شیخین کا روایتِ حدیث سے روکنا اور اُس کا سبب

شیخین کا روایتِ حدیث سے روکنا اور اُس کا سبب

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بارہا ’’فلیبلغ الشاہد الغائب‘‘ وغیرہ فرمایا جس سے ظاہر ہے کہ صحابہ کو ضرور تھا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا اور دیکھا ہے اُمت کو پہنچا دیں اور نیز احادیث میں علم کی اشاعت کی ترغیبیں اور چھپانے کی وعیدیں وارد ہیں اور اُس زمانہ میں سوائے قرآن و حدیث کے کوئی دوسرا علم نہ تھا ،غرضکہ کئی طرح سے ثابت ہے کہ احادیث کی اشاعت صحابہ کا فرض منصبی تھا ، پھر صدیق اکبر اور عمر رضی اللہ عنہما کا اُس سے منع کرنا کیسا ؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ اُن حضرات نے روایت حدیث کرنے سے ہرگز منع نہیں کیا اور نہ اُن کو یہ منظور تھا کہ تمامی امت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادوں سے محروم رہ جائے اور نہ اُن کا یہ خیال تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کل ارشادات صحابہ ہی کے واسطے تھے اور بعد آنے والی اُمت اُن خطابات اور احکام کی مامور نہیں ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قیامت تک حضرت ہی کی نبوت ہے اور نبی کے ارشادات اُمت کو معلوم ہونے کی ضرورت ہے ۔ بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شارع تھے ہر موقع اور اشخاص کے لحاظ سے جو احکام مناسب ہوتے بذریعۂ الہام آپ کو معلوم ہوجاتے اور آپ اُن کو بیان فرما دیتے ، جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہرہے کما قال تعالی: و ما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی, یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی

بات اپنی خواہش سے نہیں کہتے ، وہ ایک قسم کی وحی ہے جو اُن کو ہوا کرتی ہے ، اور سنن دارمی میں روایت ہے ’’ عن حسان رضی اللہ عنہ قال کان جبریل ینزل علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالسنۃ کما ینزل علیہ بالقرآن‘‘ اِس سے تو جبریل علیہ السلام ہی کاسنت کو لانا ثابت ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس قسم کے ارشادات میں اختلاف ضرور ہوگا ،پھر اگر وہ سب بیان کر دیئے جائیں تو لوگ حیرانی میں پڑجائیں گے ۔ اِن وجوہ سے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اختلافی روایات بیان کرنے سے منع کیا تھا ،چنانچہ یہی بات آپ کے اِس قول سے ظاہر ہے جو تذکرۃ الحفاظ میں منقول ہے ’’ان الصدیق جمع الناس بعد وفاۃ نبیھم فقال انکم تحدثون عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احادیث تختلفون فیہا والناس بعد کم اشد اختلافاً فلا تحدثوا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیئاً فما سالکم فقولوا بیننا و بینکم کتاب اللہ فاستحلوا حلالہ و حرموا حرامہ ‘‘۔ یعنی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بعد وفات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو جمع کر کے فرمایا کہ جو روایتیں تم لوگ کرتے ہو، اُن میں اختلاف ہوتا ہے ، اور جب تم ہی میں اختلاف ہو تو تمہارے بعد والے اور بھی سخت اختلاف میں پڑ جائیں گے ، اس لئے اختلافی روایتیں مت بیان کیا کرو ،اگر کوئی تم سے پوچھے تو یہی کہہ دینا کہ ہم میںاور تم میں قرآن موجود ہے ،جو چیزیں اُس میں حلال ہیں اُن کو حلال اور جو حرام ہیںاُن کو حرام سمجھو۔اس سے ظاہر ہے کہ صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو اختلاف سے روکنا منظور تھا ،وہ بھی صرف حلال و حرام میں اور دوسرے حدیثوں سے کوئی تعرض نہیں ۔ یہ بات واضح رہے کہ حلت و حرمت سے متعلق حدیثیں بہ نسبت تمام حدیثوں کے عشر عشیر بھی نہیں۔ النکت میں ابن حجر عسقلانیؒ نے امام احمدؒ کا قول نقل کیا ہے کہ حلال و حرام کے باب میں احادیث مرفوعہ کل آٹھ سو ہیں اور عبداللہ بن مبارک کا قول نقل کیا ہے کہ نو سو ہیں ۔ بہرحال اِن آٹھ نو سو کے سوا لاکھوں حدیثیں ہیں جن

