عورت کو اس کے خاوند کے خلاف ابھارنے والا ہم سے نہیں

 عورت کو اس کے خاوند کے خلاف ابھارنے والا ہم سے نہیں

سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: لَیْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ اِمْرَأۃً عَلی زَوْجِہَا اَوْعَبْدًا عَلٰی سَیِّدِہٖیعنی جو عورت کو اس کے خاوند یاکسی غلام کو اس کے آقا کے خلاف اُبھارے وہ ہم سے نہیں۔(ابوداؤد، کتاب الطلاق،باب فیمن خبب امر أۃعلی زوجہا،۲/۳۶۹،حدیث:۲۱۷۵)

دو دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرو

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :خاوند بیوی میں فساد ڈالنے کی بہت صورتیں ہیں: عورت سے خاوند کی برائیاں بیان کرے دوسرے مردوں کی خوبیاں ظاہر کرے کیونکہ عورت کا دل کچی شیشی کی طرح کمزور ہوتا ہے یا ان میں اختلاف ڈالنے کے لیے جادو تعویذ گنڈے کرنے سب حرام ہے، اور غلام یا لونڈی کو بگاڑنے کے معنی یہ ہیں کہ اسے بھاگ جانے پر آمادہ کرے ، اگر وہ خود بھاگنا چاہیں تو ان کی اِمداد کرے ، بہرحال دو دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرو توڑ و نہ۔( مراٰ ۃ المناجیح ،۵/۱۰۱)

بادشاہ اورلالچی عورت(حکایت )

بنی اسرائیل میں ایک بہت عبادت گزار لکڑ ہارا (لکڑیاں بیچنے والا)تھا ، اس کی بیوی بنی اسرائیل کی حسین وجمیل عورتوں میں سے تھی، جب اس ملک کے بادشاہ کو لکڑ ہارے کی بیوی کے حسن وجمال کی خبر ملی تو اس کے دل میں شیطانی خیال آیا ، چنانچہ اس نے ایک بڑھیا کو اس لکڑہارے کی بیوی کے پاس بھیجا تاکہ وہ اسے ورغلائے اور لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ لکڑہارے کو چھوڑ کر شاہی محل میں اس کی ملکہ بن کر زندگی گزارے ۔ وہ مکار بڑھیا لکڑہارے کی بیوی کے پاس گئی اور اس سے کہا:تُو کتنی عجیب عورت ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے جو نہایت ہی مفلس اور غریب ہے جو تجھے آسائش و آرام فراہم نہیں کرسکتا، اگر تُو چاہے
تو بادشاہ کی ملکہ بن سکتی ہے۔ بادشاہ نے پیغام بھیجا ہے کہ اگر تُو لکڑہارے کو چھوڑ دے گی تو مَیں تجھے اس جھونپڑی سے نکال کر اپنے محل کی زینت بناؤں گا،تجھے ہیرے جو اہرات سے آراستہ وپیراستہ کرو ں گا ، تیرے لئے ریشم اورعمدہ کپڑوں کا لباس ہوگا ۔ جب اس عورت نے یہ باتیں سنیں تولالچ میں آگئی اور اس کی نظروں میں بلند و بالا محلات اور اس کی آسائشیں گھومنے لگیں ۔چنانچہ اس نے لکڑہارے سے بے رُخی اِختیار کرلی اور ہر وقت اس سے ناراض رہنے لگی،بالآخر لکڑہارے نے مجبوراً اس بے وفالالچی عورت کو طلاق دے دی ۔وہ خوشی خوشی بادشاہ کے پاس پہنچی اوراس سے شادی کر لی ۔ جب بادشاہ اپنی نئی دلہن کے پاس حجلہ عروسی میں پہنچا ِتواس کی بینائی جاتی رہی ، ہاتھ خشک(یعنی بے کار) ،زبان گونگی اور کان بہرے ہوگئے ،عورت کا بھی یہی حال ہوا ۔ جب یہ خبر اس دور کے نبی عَلَیْہِ السَّلام کو پہنچی اور انہوں نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ان دونوں کے بارے میں عرض کی تو ارشاد ہوا :میں ہر گز ان دونوں کو معاف نہیں کرو ں گا، کیا انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ جو حرکت انہوں نے لکڑہارے کے ساتھ کی میں اس سے بے خبر ہوں؟(عیو ن الحکایات،ص۱۲۲)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *