غزوۂ ذِی قَرَد

غزوۂ ذِی قَرَد

Advertisement

ماہِ محرم میں غزوۂ غَابہ یا غَزوۂ ذِی قَرَد پیش آیا۔مو ضع غابہ میں جو مدینہ سے چار میل ملک شام کی طرف واقع ہے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اونٹنیاں چرا کرتی تھیں ۔ حضرت ابو ذَر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا لڑکا چرایا کر تا اور شام کو ان کا دودھ دوہ کر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں لا یا کر تا تھا۔ ایک رات قبیلہ غَطَفان کے چالیس سواروں نے بسر کر دگی عُیَیْنَہ بن حِصْن فَزَاری چھاپا مارا۔ وہ حضرت ابوذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے صاحبزاد ے کو قتل کر کے بیس اونٹنیاں لے گئے اور حضرت ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیوی کو بھی گرفتار کر کے ساتھ لے گئے۔ دوسرے روز فجر کی اذان سے پہلے ـحضرت سلَمہ بن اَکوع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو مشہور تیراندا زاور تیز رفتار صحابی تھے کمان حمائل کیے مدینہ سے غابہ کی طرف جو نکلے تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے غلام نے ان کو اس ماجرا کی خبر دی۔انہوں نے کوہ سَلْع یا ثَنِیَّۃُ الوَداع پر کھڑے ہو کر مدینہ کی طرف منہ کر کے تین بار زور سے یاصباحاہ! پکارا (2 ) یہاں تک کہ وہ آواز رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچ گئی پھر وہ پیادہ دشمن کی طرف دوڑے اور ان کو جالیا اور تیر اندازی سے وہ اُونٹنیاں یکے بعد دیگرے چھڑالیں ۔ ادھر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی پانسو500 کی جمعیت کے ساتھ تعاقب میں نکلے۔ غَطَفَان ذُو قَرَد ( 3) کے قریب ایک تنگ درہ میں پہنچے جہاں عیینہ ان کی مدد کو آیا یہاں مقابلہ ہوا غَطَفان بھاگ گئے۔ آفتاب غروب نہ ہوا تھاکہ وہ ذُوقَرَد میں پا نی پینے لگے۔ حضرت سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دوڑ کر ان پر تیر بر سانے شروع کیے اور ان کوپانی نہ پینے دیاوہ بھاگ کر اپنے علاقہ میں جو
ذُو قَرَد سے ملحق تھا چلے گئے۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شام کو ذُو قَرَد میں پہنچے ۔ سواروپیادہ سب آپ سے آملے۔ حضرت سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ میں نے ان کو پانی پینے نہ دیااگر مجھے سو100 سُوار مل جائیں تو میں ان کو ایک ایک گرفتار کر لاتا ہوں مگر حضور رحمۃ للعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواب دیا: اِذَا مَلَکْتَ فَاسْجَحْ ۔ جب تو قابو پا جائے تو نرمی سے کام لے۔ ذوقردمیں ایک دن رات قیام کر کے واپس ہوئے۔ حضرت ابوذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیوی اس کے بعد ناقہ پر آپہنچی

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!