غزوۂ بَدْر کُبریٰ

غزوۂ بَدْر کُبریٰ

’’ غزوۂ بَدْر ‘‘ سب سے بڑا غزوہ ہے۔ا س کا سبب عَمرْ وبن حَضْرَمی کا قتل اور قافلہ قریش کا شام کی طرف سے آنا تھا۔ یہ وہی قافلہ تھا جس کے قصدسے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمذُوالعُشَیْرَہ تک تشریف لے گئے تھے۔ امیر قافلہ ابو سُفْیان تھا۔اس قافلے میں قریش کا بہت سامال تھا۔ جب یہ قافلہ بَدْر کے قریب پہنچا تو حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خبر لگی آپ نے فوراً مسلمانوں کو نکلنے کی دعوت دی۔ اس لئے جلدی سے تیاری کرکے آپ بتاریخ ۱۲ ماہِ رمضان بروز ہفتہ مدینہ سے نکلے اور مدینہ منورہ سے ایک میل کے فاصلہ پر ’’ بِئْرِ اَبِی عُتْبَہ ‘‘ (2) پر لشکر گاہ مقرر ہوا۔ یہاں لشکر کا جائز ہ لینے کے بعد آپ نے صغیرالسِن (3) صحابہ (مثلاًابن عمر، بَراء بن عازِب، اَنَس بن مالک ، جابر، زیدبن حارِث اور رَافع بن خَدِیج رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ) کو واپس کر دیا اور باقی کو لے کر روانہ ہوئے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص کے بھائی عُمیر (4) جن کی عمر سولہ سال کی تھی حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آنکھ بچارہے تھے کیونکہ ان کو شہادت کا شوق تھامگر ڈرتے تھے کہ کہیں چھوٹی عمر کے سبب واپس نہ کردیئے جائیں چنانچہ جب پیش ہوئے توواپسی کا حکم ملا۔ اس پر آپ رونے لگے لہٰذا اس رحمۃ للعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شمولیت کی اجازت دے دی بلکہ ان پر خود اپنی تلوار کا پَرتَلہ (5) لگا دیا۔ (6)
واضح رہے کہ مسلمان محض قافلہ قریش سے تَعَرُّض (1) کے لئے نکلے تھے ان کو علم نہ تھا کہ فوج قریش سے مقابلہ کر نا پڑے گا۔اس لئے فوری ناتمام تیاری کی گئی۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ ’’ جس کا سواری کا اونٹ مو جود ہو وہ سوار ہو کر ہمارے ساتھ چلے۔ ‘‘ انصار آپ سے ان اونٹوں کے لا نے کے لئے جو مدینہ کے حصہ بالائی میں تھے اجازت مانگنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ’’ نہیں صرف وہی ساتھ چلے جس کا سواری کا اونٹ حاضر ہے۔ ‘‘ (2)
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ صرف ستراونٹ دوگھوڑے اور تین سو آٹھ مجاہدین تھے۔جن میں سے مہاجرین کچھ ساٹھ سے اوپر تھے اور باقی سب انصار تھے۔ آٹھ صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور تھے جو بو جہ عذرشامل نہ ہو سکے۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کو بھی غنیمت میں سے پورا حصہ دیالہٰذا یہ بھی اصحابِ بَدْر میں شامل ہو تے ہیں ۔ ان آٹھ میں سے تین تو مہاجرین تھے۔ یعنی حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو اپنی اہلیہ حضرت رُقَیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بنت رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تیمارداری کے لئے حضور ہی کے ارشاد سے مدینہ منورہ میں رہ گئے تھے اور حضرت طلحہ بن عبید اللّٰہاور سعید بن زید ( ہر دو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ) جن کو حضور نے روانگی سے دس روز پیشتر قافلہ قریش کی خبر لا نے کے لئے بھیج دیا تھااور وہ آپ کی روانگی کے بعد مدینہ میں واپس آئے تھے اور پانچ انصار تھے۔ یعنی ابو لُبَابَہ بن عبدالمُنْذِر جن کو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی غَیْبَت میں مدینہ کا حاکم مقرر کیا (3) ۔ عاصِم بن عَدِی العَجْلانی جو رَوحا (4) سے ضربِ شدید کے سبب واپس کر دیئے گئے اور مدینہ منورہ کی
بالائی آبادی (عالیہ ) کے حاکم بنائے گئے۔ حارِث بن حاطِب العمر ی جن کو حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے روحاسے کسی خاص کا م کے لئے بنو عَمر وبن عَوْف کے پاس بھیج دیا۔ حارث بن الصَّمَّہ جو رَوحاء میں ٹانگ پر ضرب شدید آنے کے سبب واپس کر دیئے گئے اور خَوَّات بن جُبَیر جو اَثنا ئے راہ میں ساق (1) پر پتھر لگنے کے سبب مقام صفرا (2) سے واپس کر دیئے گئے۔ (3)
سواری کے لئے تین تین مجاہدین کو ایک ایک اونٹ ملا ہوا تھا۔ چنانچہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت علی اور حضرت مَرثَد غَنَوِی (4) ایک اونٹ پر اور حضرت ابو بکر وحضرت عمر و حضرت عبدالرحمن بن عوف دوسرے پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروحاء سے چل کر صفر اء کے قریب پہنچے تو آپ نے حضرت بَسْبَس بن عَمرْو اور عَدِی بن اَبی الزَّغْبَاء کو قافلہ قریش کی خبر لا نے کے لئے بھیجا۔ وہ بَدْرمیں پہنچے اور وہاں سے یہ خبر سن کر آئے کہ قافلہ کل یا پر سوں (5) بَدْر میں پہنچے گا۔ ابو سفیان کو شام میں خبر لگی تھی کہ حضرت قافلہ کی واپسی کا انتظارکر رہے ہیں ۔اس لئے اس نے حجاز کے قریب پہنچ کر ضَمْضَم بن عَمر و کو بیس مِثقال سونے کی اُجرت پر مکہ میں قریش کے پاس بھیجا تا کہ ان کو قافلہ کے بچا نے کی ترغیب دے۔ چنانچہ ضَمْضَم اونٹ پر سوار ہو کر فوراً روانہ ہو گیا۔
مکہ پہنچ کر ضَمْضَم نے اپنے اونٹ کے ناک کان کا ٹ دیئے تھے۔کجاوہ اُلٹ دیا تھا اور اپنی قمیص پھاڑ دی تھی۔ اس ہیئت َکذائی میں (6) وہ اپنے اونٹ پر سوار، یوں پکار پکار کر کہہ رہاتھا: ’’ اے گر وہ قریش! قافلہ تجارت! قافلہ تجارت! تمہارا مال ابو سفیان کے ساتھ ہے۔ محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اور اس کے اصحاب اس کے سَدِّر اہ (7) ہو گئے ہیں ۔ میں
خیال نہیں کر تا کہ تم اسے بچا لوگے۔ فریاد! فریاد! ۔ ‘‘ یہ سن کر قریش کہنے لگے: کیا محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اور اس کے اصحاب گمان کر تے ہیں کہ یہ قافلہ بھی عَمرْ وبن حَضْرَمی کی مانند ہو گا! ہر گز نہیں ۔ اللّٰہکی قسم! اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ ایسا نہیں ۔ غرض قریش جلد ی نکلے اور ان کے اشراف میں سے سوائے ابولہب کے کوئی پیچھے نہ رہا اور اس نے بھی اپنے عوض ابو جہل کے بھائی عاص بن ہشام کو بھیجا اور چار ہزار درہم جو بطورِ سود اُس سے لینے تھے اس صلے میں اس کو معاف کردئیے۔ اُمَیَّہ بن خلف نے بھی پیچھے رہ جانے کاارادہ کیا تھا کیونکہ اس نے حضرت سعد بن معاذ سے ہجرت کے بعد مکہ مشرفہ میں سنا تھا کہ وہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے اصحاب کے ہاتھ سے قتل ہو گا مگر ابوجہل نے کہا: تو اہل وادی مکہ کا سر دار ہے اگر تو پیچھے رہ گیا تو دوسرے بھی دیکھا دیکھی تیرے ساتھ رہ جائیں گے۔ غرض پَس وپَیْش (1) کے بعد ابو جہل کے اِصر ار پر وہ بھی ساتھ ہو لیا۔ (2)
قریش جب بڑے سازوسامان سے اس طرح چلنے کو تیار ہو گئے تو انہیں بنو کنانہ کی طرف سے اند یشہ پیدا ہوا کیونکہ بَدْر سے پہلے قریش وکنانہ میں لڑائی جاری تھی۔ اس لئے قریش خائف تھے کہ مبادا (3) کینہ سابق (4) کے سبب ہمارے پیچھے ہم کو کوئی ضرر پہنچا ئیں ۔ اس وقت ابلیس (5) بصورت سُراقہ بن مالک ظاہر ہوا جو کنانہ کا سردار تھا، اور کہنے لگا: میں ضامن ہوں تمہارے پیچھے، بنو کنانہ سے تمہیں کوئی ضرر نہ پہنچے گا۔ میں تمہارے (6) ساتھ ہوں ۔ اس طرح ابلیس لعین بصورتِ سُراقہ لشکر قریش کے ساتھ تھا۔ علاوہ از یں اہل مکہ کے ساتھ گا نے والی عورتیں اور آلات مَلا ہی (7) بھی تھے۔ رسد کا انتظام (8) یہ تھا کہ اُمَرائے قریش عباس، عُتْبہ بن رَبِیعہ، حارِث بن عامر، نَضْربن حارث، ابوجہل، اُمَیَّہ وغیرہ باری باری ہر روز دس دس اونٹ ذبح کر تے اور لوگوں کو کھلاتے تھے۔عُتْبہ بن رَبِیعہ جو قریش کا سب سے معزز ر ئیس تھا فوج کا سپہ سالا رتھا۔
جب ابو سفیان مدینہ کے نواح میں پہنچااور قریش کی کُمَک (1) اس کی مدد کونہ پہنچی تو وہ نہایت خوفزدہ ہواکہ کہیں مسلمان کَمِین گاہ (2) میں نہ ہوں ۔ اسی حال میں وہ بَدْر میں جا پہنچا وہاں اس نے مَجْدی بن عَمْر و سے پوچھا: کیا تو نے محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے جاسوسوں میں سے کسی کو دیکھا ہے؟ مجدی بولا: ’’ اللّٰہکی قسم! میں نے کسی اجنبی شخص کو نہیں دیکھا، ہاں اس مقام پر دوسوار آئے تھے۔یہ کہہ کر عَدِی و بَسْبَس کے مُنَاخ (3) کی طرف اشارہ کیا۔ابوسفیان نے ان کے اونٹوں کی مینگنیوں کو لے کر تو ڑا تو کیا دیکھتا ہے کہ ان میں کھجور کی گٹھلیاں ہیں ۔ کہنے لگا: ان اونٹوں (4) نے یثرب کی کھجوریں کھائی ہیں ۔ وہ تو محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے جاسوس تھے لہٰذا اس نے اپنے قافلے کے اونٹوں کے منہ پھیر دیئے اوربَدْر کو بائیں ہاتھ چھوڑ کر ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ مکہ کو روانہ ہو ا۔ جب وہ قافلے کو محلِ خَطَر سے بچا لے گیا تو اس نے قیس بن اِمرَیٔ ُالقَیس کے ہاتھ قریش کو کہلا بھیجاکہ میں نے قافلے کو بچا لیا ہے لہٰذا تم واپس چلے جاؤ۔ یہ قاصد جُحْفَہ (5) میں قریش سے ملا اور انہیں ابو سفیان کا پیغام پہنچا یا۔ قریش نے واپس ہو نے کا ارادہ کیامگر ابوجہل بو لا کہ ہم (6) بَدْر سے وَرے (7) واپس نہ ہوں گے۔ وہاں تین دن ٹھہریں گے، اونٹ ذبح کریں گے اور کھائیں کھلائیں گے۔ شراب پئیں گے اور راگ سنیں گے۔ اس طرح قبائل عرب کے اَطراف میں ہماری عظمت و شوکت کا آوازہ پھیل (8) جائے

Advertisement

گا (1) اور وہ ہمیشہ ہم سے ڈرتے رہیں گے۔ پس ابو جہل کی رائے پر عمل کیا گیا۔ جُحْفَہ ہی میں اَخْنَس (2) بن شَرِیق الثَقَفِی نے اپنے حلیف بنو زُہر ہ کو جوایک سو اور بقول بعض تین سو مردتھے مشور ہ دیا کہ واپس چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ واپس چلے گئے اس طرح بنو عدی بن کعب جو قریش کے ساتھ آئے تھے ثَنِیَّۂ لَفْت سے واپس لوٹ گئے اور واپسی میں ابو سفیان ان سے ملا اور کہنے لگا: اے بنو عدی! تم کیونکر لوٹ آئے۔لاَ فِی الْعِیْر وَلاَ فِی النَّفِیْر۔ (3) ( نہ قافلے میں اورنہ قریش میں ) وہ بولے کہ تو نے ہی تو قریش کو لوٹ جانے کا پیغام بھیجاتھا۔ غرض بنو زُہر ہ اور بنو عَدِی کے سوا تمام قریش کے قبائل لڑائی میں شامل تھے۔ (4)
مقام صَفْر اء کے نزدیک وادی ذَفِرَان میں حضور ِاَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام دوجماعتوں میں سے ایک کا وعدہ لا ئے۔ پس آپ نے صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے مشورہ کیا اور پو چھا کہ تم کیا چاہتے ہو، عِیر (قافلہ) یا نَفِیر (گروہ قریش ) مسلمان چونکہ محض قافلہ کے قصد سے نکلے تھے، تعداد بھی کم تھی اور سامان جنگ بھی کافی نہ تھا، اس لئے ایک فریق اس حالت میں لڑائی سے ہچکچا تا تھا۔ (5) وہ بولے: عِیر۔ یہ سن کر
حضور ِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمناخوش ہو ئے ، لہٰذا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کھڑے ہو کر تقریر کی اور خوب (1) کہا۔ پھر حضرت عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تقریر کی اور اچھی کی۔ پھر حضرت مِقْداد بن عَمْرورَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہو ئے اور بولے کہ ’’ یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ تعالٰی نے جو آپ کو بتایا ہے وہ کیجئے ہم آپ کے ساتھ ہیں ، اللّٰہکی قسم! ہم (2) نہیں کہتے جیسا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامکی قوم نے کہاتھا: فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ (3) بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے لڑیں گے۔ ‘‘ یہ سن کر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخوش ہو ئے اور حضرت مِقْداد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں دعا ئے خیر فرمائی۔پھر آپ نے انصار کی طرف اشارہ کر کے فرمایاکہ مجھے مشورہ دو۔ انصار کی طرف اشارہ کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بیعت عُقْبہ کے وقت کہا تھا: (4) ’’ یارسول اللّٰہ ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم آپ کے ذِمام یعنی عہد سے بری ہیں یہاں تک کہ آپ ہمارے دِیارمیں پہنچ جائیں جب آپ ہمارے دیا ر میں پہنچیں گے تو ہمارے امان وعہد میں ہوں گے اور ہم آپ کی حمایت کریں گے ہرایسے امر سے کہ اس سے ہم اپنی اولاد اور عورتوں کی حمایت کر تے ہیں ۔ ‘‘ چونکہ اس عبارت سے ایک طرح کا وَہْم ہو تا تھاکہ انصار پر صرف مدینے میں ہی حضور کی حمایت واجب تھی، لہٰذا آپ نے اس مقام پر مَحْض ان کے حال سے اِسْتِکشَاف واِسْتِمزَاج کے لئے ایسا کیا۔ (5) انصار نے جب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد سنا تو حضرت سعد بن معاذرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو اَکا بر ِاَنصار میں سے تھے یوں جواب دیا: (6) ’’ ہم آپ پر ایمان لائے ہیں اور شاہد ہیں اس امر پر کہ جو کچھ آپ لائے ہیں وہی حق ہے

اور اس تصدیق پر ہم نے آپ کو اپنی اطاعت کے عہد ومواثیق دیئے ہو ئے ہیں ۔ یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ جہاں چاہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اللّٰہکی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، اگر آپ ہمارے ساتھ اس سمندر کوعبور کر نا چاہیں اور اس میں کو دپڑ یں تو بیشک ہم بھی آپ کے ساتھ اس میں کو دپڑیں گے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہمیں یہ نا گوار نہیں کہ کل کو آپ ہمیں ساتھ لے کر دشمن کا مقابلہ کریں ۔ہم لڑائی میں صابر اور دشمن کے مقابلے کے وقت صادق ہیں ۔ شاید اللّٰہ تعالٰی مقابلے میں ہمارے ہاتھ سے آپ کو وہ دکھائے کہ جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈ ی ہوں ، لہٰذا آپ ہم کو اللّٰہکی برکت سے لے چلیں ۔ ‘‘ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اس قول سے خوش ہو ئے اور فرمایاکہ ’’ اللّٰہکی برکت سے چلو! اللّٰہ تعالٰی نے مجھ سے دوباتوں (قافلہ اور فوجِ قریش ) میں سے ایک (1) کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ اللّٰہکی قسم ! گو یا میں قریش کی موت کی جگہوں کو دیکھ رہا ہوں ۔ ‘‘ یہاں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جھنڈے تیار کیے۔سب سے بڑا جھنڈ ا مہاجرین کا تھا جو حضرت مُصْعَب بن عمیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہاتھ میں تھا اور قبیلہ خزرج کا جھنڈا حضرت حباب بن المنذررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس تھا اور قبیلہ اَوس کاجھنڈا حضرت سعدبن معاذرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اٹھایا ہو اتھا۔ مشرکین کے ساتھ بھی تین جھنڈے تھے۔ ایک ابو عزیر بن عمیردوسر انضر بن حارث اور تیسرا طلحہ بن ابی طلحہ کے ہاتھ میں تھا۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبتا ریخ ۷ا ماہِ رمضان جمعہ کی رات کو بَدْر میں قریب کے میدان میں اترے اور قریش دوسری طرف اترے۔ (2) حضور
انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرات علی وزبیر و سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو مشر کین کا حال دریافت کر نے کے لئے بھیجا وہ قریش کے دوغلام پکڑلائے۔ اس وقت حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنمازپڑھ رہے تھے۔ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے ان (1) غلاموں سے پوچھا: کیا تم ابوسفیان کے ساتھی ہو؟ انہوں نے جواب دیاکہ ہم تو قریش کے سقے ہیں ۔ قریش نے ہمیں پانی پلا نے کے لئے بھیجا ہے۔ اس پر صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے انہیں مارا۔ جب وہ درد سے بے چین ہو ئے تو کہنے لگے کہ ہم ابو سفیان کے ساتھی ہیں ۔ اتنے میں حضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز سے فارغ ہوئے۔ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ’’ جب یہ تم سے سچ بولے تم نے ان کو مارا اور جب تم سے جھوٹ بولے تو ان کو چھوڑ دیا۔ اللّٰہکی قسم! انہوں نے سچ کہاوہ قریش کے ساتھی ہیں ۔ ‘‘ پھر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان غلاموں سے قریش کا حال دریافت کیا۔انہوں نے جواب دیا: اللّٰہ کی قسم! یہ تو دۂ رَیگ (2) جو نظر آرہا ہے اس کے پیچھے ہیں ۔آپ نے دریافت فرمایا کہ قریش تعداد میں کتنے ہیں ؟ وہ بولے کہ ہمیں معلوم نہیں ۔ پھر آپ نے پوچھا کہ وہ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کر تے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک دن دس اور ایک دن نو۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ہزار اور نوسو کے درمیان ہیں ۔ (واقع میں وہ ساڑھے نو سو تھے اور ان کے پاس سو گھوڑ ے تھے۔) پھر آپ نے پوچھا: سر داران قریش میں سے کون کو ن آئے ہیں ؟ وہ بولے عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ابو جہل بن ہشام، ابو البختر ی بن ہشام، حکیم بن حزام، نوفل بن خویلد ، حارث بن عامر بن نوفل ، طعیمہ بن عدی ابن نو فل ، نضر بن حارث، زمعہ بن اسود ، امیہ بن خلف ، نبیہ و منبہ پسر انِ حجاج ، سہیل بن عمرو ، (3) عمرو بن عبد ود۔ یہ سن کر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ’’ لو! مکہ نے اپنے جگر پارے تمہاری طرف بھیج دیئے ہیں ۔ ‘‘ پس حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجلدی کو چ کر کے کوؤں (1) کی طرف آئے اور جو کوآں (2) بَدْر کے سب سے قریب تھا اس پر اتر ے۔ حضرت حباب بن منذررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جہاں آپ ہیں وہ اچھی جگہ نہیں ۔ آپ ہمیں اس کوئیں پر لے چلیں جو قریش کے سب سے نزدیک ہو میں بَدْر سے اور اس کے کوؤں سے واقف ہوں ۔ وہاں ایک میٹھے پانی کا کوآں ہے جس کا پانی ختم نہیں ہو تا۔ ہم اس پر ایک حوض بنا لیں گے اس میں سے پئیں گے اور جنگ کریں گے اور باقی کوؤں کو بند کردیں گے تا کہ کفار کو پانی نہ ملے۔ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حباب کی رائے درست ہے۔ (3) علاوہ ازیں جہاں مسلمان اتر ے ہوئے تھے وہ نرم ریتلی زمین تھی جس میں آدمیوں کے پاؤں اور چو پا یوں کے ُکھر اور سُم دَھنستے تھے اور جہاں کفار ٹھہر ے ہوئے تھے انہوں نے وہاں کوئیں کھود لئے تھے اور پانی جمع کر لیا تھا۔ مسلمانوں میں سے بعض کو غسل جنابت اور بعض کو وضو کی حاجت تھی اور پیاسے تھے پانی نہ ملتا تھا۔ پس شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسو سہ ڈالا کہ تمہارا گمان ہے کہ ہم حق پر ہیں ، پیغمبر ہمارے درمیان ہیں اور ہم اللّٰہکے پیارے ہیں ، حالانکہ مشرکین پانی پر قابض ہیں اور تم جنب اور محدث (4) ہونے کی حالت میں نماز یں پڑ ھتے ہو، پھر تمہیں کس طرح امید ہو سکتی ہے کہ تم ان پر غالب آجاؤ گے۔ ایسی حالت میں اللّٰہ تعالٰی نے ان پر نیند طاری کر دی۔ (5) جس سے ان کا رَنج وتَعَب (6) دور ہو گیا اور مینہ برسادیاجس سے انہوں نے پیا، غسل کیااپنے چوپایوں کوپلا یا اور مشکیں بھر لیں اور ریت سخت ہو گئی جس پر چلنا

آسان ہو گیا اور کفار کی زمین کیچڑ ہو گئی جس پر چلنا دشوار ہو گیا۔ اس طرح وسوسۂ شیطان جاتا رہا اورا طمینان حاصل ہو گیا۔

 

غرض حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے اصحاب وہاں سے چل کر کفار سے پہلے آب بَدْر پر پہنچ گئے اور قریش کے سب سے قریب کوئیں پر اترے اور اس پر حوض بنا کر پانی سے بھر لیااور دوسرے کوؤں کو بند کر دیا پھر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے اونچی جگہ پر ایک عریش (کھجور کی شاخوں کا سائبان ) بنا یا گیا، اور حضرت بذات خود معر کہ کی جگہ پر تشریف لے گئے اور دست مبارک کے اشارے سے فرماتے تھے کہ یہ فلاں کا فر کے مارے جانے کی جگہ ہے اور یہ فلاں کافر کے قتل ہو نے کی جگہ ہے۔ جیسا کہ حضور نے فرمایا تھالڑائی میں ویسا ہی وقوع میں آیاان میں سے کسی نے بھی اشارے کی جگہ سے سرِ مُو (1) تجاوز نہ کیا۔یہ سب کچھ جمعہ کی رات بتا ریخ ۱۷ما ہ رمضان المبارک واقع ہوا۔کفار کیچڑکے سبب سے اپنی جگہ سے آگے نہ بڑھ سکے۔حضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مع صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عریش میں داخل ہو ئے یا رغاریہاں بھی عر یش کے اندر اپنے آقائے نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حفاظت کے لئے شمشیربرہنہ (2) عَلم کیے ہو ئے (3) تھا اور دروازے پر حضرت سعدبن معاذرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تلوار آڑے لٹکا ئے پہر ہ دے رہے تھے۔ (4)
حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام رات بیدار اور مصروفِ دُعا رہے۔صبح ہوئی تو لوگوں کو نماز کے لئے آوازدی اور نماز سے فارغ ہو کر جہاد پر وعظ فرمایا۔ (5) پھر آپ صف آرائی میں مشغول ہو ئے۔ آپ کے دست مبارک میں ایک تیر کی لکڑی تھی جس سے کسی کو آپ اشارہ فرماتے کہ آگے ہوجاؤ اور کسی سے ارشاد فرماتے تھے کہ پیچھے ہو جاؤ۔ چنانچہ حضرت سَوَّاد (6) بن غَزِیَّہ اَنصاری جو صف سے آگے نکلے ہو ئے تھے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے

اس لکڑی سے ان کے پیٹ کو ٹھوکا دیا (1) اور فرمایا: اِسْتَوِ یَا سَوَاد۔ (اے سواد برابر ہو جاؤ) حضرت سواد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ نے مجھے ضرب ِشدید لگا ئی ہے حالانکہ آپ کو اللّٰہ تعالٰی نے حق وانصاف کے ساتھ بھیجا ہے آپ مجھے قصاص دیں ۔ یہ سن کر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا شکم مبارک ننگاکردیااور فرمایا: اپناقصاص لے لو، اس پر حضرت سواد حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گلے لپٹ گئے اور آپ کے شکم مبارک کو بو سہ دیا۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا: اے سواد ! تو نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت سوادرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یارسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمموت حاضر ہے میں نے چاہاکہ آخر عمر میں میرابدن آپ کے بدنِ اَطْہر سے مس کر جائے، یہ سن کر آپ نے اس کے لئے دعائے خیر فرمائی اور اس نے معاف کر دیا۔ اسی اثناء میں مشرکین بھی نمودار ہوئے۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی تعداد کثیر دیکھ کر یوں دعا فرمائی: ’’ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! یہ قریش فخر وتکبر کر تے آپہنچے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تیرے ساتھ جنگ کریں اور تیرے رسول کو جھٹلا ئیں ، اے خدا! عَزَّوَجَلَّ میں اس نصرت کا منتظر ہوں جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے۔ ‘‘ (2)
جب ہر دوفریق صف آرائی کر چکے تو قریش نے عمیر بن وَہْب جُمَحِی کو لشکر اسلام کی تعداد معلوم کر نے بھیجا۔ وہ لشکر اسلام میں آیا اور دیکھ بھال کے بعد واپس جاکر کہنے لگا: ’’ مسلمان (3) کم وبیش تین سو ہیں اور ان کے ساتھ ستر اونٹ اور دو گھوڑ ے ہیں ۔ اے گرو ہ قریش! میں نے دیکھا کہ ان کے اونٹوں کے پا لا ن (4) موتوں کو اٹھا ئے ہوئے ہیں ۔ یثرب کے آب کش اونٹ (5) زہر قاتل سے لد ے ہوئے ہیں ۔ ان کو اپنی تلواروں کے سوا اور کوئی پناہ نہیں وہ گو نگے ہیں کلام نہیں کر سکتے اور سانپوں کی طرح زبانیں منہ سے نکالتے ہیں ۔ اللّٰہکی قسم! میری رائے میں ان میں سے ایک شخص بھی قتل نہیں ہو سکتا تاوقتیکہ تم میں سے ایک کو قتل نہ کرلے۔ پس جب وہ تم میں سے اپنی تعداد کے برابر قتل کردیں گے تو اس کے بعد تمہارا جینا کیسا ہو گا۔ اس لئے تم آپس میں مشورہ کرلو۔ ‘‘ (6) جب حکیم بن حِزَام نے یہ سناتو عُتْبہ بن رَبیعہ کے پاس گیااور
اس سے کہا: اے ابو الولید! تو قریش کا سر دار ہے۔کیا تو چاہتا ہے کہ آخر زمانے تک دنیا میں تیرا ذکر خیر رہے؟ وہ بولا: پھر میں کیا کر وں ؟ حکیم نے کہا: لوگوں کو واپس لے جااور اپنے حلیف عَمر وبن حَضْرَمی کا خون بہاادا کر دے۔ عتبہ نے کہا: بے شک وہ میر احلیف تھا۔ اس کا خون بہا اور اس کا نقصانِ مال جو ہوا وہ سب میرے ذمہ ہے۔ تو ابن الحَنْظَلِیَّہ (ابوجہل) کے پاس جاکیونکہ وہی ہے جس کی طرف سے مجھے اندیشہ ہے کہ لوگوں میں لڑائی کر ادے۔ پھر عتبہ نے کھڑے ہو کر یوں تقریر کی: ’’ اے گر وہ قریش! تمہیں محمد اور اس کے اصحاب کے ساتھ لڑ نے سے کچھ فائدہ نہیں ۔ خدا کی قسم! اگر تم محمد کو قتل کروگے تو تم میں سے ہر ایک کو ان میں اپنے چچیر ے بھائی کے قاتل یا ماموں زاد بھائی کے قاتل یا اپنے خاندان کے کسی شخص کے قاتل کا منہ ہر وقت دیکھنا پڑے گا اس لئے لوٹ چلو اور محمد اور باقی عرب کو خود آپس میں سمجھ لینے دو۔ ‘‘ حکیم مذکور کا بیان ہے کہ میں ابوجہل کے پاس گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ ابو جہل نے زرہ دان میں سے ا پنی زرہ نکالی ہوئی ہے۔ اسے زیتون کے تیل کی چیٹک مل رہا ہے۔ میں نے کہا: اے ابو الحکم! عتبہ نے مجھے ایسا ایسا کہہ کر تیرے پاس بھیجا ہے۔ ابو جہل نے کہا: ’’ خدا کی قسم! (1) محمد اور اس کے اصحاب کو دیکھ کر اس کا سینہ پھول گیا ہے۔ (یعنی بزدل ہو گیا ہے ) خدا کی قسم! ہم ہر گز واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ اللّٰہ ہمارے اور محمد کے درمیان فیصلہ کر دے۔ عتبہ بزدل تو نہیں ہے مگر اس نے دیکھا کہ محمد اور اس کے اصحاب چند اونٹوں کا گو شت کھا نے والے ہیں اور ان میں ان کا بیٹا ابو حذیفہ ہے۔ اس کے بارے میں وہ تم سے ڈر گیا ہے۔ ‘‘ پھر ابو جہل نے عامر بن حضرمی کو کہلا بھیجا کہ تیر ا حلیف عتبہ چاہتا ہے کہ لوگوں کو ہٹا لے جاوے اور تو قصاص چاہتا ہے۔ اس لئے اٹھ اور اپنے بھائی کا قصاص اور عہد وپیمان یاد د لا۔ اس پر عامر مذکور اٹھا اور اپنے چُو تڑ (2) ننگے کر کے چلا یا واعمراہ! واعمر اہ! یہ دیکھ کر لوگوں کی رائے بدل گئی۔ جب عتبہ کو معلوم ہوا کہ ابوجہل نے اس کی نسبت یہ الفاظ (اللّٰہکی قسم اس کا سینہ پھول گیا ہے ) کہے ہیں تو بولا: ’’ وہ حلقۂ دبر (3) زَرد کیے ہوئے جلدی جان لے گا کہ کس کا سینہ پھول گیا ہے میرایا اس کا۔ ‘‘ یہ کہہ کر عتبہ نے اپنے سر کے لئے خود (4) طلب کی مگر اس کی کھوپڑی اتنی بڑی تھی کہ تمام لشکر
میں ایسی خود نہ ملی جو اس کے سر پر ٹھیک آجائے۔ اس لئے اس نے چادر سے اپنا سر ڈھانپ لیا۔ (1) اس طرح قریش آمادۂ جنگ ہوگئے۔ عتبہ نے عمیر بن وہب سے کہاکہ جنگ کر واس لئے وہ سو سوار لے کر حملہ آور ہوا۔ مسلمان اپنی صف پر قائم رہے۔ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ میری اجازت کے بغیر لڑائی نہ کرنا۔ اس وقت حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نیند (2) طاری ہو گئی۔ حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا: یارسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقریش ہم پر آپڑ ے ہیں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیدار ہو گئے۔ اللّٰہ تعالٰی نے آپ کو اس خواب میں قریش تھوڑے دکھائے۔ (3) اگر بہت دکھاتا تو مسلمان تعداد کثیر کا نام سن کر ڈر جاتے۔ اللّٰہ تعالٰی کے اس انعام کو دیکھئے کہ میدانِ جنگ میں اِلْتِحامِ حرب سے پہلے (4) مسلمانوں کو کفار تھوڑے (5) دکھائے تاکہ وہ جنگ پر اِقدام کریں اور کفار کو مسلمان تھوڑے دکھا ئے جس سے انہوں نے لڑنے میں بہت کو شش نہ کی۔ (6)
مسلمانوں میں سے جو سب سے پہلے لڑائی کیلئے نکلاوہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا آزاد کر دہ غلام
مِہْجَعْ نام تھا۔ جسے عامر بن حَضْرَ می نے تیرسے شہید کیاوہ مسلمانوں میں پہلا قتیل (1) تھاپھر انصار میں سے حضرت حارثہ بن سر اقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ شہید ہو ئے بعد از اں آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسلمانوں کو ترغیب دی اور فرمایا: (2) بہشت کی طرف اٹھوجس کا عرض آسمان وزمین ہے یہ سن کر حضرت عمیر بن حُمَام اَنصاری بولے: ’’ یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہشت جس کا عرض آسمان وزمین ہے؟ ‘‘ آپ نے فرمایا: ہاں ! تب حضرت عمیر نے کہا: واہ وا۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا کہ تو نے واہ وا کیوں کہا؟ حضرت عمیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفقط اس تو قع پر کہ میں اہل بہشت سے ہو جاؤں ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ تب تو بیشک اہل بہشت میں سے ہے۔ ‘‘ اس پر حضرت عمیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی ترکش سے چھوارے نکال کر کھانے شروع کیے پھر کہنے لگے: ’’ اگر میں زندہ رہو ں یہاں تک کہ یہ چھوہارے کھالوں تو البتہ یہ لمبی زندگی ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر حضرت عمیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے چھوار ے جو پاس تھے پھینک دیئے پھر جہاد کیایہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ (3) دوسری جانب صف اَعدا میں سے اسودبن عبدا لاسد مخزومی جو بد خُلْق تھا، آگے بڑ ھا اور کہنے لگا: ’’ میں اللّٰہسے عہد کر تا ہوں کہ مسلمانوں کے حوض سے پانی پیوں گا یا اسے ویران کر دوں گا یا اس سے وَرے (4) مر جاؤں گا۔ ‘‘ ادھر سے حضرت حمزہ بن عبدالمطلبرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نکلے۔ اسود حوض تک پہنچنے نہ پایا کہ حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کا پاؤں نصف ساق تک کاٹ دیا اور وہ پیٹھ کے بل گرپڑا پھر وہ حوض کے قریب پہنچا یہاں تک کہ اس میں گر پڑا تا کہ اس کی قسم پو ری ہوجائے۔ حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کا تعاقب کیا اور حوض ہی میں اس کا کام تمام کر دیا۔ (5) بعد ازاں شَیْبَہ بن رَبیعہ اور عُتْبَہ بن رَبیعہ اور وَلید بن رَبیعہ نکلے۔ مشرکین نے چلا کر کہا: ’’ اے محمد ! ہماری طرف اپنی قوم میں سے ہمارے جوڑ کے آدمی بھیجئے۔ ‘‘ یہ سن کر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ اے بنی ہاشم! اٹھو اور اس حق کی حمایت

میں لڑوجس کے ساتھ اللّٰہ تعالٰی نے تمہارے نبی کو بھیجا ہے کیونکہ وہ باطل لا ئے ہیں تاکہ اللّٰہکے نور کو بجھا دیں ۔ ‘‘ پس حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (جن کے سینہ مبارک پر بطور نشان شتر مرغ کا پر تھا) اور علی بن ابی طالب اور عبیدہ بن مطلب بن عبدمناف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ د شمن کی طرف بڑھے اور ان کے سروں پر خود تھے۔ عتبہ نے کہا: ’’ تم بولو تا کہ ہم پہچان لیں ۔ ‘‘ حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا: ’’ میں حمزہ بن عبدالمطلب شیر خدا اور شیر رسول ہوں ۔ ‘‘ عتبہ بولا: ’’ یہ اچھا جو ڑہے ، میں حلیفوں کا شیرہوں ۔‘‘ پھر اس نے اپنے بیٹے سے کہا: ولید اٹھ۔ پس حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ ولید (1) کی طرف بڑھے اور ایک نے دوسرے پر وار کیا مگر حضرت علیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس کو قتل کر دیا، پھر عتبہ اٹھا حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا پھر شیبہ اٹھا حضرت عبید ہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو اصحاب میں سے عمر میں سب سے بڑے تھے اس کی طرف بڑھے شیبہ نے تلوار کی دھار حضرت عبید ہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاؤں پر ماری جو پنڈلی کے گوشت پر لگی اور اسے کاٹ دیا پھر حضرت حمزہ اور حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما شیبہ پر حملہ آور ہوئے اور اسے قتل کر دیا اور حضرت عبیدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اٹھا کر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں لائے۔ حضرت عبیدہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللّٰہکیا میں شہید نہیں ؟ ‘‘ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ ہاں ۔ ‘‘ پھر حضرت عبیدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا: اگر ابو طالب اس حالت (2) میں مجھے دیکھتا تو مان جاتا کہ میں اس کی نسبت اس کے شعر ذیل کا زیادہ مستحق ہوں ۔ ؎
و نسلمہ حتی نصرع حولہ ونذ ھل عن ابنائنا والحلائل (3)
ہم محمد کو حوالہ نہ کریں گے یہاں تک کہ ان کے گردلڑ کرمر جائیں اور اپنے بیٹوں اور بیویوں کو بھول جائیں ۔
یہ سب کچھ ہر دوفوج کے اجتماعی حملہ سے پہلے وقوع میں آیا۔ پھر دونوں فوجیں مقابلہ کے لئے نزدیک ہو ئیں ۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسلمانوں کو تاکید فرمائی کہ میرے حکم کے بغیر حملہ نہ کرواگر تمہیں دشمن آگھیرے تو نیز وں سے اسے دور رکھو۔ اہل اسلام نے جب جنگ سے چارہ نہ دیکھا تو اپنی تعداد کی کمی اور دشمن کی کثرت دیکھ کر خدا سے دعا کر نے لگے۔ حضرت بھی صفیں درست کر نے کے بعد عریش میں تشریف لے آئے۔ عریش میں بجزیارِغار آپ کے ساتھ کوئی نہ تھا۔ اس وقت حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبلہ رو ہوکر یوں دست بدعا ہوئے: ’’ یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! (1) تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کر۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! تو نے جو کچھ مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ عطاکر۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اگر تو مسلمانوں کا یہ گر وہ ہلاک کر دے گا تو روئے زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ ‘‘ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا میں اتنا اِلحاح (2) کیا کہ چادر شانۂ مبارک سے گر پڑی۔ حضرت صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے چادر اٹھا کر شانۂ مبارک پر ڈال دی، پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دست مبارک پکڑلیا اور عرض کی: ’’ یانبی اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کو اپنے پر وردگار عَزَّوَجَلَّسے اتنی ہی درخواست کافی ہے۔ (3) جو اس نے آپ سے وعدہ کیا ہے وہ جلدی پورا کردے گا۔ ‘‘ عریش ہی میں آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر غنود گی طاری ہو ئی۔ جب بیدار ہو ئے تو فرمایا: ’’ ابو بکر! بشارت ہو۔اللّٰہکی نصرت آپہنچی۔ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام گھوڑے پر سوار باگ (4) پکڑے آرہے ہیں اور ان کے دند انِ پیشین پر (5) غبار ہے۔ ‘‘ اس انعام کو اللّٰہ تعالٰی یوں بیان فرماتا ہے:

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ (۹) (انفال ، ع ۱)
جب تم لگے فریاد کر نے اپنے رب سے تو پہنچا تمہاری پکار کو کہ میں تمہاری مدد بھیجوں گا ہزار فرشتے لگاتار آنے والے۔ (1)
پہلے ہزار فرشتے آئے۔ پھر تین (2) ہزار ہو گئے۔ بعد ازاں بصورتِ صبر وتقویٰ پانچ ہزار ہو گئے۔ شیطان نے جو بصورت سُر اقہ کفار کے ساتھ تھا جب یہ آسمانی مددد یکھی تو اپنی جان کے ڈر سے بھاگ گیا۔ (3) حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک کنکریوں کی مٹھی لے کر کفار کی طرف پھینک دی۔ (4) کوئی مشرک ایسا نہ تھا جس کی آنکھ میں کنکریاں نہ ہوں اب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حملہ اجتماعی کا حکم دیا۔ گھمسان کے معرکہ (5) کے وقت اللّٰہ تعالٰی نے

کفار کو مسلمان اپنے سے دوچند (1) دکھائے جس سے ان پر رعب طاری ہو گیا۔ قتل کا بازار گر م ہوا۔فرشتے نظر نہ آتے تھے مگر ان کے افعال نمایاں تھے۔ کہیں کسی مشرک کے منہ اور ناک پر کوڑے کی ضرب کا نشان پا یا جاتا کہیں بے تلوار سر کٹتا نظر آتا کہیں آواز آتی: (2) اُ قْدُمْ حَیْزُوْم۔ آخر کفار کو شکست ہو ئی اور وہ بھاگ نکلے۔ خود حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعریش سے ننگی تلوار عَلم (3) کیے یہ پکارتے ہوئے نکلے: (4) سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ (۴۵) (قمر، ع۳) (5)
حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لڑائی شروع ہو نے سے پہلے ارشاد فرمایا (6) تھاکہ ’’ مجھے معلوم ہے کہ بنوہاشم وغیرہ میں سے چند لوگ بجَبْر واِکراہ (7) کفار کے ساتھ شامل ہو کر آئے ہیں جو ہم سے لڑنا نہیں چاہتے۔ اگر ان میں سے کوئی تمہارے مقابل آجائے تو تم اسے قتل نہ کرو۔ ‘‘ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان لوگوں کے نام بھی بتا دیئے تھے۔ازاَنجملہ (8) ابو البختری عاص بن ہشام تھا جو مکہ میں حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کسی قسم کی اذیت نہ دیا کر تا تھا۔ ابو البختری کے ساتھ جُنادَہ بن مُلَیحہ بھی اس کا رَدِیف (9) تھا۔ مُجَذّر بن ذِیاد کی نظر جو ابو البختری پر پڑی تو کہا کہ ’’ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں تیرے قتل سے منع فرمایا ہے اس لئے تجھے چھوڑ تا ہوں ۔ ‘‘ ابو البختری نے کہا: میرے رفیق کو بھی۔ مُجَذّر نے کہا: ’’ اللّٰہکی قسم! ہم تیرے رفیق کو نہیں چھوڑ نے کے،

ہمیں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فقط تیرے چھوڑ نے کا حکم دیا ہے ۔ ‘‘ ابولبختری نے کہا: ’’ تب اللّٰہکی قسم! میں اور وہ دونوں جان دیں گے، میں مکہ کی عورتوں کا یہ طعنہ نہیں سن سکتا کہ ابو البختری نے اپنی جان بچانے کے لئے اپنے رفیق کا ساتھ چھوڑ دیا۔ ‘‘ جب مُجَذّر نے حملہ کیا توابوالبختری بھی یہ رجز پڑھتا ہو احملہ آور ہوااور مار اگیا۔ ؎
لن یسلم ابن حرۃ زمیلہ حتی یموت او یری سبیلہ (1)
شریف زادہ اپنے رفیق کو نہیں چھوڑ سکتا جب تک مرنہ جائے یا اپنے رفیق کے بچاؤکی راہ نہ دیکھ لے۔
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا بڑا دشمن اُمَیَّہ بن خلف بھی جنگ بَدْر میں شریک تھا اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔حضرت بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پہلے اسی اُمَیَّہ کے غلام تھے۔اُمَیَّہ ان کو اذیت دیا کر تا تھاتاکہ اسلام چھوڑ دیں ۔ مکہ کی گرم ریت پر پیٹھ کے بل لٹا کر ایک بھاری پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا کر تا تھا پھر کہا کر تا تھا: تمہیں یہ حالت پسند ہے یا تر ک اسلام؟ حضرت بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس حالت میں بھی ’’ اَحَد ! اَحَد ! ‘‘ پکار اکر تے تھے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کسی زمانہ میں مکہ میں اُمَیَّہ سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ مدینہ میں آئے گاتو یہ اس کی جان کے ضامن ہوں گے۔ عہد کی پابندی کو ملحوظ رکھ کر حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے چاہاکہ وہ میدان جنگ سے بچ کرنکل جائے۔اس لئے اس کو اور اس کے بیٹے کو لے کر ایک پہاڑ پر چڑھے۔ اتفاق یہ کہ حضرت بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھ لیا اور انصار کو خبر کر دی۔لوگ دفعۃً ٹوٹ پڑے۔ حضرت عبد الرحمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُمَیَّہ کے بیٹے کو آگے کر دیا لوگوں نے اسے قتل کر دیا لیکن اس پر بھی قناعت نہ کی اور اُمَیَّہ کی طرف بڑھے۔ اُمَیَّہ چونکہ جسیم وثقیل (2) تھااس لئے حضرت عبدالرحمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا تم زمین پر لیٹ جاؤ۔ وہ لیٹ گیا تو آپ اس پر چھاگئے تاکہ لوگ اس کو مار نے نہ پائیں مگر لوگوں نے حضرت عبدالرحمنرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ٹانگوں کے اندر سے ہاتھ ڈال کر اس کو قتل کر دیا۔ حضرت عبدالرحمن کی بھی ایک ٹانگ زخمی ہوئی اور زخم کا نشان مدتوں باقی رہا۔ (3)
جب میدان کا رزار سر دہو گیا تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ایسا کون ہے جو ابوجہل کی خبر لائے؟ یہ سن کر حضرت عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ گئے اور ا سے اس حال میں پایا کہ عَفْراء کے بیٹوں معاذ اور معوذ نے اسے ضرب شمشیر سے گر ایاہوا تھا اور اس میں ابھی رمق حیات باقی تھا۔ (1) حضرت ابن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اس لعین کے سینے پر بیٹھ گئے اور اس کی ناپاک ڈاڑھی کوپکڑکر کہا: کیا تو ابوجہل ہے؟ بتا آج تجھے اللّٰہنے رسواکیا؟ اس لعین نے جواب دیا: ’’ رسواکیا کیا! تمہارا مجھے قتل کر نا اس سے زیادہ (2) نہیں کہ ایک شخص کو اس کی قوم نے قتل کرڈالا۔ کاش! مجھے کسان کے سوا کوئی اور قتل کر تا۔ ‘‘ اس جواب میں اس لعین کا تکبر اورانصار کی تحقیر پائی جاتی ہے کیونکہ حضرت معاذ اور معوذرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا انصار میں سے تھے اور انصا رکھیتی باڑی کا کام کیا کرتے تھے۔ پھر حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس لعین کا کام تمام کر دیا اور یہ خبر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت اقدس میں لائے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سن کر تین بار ’’ اَللّٰہُ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُو ‘‘ پڑھا۔ چوتھی باریوں فرمایا: ’’ اَللّٰہُ اَکْبَر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَّقَ وَعْدَہٗ وَ نَصَرَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ساتھ لے کر اس لعین کی لاش کے پاس تشریف لے گئے اور دیکھ کر یہ فرمایا: ’’ یہ اس امت کا فر عون ہے۔ ‘‘ (3)
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنگ سے فارغ ہو کر حضرت زید بن حارثہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس فتح کی خوشخبری دینے کے لئے مدینہ میں بھیجا اور اسی غرض کے لئے حضرت عبداللّٰہبن رَواحہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اہل عالیہ (مدینہ کی بالا ئی آبادی ) کی طرف بھیجا۔جب حضرت زیدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مدینہ میں پہنچے تو بقیع میں حضرت رُقَیَّہ بنت رسول اللّٰہ کو دفن کررہے تھے۔ (4)

اس جنگ میں مسلمانوں میں سے صرف چودہ شہید ہو ئے جن کے اسمائے مبارک یہ ہیں : حضرت عبید ہ بن حارِث بن مُطَّلِب بن عبدمناف، حضرت عمیر بن ابی وَقَّاص، حضرت ذُوالشِّمالین عمیر بن عبد عمروبن نضلہ، حضرت عاقل بن ابی بکیر، حضرت مِہجَع مولیٰ عمر بن الخطاب، حضرت صَفْوان بن بیضائ، (یہ چھ مہاجرین میں سے ہیں ) حضرت سعد بن خَیْثَمَہ، حضرت مبشربن عبدالمُنْذِر، حضرت حارِثہ بن سُراقہ، حضرت عوف و معو ذ پسرانِ عفرائ، حضرت عمیر بن حُمام، حضرت رَافِع بن مُعلّٰی، حضرت یزید بن حارث بن فسحم (یہ آٹھ انصار میں سے ہیں ) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن۔ مشرکین میں سے ستر مقتول اور ستر گر فتار ہو ئے۔ (1) منجملہ مقتولین یہ ہیں : شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، عاص بن سعید بن عاص، ابوجہل بن ہشام، ابو البختری، حنظلہ بن ابی سفیان بن حرب، حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف، طعیمہ بن عدی، زمعہ بن اسود بن مطلب، نوفل بن خویلد، عاص بن ہشام بن مغیرہ جو حضرت عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ماموں تھا، اُمَیَّہ بن خلف، علی بن اُمَیَّہ بن خلف، منبہ بن حجاج، معید بن وہب اور منجملہ اسیر ان یہ ہیں : نوفل بن حارث بن عبد المطلب، عباس بن عبد المطلب، عقیل بن ابی طالب، ابو العاص بن ربیع، عدی بن خیار ، ابو عزیز بن عمیر، ولید بن ولید بن مغیرہ، عبداللّٰہبن ابی بن خلف، ابو عزہ عمر وبن عبد اللّٰہ جمحی شاعر، وہب بن عمیر بن وہب جمحی، ابو وداعہ بن ضبیرہ سہمی، سہیل بن عمر و عامری۔
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم سے مشرکین مقتولین میں سے چوبیس رُؤُساء (2) کی لاشیں ایک گڑھے میں ڈال دی گئیں جس میں مردار پھینکا کر تے تھے۔ اُمَیَّہ بن خَلَف جو زِرَہ میں پھول گیا تھا اس پر جہاں وہ پڑا تھا وہیں مٹی ڈال دی گئی اور باقی لاشوں کو اور جگہ پھینک دیا گیا۔
حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادت شریف تھی کہ جب دشمن پر فتح پاتے تو تین دن میدان جنگ میں قیام فرماتے۔ چنانچہ بَدْر میں بھی تیسرے روز سوار ہو کر مقتولین کے گڑ ھے پر تشریف لے گئے اور ان سے یوں خطاب (3) فرمایا: ’’ اے بیٹے فلاں کے! اے فلاں بیٹے فلاں کے! کیا اب تمہیں تمنا ہے کہ اللّٰہ اور اللّٰہ کے رسول کی اطاعت

کر تے، جو کچھ ہمارے پر وردگار عَزَّوَجَلَّنے ہم سے وعدہ فرمایا تھا ہم نے اسے سچ پایا۔ کیاتم نے بھی اسے جوتمہارے پروردگار نے تم سے وعدہ کیا تھاسچ پایا! ‘‘ یہ دیکھ کر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا: ’’ یارسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ ان بے روح جسموں سے کیا خطاب فرمارہے ہیں ؟ ‘‘ اس پر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ قسم ہے خدا کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سنتے۔ (1) ‘‘ پھر جناب رسالت مآب عَلَیْہِ اُلُوْفُ التَّحِیَّۃ وَ الصَّلٰوۃ مُظَفَّر و مَنْصُور (2) اسیر انِ جنگ (3) اور غنائم (4) کے ساتھ مدینہ کو واپس ہوئے۔
جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مقام صَفْر اء میں پہنچے جوبَدْر سے ایک منزل ہے تو آپ نے تمام غنیمت مجاہدین میں (5) برابر برابر تقسیم فرمادی۔ اسی مقام پر حضرت عُبید ہ بن حارِث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جن کا پائے مبارک کٹ گیا تھا وفات پائی۔ (6) صَفْراء ہی میں نَضْر بن حارِث کو قتل کر دیا گیا ۔یہاں سے روانہ ہو کر جب عرق ُالظبیہ میں پہنچے تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم سے عُقْبَہ بن اَبی مُعَیط قتل کر دیا گیا۔ مدینہ میں اس فتح کی اتنی خوشی تھی کہ لوگوں نے مبار کباد کہنے کے لئے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مقام رَوحاء میں استقبال کیا۔ اسیرانِ جنگ جناب سر ور عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ایک دن بعد مدینہ میں پہنچے۔ آپ نے ان کو صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں تقسیم کر دیا تھا اور تا کید فرما دی تھی کہ ان کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے چنانچہ ابو عزیز بن عمیر کا بیان ہے کہ جب مجھے بَدْر سے لا ئے تو میں انصار کی ایک جماعت میں تھا وہ صبح یا شام کا کھانا لاتے تو روٹی مجھے دیتے اور خود کھجور یں کھاتے ان میں سے جس کے ہاتھ روٹی کا ٹکڑاآتا وہ میرے آگے رکھ دیتا مجھے شرم آتی میں اسے واپس کرتا مگر وہ مجھ ہی کو واپس

دیتا اور ہاتھ نہ لگاتا۔ (1)
جن قید یوں کے پاس کپڑے نہ تھے ان کو کپڑے دلوائے گئے۔ حضرت عباس َرضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ چونکہ دراز قدتھے کسی کا کر تہ ان کے بدن پر ٹھیک نہ اتر تا تھا، عبد اللّٰہبن اُبی (رئیس المنا فقین ) نے جو حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہم قد تھا اپنا کرتہ منگواکر دیا۔ صحیح بخاری (2) میں سُفْیَان بن عُیَیْنَہ کا یہ قول منقول ہے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عبد اللّٰہ مذکور کو قبر سے نکلوا کر جو اپنا کر تہ پہنا یا تھاوہ اکثر کے نزدیک اسی احسان کا معاوضہ (3) تھا۔ (4)
رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قید یوں کے بارے میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا۔ حضرت صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا: (5) ’’ یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ آپ کی قوم اور آپ کا قبیلہ ہیں ، انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ ان سے فدیہ لیا جائے، شاید اللّٰہ تعالٰی ان کو اسلام کی تو فیق دے۔ ‘‘ حضرت فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیری تووہ رائے نہیں جو ابو بکررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہے بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ان کو ہمارے حوالے کر دیں تا کہ ہم ان کو قتل کر ڈالیں ، مثلاً عقیل کو حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حوالہ کر دیں اور میرے فلاں رشتہ دار کو میرے سپرد کردیں ‘‘ ۔ حضور انور بِاَ بِیْ ہُوَ وَ اُ مِّیْ نے حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رائے پر عمل فرمایا۔ (6)
قید یوں میں سے ہر ایک کا فدیہ حسب استطاعت ایک ہزاردر ہم سے چار ہزار درہم تک تھا جن کے پاس مال

نہ تھا اور وہ لکھنا جانتے تھے ان میں سے ہر ایک کا فدیہ یہ تھا کہ انصار کے دس (1) لڑکوں کو لکھنا سکھا دے۔ چنانچہ زید بن ثابت نے اس طرح لکھنا سیکھا تھا۔ بعضوں مثلاً ’’ ابو عزہ جمحیشاعر ‘‘ کو حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یونہی چھوڑ دیا۔ (2) ان قید یوں میں سے ایک شخص سہیل بن عمروتھا جو عام مجمعوں میں آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلاف تقریریں کیا کر تا تھا، حضرت عمر ابن الخطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا: ’’ یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے اجازت دیجئے کہ میں سہیل کے دندانِ پیشین (3) اُکھاڑدُوں اور اس کی زبان نکال دوں پھر وہ کسی جگہ آپ کے خلاف تقریر نہ کر سکے گا۔ ‘‘ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ میں اس کا عضونہیں بگاڑ تا ورنہ خدا اس کی جزامیں میرے اعضا بگا ڑ دے گا، گو میں نبی ہوں ۔ ‘‘ (4)
حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان دس رؤسائے قریش میں تھے جنہوں نے لشکر قریش کی رسد کا سامان اپنے ذمہ لیا تھا اس غرض کے لئے حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس بیس اُوقیہ (5) سونا تھا چونکہ ان کی نوبت کھانا کھلانے کی نہ آئی اس لئے وہ سو نا انہیں کے پاس رہا اور غنیمت میں شامل کر لیا گیا۔ حضرت عباس نے عرض کیا: ’’ یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں مسلمان ہوں ۔ ‘‘ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو تیرے اسلام کا خوب علم ہے اگر تو سچا ہے تو اللّٰہتجھے جزادے گا۔ تو اپنے فدیہ کے ساتھ عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث بن عبد المطلب اور اپنے حلیف عمروبن جَحْدَم کا فدیہ بھی ادا کر۔ ‘‘ حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی مال نہیں ۔ اس پر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ وہ مال کہاں ہے جو تونے اپنی بیوی ام الفضل کے پاس رکھا تھا اور اسے کہا تھا کہ اگر میں لڑائی میں مارا جاؤں تو اتنا فضل کو اتنا عبد اللّٰہ کو اتنا عبید اللّٰہ کو ملے۔

یہ سن کر حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (1) نے کہا: ’’ قسم ہے اس خدا کی جس نے آپ کو حق د ے کر بھیجا ہے اس مال کا علم سوائے میرے اور ام الفضل کے کسی کو نہ تھا میں خوب جا نتا ہوں کہ آپ اللّٰہکے رسول ہیں ۔ ‘‘ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تیرا یہ بیس اوقیہ سو نا فدیہ میں شمار نہ ہو گا یہ تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں عطا کیا ہے۔ پس حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنا اور اپنے بھائیوں کے بیٹوں اور اپنے حلیف کا فدیہ (2) ادا کر دیا۔ (3)
شکست قریش کی خبر مکہ میں سب سے پہلے حَیْسُمان بن ایاس خُزاعی لایا۔ (4) قریش اپنے مقتولین پر نوحہ کرنے لگے پھر بدیں خیال (5) کہ مسلمان ہم پر ہنسیں گے نوحہ بند کر دیا۔ شکست کی خبر پہنچنے کے نور وز بعد ابولہب مر گیا۔ اَسودبن عبد ِیَغُوث کے دو بیٹے زَمَعہ اور عَقیل اور ایک پو تا حارِث بن زَمَعہ میدان بَدْر میں کام آئے۔ وہ چاہتا تھا کہ ان پر روئے مگر ممانعت کے سبب خاموش تھا۔ ایک رات اس نے کسی عورت کے رونے کی آواز سنی چونکہ اس کی بینائی جاتی رہی تھی اس لئے اس نے اپنے غلام سے کہاکہ جاؤ دریافت کرو کیا اب رونے کی اجازت ہو گئی ہے۔ اگر ایسا ہے تو میں بھی زَمعہ پر نوحہ کروں کیونکہ میرا جگر جل گیا ہے۔ غلام نے آکر کہاایک عورت کا اونٹ گم ہوگیا ہے۔اس کے لئے رور ہی ہے۔ یہ سن کر اَسود کی زبان سے بے اختیار یہ شعر (6) نکلے۔ ؎
اتبکی ان یضل لھا بعیر و یمنعھا من النوم السھود
فلا تبکی علٰی بِکرٍ و لٰـکن علی بدر تقاصرت الجدود

و بکی ان بکیت علٰی عقیل و بکی حارثا اسد الا سود
و بکیھم و لا تسمی جمیعًا و ما لابی حکیمۃ من ندید (1)
کیاوہ اونٹ کے گم ہو نے پر روتی ہے اور بے خوابی اسے نیند نہیں آنے دیتی سو وہ جوان اونٹ پر نہ روئے بلکہ بَدْر پر جہاں قسمتوں نے کو تا ہی کی، اگر تجھ کو رونا ہے تو عقیل پر رواور شیروں کے شیر حارث پر رواور ان سب پر رواور نام نہ لے اور ابو حکیمہ (زَمَعہ ) کا کوئی ہمسر نہیں ۔
یوم بَدْر واقع میں یوم فرقان تھا کہ کفر واسلام میں فرق ظاہر ہو گیااوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ضعف کے بعد مسلمانوں کو تقویت دی چنانچہ اس نعمت کو یوں یاد دلا یا ہے:
وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌۚ- (اٰل عمرٰن، ع ۱۳)
اور تمہاری مدد کر چکا ہے اللّٰہبدر کی لڑائی میں اور تم بے مقدور تھے۔ (2)
اس دن سے اسلام کا سکہ کفار کے دل پر جم گیا اور اہل مدینہ میں بہت سے لوگ ایمان لائے۔ اہل بَدْر کے فضائل میں اتنا ہی کہہ دینا کا فی ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے حق میں فرمایا ہے: (3) ’’ بیشک اللّٰہاہل بَدْر سے واقف ہے کیونکہ اس نے فرمادیا: تم عمل کر و جو چاہو البتہ تمہارے واسطے جنت ثابت ہو چکی یا تحقیق میں نے تمہیں بخش دیا۔ ‘‘ (4) آخرت میں مغفور ہو نے کے علاوہ دنیا میں بھی بَدْر ی ہو نا خاص امتیاز کا سبب شمار کیا جاتا تھا بلکہ وہ ہتھیار بھی جن سے بَدْر میں کام لیا گیا تبرک خیال کیے جا تے تھے چنانچہ حضرت زبیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو بر چھی عبید ہ بن سعید بن عاص کی آنکھ میں ماری تھی۔ (5) وہ یاد گار رہی بدیں طور کہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت زبیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مُسْتعار لی، پھر آپ کے چاروں خلیفوں کے پاس منتقل ہو تی رہی۔ بعد ازاں حضرت
عبد اللّٰہبن زبیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس رہی یہاں تک کہ ۷۳ھ میں حجاج نے ان کو شہید کر دیا۔
اہلِ بَدْرکے توسل سے جو دعا مانگی جائے وہ بفضل الٰہی ’’ مستجاب ‘‘ ہو تی ہے جیسا کہ ’’ مشائخ ‘‘ کا تجربہ ہے۔ (1)
اندلس کے مشہور سیا ح محمد بن جبیر (متوفی ۲۷شعبان ۶۱۴ھ ) نے بَدْر کے حال میں یوں لکھا ہے: (2) ’’ اس موضع میں خرما (3) کے بہت باغ ہیں اور آب رواں کا ایک چشمہ ہے۔ موضع کا قلعہ بلند ٹیلے پر ہے اور قلعہ کا راستہ پہاڑوں کے بیچ میں ہے۔ وہ قطعہ زمین نشیب میں ہے جہاں اسلامی لڑائی ہو ئی تھی اور اللّٰہ تعالٰی نے اسلام کو عزت اور اہل شرک کو ذلت دی۔ آج کل اس زمین میں خرماکاباغ ہے اور اس کے بیچ میں گنج شہیداں (4) ہے۔ اس آبادی میں داخل ہوتے وقت بائیں طرف جبل الرحمۃ ہے۔ لڑائی کے دن اس پہاڑ پر فرشتے اترے تھے۔ اس پہاڑ کے ساتھ جَبَل ا لطُّبُوْل ہے۔ اس کی قطع (5) ریت کے ٹیلے کی سی ہے۔ کہتے ہیں ہر شب جمعہ کو اس پہاڑ سے نقار ے کی صداآتی ہے۔ اس لئے اس کا نام جَبَل الطُّبُوْل رکھا ہے۔ ہنوزنصرتِ نبوی کی یہ بھی ایک کرامت باقی ہے۔ اس بستی کے ایک عرب باشند ے نے بیان کیا کہ میں نے اپنے کا نوں سے نقاروں کی آواز سنی ہے، یہ آواز ہر جمعرات اور دوشنبہ کو آیا کر تی ہے۔ اس پہاڑ کی سطح کے قریب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تشریف رکھنے کی جگہ ہے اور اس کے سامنے میدان جنگ ہے۔ ‘‘
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِحَبِیْبِکَ سَیِّدِنَا وَ مَوْلَانَا محمد الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ بِاَہْلِ بَدْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَنْ تُبَلِّغَنِیْ فِی الدَّارَیْنِ اَقْصٰی مَرَامِیْ وَ تَغْفِرَ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَشَائِخِیْ وَ لِاَحِبَّائِیْ وَ لِسَآئِرِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَ اَنْ تُؤَیِّدَ الْاِسْلَامَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ۔
اسی سال یوم فطرسے دو دن پہلے یا شروع شوال میں صدقہ فطر واجب ہوا عید کے دن نماز عید الفطر عیدگاہ میں جماعت سے پڑھی گئی۔ اسی وقت زکوٰۃِ مال فرض ہوئی۔

 

 

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!