ضرورت ِفقہ

ضرورت ِفقہ

امّا بعد ۔ خیر خواہ اسلام مفتقرالی اللہ محمد انوار اللہ الحنفی‘ ابن مولائی مرشدی مولوی حافظ محمد شجاع الدین صاحب قندہاری ‘ دکنی ‘ حنفی ‘ نقشبندی ‘ قادری ‘ چشتی غفراللہ لہ و جعل الجنۃ مثواہ و نور مرقدہاہل اسلام کی خدمت میں گزارش کرتا ہے کہ حق تعالیٰ نے انسان کو ابدی بنایا یعنی اس عالم کے فنا ہونے کے بعد بھی وہ باقی رہے گا اور کبھی فنا نہ ہوگا ۔ پھر نشأۃ انسانی کا ظہور اس عالم میں اس طور پر ہوا کہ اس کو جسم دیاگیا جو دو حصوں پر منقسم ہے؛ ظاہری اور باطنی ، اور ہر حصہ میں متعدد اعضاء متعدد کاموں کے لئے بنا کر باطنی پورا حصہ حق تعالیٰ نے خاص اپنے تصرف میں رکھایعنی آدمی اپنے اختیار سے کوئی کام اُس حصہ کے اعضاء سے نہیں لے سکتااور ظاہری حصہ کے اعضاء جو اُس کے کام کرنے کے لئے آلات بنائے گئے ہیں ‘کسی قدر اُس کے تصرف میں دے گئے ہیں جن سے جو جی چاہتا ہے کام لے سکتا ہے, پھر انسان کو پیدا کرنے سے جو مقصود ہے ‘ اس آیۂ شریفہ میں بیان فرمایا ’’ وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون‘‘یعنی ہم نے جن و انس کو فقط اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔ اس آیت پر ایمان لانے کے بعد مسلمانوں کو ضرور تھا کہ تمام کاروبار چھوڑ کر صرف عبادت الـٰہی میں مشغول ہوجائیں اور عمر بھر کوئی دوسرا کام نہ کریں ،مگر حق تعالیٰ نے اُس کے ساتھ ہی کسب معیشت اور نکاح وغیرہ جتنے کام بقائے شخصی اور بقائے نوعی سے متعلق ہیں ‘ان میں قطعی حکم دیا کہ وہ سب کام کئے جائیں اور صرف حکم

ہی نہیں ، بلکہ اُس کے ساتھ ترغیبیں دی گئیں کہ اگر یہ کام عمدگی سے ادا کئے جائیں تو اُس کے صلہ میں اعلیٰ درجہ کی نعمتیں آخرت میں ابدالآباد کے لئے دی جائیں گی ، اور ان کاموں کے طریقے بتلا دیئے گئے کہ اس طرح کئے جائیں اور جتلا دیا گیا کہ اگر اُن طریقوں سے انحراف ہو اور خدا و رسول کے حکم کے مطابق وہ کام نہ کئے جائیں تو اُس کی بازپرس بلکہ سزائے ابدی ہوگی ,اس سے ظاہر ہے کہ انسان کا اپنی ذاتی ضرورتوں میں مشغول ہونا بھی عبادت الٰہی ہے بشرطیکہ شریعت کے مطابق ہو ۔اب ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جو کام کرے اُنہی طریقوں پر کرے جو خدا و رسول نے بتلا دیئے ہیں جس سے کھانا ، پینا ، سونا ، جاگنا ، چلنا ، پھرنا ، بیع و شراء ، عیش و عشرت وغیرہ سب کام عبادت ہی عبادت ہوجائیں جیسا کہ ارشاد ہے قولہ تعالیٰ ’’ تلک الجنۃ التی اورثتموہا بما کنتم تعملون‘‘ یعنی مسلمانوں سے قیامت کے روز کہا جائیگا کہ یہ جنت جس کے تم وارث کئے گئے ، اُن کاموں کا بدلہ ہے جو دنیا میں تم کرتے تھے ۔ کام تو سبھی کرتے تھے مگر مسلمانوں کے کام اُس طریقہ پر تھے جس کی تعلیم خدائے تعالیٰ نے کی تھی اوروہ سب کام بطور عبادت کیا کرتے تھے جس کے معاوضہ میں جنت دی گئی ۔
ہر ایک کام کے طریقے مسلمانوں کو جو بتلائے گئے ۔ قرآن و حدیث میں سب مذکور ہیں, مگر چونکہ مختلف اسباب سے قرآن و حدیث کو سمجھ کر نکالنے میں دشواریاں واقع ہوگئی ہیں، جس کا حال انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ معلوم ہوگا ،اس وجہ سے ہر شخص میں صلاحیت نہیں کہ خود قرآن و حدیث سے وہ نکال سکے اس لئے علماء شکر اللہ سعیہم نے یہ کام اپنے ذمہ لیا کہ مختلف آیات و احادیث و اقوال صحابہ وغیرہم سے تحقیق کر کے ہرایک مسئلہ مختصر الفاظ میں بیان کر دیا کہ اس میں یہ کرنا چاہئے ،چنانچہ ایک مدت کی کوشش میں انہوں نے ہر ایک جزئی مسئلہ کا حکم قرآن و حدیث سے نکال کر ایک علم ہی مستقل مدون کر دیا جس

کا نام فقہ ہے ،یہ ہے حقیقت فقہ ۔
تفصیل اس اجمال کی کئی اُمور سے متعلق ہے ،جن کا مختصر حال یہاں لکھا جاتا ہے اگر غور سے ملاحظہ فرمایاجائے تو بشرط انصاف معلوم ہوجائیگا کہ فقہا نے جو کام کیا ، کس قدر ضروری تھا اوراُن کی جانفشانیاں کس درجہ قابل قدر ہیں ۔

قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط کرنا ہرکسی کا کام نہیں

یہ امر پوشیدہ نہیں کہ قرآن شریف ، فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ درجہ میں واقع ہے جس کو مخالفین نے بھی تسلیم کرلیا ہے ۔ کیونکہ جب دعویٰ سے کہا گیا ’’ فاتوا بسور ۃ من مثلہ وادعوا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین‘‘ تو کسی سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ ایک دو سطر لکھ کر پیش کر دیں جو فصاحت و بلاغت میں قرآن کا جواب ہو سکے اس سے بلاغت قرآن کا معجز ہونا بداہۃثابت ہے۔ اور کلام بلیغ کا خاصہ ہے کہ باوجود عام فہم ہونے کے اکثر مضامین اُس میں ایسے بھی ہوں کہ خاص خاص لوگ ہی اُس پر مطلع ہوسکیں ۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے ’’ الکنایۃ ابلغ من التصریح ‘‘ کنایہ کے ابلغ ہونے کی کوئی وجہ سوائے اس کے نہیں کہ اُس کا پورا پورا مضمون سمجھنا خاص لوگوں کا ہی حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ نکتہ رس اور سخن شناس علماء نے غور و فکر کر کے ایک ایک آیت کے کئی کئی معنی بیان کئے جن کا سمجھ لینا بھی ہر کسی کا کام نہیں پھر جس طرح عبارت قرآن سے مسائل سمجھے جاتے ہیں ،دلالت اور اشارت اور اقتضاء سے بھی سمجھے جاتے ہیں ۔ اور اس کے سوا نظم اور معانی سے اتنے مباحث متعلق ہیں کہ اُن کے بیان میں خاص ایک فن اصول فقہ مدون ہوگیا ہے ۔ غرض ہر کسی کا کام نہ تھا کہ ان مباحث پر مطلع ہو کر قرآن سے مسائل نکال سکتا ۔
پھر قرآن شریف میں ناسخ و منسوخ آیتیں بھی ہیں اور ہر ایک آیت کی تاریخ نزول نہیں

لکھی گئی جس سے ناسخ آیتیں جوواجب العمل ہیں معلوم ہوجائیں اور جو اقوال وارد ہیں متواتر نہ ہونے کی وجہ سے قطعی الثبوت نہیں ، بہرحال ناسخ آیتوں کا معین کرنا قرائن حالیہ و مقالیہ سے متعلق ہے جس کے لئے اعلیٰ درجہ کی فہم درکار ہے ۔
پھر اسی قسم کی دقتیں احادیث کے سمجھنے میں بھی پیش آئیں اور علاوہ اس کے احادیث میں اختلاف بھی بہت کچھ واقع ہوگیا ہے، اس وجہ سے کہ صحابہ وقتاً فوقتاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے رخصت ہو کر اپنے قبائل کو اور جہاد وغیرہ کیلئے جایا کرتے تھے اور جو حضرات مدینۂ منورہ میں رہتے تھے وہ بھی ہر وقت حاضر خدمت نہیں رہ سکتے تھے ۔ غرضکہ غیر حاضری کے زمانہ میں سب ارشادات اُن کو نہیں معلوم ہوئے اور جو کچھ دیکھا اور سُنا تھا اُس کا بیان کر دینا بھی اُن کو ضرور تھا اس وجہ سے ہر قسم کے احادیث مخلوط ہوگئیں اور ہر مسئلہ میں مابعد کے اقوال و افعال ممتاز نہ ہوسکے جو ناسخ سمجھے جاتے کیونکہ جس طرح قرآن میں ناسخ و منسوخ ہیں احادیث میں بھی ہیں جن کا قرائن سے معین کرنا ہر کسی کا کام نہیں ۔
پھر قرآن و حدیث میں جس طرح الفاظ معانی موضوع لہ میں مستعمل ہیں ‘غیر معانی موضوع لہ میں بھی مستعمل ہیں اور یہ معلوم کرنا بھی ہر کسی کا کام نہیں کہ کونسا لفظ حقیقی معنی میں مستعمل ہے اور کونسا مجازی معنی میں ،پھر مقصود شارع یہ ہے کہ ہر کلام کے سمجھنے میں قرائن سے مدد لیجائے ،گو الفاظ مساعدت نہ کریں چنانچہ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے ’’ عن سالم عن ابیہ قال بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم خالد ابن الولید الی بنی جذیمۃ فدعاھم الی الاسلام فلم یحسنوا ان یقولوا اسلمنا فجعلوا یقولون صبأنا صبأنا فجعل خالد یقتل منہم و یاسر و دفع الی کل رجل منا اسیرہ حتی اذا کان یوم امر خالد ان یقتل کل رجل منا اسیرہ فقلت واللہ لا اقتل اسیری و لا یقتل رجل منؔ
اصحابی اسیرہ حتی قدمنا علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فذکرناہ لہ فرفع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یدہ فقال اللھم انی ابرا الیک مما صنع خالد مرتین رواہ البخاری‘‘ ترجمہ : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد ابن ولیدرضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنی خزیمہ کی طرف بھیجا ‘ اُنہوں نے اُن کو اسلام کی دعوت دی مگر اُن لوگوں نے صاف طور پر یہ نہ کہا کہ ہم اسلام لائے بلکہ صبأنا صبأنا کہنے لگے یعنی ہم اپنے دین سے پھر گئے خالدرضی اللہ عنہ نے اُس کا خیال نہ کر کے اُن کو قتل کرنا اور قید کرنا شروع کیا ‘چنانچہ ایک ایک قیدی ایک ایک شخص کے حوالہ کیا پھر ایک روز حکم دیاکہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر ڈالے میں نے کہا :خدا کی قسم ! میں اور میرے ساتھ والے ہر گز قتل نہ کریں گے، جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ واقعہ بیان کیا تو حضرت ہاتھ اٹھا کر کہنے لگے الٰہی ! خالد نے جو کیا ہے میں اُس سے بری ہوں ، یہ الفاظ دو مرتبہ فرمائے انتہیٰ۔ اس سے ظاہر ہے کہ معنی سمجھنے میں قرائن سے مدد لینے کی سخت ضرورت ہے اور ظاہر الفاظ سے جو مضمون سمجھاجاتا ہے ہمیشہ وہی مقصود نہیں ہوا کرتا ،اس لئے قرآن و حدیث کا پورا پورا مطلب سمجھنا ہر کسی کا کام نہیں ۔
پھر چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اوتیت جوامع الکلم‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ قرآن و حدیث کی عبارتوں میں کئی پہلو ہوا کرتے ہیں جن سے مسائل کا استنباط مختلف طور پر ہوسکتا ہے ‘ اُن کا معلوم کرنا بھی ہرکسی کا کام نہیں ۔
پھر اکثر احکام میں علّتیں ملحوظ ہوا کرتی ہیں جن سے یہ مقصود ہوتاہے کہ جہاں وہ علت پائی جائے قیاس سے وہ حکم ثابت کیا جائے اور علّت کا معین کرنا نہایت مشکل کام ہے ۔

فقیہ اور مجتہد

غرض اس قسم کے مختلف اسباب سے ایسے علماء کی ضرورت ہوئی کہ علاوہ آیات و احادیث یاد رکھنے کی ایسی بھی طبیعت رکھتے ہیں کہ شارع کے مقصود کو قرائن اور جودت طبیعت سے معلوم کرسکیں‘ انہیں کو فقیہ اور مجتہد کہتے ہیں اور اس قسم کے علماء بہت کم ہوتے ہیں ۔ چنانچہ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے ’’ عن معاویۃ رضی اللہ عنہ قال سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین و انما انا قاسم واللہ یعطی رواہ البخاری‘‘ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ خدائے تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اُس کو دین میں سمجھ دیتا ہے ۔ میں صرف قاسم ہوں اور دینے والا اللہ ہے ۔ قسطلانیؒ نے لکھا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ جس کو جیسی فہم دینا چاہتا ہے دیتا ہے ۔ یعنی صحابہ احادیث سنتے تھے اور اُن سے صرف ظاہری معنی سمجھ لیتے تھے اور بعض بہتیرے مسائل اُن سے استنباط کرتے تھے ۔ اسی طرح ما بعد کے قرون کے علماء کا حال رہا ہے انتہیٰ ۔
قسطلانیؒ نے یہ مضمون اس حدیث شریف سے لیا ہے ’’ عن انس و ابن مسعود و زید ابن ثابت رضی اللہ عنہم قالوا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نضر اللہ عبداً سمع مقالتی فوعاہا و حفظہا ثم اداہا الی من لا یسمعہا فرب حامل فقہ غیر فقیہ و رب حامل فقہ الی من ھو ا فقہ منہ رواہ احمد و ترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ وغیر ہم کذا فی کنز العمال‘‘ یعنی فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ خدا ئے تعالیٰ تروتازہ رکھے اُس بندہ کو جس نے میرے اقوال سنے اور یاد رکھ کر اُن لوگوں کو پہونچایا جنہوں نے سنا نہیں کیونکہ بہت روایت کرنے والے سمجھدار نہیں ہوتے اور بعض سمجھدار تو ہوتے ہیں مگر جن کو وہ پہنچاتے ہیں اُن میں ایسے بھی لوگ ہوں گے جو اُن سے افقہ ہوں اور دارمی کی روایت میں ہے کہ

فرب حامل فقہ ولا فقہ لہ جس کا مطلب یہ ہے کہ اکثر روایت کرنے والوں کو یعنی محدثین کو سمجھنے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔

محدثین و فقہاء کے فرائضِ منصبی

اس سے مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر ہے کہ محدثین کا اتنا ہی کام ہے کہ روایتیں فقہاء کو پہونچا دیں تاکہ وہ خوض و فکر کر کے مفید مفید مضامین نکالیں جن سے راویوں کی سمجھ قاصر ہو ‘کیونکہ جمیع مالہ و ماعلیہ کی رعایت کرنی ہر راوی کا کام نہیں جیساکہ اِس روایت سے ظاہر ہے جو کنز العمال میں ہے ’’ عن الحسن مرسلاً قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمۃ العلماء الرعایۃ و ہمۃ السفھا ء الروایۃ رواہ ا بن عساکر‘‘ اور مختصر کتاب ’’ النصیحۃ لاہل الحدیث‘‘ تصنیف حافظ ابوبکر خطیب بغدادیؒ میں لکھا ہے’’ و روی باسنادہ الی علی ابن موسیٰ الرضیٰ عن جدہ عن آبائہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کونوا دراۃ ولا تکونوا رواۃ ‘‘ یعنی ائمہ اہل بیت کی اسناد سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم سمجھ حاصل کرو روایت کرنے والوں میں مت ہو ۔ غرضکہ متعدد روایتوں سے ثابت ہے کہ مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف روایت حدیث نہیں بلکہ احادیث میں غور کرنا اور فقیہوں کو پہونچانا ہے ‘جن کا کام یہ ہے کہ جیسی جیسی ضرورتیں پیش آئیں ، وہ ہر امر کی رعایت کر کے اُن احادیث سے استنباط مسائل کیا کریں ۔

فقہ کے معنی

ہر راوی حدیث کو فقیہ اس وجہ سے نہیں کہہ سکتے کہ نہ لغت کی رو سے اطلاق اس لفظ کا

اُن پر ہوسکتا ہے نہ اصطلاح اورعرف شرعی سے اس لئے کہ فقہ کے لغوی معنی شق و فتح کے ہیں جیسا کہ علامہ زمخشری نے فائق میں لکھا ہے ’’ الفقہ حقیقۃ الشق و الفتح والفقیہ العالم الذی یشق الاحکام و یفتش عن حقائقہا و یفتح ما استغلق منہا‘‘ یعنی فقہ کے اصلی معنی شق و فتح کے ہیں اور فقیہ اُس عالم کو کہتے ہیں جو احکام میں موشگا فیاں کر کے اُن کے حقائق کو معلوم کرے اور مشکل اور مغلق امور کو کھولدے انتہی ۔ چونکہ راوی کو نہ شق احکام سے تعلق ہے نہ فتح مغلقات سے ،غرض اس لئے وہ فقیہ نہیں ہوسکتا اور جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کا اطلاق فرمایا ہے وہاں یہ بھی تصریح فرما دی کہ بہتیرے راوی فقیہ نہیں ہوتے ،جس سے صاف معلوم ہوگا کہ ہر محدث کو فقیہ نہیں کہہ سکتے ۔

فضائلِ فقیہ

پھر اس کے بعد خاص طور پر فقہا ء کی تعریفیں کیں ،چنانچہ جامع الصغیر میں ہے ’’ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان لکل شیٔ دعامۃ ودعامۃ ہذا الدین الفقہ و فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد‘‘ یعنی ہر چیز کے لئے ایک ستون ہے جس پر اُس کا مدار ہوتا ہے اور اس دین کا ستون فقہ ہے اور ہزار عابد شیطان پر ایسے سخت نہیں جیسے ایک فقیہ اُس پر سخت اور سرکوب ہے ۔ اِس کے سوا اور بہت سی حدیثیں ، فقیہ کی تعریف اور فضائل میں وارد ہیں جن سے ظاہر ہے کہ محدثین میں فقہاء ممتاز اور مدارج عالیہ سے سرفراز ہیں ۔ کنز العمال کی کتاب الطہارۃ میں یہ روایت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے : مجاہد ؒ کہتے ہیں کہ ایک روز میں اور عطا اور طاؤس اور عکرمہ رحمہم اللہ بیٹھے ہوئے تھے ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز پڑھ رہے تھے ایک شخص نے آ کر پوچھا کہ جب میں پیشاب کرتا ہوں تو ماء دافق یعنی منی نکلتی ہے، کیا اُس سے غسل واجب ہوتا ہے ؟ ہم نے کہا کہ کیا وہی ماء دافق نکلتا ہے جس سے بچہ

پیدا ہوتا ہے ،کہا :ہاں !ہم نے کہا جب تو غسل واجب ہے، وہ شخص انّا للہ پڑھتا ہوا چلا گیا ۔ ابن عباسؓ نے جلد نماز سے فارغ ہو کر عکرمہ سے کہا اُس شخص کو بلا لاؤ چنانچہ جب وہ آیا تو پہلے ہم سے پوچھا کیا تم نے قرآن سے فتویٰ دیا ؟ہم نے کہا :نہیں ،فرمایا :حدیث سے؟ ہم نے کہا :نہیں، فرمایا صحابہ کے اقوال سے ؟ ہم نے کہا نہیں ،پھر فرمایا :آخر کس کے قول پر فتویٰ دیا ؟ہم نے کہا اپنی رائے سے یہ سنکر فرمایا’’ لذلک یقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد‘‘ یعنی اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے اشد ہے ،پھر اُس سائل سے پوچھا کہ پیشاب کے بعد جو چیز نکلتی ہے اُس کے نکلتے وقت تمہارے دل میں شہوت یعنی عورت کی خواہش ہوتی ہے ؟ کہا نہیں ۔ فرمایا اعضاء میں استرخا یعنی ڈھیلا پن پیدا ہوتا ہے ؟کہا نہیں ۔ فرمایا اِس صورت میں وضو تمہارے لئے کافی ہے انتہی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہمانے جب دیکھا کہ ماء دافق کے لفظ پر اُن محدثین کو دھوکہ ہوا اور صرف ظاہری معنی پر اُنہوں نے فتویٰ دے دیا اور علّت غسل پر غور نہیں کیا تو سمجھ گئے کہ اُن میں کوئی فقیہ نہیں اگر فقیہ ہوتے تو علّت غسل کی تشخیص ضرور کرتے، پھر جب دیکھا کہ علّت غسل یعنی خروج منی کے لوازم نہیں پائے جاتے ، اِس لئے فتویٰ دیا کہ وہ منی ہی نہیں ، اِس وجہ سے غسل بھی واجب نہیں ۔ اِس سے ظاہر کہ فقیہ کی جو تعریف و توصیف احادیث میں وارد ہے اُس کو اعلیٰ درجہ کی سمجھ اور موشگافیاں درکار ہیں اور مجاہد اور عطا اور طاؤس اور عکرمہ رحمہم اللہ جیسے اکابر محدثین کو ( جو تقریباً کل محدثین کے اساتذہ اور سلسلہ اساتذہ میں ہیں) فقیہ نہیں سمجھا ۔ اِس وجہ سے کہ اُنہوں نے علّت کی تشخیص نہیں کی اور کمال افسوس سے فرمایا کہ اِسی وجہ سے (کہ فقیہ اور سمجھدار لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور کم فہم فتویٰ کے لئے ظاہری نصوص کو کافی سمجھتے ہیں)۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فقیہ کی تعریف کی کہ شیطان کے مقابلہ میں وہ ہزار عابد
سے بہتر ہے ، اس لئے کہ شیطان کا مقصود اصلی یہی ہے کہ خلاف شرع لوگوں سے کام کرائے اور بیچارہ عابد کو عبادت میں اتنی فرصت کہاں کہ معانی نصوص اور مواقع اجتہاد میں غور وفکر کر کے آپ ایسا حکم دے کہ خدا ورسول کی مرضی کے مطابق ہو جیسے محدثین کو ضبط اسانید اور تحقیق رجال وغیرہ فنون حدیث کے اشتغال میں اس کی نوبت ہی نہیں آتی ۔ یہ تو خاص فقیہ کا کام ہے کہ ہر مسئلہ میں تمام آیات و احادیث متعلقہ کو پیش نظر رکھ کر اپنی طبیعت وقاد سے کام لیتا ہے اور ان میں موشگافیاں کر کے کوشش کرتا ہے کہ شارع کی مرضی معلوم کرے ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ’’ہر مردے و ہر کارے ‘‘ جامع ترمذی میں یہ روایت ہے ’’ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خصلتان لا یجتمعان فی منافق حسن سمت ولا فقہ فی الدین‘‘ یعنی فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دو خصلتیں منافق میں نہیں جمع ہوتیں ، اہل خیر کا طریقہ اختیار کرنا اور فقہ فی الدین یعنی دین کے معاملات و مسائل میں سمجھ۔ اور جامع الصغیر میں یہ روایت ہے ’’ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم افضل العبادۃ الفقہ۔ طب عن ابن عمررضی اللہ عنہما‘‘ یعنی تمام عبادتوں میں افضل فقہ ہے اس سے محدثین اور فقہا ء کا فرق اور ہر ایک وظیفے بھی معلوم ہوگئے کہ محدثین کا کام صرف احادیث کی حفاظت ہے ‘ صحیح حدیثیں تلف نہ ہوں اور کسی دوسرے کا کلام حدیث نہ بن جائے اور فقہاء کا کام ان احادیث محفوظہ میں خوض و فکر کرنا ہے ۔

محدثین نے اپنے فرائضِ منصبی عمدگی سے انجام دیئے

ملاحظۂ فن رجال سے واضح ہے کہ محدثین نے اپنی خدمت اور فرائض منصبی جس خوبی اور عمدگی سے ادا کئے ،اُس کی نظیرنہ کسی اُمت میں مل سکتی ہے نہ اسلامی کسی دوسرے فرقہ میں اُن کے حافظے ‘ تقویٰ ‘ دیانت ‘ تورع ‘صدق ‘ جفاکشی وغیرہ ضروریات اِس درجہ کو
پہونچے ہوئے تھے کہ اُن پر اطلاع ہونے کے بعد ہر منصف مزاج بے اختیار یہی کہے گا کہ جن احادیث کو محدثین اہل سنت و جماعت نے صحیح کہا ہے بے شک وہ صحیح ہیں ۔ اصل سبب اس کا یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کو اِس دین کی حفاظت ایسے طور پر منظور تھی کہ اصلی دین شیطانی تصرف سے محفوظ رہے اور جس طرح دوسرے ادیان میں آسمانی کتابوں اور اقوال و احوال انبیاء میں تحریفیں ہوگئیں ، اس میںنہ ہونے پائیں ۔ اس لئے ہر زمانہ میں لاکھوں مسلمانوں کو توفیق دی کہ قرآن شریف پورا یاد کرلیاکریں،چنانچہ اس تدبیر سے اپنا کلام پاک ہم تک ایسا پہونچایا کہ اُس میں ایک لفظ کی غلطی اور تحریف کا ہم کوتو کیا مخالف کو بھی خیال نہیں آسکتا ۔ اسی طرح اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی حفاظت کے لئے ان حضرات کو پیدا کیا جن کے تاریخی حالات دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ان حضرات کو فقط حفاظت احادیث نبویہ کے واسطے پیدا کیا تھا اور جتنے ضروری امور اس سے متعلق تھے سب اُن کے حق میں ایسے کر دیئے جیسے فطرتی اور طبیعی امور ہوا کرتی ہیں، چنانچہ ان حضرات کی سعی سے احادیث نبویہ مخالفین اسلام کے تصرفات سے محفوظ رہ کر اصلی اور صحت کی حالت پر ہم تک پہونچیں ۔ ہر چند تیرہ سو سال کے عرصہ میں ہر ملک اور قوم میں بڑے بڑے انقلاب واقع ہوئے ملاحدہ اور زنادقہ نے بہت کچھ کوششیں کیں کہ دین محفوظ نہ رہے اور عموماً مسلمانوں کے احوال میں تغیر آگیا اور ہر زمانہ میں ان حضرات کو دھمکیاں دی گئیں ، توہین و تذلیل کی گئی مگر انہوں نے اپنے استقلال کو نہ چھوڑا اور جس طرح امم سابقہ کے علماء تحریفیں کرتے تھے جس کی خبر حق تعالیٰ نے دی ہے ’’ فویل للذین یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ہذا من عند اللہ لیشتروا بہ ثمناً قلیلاً ‘‘ ان حضرات نے اُس کا خیال تک آنے نہ دیا اور جس طرح اس زمانہ کے بعض اہل علم طمع دنیوی یا توہین و تذلیل کے خیال سے معنوی تحریفیں کر کے قوم میں رسوخ حاصل کرنا
چاہتے ہیں، انہوں نے نہیں کیا بلکہ اکثروں نے اسی وجہ سے قصدًا فقر و فاقہ اختیار کیا کہ طمع دنیوی یا خیال توہین کسی ناشائستہ حرکت کا باعث نہ ہوجائے ۔ آج کل جو دیکھا جاتا ہے کہ ہر طرف سے علماء پرحق ناحق اعتراضوں کی بوچھار ہے جس کے جی میں جو کچھ آتا ہے کہہ دیتا ہے، چنانچہ کوئی کہتا ہے کہ قوم کو انہی لوگوں نے تباہ کیا ،اس لئے کہ ان کے فائدہ کے مسئلے (مثلاً ربوا خواری کی حلت ، عورتوں کو اجنبی مردوں کے ساتھ میل جول کی اجازت وغیرہ امور ) اُن کو یہ لوگ نہیں بتلاتے ، حالانکہ دنیوی ترقی اور آسائش ان امور سے متعلق ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ عربی خصوصاً دینی علوم پڑھا کر یہ لوگ مسلمانوں کو بیوقوف اور مفلس بناتے ہیں ، پھر اُن کے القاب اور خطاب ایسے ایسے تراشے جاتے ہیں (مثلاً ملاٹے قلاعوذئے وغیرہ ) جن کے سننے سے غیرت دار آدمی کبھی مولویت کا نام نہ لے سکے، چنانچہ اِسی وجہ سے بعضوں کو داڑھی قصر کرنے اور ترکی ٹوپی بلکہ کوٹ پتلون پہننے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کوئی ملاٹا نہ سمجھ لے ۔ اس زمانہ کے اکثر مولوی تو چند فقروں سے اتنے گھبرائے کہ وضع بدل ڈالی ، اور اُن حضرات کو دیکھئے کیسی کیسی ذلتیں اور آفتیں انہوں نے اٹھائیں ادنیٰ ادنیٰ بات پر قید کئے جاتے تھے اُن کو سربازار کوڑے مارے جاتے تھے ، یہاں تک کہ قتل کئے جاتے تھے جن کی ہزارہا نظیریں کتب سیر و تواریخ میں موجود ہیں، باوجود اس کے نہ اُن حضرات نے کبھی اپنی وضع بدلی نہ مولویت کو چُھپایا بلکہ عام مجلسوں میں بالاعلان احادیث کو صاف صاف بیان کرد یتے،خواہ قوم اپنے حق میں اُن کو مفید سمجھیں یا مضر اور جس طرح ہوسکتا شہر بشہر اُن کی اشاعت کرتے،کیوں نہ ہو یہ حضرات اشاعت دین میں جو مصیبتیں پیش آتیں اُن کو سرمایہ عزت اُخروی سمجھتے تھے ،اُن کو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہر امر میں پیش نظر رہتی تھی ،وہ جانتے تھے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی بڑی مصیبتیں جھلینی پڑی ہیں ۔
جب ہم دیکھتے ہیں کہ احادیث میں ایسی حدیثیں بھی بکثرت ہیں جن پر عمل کرنے سے سردست نقصان ہے اور مقتضائے طبیعت ہے کہ اِس قسم کے امور کو اور اُن کے پھیلانے والوں کو آدمی دشمن سمجھتا ہے اور تاریخوں سے ثابت ہے کہ علماء اکثر قوم کے ہاتھوں اقسام کی سختیاں اٹھایا کئے، اِس سے یقینی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ فن رجال میں جس قدر اوصاف اِن حضرات کے لکھے گئے ہیں وہ سب صحیح ہیں ،کیونکہ اُن میں تقویٰ ، تدیّن ، صدق ، راستبازی ، خوف خدا وغیرہ نہ ہوتے تو آخری زمانہ کے بعض مولویوں کی طرح وہ بھی ہاں میں ہاں ملاتے اور کم سے کم اتنا توضرور کرتے کہ جو روایتیں نفع دنیوی کے مانع ہیں اُن کو شائع ہی نہ کرتے ، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ خدا ورسول کے احکام پہونچانے میں نہ عزت کی پروانہ کی نہ جان و مال کی اور جس طرح صحابہ سے انہیں حدیثیں پہونچی تھیں بلا کم و کاست پہونچا دیں ۔

