گئی کہ مکی ابن ابراہیم حدیث اور فقہ میں امام صاحب کے شاگرد تھے اور حنفی مذہب میں نہایت متعصب تھے ۔ ایسے جلیل القدر محدث جن کی شاگردی پر امام بخاری ؒ کو ناز ہے ، جب حنفیت میں متعصب ہوں تو ہم لوگ کیوں مورد طعن بنائے جاتے ہیں ؟
یہ روایت بھی اوپر لکھی گئی کہ ثوبہ بن سعد ، امام صاحب کے قول کے مطابق فیصلے کیا کرتے اور کہتے کہ وہ میرے اورمیرے رب کے درمیان ہیں ۔
ثوبہ ، وہ شخص ہیں کہ امام مالک ؒ آرزو کرتے تھے کہ اُن کے جیسا کوئی ایک شخص اپنے یہاں ہوتا۔
یہ روایت بھی اوپر لکھی گئی کہ سفیان ثوریؒ اکثر امام صاحب کے اقوال اُن کے شاگردوں سے دریافت کرتے اور اُسی کے مطابق فتویٰ دیاکرتے تھے ۔
’’تاریخ ابن خلکان ‘‘میں لکھا ہے کہ لیث بن سعدؒ حنفی المذہب تھے ۔ اور قسطلانی نے بھی شرح بخاری میں یہی بات لکھی ہے ۔
لیث بن سعد وہ شخص ہیں کہ شیخ الاسلام ابن حجر عسقلانیؒ نے اُن کے مناقب میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے ، جس کا نام ’’الرحمۃ الغیثیۃ بالترجمۃ اللیثیۃ ‘‘ہے ۔ اسی میں لکھا ہے کہ کسی نے لیثؒ سے پوچھا کہ آپ سے بہت ساری حدیثیں ہم سنتے ہیں ؛ جو آپ کی کتابوں میں نہیں ہیں ؟ فرمایا : اگر وہ سب حدیثیں میں لکھتا جو میرے سینہ میں ہیں تو یہ مرکب اُس کی گنجائش نہ کرسکتا ۔ اسی میں لکھا ہے کہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ لیث ، امام

مالک ؒ سے بھی افقہ تھے ۔
سعید بن ابی ایوب کہتے ہیں کہ اگر امام مالک اور لیث کسی مقام میں جمع ہوتے تو امام مالک اُن کے روبرو گونگے ہوتے ، یعنی بات نہ کرسکتے ۔
کیوں نہ ہو وہ امام صاحب کے فیض یافتہ اور حنفی المذہب تھے ۔
اُسی میں لکھا ہے کہ خلیلی کہتے ہیںکہ وہ بالاتفاق اپنے وقت کے امام تھے ۔
ابن حبان کہتے ہیںکہ وہ فقہ اور علم اور حفظ اور فضل و کرم میں اپنے زمانے کے سادات میں تھے ۔
نووی ؒ نے تہذیب میں لکھا ہے کہ اُن کی جلالت اور امانت اور فقہ اور حدیث میں اُن کے علو مرتبت پر اجماع ہوگیا ۔
اگر بالفرض سوائے ان کے کوئی محدث حنفی المذہب نہ ہوتا تو بھی ایسے جلیل القدر ، امام المحدثین کا حنفی المذہب ہونا ، حنفیہ کے افتخار اور اطمینان کے لئے کافی تھا ۔
م ۔ کادح بن رحمۃ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے امام مالک ؒ سے پوچھا کہ کسی کے پاس دو کپڑے ہوں ایک نجس اور ایک پاک اور معلوم نہ ہو کہ پاک کونسا ہے ، تو نماز کس طرح سے پڑھے ؟ فرمایا : تحری کرے ۔
کادح کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : ابو حنیفہؒ تو کہتے تھے کہ ہر ایک کپڑے میں ایک بار نماز پڑھے ۔ انہوں نے سائل کو بلوا کر ابو حنیفہؒ کے قول پر فتویٰ دیا ۔
م ص ۔ محمد بن عمر الواقدیؒ کہتے ہیں کہ امام مالکؒ اکثر ابو حنیفہؒ کے اقوال کی تلاش کرتے اور انہی کے مطابق فتویٰ دیا کرتے ، اگرچہ اس بات کو ظاہر کرتے نہ تھے ۔ انتہی
ہم یہ نہیں کہتے کہ امام مالکؒ نے کسی مسئلہ میں امام صاحب کی تقلید کی ؛کیونکہ وہ خود مجتہد تھے ۔ اسی وجہ سے امام صاحب کی طرف کسی قول کا منسوب کرنا اُن کو جائز نہ تھا ، بخلاف

مقلد کے کہ اُس کو منسوب کرنے کی ضرورت ہے ۔ مگر اس سے امام صاحب کے اجتہاد کی قوت تو ضرور ثابت ہے کہ امام مالک ؒ جیسے شخص اُن کے اقوال کی تلاش کرتے اور انہیں کے مطابق فتویٰ دیتے تھے ۔
م ک ص خ ف ۔ مسعرؒ کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنے اور اللہ کے درمیان میں ابو حنیفہؒ کو قرار دے تو مجھے امید ہے کہ اُس کو کوئی خوف نہیں اور یہ نہ سمجھا جائیگا کہ اُس نے احتیاط میں کمی کی ۔ اس مقام میں اگر مسعرؒ کا بھی خیال کرلیا جائے کہ وہ کیسے شخص تھے تو مناسب ہوگا ۔ پیشتر اُن کے بعض حالات معلوم ہوچکے ہیں ، جن میں سے ایک یہ ہے کہ شعبہ اور اُن کے معاصر اُن کو مصحف ناطق کہا کرتے تھے ۔
دیکھئے !جب مصحف ناطق فرما رہے ہیں کہ ابو حنیفہؒ کی تقلید میں نہایت احتیاط ہے ، تو طالب حق کے لئے اور کیا چاہئے ؟ خدا کے اور اپنے درمیان اُن کو قرار دینے کا مطلب اِس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ جس راہ سے وہ لیجائیں بے چوں و چرا اُن کے پیچھے پیچھے بارگاہ کبریائی میں جانا باعث نجات ہے ۔ اسی کا نام تقلید شخصی ہے ۔
ک ۔ فضل بن موسیٰ سینانیؒ لوگوں کو ترغیب دیتے تھے کہ ابو حنیفہ کی اتباع کریں۔
ایسے جلیل القدر محدث (جن کی جلالت شان پر وکیع ، ابن مبارک اور اسحٰق بن راہویہ رحمہم اللہ جیسے اکابر محدثین گواہی دے رہے ہیں ۔ جیساکہ اوپر لکھاگیا ) جب امام صاحب کی تقلید کرنے کی ترغیب دیتے ہوں گے تو کس سرگرمی سے مذہب حنفی ترقی پذیر اور شائع ہوتا جاتا ہوگا ؟
م ص ۔ ابو نمیلہ یحییٰ بن واضح کہتے ہیں کہ ایک بار ہم اور محمد بن طلحہ ابو حنیفہؒ کاتذکرہ کر رہے تھے ، انہوں نے کہا : اے ابو نمیلہ !اگر تمہیں کسی ثقہ کے ذریعہ سے ابو حنیفہؒ کا کوئی

قول پہونچ جائے تو اس کو قبول کرلو ، اُن کا جو قول ہوتا ہے پختہ ہوتا ہے ۔
اس کا مطلب ظاہر ہے کہ انہوں نے فقہ کی تقلید کی ترغیب دی ، اس لئے کہ امام صاحب کے اقوال کو قبول کرنا بلا دلیل مان لینا ہے جس کو اصطلاح میں ’’تقلید ‘‘کہتے ہیں ۔
خ ۔ عبداللہ بن مبارکؒ نے ایک روز معترضین کے جواب میں فرمایا : تم نہیں جانتے کہ ابوحنیفہؒ سے زیادہ کوئی مستحق اقتداء نہیں ! وہ متقی ، سراپا مغز ، پار سا اور فقیہ تھے ۔ انتہی ملخصاً
جب امیر المؤمنین فی الحدیث نے تمام محدثین میں سے امام صاحب کو منتخب کر کے اس بات کے مستحق قرار دیا کہ انہی کی اقتداء کی جائے ، تو اب کسی عامی کو تو کیا ، محدث کو بھی حق نہیں کہ اُن کی تقلید سے روکے !۔

error: Content is protected !!