شیردم ہلاتا ہوا بھاگا

شیردم ہلاتا ہوا بھاگا

Advertisement

علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے طبقات میں تحریر فرمایا ہے کہ
ایک شیر راستہ میں بیٹھا ہوا تھا اورقافلہ والوں کا راستہ روکے ہوئے تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے قریب جا کر فرمایاکہ راستہ سے الگ ہٹ کر کھڑا ہوجا۔ آپ کی یہ ڈانٹ سن کر شیر دم ہلاتا ہوا راستہ سے دور بھاگ نکلا۔(1)(تفسیر کبیر،ج۵،ص۱۷۹وحجۃ اللہ ،ج۲،ص۸۶۶)

ایک فرشتہ سے ملاقات

حضر ت عطاء بن ابی رباح کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوپہر کے وقت دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت سانپ نے سات چکر بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ پھر مقام ابراہیم پر دورکعت نماز پڑھی ۔ آپ نے اس سانپ سے فرمایا: اب آپ جب کہ طواف سے فارغ ہوچکے ہيں یہاں پرآپ کا ٹھہرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ میرے شہر کے نادان لوگ آپ کو کچھ ایذا پہنچادیں گے ۔ سانپ نے بغورآپ کے کلام کوسنا پھر اپنی د م کے بل کھڑا ہوگیا اور فوراً ہی اڑکر آسمان پر چلا گیا۔ اس طرح لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ یہ کوئی فرشتہ تھا جو سانپ کی شکل میں طواف کعبہ کے لیے آیا تھا ۔ (2)(دلائل النبوۃ،ج۳،ص۲۰۷)

زیادکیسے ہلاک ہوا؟

زیاد سلطنت بنو امیہ کا بہت ہی ظالم و جابر گورنر تھا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خبر ملی کہ وہ حجاز کا گورنربن کر آرہا ہے ۔ آپ کویہ ہر گز ہرگز گوارا نہ تھا کہ مکہ

مکرمہ اور مدینہ منورہ پر ایسا ظالم حکومت کرے ۔ چنانچہ آپ نے یہ دعا مانگی کہ یااللہ! عزوجل ابن سمیہ (زیاد)کی اس طرح موت ہو جائے کہ اس کے قصاص میں کوئی مسلمان قتل نہ کیا جائے ۔ آپ کی یہ دعا مقبول ہوگئی کہ اچانک زیاد کے انگوٹھے میں طاعون کی گلٹی نکل پڑی اور وہ ایک ہفتہ کے اندر ہی ایڑیاں رگڑ رگڑکر مرگیا۔(1)
(ابن عساکروالمنتخب،ج۵،ص۲۳۱)

تبصرہ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پہلی کرامت سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ والوں کی حکومت کا سکہ نہ صرف انسانوں ہی کے دلوں پر ہوتاہے بلکہ انکے حاکمانہ تصرفات کا پرچم درندوں، چرندوں ، پرندوں کے دلوں پر بھی لہراتا رہتاہے اور سب کے سب اللہ والوں کے فرمانبردارہوجاتے ہیں۔ یہی وہ مضمون ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے ؎

تو ہم گردن از حکمِ داور مپیچ
کہ گردن نہ پیچد زِ حکم تو ہیچ

(یعنی تم خداوند تعالیٰ کے حکم سے گردن نہ موڑوتاکہ کوئی مخلوق تمہارے حکم سے گردن نہ موڑے ۔) مطلب یہ ہے کہ اگر تم خدا کے فرمانبردار بنے رہوگے توخدا کی تمام مخلوقات تمہاری فرمانبردار بنی رہے گی ۔
دوسری کرامت سے یہ سبق ملتاہے کہ جب کعبہ معظمہ کے طواف کے لیے فرشتے سانپ کی شکل میں آتے ہیں تو پھر ظاہر ہے کہ فرشتے انسانوں کی شکل میں بھی
ضرور ہی آتے ہوں گے ۔ لہٰذا ہر حاجی کو یہ دھیان رکھنا چاہيے کہ حرم کعبہ میں ہرگز ہرگز کسی سے الجھنا نہیں چاہے ۔ خدانخواستہ تم کسی انسان سے جھگڑا تکرارکرو اور وہ حقیقت میں کوئی فرشتہ ہو جو انسان کے روپ میں تکرار کررہا ہو تو پھر یہ سمجھ لو کہ کسی فرشتے سے لڑنے جھگڑنے کا انجام اپنی ہلاکت کے سوااورکیا ہوسکتاہے ؟
تیسری کرامت سے ظاہر ہے کہ اللہ والوں کی دعائیں اس تیر کی طرح ہوتی ہيں جو کمان سے نکل کر نشانہ سے بال برابر خطا نہیں کرتیں۔اس لئے ہمیشہ اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ کبھی بھی کسی بد دعا کی زد اورپھٹکار میں نہ پڑیں اورمغرب زدہ ملحدوں اوربے دینوں کی طرح ہرگز ہرگز یہ نہ کہا کریں کہ ”میاں کسی کی دعا یا بد دعا سے کچھ نہیں ہوتا، یہ ملا لوگ خواہ مخواہ لوگوں کو بددعا کی دھونس دیاکرتے ہیں” بلکہ یہ ایمان رکھیں کہ بزرگوں کی دعاؤں اوربد دعاؤں میں بہت زیادہ تاثیر ہے ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!