روایت و درایت

اب اگر کوئی شخص اپنے پر قیاس کر کے کہے کہ محدثین کے تقویٰ اور زہد اور حفظ اور جفاکشی وغیرہ کی حد سے زیادہ تعریفیں جو فن رجال میں لکھی گئی وہ صحیح نہیں، اس لئے کہ جو روایت درایت کے خلاف ہو وہ قابل تسلیم نہیں، تو اس کا علاج نہیں ‘ دنیا میں اقسام کی طبیعتیںہیں ‘ بہتیرے طبیعتوں میں تسلیم کا مادہ ہی نہیں ہوتا ،اس پر کھلی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صدق ‘راستبازی ‘معجزات وغیرہ اظہر من الشمس تھے جس کی شہرت سے دور دور کے قبائل جوق جوق آکر مشرف باسلام ہوتے تھے ،مگر نزدیک والے بہتیرے ایسے بھی تھے کہ اُن کو جنبش ہی نہ ہوئی اور ان مشاہدات کو بھی درایت کے مخالف سمجھ کر نہ مانا ،اس طبیعت کے لوگوں سے کسی بات کی تسلیم کی کیا توقع ۔ مگر
یہاں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان دینی حیثیت سے روایت حدیث کی تصحیح کا مدار درایت پر رکھ سکتا ہے یا نہیں ؟ہمیں قران و حدیث اور عقل سے صاف طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نہ خدا کے کلام میں کذب کا احتمال ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں، اس وجہ سے خدا و رسول کے کلام میں جو خبریں قرون سابقہ کی یا دوسرے عالم کی مذکور ہیں اگر خلاف عقل بھی ہو تو دینی حیثیت سے اُن کا تسلیم کرنا مسلمان کا فرض ہے ، ان خبروں کو اگر کوئی اس لحاظ سے کہ درایت کے مخالف ہیں نہ مانے اور تاویلیں کر کے اُن کا مطلب ہی دوسرا بنادے تو یہ سمجھا جائیگا کہ اُس نے نہ خدا کوخدا سمجھا نہ رسول کو رسول، ایسے لوگوں کا دعویٰ اسلام دینی حیثیت سے بلا دلیل ہوگا ۔ البتہ قومی حیثیت سے ضرور قابل قبول ہے ، کیونکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں منافق موجود تھے جن کو خود حضرت کی نبوت سے دلی انکار تھا جس کو حضرت بھی جانتے تھے اور قرآن میں بھی اُن کا حال بیان کیا جاتا تھا باوجود اِس کے وہ مسلمان ہی سمجھے جاتے تھے ،تو اُس آخری زمانہ میں ایسے لوگوں کو مسلمان سمجھنے میں کیا تامل ۔ بہرحال کوئی مسلمان اسلامی حیثیت سے خدا و رسول کے کلام کے مقابلہ میں درایت کا نام نہیں لے سکتا ،رہا یہ احتمال کہ شاید راویوں نے کوئی بات اپنی طرف سے ملا دی ہوگی ،سو وہ بھی قابل توجہ نہیں، اس لئے کہ کلام اُن روایتوں میں ہے جن کے وہ راوی ہیں ، جنہوں نے دین کی حفاظت اپنے ذمہ لی اور محدثین کے جم غفیر نے اُن کے صدق و تدیّن پر گواہی دی ،کیا ان اکابردین کے صدق و دیانت کے بھروسے ، مسلمان کو اُن کی روایتوں کے صدق کا ظن غالب بھی نہ ہوگا ؟

عدالتِ راوی ثابت ہو تو امکانِ خبر دیکھنے کی ضرورت نہیں

اب غور کیا جائے کہ مولوی شمس العلما ء شبلی صاحب نے جو لکھا ہے کہ راویوں کی جرح و تعدیل سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ جوخبر دی گئی فی نفسہ وہ ممکن ہے یا نہیں ، اگر وہ ممکن ہی نہ ہو تو راوی کا عادل ہونا بیکار ہے ، اور امکان بھی کونسا عادی یعنی اگرچہ کوئی چیز فی نفسہ ممکن ہو مگر عادۃ ًاُس کا وجود نہ ہو تا ہو تو ایسی چیز کے موجود ہونے کی خبر درایۃً قابل تسلیم نہیں اگرچہ راوی اُس کا عادل ہو سو یہ قاعدہ کس قدر خلاف عقل ہے ۔ اِس قاعدہ کی بناپر بہتیرے واقعات جو مشاہدہ سے ثابت ہیں ، جھوٹے ثابت ہوں گے ،کیونکہ عادتیں زمان و مکان بلکہ اشخاص کے لحاظ سے مختلف ہوا کرتی ہیں ۔ تجربہ سے اور اطباء کی تصریح سے ثابت ہے کہ سمالفار ، زہر قاتل ہے جس کو ہر شخص جانتا ہے مگر ایسے بھی لوگ موجود ہیں کہ انہوں نے اُس کے کھانے کی عادت کرلی ہے اور روزانہ تخمیناً ایک ایک تولہ کھاتے ہیں، اور بجائے ضرر اُس سے اُن کو نفع بھی ہوتا ہے ۔
چند روز کا واقعہ ہے کہ ایک بائسیکل سوار ایک بڑے حلقہ میں جس کا قطر تخمیناً دس گز ہوگا، اس طور پر چکر لگاتا تھا کہ بائسیکل اوپر اور وہ نیچے یعنی اُس کا سر زمین کی طرف اور صرف حلقہ کو مس کرتے ہوئے بائسیکل پورا دور طے کرتی تھی اور نصف سے زیادہ حصہ اس طور پر طے ہوتا تھا کہ اُس شخص کا جسم بغیر کسی سہارے کے معلق اور معرض سقوط میںرہتاتھا ،حالانکہ عادۃً بلکہ عقلاً محال ہے کہ آدمی ہوا میں بغیر کسی سہارے کے معلق رہے اور ثقل یا کشش زمین سے نہ گرے ۔ اس میں شک نہیں کہ جب اس واقعہ کا وقوع ہوگیا تو اُس کے نہ گرنے کی کوئی علّت ضرور ہوگی ،مگر کلام اس میں ہے کہ قبل مشاہدہ یہی کام محال معلوم ہوتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ لوگ بصرف زر کثیر جوق جوق اُس کے دیکھنے کے لئے جاتے تھے ۔ اس وقت حیدرآباد میں دو لڑکیاں ایسی موجود ہیں کہ کمر کے نیچے اُن کا باہمی اتصال اس درجہ ہے کہ اگر جدا کئے جائیں تو ایک ضرور ہلاک ہوجائیگی ۔ اس قاعدہ

کے مطابق اس مشاہدہ کی بھی تکذیب لازم ہوگی ، کیونکہ عادۃً ایسے آدمیوں کا وجود نہیں ہوسکتا اس کے سوا صدہا بلکہ ہزارہا نظیریں مل سکتی ہیں کہ خلاف عادت بہتیری چیزیں وجود میں آتی ہیں۔ اگر خلاف عادت امور کی خبریں جھوٹ سمجھ لی جائیں تو فن تاریخ اور اخبارات میں عجائبات اور نادر نادر خبریں جو تلاش کر کے بہم پہونچائی جاتی ہیں، سب فضول اور تضیع اوقات سمجھی جائیں گی ، حالانکہ آدمی فطرۃً ایسی خبروں کا مشتاق رہتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قاعدہ مذکورہ خلاف فطرت انسانی ہے ۔ اِس سے بڑھ کر سنیئے کہ دنیا میں ہزارہا مادر زاد اندھے اور بہرے ہیں ،اگر اُن سے روشنی اور اقسام کے رنگ اور حسن وجمال اور خط و خال اور بصارت کی خوبیاں اور دلکش نغمات اور سماعت کی دلفریبیاں بیان کی جائیں تو اُن کا بھی یہی جواب ہوگا کہ یہ امور امکان سے خارج ہیں ،کیونکہ عقل انہی چیزوں کا ادراک کرسکتی ہے جن کا احساس کبھی ہوا ہو اور چونکہ ان امور کا احساس اندھوں اور بہروں کو ہونا محال ہے ، اس لئے یہ امور اُن کے نزدیک عادۃً بلکہ عقلاً ہر طرح سے محال ہیں، اس قاعدہ کی رو سے چاہئے کہ یہ سب خبریں جھوٹی ہوجائیں حالانکہ کوئی عاقل اِس کو گوارا نہ کرے گا ۔ ہم نے یہ بات کتاب العقل میں بالتفصیل لکھی ہے جس پر عقل بھی گواہی دیتی ہے کہ ہمارے نزدیک جو چیز محال ہو یہ ضرور نہیں کہ وہ واقع میں بھی محال ہو ، جب محال عقلی کا یہ حال ہو تو محال عادی کس شمار میں ۔
اہل حکمت جدیدہ خبر دیتے ہیں کہ آفتاب زمین سے دس لاکھ حصوں سے بھی زیادہ بڑا ہے اور اس کو ہر وقت اپنی طرف کھینچنا رہتا ہے، مگر زمین بھی اُس کو اُس قوت سے دفع کرتی ہے کہ اُس کی کچھ چل نہیں سکتی ،پھر اس کے ساتھ ہی زمین اُس کو اُس قوت سے کھینچتی بھی ہے جس قوت اور زور سے آفتاب کھینچتا ہے ، حالانکہ دس پانچ ہاتھ کے فاصلہ سے اڑتی چڑیا کو بھی نہیں کھینچ سکتی ۔ انصاف سے کہا جائے کیا کسی کی درایت اِس خبر کی تصدیق کرسکتی ہے ؟

مگر سر سید صاحب نے اُس کو مان ہی لیا اور اسی بنا پر ایک رسالہ لکھ ڈالا کہ آسمان کوئی چیز نہیں اور جہاں جہاں قرآن میں آسمان کا ذکر ہے تاویلیں کر ڈالیں ۔ معلوم نہیں انہوں نے یورپ کے کسی مدرسہ میں تعلیم پا کر آلات رصدیہ وغیرہ سے اس مسئلہ کی تحقیق کی تھی یا تقلیداً یہ مذہب اختیار کرلیا تھا یا کسی مصلحت سے برائے نام قائل ہوگئے تھے، مگر ایک گروہ کثیر نے تو صرف سر سید صاحب ہی کی تقلید کی اور ہم یقیناً جانتے ہیں کہ اُن کی درایت ہرگز اُس کو قبول نہیں کرسکتی ،باوجود اِس کے اُن پر الزام نہیں لگایا جاتا کہ خلاف درایت ایسی باتیں کیوں مانی جاتی ہیں ،پھر اگر مسلمانوں نے اِس قسم کے امور میں اپنے ائمہ کی تقلید کی تو اُن پر کیوں الزام لگایا جاتا ہے ؟ اہل حکمت جدیدہ یہ بھی خبر دیتے ہیں کہ ہر سال ہم ایک بار اُنیس کروڑ میل ثوابت کے نزدیک ہوجاتے ہیں اور پھر ہر چھ مہینے کے بعد اُنیس کروڑ میل اُن سے دور ہوجاتے ہیں ۔ اب دیکھئے کہ ہر آنکھیں والا شخص برس کے بارہ مہینے ہر ستارہ کو ایک ہی مقدار و جسامت پر دیکھتا ہے ، نہ کبھی اُن کی جسامت میں کمی وزیادتی محسوس ہوتی ہے نہ باہمی فاصلوں میں تفاوت، اگر سو پچاس میل کے فاصلہ پر یہ خیال کیا جائے تو طوعاً و کرھاً آدمی قبول بھی کرسکتا ہے ۔ اُنیس کروڑ میل کا فاصلہ ،پہلے خیال کیجئے !اُس کے بعد ہر ستارہ کی جسامت محسوسہ پر نظر ڈال کر عقل سے کام لیجئے کہ کیا اتنی جسامت محسوسہ والی چیز اُنیس کروڑ میل دور ہونے کے بعد بھی نظر آسکتی ہے یا نہیں ۔ ہر شخص کی عقل گواہی دے گی کہ یہاں امکان عادی تو کیا امکان ذاتی بھی نہیں ہوسکتا۔ اِس قسم کی نظیریں حکمت جدیدہ میں بکثرت مل سکتی ہیں مگر اُن کی تصدیق کرنے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا ،معلوم نہیں مسلمانوں نے کیا قصور کیا ہے کہ ہر طرح سے وہی نشانۂ ملامت بنائے جاتے ہیں۔ غرضکہ درایت کوئی قابل وثوق چیز نہیں ،روایت اور درایت کا موقع ہو تو قوی روایت کو ماننے کی ہر
مسلمان کو ضرورت ہے اور درایت سے اُس کا ردکرنا گویا یہ کہنا ہے کہ اکابردین جھوٹے تھے اور دین اسلام جھوٹی تعلیم کرتا ہے ۔ نعوذ باللہ من ذلک ۔
جو لوگ درایت کے مقابلہ میں روایت کو جھوٹی قرار دیتے ہیں اُن کو آخرت سے پہلے اِسی عالم میں شرمندہ ہوناپڑتا ہے ،چنانچہ بعض فلاسفر درایت کے بھروسے روح انسانی اور عالم روحانی کا انکار کر گئے تھے مگر بفضلہ تعالیٰ مسمریزم سے وہ مسئلہ پورے طور پر ثابت ہوگیا ۔ اگرچیکہ مسمریزم کا ذکر یہاں بے موقع ہے ،مگر چونکہ مسئلۂ درایت پیش ہے اور مسمریزم کے ضمن میں یہ ثابت ہوتا کہ وہ درایت میں اکثر خطا ہو ا کرتی ہے ‘اس لئے مختصر طور پر اُس کا ذکر چنداں نامناسب نہ ہوگا ۔

مسمریزم سے روحانیت کا ثبوت

کتب مسمریزم میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر انتونی مسمر جو 1834 ء میں یورپ میں پیدا ہوا اُس کے خیال میں یہ بات جمی کہ عالم میں ایک رقیق مادہ ضرور ہے جس کی حرکت سے اجرام فلکیہ ایک دوسرے میں اور زمین میں تاثیرات پیدا کرتے ہیں، چنانچہ ایک مدت دراز کی کوشش میں یہ ثابت ہوا کہ آدمی اپنی قوت مقناطیسی کا اثر ڈال کر بیہوش کرسکتا ہے جس سے شخص معمول جس پر اثر ڈالا گیا ، غیب کی باتیں بیان کرنے لگتا ہے ، اور باوجودیکہ شخص معمول اس عالم سے ایسا بے خبر ہوتا ہے کہ اگر اُس کے کان کے پاس طپنچہ کی آواز کی جائے تو بھی اُس کو خبر نہیں ہوتی ، مگر عامل اُس سے جو کچھ پوچھتا ہے فوراً اُس کا جواب دیتا ہے ۔
حالانکہ درایۃً یہ محال ہے کہ سماعت باوجود معطل ہونے کے کام کرتی رہے اور درایت یہ بھی قبول نہیں کرسکتی کہ اُس کی سماعت کسی کی نہ سنے اور بڑے سے بڑے صدمہ کا اور آواز کا اُس پر کچھ اثر نہ ہو اور ایک شخص کی آہستہ سی آواز سُن لے اور یہ بھی قبول نہیں کرسکتی کہ

بیہوش شخص مشکل سوال کا فوراً ایسا جواب دے کہ کامل ہوش والا اُس سے عاجز رہے ۔
لکھا ہے کہ اُس کے امور غیبیہ کے انکشاف کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ کل موانع اُس کی نظر کے سامنے سے اُٹھ جاتے ہیں ، مقفل صندوق میں اگر خط رکھا ہو تو پڑھ لیتا ہے ، اگلے مردوں اور اگلے زمانہ کے لوگوں کی حالتیں اِس طرح بیان کرتا ہے کہ گویا اُن کو دیکھ رہا ہے اور جس طرح گذری ہوئی باتیں بتاتا ہے ،اسی طرح آئندہ کی باتیں بھی بتاتا ہے ، جس غائب کا حال اُس سے پوچھا جائے فوراً کہہ دیتا ہے کہ وہ فلاں شہر میںہے اور یہ کر رہاہے ، اگر کسی بیمار کا حال اُس سے پوچھا جائے تو اُس کی بیماری کے اسباب و علامات و علاج بتفصیل بیان کر دیتا ہے، غرضکہ اُس کے حواس اس قدر تیز ہو جاتے ہیں کہ اُن کے احساس میں نہ مکان حائل ہوتا ہے نہ زماں ۔ اِس قسم کے کئی حالات کی تصریح فن مسمریزم کے رسالوں میں موجود ہے جن کو مصنفوں نے اپنے ذاتی اوریورپ و امریکہ کے نامی ڈاکٹروںکے تجربوں سے نقل کیا ہے ۔
اب دیکھئے کہ درایت اِس کو ہرگز قبول نہیں کرسکتی کہ آنکھیں بند ہوں اور نظر کام کرتی ہو اور نہ اس کو مان سکتی ہے کہ صندوق کا جسم کثیف حائل ہو اور اندر کا خط پڑھ لیا جائے اور پڑھے بھی کون بیہوش شخص جس کو اپنی بھی خبر نہیں ۔
اور نہ یہ مان سکتی ہے کہ گذشتہ لوگوں کی جو حالت پوچھے ایسے طور پر بیان کرے جیسے کوئی دیکھ کر کہہ رہا ہے ،حالانکہ جب وہ شخص ہی معدوم ہوگیا تو اُس کی حالتیں کیسی اور حالتیں بھی کونسی جن کو زمانہ نے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا اور خود بھی مٹ گیا ۔ا ب بغیر اعادۂ معدوم کے اور کون چیز ہوسکتی ہے جو اُن کو محسوس کرائے ،حالانکہ وہ محال ہے اور درایت یہ بھی قبول نہیں کرسکتی کہ آئندہ ہونے والے اشیاء کا کوئی حال بیان کریں ،اس لئے کہ عقل کی رو سے جب تک مادہ میں قابلیّت نہ پیدا ہو کوئی چیز وجود میں نہیں آسکتی ،پھر جب کسی
چیز کا مادہ ہی ہنوز وجود میں نہ آئے تو اُس کا وجود کہاں ؟ اور احوال کیسے ؟ بہرحال اِن تمام امور پر غور کرنے کے بعد یہ ضرور کہنا پڑے گا کہ ہماری درایت ہرگز قابل اعتماد نہیں ہوسکتی ،پھر ایسی چیز پر اعتماد کر کے خدا و رسول کی خبروں کی تکذیب کرنی ، کس قدر بعید از عقل ہے ، خصوصاً ایسی حالت میں کہ ایمان کا دعویٰ بھی ہو ۔
اِس آخری زمانہ میں معجزات اور کشف و کرامات جو نہیں مانے جاتے تھے اُس کی وجہ یہی تھی کہ حکمت جدیدہ نے درایت کو اِن امور کی تصدیق سے روک دیا تھا ، اب چونکہ ائمہ حکمت جدیدہ یعنی اہل امریکہ و یورپ نے بھی اُس کی اجازت دے دی ہے ،اس لئے حکمت جدیدہ کے مقلد مسلمانوں کو چاہئے کہ نہایت مسرت اور کشادہ دلی سے خدا و رسول کی خبروں پر پورا پورا ایمان لا ویں ، اور جو تاویلیں اِس خیال سے کی جاتی تھیں کہ عقلی طور پر ان امور کا ثبوت نہیں سب چھوڑ دیں، حکمت جدیدہ میں روح انسانی یا نفس ناطقہ نظر نہ آنے کی وجہ سے ادراک کا کل کارخانہ دماغ ہی کے تفویض کر د یا گیا تھا ، چنانچہ فن فزیالوجی وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ ادراک دماغ ہی کو ہوتا ہے ، مگر مسمریزم نے اُس کو درہم برہم کر دیا ۔ اِس لئے ریوری رنٹ چالس صاحب نے جو لکھا ہے کہ مرئی کی شبیہ جب شبکیہ پر منطبع ہوتی ہے تو عروق ناظرہ دماغ کو اُس پر مطلع کر دیتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ آدمی کا بھیجا مدرک ہے اور اُس کا ادراک عروق ناظرہ کی خبر دینے پر موقوف ہے ،سو وہ صحیح نہیں ،اس لئے کہ اِس میںکلام نہیں کہ معمول مسمریزم کو ادراک ضرور ہوتا ہے، کیونکہ وہ عامل کا کلام سمجھتا ہے اور غیب کی باتوں کو دریافت کر کے اُس کا ایسا جواب دیتا ہے کہ کوئی اعلیٰ درجہ کا عقلمند ہوشیار بھی ہرگز نہیں دے سکتا اور اس ادراک کے وقت نہ اُس کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں نہ پردہ ٔ شبکیہ پر مرئی کی تصویر ہوتی ہے ، نہ عروق ناظرہ کو اُس کی خبر اِس سے صاف ظاہر ہے کہ ادراک کا کارخانہ قوائے دماغیہ میں منحصر نہیں، بلکہ یہاں یہ کہنا
ضرور پڑے گا کہ شخص معمول گو بے ہوش پڑا ہے ۔ مگر اُس کی روح کو ہوش ضرور ہے اور ہوش بھی کیسا کہ جسمانی ہوش سے ہزاروں درجہ بڑھا ہوا ،اِس لئے کہ جسمانی ہوش اُس کو ادراک میں اُسی حد تک مدد دیتا ہے جہاں تک حواس کی رسائی ہے اور ظاہر ہے کہ حواس کی جولانی کا میدان نہایت تنگ ہے ،بخلاف اُس کے جب بیہوشی طاری ہوتی ہے تو نزدیک ودُور ، کثیف و لطیف ، عالم غیب و شہادت سب اُس کے روبرو یکساں ہوجاتا ہے اور اس وقت نہ اُس کو آنکھوں کی ضرورت ہے نہ کانوں کی حاجت ، بلکہ اُس کے ذاتی حواس جن کو ہم نہیں جان سکتے کہ کیسے ہیں ،اُس کے ساتھ ہیں اور وہ اپنے ادراک میں اِس کی بھی محتاج نہیں کہ جن چیزوں کا ادراک کرنا چاہتی ہے وہ اُس وقت خارج میں موجود ہوں، دوسرا عالم اُس کے پیش نظر ہو جاتا ہے جس کا عکس یہ ہمارا شہادت ہے ،اِسی وجہ سے وہ اُن اشیا کی بھی خبر دی ہے جن کا وجود ہنوز ہوا ہی نہیں یا موجود ہو کروہ فنا ہوگئی ۔
مسمر صاحب کو جو ابتدائًً ایک رقیق سے رقیق مادہ کی تحقیق کا خیال پیدا ہوا تھا، وہ منجانب اللہ اِس غرض سے پیدا ہوا کہ آخری زمانہ کے مسلمانوں پر رحم فرما کر خدائے تعالیٰ عالم روحانی اور روح کو جن کے وجود میں مادہ کو دخل ہی نہیں ، ان ہی لوگوں کی تحقیق سے ثابت کرا دے ، جو اُس کے منکر تھے اور پُرانے خیال والوں کو نئے خیال والوں کے مقابلہ میں کامیاب کرے، سو بفضلہ تعالیٰ ایسا ہی ہوا کہ ہر کس و ناکس مسمریزم اور اُس کے کرشموں کو جانتا ہے اور عالم روحانی کی تصدیق کرتا ہے ۔
یہ بات یاد رہے کہ جوں جوں فلسفۂ جدیدہ ترقی کرتا جائیگا انشاء اللہ تعالیٰ ہمارے پُرانے دینی خیال وقتاً فوقتاً ثابت ہوتے جائیں گے، جس طرح عالم روحانی اور روح کا اثبات ہوگیا اور جو لوگ کم فہمی سے پُرانے خیالوں پر مضحکے اڑاتے ہیں ، اُن کو شرمندہ ہونا پڑے گا ۔

سر سید صاحب کو انکارِ جن کی ضرورت کیوں ہوئی ؟

ہمارے اِس دعویٰ کی تصدیق اِس واقعہ سے بخوبی ہوسکتی ہے کہ سر سید صاحب نے دیکھا کہ قرآن شریف میں جنات کا ذکر ہے اور نئی روشنی والے ہر بات میں مشاہدہ طلب کرتے ہیں اور جنوں کو محسوس کر کے دکھلانا اپنے امکان سے خارج ہے ،اِس لئے انہوں نے یہ تدبیر نکالی کہ اُن کے وجود ہی کا انکار کر دیا جائے اور ایک رسالہ لکھ دیا جس کا نام تفسیر الجن والجان ہے ،اُس میںاُن تمام آیتوں کی تاویلیں لکھیں جن میں جنات کا ذکر ہے اور بڑی تلاش سے جاہلیت کے چند اشعار نقل کئے جن کا مضمون یہ ہے کہ بدو جو جنگل اور پہاڑوں میں رہتے تھے نظر بچا کر آئے ۔ اِن اشعار میں بدو پر جن کا اطلاق کیا گیا جیسے آج کل سخت بخیل کو جن کہا کرتے ہیں ،مگر سر سید صاحب نے اُس سے یہ نتیجہ نکالا کہ جنگل اور پہاڑوں میں رہنے والے آدمیوں کو جن کہا کرتے ہیں اور یہی حقیقت جن ہے اور لکھا ہے کہ اہل لغت کو یہ بات معلوم نہ تھی ،اِس لئے انھوں نے اُس کے معنی نہیں بتلائے اور سخت غلطی کی ۔

اسپرتزم سے ارواح اور جنات کا ثبوت

یہ تقریر سر سید صاحب کی کمال مجبوری کی حالت میں تھی کہ حکمت جدیدہ سے عاجز ہو کر جواب کا یہ طریقہ سوچا مگر اب اُس کی ضرورت نہ رہی ،کیونکہ خود اہل یورپ و امریکہ نے جنّات کے وجود کو مان لیا ہے ، چنانچہ علامہ محمد فرید وجدی نے کنز العلوم واللُّغہ میں لفظ ’’اسپرتزم‘‘ کی تحقیق میں لکھا ہے کہ پیشتر حکماء مادئیین وغیرہم کا قول تھا کہ آدمی کی روح اسی کی قسم کی ہے جو جانوروں میں ہوا کرتی ہے ،کوئی خاص قسم کی چیز نہیں ، جو مرنے کے بعد
قی رہے ،بلکہ آدمی کے ساتھ وہ بھی فنا ہو جاتی ہے، مگر 1846؁ء میں یہ واقعہ پیش آیا کہ امریکہ کی ایک بستی میں جس کا نام ’’بید سفیل‘‘ہے ، ’’فیکمان‘‘ نام کے ایک شخص نے رات کے وقت اپنے گھر کی زمین پر متعدد کھٹکے سنے ،بہتیرا تلاش کی مگر کسی کا پتہ نہ لگا اور اسی قسم کا واقعہ ’’جان فوکس‘‘ کے گھر میں بھی ہوا ، اُس کی عورت نے کھٹکوں کی آواز پر غیبی شخص سے کہا کہ اگر تو کوئی روح ہے تو دس مار زمین پر مار ،چنانچہ دس مار کے کھٹکوں کی آواز اُس نے سنی ،پھر اُس عورت نے کہا: میری لڑکی ’’کانرینہ‘‘ کی عمر کتنی سال کی ہے، اُس نے اتنے ہی کھٹکے مارے جتنے سال کی عمر اُس کی تھی ۔ غرض چند امتحانوں کے بعد اُس کو یقین ہوا کہ وہ کسی آدمی کی روح ہے پھر اِسی قسم کے متعدد واقعات پے درپے ہوئے اور اُس کی تحقیقات شروع ہوئی، ’’ادمون‘‘ جو وہاں کا مقنّن تھا اُس نے پوری تحقیق کر کے ایک ضخیم کتاب اثبات روح میں لکھی اور اُسی کی تائید میں استاد فن کیمیا ’’مابس‘‘ نے بھی ایک کتاب لکھی پھر تو متعدد کتابیں لکھی گئیں اور عام شہرت ہوگئی جب اس کے چرچے برطانیہ میں ہونے لگے تو ’’کروکس صاحب‘‘ جو پارلیمنٹ کے ممبر تھے انہوں نے بھی ایک کتاب اُس کی تائید میں لکھی جس میں اپنے چشم دید واقعات بیان کئے اور اِس مسئلہ کی یہاں تک شہرت ہوئی کہ اخباروں میں اُس کے متعلق مضامین شائع ہونے لگے مگر مادّئیین حکماء اِس خیال کے سخت مخالف تھے ،بالآخر 1869 ؁ء میں خاص اِس کی تحقیق کے لئے ایک مجلس قائم ہوئی جس میں برطانیہ ، امریکہ اور اطالیہ کے نامی فلاسفر ‘ ڈاکٹر اور ماہرین فن فزیولوجی اور طبعیات اور ریاضی اور ہندسہ وغیرہ اُس کے ارکان مقرر ہوئے اور اٹھارہ مہینے برابر تحقیق ہوا کی ،جس سے مثبتین روح کا دعویٰ ثابت ہوا، چنانچہ جتنے اراکین مجلس اس مسئلہ میں مخالف تھے سب نے بالاتفاق اپنے چشم دید خوارق عادات لکھ کر اقرار کیا کہ واقعی ارواح متشکل ہوتی ہیں ، وہم کو اُس میں کوئی دخل نہیں اور لکھا ہے کہ جب تدابیر سے روحیں بلائی جاتی ہیں تو پہلے ایک
روشن ابرسا محسوس ہوتا ہے، پھر وہ بتدریج انسانی شکل قبول کرنے لگتا ہے ،یہاں تک کہ تھوڑے عرصہ میں ایک عربی بدوی کی شکل میں متشکل ہوجاتا ہے جس کا گوشت نہایت نرم ہوتا ہے کہ اگر اس کو دبایا جائے تو ہاتھ اُس میں دھس جاتا ہے ۔ اس تحقیق سے روحوں کا متشکل ہونا ثابت ہے، اور ممکن ہے کہ اُن کو بھی یہ قدرت حاصل ہو ،اسی طرح جنات کا اشکال بدلنا بھی ثابت ہے جس پر ہر زمانہ کے اخبار کا تواتر گواہ ہے ۔ اِسی وجہ سے حکمائے مذکورین میںسے بعضوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ مُردوں کی روحیں ہیں یااور کوئی چیزیں دوسرے عالم کی ہیں ۔
علامۂ موصوف نے لفظ جنون کی تحقیق میں مجلۂ روحیہ سے لکھا ہے جو فرانس سے شائع ہوتا ہے کہ استاد ’’ہیزلوپ‘‘ امریکی جو تحقیق نفس کی کمیٹی کا رکن رکین ہے، اُس نے ڈاکٹروں میں اشتہار شائع کئے کہ جنون ہمیشہ دماغی خلل سے نہیں ہوتا ،بلکہ کبھی بعضے شریر ارواح کے مسلط ہونے سے بھی ہوا کرتا ہے جس کے لئے وہ علاج جو ڈاکٹروں کو معلوم ہے، مفید نہیں ہوسکتا ۔
عاملوں کے متواتر مشاہدات سے ثابت ہے کہ ارواح خبیثہ اور جنات دونوں مسلط ہوا کرتے ہیں اور عملیات کے ذریعہ سے دفع ہوجاتے ہیں جس کو نئی روشنی والے وہم اور خیال کہا کرتے تھے ،مگر جب جدید تحقیقات سے ثابت ہوگیا کہ وہ واقعی ہیں،وہم کو اُس میں کوئی دخل نہیں، تو اب عاملوں کی خبروں کے انکار کی کوئی وجہ نہیں ، بہرحال جنات کا وجود ہر طرح سے ثابت ہے ۔
یہاں ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر یہ تحقیق سر سید صاحب کے زمانہ میں مشہور ہوگئی ہوتی ،تو نہ اُن کو جنّات کے انکار کی ضرورت ہوتی نہ خوارق عادات کے ابطال کی حاجت ،کیونکہ اُن کو یہ تو منظور ہی نہ تھا کہ خواہ مخواہ قرآن کو رد کریں ،اب اسی پر قیاس کر لیجئے کہ جس طرح اُن کی تاویلیں جنات کے وجود کے باب میں
بے ضرورت اور خلاف واقع ثابت ہوئی، اسی طرح آسمان وغیرہ کے وجود کے مسئلہ میں بھی یقیناً خلاف واقع ثابت ہوں گی ، کیونکہ خدا و رسول کے کلام میںخلاف واقع ہونے کا احتمال ہی نہیں ہوسکتا ، مگر اب یہ دیکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کو اس انتظار کی کیا ضرورت ، جب ہمیں یقیناً معلوم ہوگیا کہ ہماری درایت میں اکثر خطا ہوتی ہے، تو صحیح صحیح روایتوں میں کیوں کلام کیا جائے، بہت ہوگا تو یہ ہوگا کہ مخالف بعضے دینی مسائل پر ہنسیں گے ،پھر اس سے کیا ہوتا ہے، کئی مسائل میں ہمیں بھی ان کی عقل بے اصل تحقیقات پر ہنسنے کا موقع حاصل ہوگیا ہے جس سے جواب ترکی بہ ترکی ہوجائیگا ،اب اگر اس پر بھی کسی کو صحیح صحیح روایتوں پر ایمان لانے کی ہمت نہ ،ہو تو یہ سمجھنا چاہئے کہ سرے سے ایمان لانا ہی اُس کو منظور نہیں ،حکمت جدیدہ کا صرف حیلہ ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *