غیرِخدا سے مدد طلب کرنا شرک نہیں :

غیرِخدا سے مدد طلب کرنا شرک نہیں :

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو اکہ غیرِ خدا سے مدد طلب کرنا شرک نہیں ہے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’خدارا انصاف ! اگر آیۂ کریمہ’’اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ ‘‘میں مطلق استعانت کا ذات ِالٰہی جَلَّ وَعَلا میں حصر مقصود ہو تو کیا صرف انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہی سے استعانت شرک ہوگی، کیا یہی غیر خدا ہیں ، اور سب اشخاص واشیاء وہابیہ کے نزدیک خدا ہیں یا آیت میں خاص انہیں کا نام لے دیا ہے کہ ان سے شرک اوروں سے روا ہے ۔ نہیں نہیں ، جب مطلقا ًذات اَحَدِیَّت سے تخصیص اور غیر سے شرک ماننے کی ٹھہری تو کیسی ہی استعانت کسی غیر خدا سے کی جائے ہمیشہ ہر طرح شرک ہی ہوگی کہ انسان ہوں یا جمادات ، اَحیاء ہوں یا اموات، ذوات ہوں یاصفات، افعال ہوں یا حالات، غیر خدا ہونے میں سب داخل ہیں ، اب کیاجواب ہے آیۂ کریمہ کا کہ رب جَلَّ وَعَلا فرماتاہے :
’’ وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ‘‘ (البقرة : ۴۵)
استعانت کرو صبر ونماز سے ۔
کیا صبر خدا ہے جس سے استعانت کا حکم ہوا ہے ؟ کیا نماز خدا ہے جس سے استعانت کو ارشاد کیا ہے ۔ دوسری آیت میں فرماتاہے :
’’ وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪ ‘‘ (مائده : ۲)
آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرو بھلائی اور پرہیزگاری پر ۔
کیوں صاحب! اگرغیر خدا سے مددلینی مطلقاً محال ہے تو اس حکم الٰہی کا حاصل کیا، اور اگر ممکن ہو تو جس سے مدد مل سکتی ہے اس سے مدد مانگنے میں کیا زہرگھل گیا ۔ حدیثوں کی تو گنتی ہی نہیں بکثرت احادیث میں صاف صاف حکم ہے کہ (۱) صبح کی عبادت سے استعانت کرو ۔ (۲) شام کی عبادت سے استعانت کرو ۔ (۳)کچھ رات رہے کی عبادت سے استعانت کرو ۔ (۴) علم کے لکھنے سے استعانت کرو ۔ (۵) سحری کے کھانے سے استعانت کرو ۔ (۶) دوپہر کے سونے سے استعانت و صدقہ سے استعانت کرو ۔ (۷) حاجت روائیوں میں حاجتیں چھپانے سے استعانت کرو ۔ (فتاویٰ رضویہ، ۲۱ / ۳۰۵-۳۰۶)
مزید تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 21ویں جلد میں موجود رسالہ’’بَرَکَاتُ الْاِمْدَادْ لِاَہْلِ الْاِسْتِمْدَادْ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *