غز وۂ فتح مکہ

غز وۂ فتح مکہ

Advertisement

ماہِ رمضان میں غزوۂ فتح مکہ وقوع میں آیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ قریش نے معاہدہ حدیبیہ توڑدیا۔ بغر ضِ توضیح ہم یہاں کسی قدر تفصیل سے کام لیتے ہیں ۔ عبدالمُطَِّلب بن ہاشم کو ان کے چچا مُطَّلِب سات یا آٹھ سال کی عمر میں مدینہ سے مکہ میں لائے تھے جیسا کہ اس کتاب میں پہلے مذکور ہوا اور ہاشم کے مکانات پر ان کو قابض کردیا تھا جب مُطَّلِب نے وفات پائی تو عبد المُطَّلِب کے چچا نوفل نے وہ مکانات چھین لئے۔ عبد المُطَّلِب نے قریش سے مدد مانگی۔ قریش نے کہا کہ ہم تو تم دونوں میں دخل نہیں دیتے۔ عبد المُطَّلِب نے اپنے نَنِہال یعنی بنو نجار کو مدینہ میں لکھا۔اس لئے ابو سعید بن عُدَس نجاری اَ سِّی سوارلے کر مد دکو آیا۔جب وہ مکہ میں پہنچا تو نو فل حطیم میں قریش کی ایک جماعت میں بیٹھا ہوا تھا۔ ابو سعید نے وہاں پہنچ کر نو فل کے سر پر تلوار کھینچ لی اور کہنے لگا کہ ہمارے بھانجے کے مکانات واپس کر دو ورنہ اس تلوار سے
فیصلہ کر دیتا ہوں ۔ یہ دیکھ کر نو فل نے قریش کے سامنے مکانا ت تو واپس کر دیئے مگر اپنی کمزوری کو محسوس کر کے آیندہ کے لئے عبدشمس کے بیٹوں کو بنو ہا شم کے خلاف اپنا حلیف بنا لیا۔ اس پر عبد المُطَّلِب نے خزاعہ سے کہا کہ تم بنو نو فل اور بنو عبدشمس کے خلاف میرے حلیف بن جاؤ۔ عبد مناف کی ماں خُزَاعہ کے سردار حُلَیْل کی بیٹی تھی۔اس لئے وہ کہنے لگے کہ تمہاری مدد کر نا ہم پر واجب ہے۔ چنانچہ دار الندوہ میں یہ معاہدہ لکھا گیا۔
حدیبیہ کے دن از رو ئے معاہد ہ ہر ایک قبیلہ فر یقین میں سے جس کا چاہا حلیف بن گیا۔ چنانچہ خزاعہ اپنا پر انا معاہدہ دکھا کر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حلیف بن گئے اور بنو بکر قریش کے معاہد ے میں شامل ہوئے۔ یہ دونوں قبیلے ( خزاعہ وبنو بکر ) ایک دوسرے کے حریف تھے اور ان میں مدت سے لڑائی چلی آتی تھی۔ جس کا سبب یہ تھا کہ زمانہ جاہلیت میں بنو الحَضْرمی میں سے ایک شخص جو اَسو دبن رَزن دُئَلِی بکری کا حلیف تھا بغر ضِ تجارت گھر سے نکلا جب وہ خزاعہ کے علاقہ میں پہنچا تو انہوں نے اسے قتل کر ڈالا اور مال لے لیا۔ اس پر بنو بکر نے خزاعہ کا ایک آدمی قتل کر ڈالا۔ پھر خزاعہ نے بنو الا سود یعنی سلمیٰ وکلثوم وذُوئَ یْب کو عرفات میں قتل کر ڈالا۔ اسی حالت میں اسلام کے ظہور نے عرب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور وہ لڑائیاں رک گئیں ۔ جب صلح حدیبیہ کے سبب سے اسلام وکفر میں لڑائی کا سلسلہ بند ہو گیاتو بنو بکر (کی ایک شاخ بنو نُفَاثہ) سمجھے کہ اب انتقام کا وقت ہے اس لئے نوفل بن مُعَاوِیَہ دَیلی بکر ی بنو نفاثہ کو ساتھ لے کر آبِ وَتِیر میں جو اسفل مکہ میں خزاعہ کے علاقہ میں ہے رات کو حملہ آور ہوا۔ قریش نے حسب معاہد ہ بنو بکر کی مدد کی۔ چنانچہ صفو ان بن اُمَیَّہ، حویطَب بن عبد العز ی، عِکرَمہ بن ابی جہل اور سہیل بن عمروو غیرہ صورتیں بدل بدل کر خزاعہ سے لڑے یہاں تک کہ خزاعہ نے مجبور ہو کر حرم مکہ میں پنا ہ لی۔ بنو بکر حرم کا احترام ملحوظ رکھ کر رک گئے مگر نوفل نے کہاکہ یہ موقع پھر ہاتھ نہ آئے گا چنانچہ حرم میں خزاعہ کاخون بہایا گیا۔
جب بنو بکر و قریش نے وہ عہد تو ڑ دیاجو ان کے اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درمیان تھا تو عمروبن سالم خزاعی چالیس سوارلے کر مد ینہ پہنچااس وقت رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد میں اپنے اصحاب میں تشریف رکھتے تھے۔عمرو مذکور حاضر خدمت ہو کر یوں گو یا ہوا:
یَا رَبِّ اِنِیْ نَاشِدٌ محمد ا
حِلْفَ اَبِیْنَا وَ اَبِیْہِ الْاَتْلَدَا

فَانْصُرْ رَسُوْلَ اللّٰہِ نَصْرًا عَتِدَا
وَ ادْعُ عِبَادَ اللّٰہِ یَاْتُوْا مَدَدَا
اِنَّ قُرَیْشًا اَخْلَفُوْکَ الْمَوْعِدَا
وَ نَقَضُوْا مِیْثَاقَکَ الْمُؤَکَّدَا
ھُمْ بَیْتُوْنَا بِالْوَتِیْرِ ھُجَّدَا
وَ قَتَلُوْنَا رُکَّعًا وَّ سُجَّدَا
اے خدا! میں محمد کو یاد دلا تا ہوں وہ پر انا معاہد ہ جو ہمارے باپ اور اس کے باپ (عبد المطلب ) کے درمیان ہو ا تھا۔ یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہماری پو ری مدد کیجئے اور خدا کے بند وں کو بلا ئیے جو ہماری مدد کو آئیں ۔ قریش نے آپ سے وعدہ کے خلاف کیا اور آپ کا محکم (1 ) معاہدہ تو ڑ ڈالا۔ انہوں نے وَتیر میں ہم پر بحالت خواب حملہ کیا اور ہمیں رکوع و سجدے کی حالت میں قتل کر ڈالا۔
یہ سن کر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: عمر و! تجھے مدد مل جائے گی۔ ایک روایت ( 2) میں ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میں قریش سے دریافت کر تا ہوں ۔ پس آپ نے حضرت ضَمْرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیجا اور یہ تین شرطیں پیش کیں کہ قریش ان میں سے ایک اختیار کرلیں :
{۱} … خزاعہ کے مقتولین کا خون بہادیں ۔
{۲} …بنو نفاثہ کی حمایت سے دست بر دار ہو جائیں ۔
{۳} …اعلان کردیں کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔
قُرَطہ بن عمرو نے کہا کہ ہمیں صرف تیسری شرط منظور ہے۔
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مکہ پر حملہ کی پو شید ہ تیاری شروع کردی۔ حضرت حاطب بن اَبی بَلْتَعَہ لَحْمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو بنواسد بن عبد العزی کے حلیف تھے بنو ہاشم کی کنیز سارہ کے ہاتھ قریش کو ایک خط لکھ بھیجاجس میں اس جنگی تیار ی کا حال در ج تھا۔ سارہ نے وہ خط اپنے سر کے بالوں میں چھپالیا اور روانہ ہوئی۔ اللّٰہ تعالٰی نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس معاملہ کی خبر دے دی۔ آپ نے حضرت علی وزبیر ومقداد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو بھیجا اور ان سے فرمایا کہ روضہ خاخ میں تم کو ایک سا نڈنی سوار (3 ) عورت ملے گی اس کے پاس قریش مکہ

کے نام ایک خط ہے وہ لے آؤ۔ وہ سوار ہو کر چل پڑے اور سارہ سے روضہ خاخ میں جا ملے۔ اس کو نیچے اتارلیا اور کہا کہ تیرے پاس ایک خط ہے۔ اس نے انکار کیا۔ اس کے کجاوے کی تلا شی لی گئی مگر کچھ برآمد نہ ہوا۔ حضرت علی مرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اس سے کہا: میں اللّٰہ کی قسم کھاتاہوں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جھوٹ نہیں فرمایاتو خط نکال ورنہ ہم تیرے کپڑوں کی تلا شی لیں گے۔ یہ سن کر اس نے اپنے سر کے بالوں سے وہ خط نکال کر حوالہ کیا۔ جب یہ خط آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں پیش کیا گیاتو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت حاطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو طلب فرمایا اور پو چھا: ’’ حاطب! تو نے یہ کیا حرکت کی؟ ‘‘ حاطب نے یوں عرض کیا: ’’ یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے بارے میں جلدی نہ کیجئے۔میں دین سے نہیں پھرا۔ میرے بال بچے مکہ میں قریش کے درمیان ہیں ۔ آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں قریش میں ان کے رشتے ہیں جن کے سبب سے وہ ان کے بال بچوں کی حفاظت کریں گے۔ مگر میرا قریش میں کوئی رشتہ نہیں ۔ اپنے اہل وعیال کے بچاؤ کے لئے میں نے یہ حیلہ کیا کہ قریش پر یہ احسان کروں تاکہ اس کے صلہ میں وہ میرے بال بچوں کی حفاظت کریں ۔ ‘‘ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بیتا ب ہو کر عرض کیا: یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کا سر اُڑا دُوں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ حاطب اصحابِ بدر میں سے ہے ۔ عمر! تجھے کیا معلوم ہے بے شک اللّٰہ تعالٰی اہل بدر پر مطلع ہے کہ فرمادیا: (1 ) اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ ۔غرض باوجود ایسے سنگین جرم کے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت حاطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو معاف فرمادیا۔ (2 )
قصہ کو تاہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بتا ریخ ۱۰ ماہِ رمضان ۸ھ دس ہزار آراستہ فوج لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جواب تک مکہ میں مقیم تھے اپنے اہل وعیال سمیت ہجرت کر کے

مدینہ کو آرہے تھے۔ وہ مقام جُحْفَہ (1 ) میں آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حسبِ ارشادنبوی انہوں نے اہل وعیال کو تو مدینہ بھیج دیا اور خود لشکر اسلام میں شامل ہوگئے۔ قُدَید میں قبائل کو جھنڈے دیئے گئے۔ اخیر پڑاؤ مَرُّ ا لظَّہران تھاجہاں سے مکہ ایک منزل یا اس سے بھی کم تھا۔ یہاں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے تمام فوج نے الگ الگ آگ روشن کی۔ قریش کو لشکر اسلام کی روانگی کی افواہ پہنچ چکی تھی۔ مزید تحقیق کے لئے انہوں نے ابو سفیان بن حرب اور حکیم بن حِزام اور بُدَیل بن وَرْقاء کو بھیجا۔ اس تجسّس میں ان کا گز ر مَرُّ الظَّہران پر ہوا۔ ابو سفیان بو لا: یہ اس قدر جابجا (2 ) آگ کیسی ہے؟ یہ تو شب عرفہ کی آگ کی مانند ہے۔ بدیل خزاعی نے کہا: یہ خزاعہ کی آگ ہے۔ ابوسفیان نے کہا: خزاعہ گنتی میں اتنے نہیں کہ ان کی اس قدر آگ ہو۔ خیمہ نبوی کی حفاظت پر جو دستہ متعین تھا انہوں نے ابو سفیان وغیرہ کو دیکھ لیا اور پکڑ کر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں لے گئے۔ ابوسفیان ایمان لائے۔ جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہاں سے مکہ کی طرف روانہ ہونے لگے تو حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ابو سفیان کو پہاڑ کی چو ٹی پر لے جا کر کھڑا کر دوتا کہ افواج الٰہی کا نظارہ آنکھوں سے دیکھ لیں ۔ قبائل عرب کی فو جیں ابوسفیان کے سامنے سے گزر نے لگیں ۔ پہلے غِفَار پھر جُہَیْنَہ، سعد بن ہُزَیل، سُلَیم نعرہ تکبیر بلند کر تے ہوئے یکے بعد دیگر ے گزرے ان کے بعد ایک فوج آئی جس کی مثل دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابو سفیان نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا کہ یہ انصارہیں ۔ سردارانصار حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَلم ہاتھ میں لئے ہوئے برابر سے گزرے تو ابو سفیان سے کہا: ’’ اَلْیَوْمُ یَوْمُ الْمَلْحَمَۃِ الْیَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْکَعْبَۃ ‘‘ آج گھمسان کے معر کہ کا دن ہے، آج کعبہ حلال کر دیا جائے گا۔
بعد ازاں وہ مبارک دستہ آیاجس میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے اصحاب (مہاجرین) تھے۔ حضرت زبیر بن العوام علمبر دار تھے۔حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام برابر سے گزرے تو ابوسفیان نے کہا: ’’ حضور نے سنا سعد بن عبادہ کیا کہتے گزرے ہیں ؟ ‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: سعد نے غلط کہا۔ آج کعبہ کی عزت کی جائے گی اور غلاف چڑھایا جائے گاپھر حکم دیاکہ عَلم سعد سے لے کر ان کے صاحبزادے قیس کو دے دیا جائے۔

آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکہ میں حصہ بالائی کی طرف سے داخل ہوئے۔ اعلان کر دیا گیاکہ جو شخص ہتھیار ڈال دے گا یا ابو سفیان کے گھر پنا ہ لے گایا مسجد میں داخل ہو گایا دروازے بند کرلے گااس کو امن دیا جائے گا۔ حصہ بالائی میں (خَیْفِ بنی کنانہ یعنی مُحَصَّبمیں ) رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے خیمہ نصب کیا گیا اور حضرت زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حسب الا رشاد مُحَصَّبکی حد یعنی حَجُون کی پہاڑی پر عَلم کھڑا کر دیا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا قبائل عرب کے ساتھ پائین شہر کی طرف سے (1 ) داخل ہوں اور صفا میں ہم سے آملیں اور کسی سے جنگ نہ کریں ۔ مگر صفوان بن اُمیہ، عِکرَمہبن ابی جہل اور سہیل بن عمرو قریش کی ایک جماعت ساتھ لے کر جندمہ میں سدراہ ہو ئے اور حضرت خالد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی فوج پر تیر برسانے لگے چنانچہ حضرت حُبَیْشبن اَشعر اور کُرْز بن جابر فِہرْی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے شہادت پائی۔ حضرت خالد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجبور ہو کر ان پر حملہ کیا۔ وہ تیرہ یا زیادہ لا شیں چھوڑ کر گھروں کو بھاگ گئے اور بعضے پہاڑی پر چڑھ گئے۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو تلواروں کی چمک دیکھی تو پوچھا کہ یہ جنگ کیسی ہے؟ عرض کیا گیا کہ شاید مشرکین نے پیش دستی (2 ) کی ہے جس کی وجہ سے خالد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو لڑنا پڑا۔ بعد ازاں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خالد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے باز پرس کی تو انہوں نے عرض کیا کہ ابتداء مشرکین کی طرف سے تھی، فرمایا: ’’ قضا ئے الٰہی بہتر ہے۔ ‘‘ (3 )
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خیمہ میں ذر اآرام فرمایاپھر غسل کیا اور ہتھیاروں سے سج کر ناقہ قصواء پر سوا ر ہو ئے اور اپنے غلام کے لڑکے اسامہ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ کَوْ کَبَۂ نبوی (4 ) بڑی شان وشوکت سے کعبہ کی طرف روانہ ہوا۔ آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے مہاجرین وانصار تھے جو اس طرح سر اپا آہن پو ش (5 ) تھے کہ بجز سیاہ چشم ( 6) ان کے بدن کا کوئی حصہ نظر نہ آتا تھا۔ بیت اللّٰہ شریف میں داخل ہو کر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہلے حجراسود کو بو سہ دیاپھر اپنی نا قہ پر طواف کیا۔ بیت اللّٰہ کے گرداور اوپر تین سو ساٹھ بت تھے جن کے سبب سے وہ

خانۂ خدا بت خانہ بنا ہوا تھا۔ آپ کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی اس سے آپ ایک ایک بت کو ٹھوکے دیتے جاتے تھے اور یہ پڑھتے جاتے تھے :
جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا (۸۱) سچ آگیا اور باطل مٹ گیا بیشک با طل مٹنے والا ہے۔ (1 )
جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ (۴۹)
سچ آگیا اور باطل نہ پہلی بار پیدا کرتا ہے اور نہ دوبارہ کر تا ہے۔ (2 )
اور وہ منہ کے بل گر تے جاتے تھے۔ (3 ) جب اس طرح بیت اللّٰہ شریف بتو ں سے پاک ہو گیاتو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عثمان بن طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کُنجی لے کر دروازہ کھولااندر داخل ہو ئے تو حضرت ابراہیم واسمٰعیل عَلَیْہِمَاالسَّلَام کے مجسمے نظر پڑے جن کے ہاتھوں میں جو اء کھیلنے کے تیر دیئے ہوئے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ خدا اِن کو غارت کرے اللّٰہ کی قسم! ان دونوں نے کبھی تیروں سے جواء نہیں کھیلا۔ ‘‘ کعبہ کے اندرہی لکڑیوں کی ایک کبو تری بنی ہوئی تھی جسے آپ نے اپنے دست مبارک سے تو ڑ ڈالا اور تصویر یں جو تھیں وہ مٹا دی گئیں ۔ پھر دروازہ بند کر دیا گیا اور حضرت اسامہ وبلا ل وعثمان بن طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ اندر رہے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز پڑھی اور ہر طرف تکبیر کہی پھر دروازہ کھول دیا گیا۔مسجد حرام قریش کی صفوں سے بھری ہوئی تھی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دروازے کے بازو ؤں کو پکڑ کر یہ خطبہ پڑھا:
لَا ٓاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہ ٗصَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ اَلَا کُلُّ مَاْثَرَۃٍ اَوْ دَمٍ اَوْ مَالٍ یُدْعٰی فَھُوَ تَحْتَ قَدَمَیَّ ھَاتَیْنِ اِلَّا سِدَانَۃَ الْبَیْتِ وَسِقَایَۃَ الحَآجِّ اَلَا وَ قَتِیْلُ الْخَطَائِ شِبْہِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا فَفِیْہِ الدِّیَّۃُ مِائَۃٌ مِّنَ الْاِبِلِ مِنْھَا اَرْبَعُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھَا اَوْلَادُھَا یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ نَخْوَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ وَتَعَظُّمَھَا بِالْاٰبَآئِ النَّاسُ مِنْ اٰدَ مَ وَاٰدَ مُ مِنْ تُرَابٍ

ایک خدا کے سوا اور کو ئی معبو د بحق نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ، خدا نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور کا فروں کے گر وہوں کو تنہا شکست دی، آگا ہ رہو کہ تمام مفاخریا خون یا مال ہر قسم کا سو ا ئے کعبہ کی تَوَلِّیَت اور حاجیوں کی سِقایت کے میرے ان دو قدموں کے نیچے ہیں ، آگاہ ر ہو کہ قتل خطاجو عَمَدکے مشابہ ہو، تازیانہ سے ہو یا عصا سے اس کا خون بہا ایک سو اونٹ ہیں جن میں سے چالیس کے پیٹوں میں بچے ہوں ، اے گر وہ قریش! خدا نے تم سے جاہلیت کا غرور اور نسب کا افتخار دور کر دیا، تمام لوگ آدم کی اولادسے ہیں اور آدم مٹی سے ہیں ۔
پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (۱۳) (حجرات، ع۲) اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مر داور عورت ( آدم و حوا ) سے پیدا کیا اور تم کو کنبے اور قبیلے بنایا تاکہ ایک دوسرے کو پہچانو بیشک تم میں اللّٰہکے نزدیک زیادہ بزرگ وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے تحقیق اللّٰہ جاننے والا خبر دار ہے۔ (1 )
خطبہ کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قریش کی طرف متوجہ ہو ئے جن سے مسجد بھر ی ہو ئی تھی۔ اعلانِ دعوت سے اب تک ساڑھے ستر ہ سال میں قریش نے آپ سے اور آپ کے اصحاب سے جو جو سلوک کیے تھے وہ سب ان کے پیش نظر تھے اور خوف زدہ اس انتظار میں تھے کہ دیکھئے کیاسلوک کیا جا تا ہے۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اب اس شہر میں ہیں جہاں سے نکلے تھے تو اندھیری رات اور فقط صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ساتھ تھے۔آج آپ داخل ہو تے ہیں تو دس ہزار جاں نثار ساتھ ہیں اور بد لہ لینے پر پوری قدر ت حاصل ہے۔ بایں ہمہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں خطاب فرمایا: اے گر وہ قریش! تم اپنے گمان میں مجھ سے کیسے سلوک کی تو قع رکھتے ہو؟ وہ بو لے : ’’ خَیْرًا اَخٌ کَرِیْمٌ وَابْنُ اَخٍ کَرِیْم ‘‘ نیکی کی تو قع رکھتے ہیں ، آپ شریف بھائی اور شریف برادرزادہ ہیں ۔یہ سن کر حضور رحمۃ للعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :
’’ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ اِذْھَبُوْا فَاَنْتُمُ الطُّلَقَآئُ ‘‘ آج تم پر کوئی الزام نہیں ، جاؤ تم آزاد ہو۔

اعلانِ عفوکے بعد آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد حرام میں بیٹھ گئے۔ بیت اللّٰہ شریف کی کنجی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک میں تھی۔ حضرت علی اور حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما میں سے ہر ایک نے عرض کیاکہ کنجی ہمیں عنایت ہو مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عثما ن بن طلحہ بن ابی طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو عطا فرمائی۔ ( )
حضرت عثمان بن طلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ ہجرت سے پہلے مجھے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکہ میں ملے، آپ نے مجھے دعوت اسلام دی ۔میں نے کہا: اے محمد ! تجھ سے تعجب ہے کہ تو چاہتا ہے کہ میں تیری پیروی کر وں حالانکہ تو نے اپنی قوم کے دین کی مخالفت کی ہے اور ایک نیادین لا یاہے۔ ہم جاہلیت میں کعبہ کو دوشنبہ اور پنجشنبہ کے دن ( ) کھولا کر تے تھے۔ ایک دن رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کے ساتھ کعبہ میں داخل ہونے کے اراد ے سے آئے۔ میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دُرُشْت کلامی ( ) کی اور آپ کو برا بھلا کہا مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے درگزر کیا اور فرمایا: ’’ عثمان تو یقینا عنقریب ایک دن اس کنجی کو میرے ہاتھ میں دیکھے گاکہ جہاں چاہوں رکھ دوں ۔ ‘‘ میں نے کہا: اس دن بیشک قریش ہلا ک ہو جائیں گے اور ذلیل ہو جائیں گے۔ اس پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: بلکہ زندہ رہیں گے اور عزت پائیں گے اور آپ کعبہ میں داخل ہوئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس ارشاد نے مجھ پر اثر کیا۔ میں نے گمان کیا کہ جیسا آپ نے مجھ سے فرمایا عنقریب ویسا ہی ہوجائے گا اور اراد ہ کیا کہ مسلمان ہو جاؤں مگر میری قوم مجھ سے نہایت درشت کلامی کر نے لگی۔ جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا: عثمان! کنجی لا، آپ نے کنجی مجھ سے لی پھر وہی کنجی مجھے دے دی اور فرمایا: لو یہ پہلے سے تمہاری ہے اور تمہارے ہی پاس ہمیشہ رہے گی۔ ظالم کے سوا اسے کوئی تم سے نہ چھینے گا۔ عثمان! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تم کو اپنے گھر کا امین بنا یا ہے۔ پس اس گھر کی خدمت کے سبب سے جو کچھ تمہیں ملے اسے دَستور ِشرعی کے موافق کھاؤ۔ جب میں نے پیٹھ پھیر ی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے پکارا میں پھر حاضر ہوا۔ فرمایا: کیا وہ بات نہ ہوئی جو میں نے تجھ سے کہی تھی۔ اس پر مجھے ہجرت سے پہلے مکہ میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وہ قول یاد آگیا۔ میں نے عرض کیا: ’’ ہاں (وہ بات ہوگئی) میں گو اہی (1 ) دیتا ہوں کہ ’’ آپ اللّٰہ کے رسول ہیں ۔‘‘ (2 ) اس حدیث میں تین پیشگوئیاں ہیں ۔ وہ تینوں پوری ہوگئیں ۔
اس روز آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دیر تک مسجد میں رونق افروزرہے۔ نماز کا وقت آیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے حضرت بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کعبہ کی چھت پر اذان کہی۔ ابوسفیان بن حرب اور عتاب بن اسید اور حارث بن ہشام کعبہ کے صحن میں بیٹھے ہو ئے تھے اذان کی آواز سن کر عتاب بولا کہ خدا نے اسید کو یہ عزت بخشی کہ اس نے یہ آواز نہ سنی ورنہ اسے رنج پہنچتا۔ حارث بولا: خدا کی قسم! اگر یہ حق ہو تا تو میں اس کی پیروی کرتا۔ حضرت ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا: میں تو کچھ نہیں کہتااگر کہوں تو یہ کنکریاں ان کو میرے قول کی خبر دیں گی۔ جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان لوگوں کے پاس ہو کر نکلے تو فرمایاکہ تمہاری باتیں مجھے معلوم ہو گئیں تم نے ایسا ایسا کہا ہے۔ حارث وعتاب یہ سنتے ہی کہنے لگے: ’’ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خدا عَزَّوَجَل کے رسول ہیں ۔ان باتوں کی اطلاع کسی اور کو نہ تھی ورنہ ہم کہہ دیتے کہ اس نے آپ کو بتا دیں ۔ ‘‘ (3 )
مسجد سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہِ صفاپر تشریف لے گئے۔وہاں مردوں اور عورتوں نے اسلام قبول کر کے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک پر بیعت کی۔ مر دوں میں حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مستورات میں ان کی والدہ ہند بھی تھی جو حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کلیجہ چباگئی تھی۔
عفوعام سے نو یادس اشخاص مستثنیٰ تھے جن کی نسبت حکم دیا گیا تھا کہ جہاں ملیں قتل کر دیئے جائیں ۔ اس حکم کی وجہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذاتی انتقام نہ تھابلکہ اور مختلف جرم تھے۔ ان میں سے صرف تین یعنی ابن خَطَل، مِقْیَس بن صُبَابہ اور ابن خَطَل کی کنیز قُرَیبہ قتل ہو ئے۔ ابن خَطَل اور مِقْیَس قصاص میں قتل کیے گئے۔ قُرَیبہ اسلام کی ہَجوگا یا کر تی تھی۔ باقی سب کو امن دیا گیا اور ایمان لا ئے۔ ایک دشمن ِاسلام عیسا ئی مصنف ان دس اشخاص کی تفصیل

دے کر یوں لکھتا ہے۔ (1 )
’’ اس طرح عفو کے مقابلہ میں حکم قتل کی صورتیں کا لعد م تھیں اور سز ائے موت جہاں فی الو اقع عمل میں آئی (شاید با ستثنائے مُغَنِّیہ) محض پو لیٹیکل مخالفت کے سوا اور جرموں کی وجہ غالباً روا تھی۔ جس عالی حوصلگی سے (حضرت) محمد نے اس قوم سے سلوک کیا جس نے اتنی دیر آپ سے دشمنی رکھی اور آپ کا انکار کیاوہ ہر طرح کی تحسین وآفرین کے قابل ہے۔ حقیقت میں گز شتہ کی معافی اور اس کی گستاخیوں اور اذیتوں کی فراموشی آپ ہی کے فائد ے کے لئے تھی مگر تا ہم اس کے لئے ایک فرَّاخ وفیاض دل کی کچھ کم ضرورت نہ تھی۔ ‘‘
فتح مکہ کے دوسرے روز خُزاعہ نے ہذیل کے ایک شخص کو جو مشرک تھا قتل کر ڈالا اس پر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حمد وثنا کے بعد یوں خطاب (2 ) فرمایا:
اِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَھَا اللّٰہُ وَلَمْ یُحَرِّمْھَا النَّاسُ لَا یَحِلُّ لِاِمْرِیئٍ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یَّسْفِکَ بِھَا دَمًا وَّلَا یَعْضِدَ بِھَا شَجَرًا فَاِنْ تَرَخَّصَ اَحَدٌ لِقِتَالِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلیْہِ وَسَلَّمَ فِیْھَا فَقُوْلُوْا لَہٗ اِنَّ اللّٰہَ اَذِنَ لِرَسُوْلِہٖ وَلَمْ یَاْذَنْ لَکُمْ وَاِنَّمَا اَذِنَ لِی فِیْھَا سَاعَۃً مِّنْ نَّھَارٍ وَّقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُھَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِھَا بِالْاَمْسِ وَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الَْغَائِبَ ۔ (3 )
تحقیق مکہ کو اللّٰہ نے حرام کر دیا اور لوگوں نے حرام نہیں کیا جو شخص خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے اور نہ اس کا درخت کا ٹے اگر کوئی اس میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جنگ کے سبب سے قتال کو رخصت کہے تو اس سے کہہ دو کہ خدانے اپنے رسول کو اجازت دی تم کو اجازت نہیں دی،
مجھے بھی دن کی ایک ساعت اجازت دی گئی اور آج پھر اس کی حرمت ایسی ہو گئی جیسا کہ کل (فتح سے پہلے ) تھی، چاہیے کہ جو یہاں حاضر ہے وہ غائب کو یہ پیغام پہنچا دے۔
جب مکہ بتو ں سے پاک ہو چکا تو مکہ کے گر دجوبت (منات، لات، عزیٰ، سواع) تھے وہ سرایا کے ذریعہ سے منہدم کر دیئے گئے۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!