غز وۂ موتہ

غز وۂ موتہ

Advertisement

جُمَادَی الا ُولیٰ میں غزوۂ موتہ وقوع میں آیا۔ حقیقت میں یہ سریہ تھامگر لشکر کی کثرت کے سبب سے اسے غز وہ سے تعبیر کیا گیا۔آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت حارث بن عُمیر اَزدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ امیر بصریٰ یا قیصر روم کے نام اپنا نامۂ مبارک بھیجا۔ جب قاصد مو تہ میں پہنچا تو شُرَحْبِیْل بن عَمرْو غَسَّانی نے جو قیصر روم کی طرف سے شام میں ایک گور نر تھا اس کو شہید کر دیا۔جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نہایت غمگین ہو ئے اور تین ہزار فوج بسر کر دگی زید بن حارِثہ (جو آپ کے آزاد کردہ غلام تھے ) بھیجی اور حکم دیا کہ اگر زید شہید ہو جائیں تو جعفربن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور وہ بھی شہید ہو ں تو عبد اللّٰہ بن رَواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فوج کے سردار ہوں اور ارشاد ہوا کہ اس مقام پر جانا جہاں حارث بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ شہید ہو ئے ہیں اور یہ بھی ہدایت کر دی گئی کہ پہلے ان کو دعوت اسلام دینااگر وہ قبول کر لیں تو جنگ کی ضرورت نہیں ۔ خود جناب رسالت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ثَنِیَّۃُ ا لوَداع تک فوج کی مُشَایِعَت (1 ) فرمائی۔ شُرَحْبِیْل کو خبر پہنچی تو اس نے ایک لا کھ فوج تیار کی۔ ادھر قیصر روم عرب کی ایک لاکھ فوج لے کر زمین بلقائ (2 ) میں خیمہ زن ہوا۔جب لشکر اسلام شہر مَعَان میں پہنچا تو ان کو دشمن کی تعداد کثیر کی اطلاع ملی۔ انہوں نے چاہاکہ دربار رسالت کو حالات کی اطلاع دی جائے اور حکم کا انتظار کیا جائے مگر حضرت عبد اللّٰہ بن رواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ فتح وشہادت میں سے ایک ہمیں ضرورحاصل ہوجائے گی اس لئے آگے بڑھے۔ جب بلقاء کی حد پر پہنچے تو مَشَارِف میں قیصر کا لشکر نظر آیا۔ مسلمان بچ کر مو تہ کی طرف چلے گئے اور یہاں جنگ ہوئی۔ حضرات زیدو جعفرو عبد اللّٰہ بن رَواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم یکے بعد دیگرے بڑی بہادری سے پیدل ہو کر لڑے اور شہید ہوئے۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ میں ان واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور بیان
فرمارہے تھے۔ حضرت جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پہلے اپنے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دیں (1 ) پھر حملہ کیا ان کا دایاں بازو کٹ گیاتو عَلم بائیں ہاتھ میں لے لیا۔ بایاں بھی کٹ گیا تو بغل میں لے لیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میں نے انکی لاش دیکھی تو اس پر نوے سے کچھ اوپرزخم تلواروں اور بر چھیوں کے تھے اور سب کے سب سامنے کی طرف تھے پشت پر ایک بھی نہ تھا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو شہادت کے بعد بہشت میں فرشتوں کے سا تھ اڑتے دیکھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ بشکل فرشتہ دو خون آلود ہ بازوؤں کے ساتھ دیکھا۔ اسی واسطے ان کو جعفر طَیَّار یا جعفر ذُوالجَنَاحَین کہتے ہیں ۔ حضرت عبد اللّٰہ بن رَواحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بعد بالاتفاق حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ امیر لشکر ہو ئے۔ وہ بھی نہایت شجاعت سے لڑے۔ خودان کا بیان ہے کہ اس دن نو تلواریں میرے ہاتھ سے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں ۔ لشکر کفار میں تَزَلزُل پڑ گیا (2 ) آخرلشکر اِسلام پسپا ہو گیا۔ اسے مسلمانوں کی فتح کہنا چاہیے کہ دو لاکھ کے مقابلہ میں صرف بارہ شہید ہو ئے باقی سب صحیح وسالم مدینہ منورہ واپس آگئے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!