میں خدائے تعالیٰ کی صفات اور وعظ و نصیحت اور اخلاق اور احوال برزخ اور قیامت اور جنت اور دوزخ اور اخبار امم سابقہ اور پیشین گوئیاں اور موجودات عالم کے حقائق وغیرہ امور مذکور ہیں ،جس طرح آیات قرآنیہ جو احکام میں وارد ہیں ،صرف پانچ سو ہیں ،حالانکہ کل آیتیں چھ ہزار چھ سو سولہ ہیں، جیسا کہ امام سیوطیؒ نے الاتقان فی علوم القرآن میں لکھا ہے ۔
غرضکہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو کل احادیث کی روایت کی اجازت دی اور صرف احکام کے باب میں یہ خیال کیا کہ قرآن شریف میں وہ کل موجود ہیں اور احادیث میں اختلاف ہونے کی وجہ سے امت میں اختلاف پڑ جانے کا اندیشہ ہے ، اس لئے صرف اُن حدیثوں کی روایت سے روکا جو احکام میں وارد ہیں اور وہ بھی ایسی کہ اختلافی ہوں ۔ اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ کے پیش نظر بھی یہی مصلحت تھی۔ اگر یہ حضرات نفس حدیث کو بے ضرورت سمجھتے تو ہر بات میں خود حدیثیں کیوں تلاش کرتے جس کا ثبوت متعدد روایتوں سے ملتا ہے ۔ یہ بات درایت کے بالکل خلاف ہے کہ صحابہ کبار نے مطلقاً روایت حدیث کو جائز نہیں رکھا، یہ کیونکر ہوسکتا ہے ؟وہ حضرات جانتے تھے کہ خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں منافق اور تفرقہ انداز موجود تھے، تو بعد کے زمانوں کا کیا حال ہوگا ؟اور تاویل کے لئے کوئی حد نہیں ،اگر احادیث بھی نہ رہے تو جس کا جو جی چاہے گا قرآن کے معنی بنا لیگا اور اُن معنی کو غلط ثابت کرنے کے لئے اہل حق کے پاس کوئی دلیل نہ رہے گی ۔

بے دینوں کی تاویلیں قرآن میں

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بے دینوں نے قرآن کے جو معنی کئے دین سے اُن کو کوئی تعلق نہیں

۔ منہاج السنۃ میں ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ ابو منصور جو فرقہ منصوریہ کا بانی تھا، اُس کی یہ تعلیم تھی کہ قرآن میں جنت اور دوزخ کا جو ذکر ہے وہ دو شخصوں کے نام ہیں ۔ مطلب یہ کہ اچھے بُرے افعال پر جزا و سزا کچھ نہیں ، جس کاجو جی چاہے کرے ،مگر حاکموں کے مواخذے سے بچ کر اور میتہ اور خنزیر وغیرہ جو قرآن میں مذکور ہیں وہ بھی چند اشخاص کے نام ہیں جن کی محبت حرام کی گئی تھی ورنہ گوشت تو آدمی کی غذا اور باعث تقویت ہے، ایسی چیز کیوں حرام ہونے لگی ۔ اسی طرح صوم و صلوٰۃ ‘ زکوٰۃ اور حج وغیرہ بھی لوگوں کے نام ہیں جن کی محبت ہر مسلمان پر واجب ہے ۔ غرضکہ قرآن میں تاویلیں کر کے کل تکلیفات شرعیہ کو اُس نے اُٹھا دیا اور باوجود اس کے اُس فرقہ کا دعویٰ ہے کہ ہم مسلمان ہیں ، قرآن پر ہمارا ایمان ہے ، توحید و رسالت کے قائل ہیں ۔ مگر فرق اِس قدر ہے کہ قرآن کے جو معنی اور لوگ کیا کرتے ہیں ، ہم نہیں کرتے ۔ عبدالکریم شہرستانیؒ نے ملل و نحل میں لکھا ہے کہ مغیرہ ابن سعید عجلی جو فرقہ مغیریہ کا سرگروہ ہے۔ اُس کی تعلیم یہ تھی کہ حق تعالیٰ جو فرماتا ہے ’’ انا عرضنا الامانۃ علی السمٰوات والارض والجبال فابین ان یحملنھا و اشفقن منہا و حملھا الانسان انہ کان ظلوماً جھولاً ‘‘ اِس کا مطلب یہ ہے کہ امانت یہ بات تھی کہ علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو امام نہ ہونے دینا یہ بات آسمان و زمین اور جبال نے قبول نہ کی اور ڈر گئے (کیونکہ علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت شہرۂ آفاق ہے ) پھر وہ بات انسان پر پیش کی گئی تو عمررضی اللہ عنہ نے ابوبکر ر ضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم اُن کو امام ہونے نہ دو اور میں تمہاری تائید میں موجود ہوں اِس شرط پر کہ مجھے اپنا خلیفہ بنانا ‘ اُنھوں نے قبول کیا ، چنانچہ اُن دونوں نے اُس امانت کو اٹھالیا سو یہی بات ہے جو حق تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ’’و حملھا الانسان انہ کان ظلوماً جھولاً ‘‘ یعنی وہ دونوں ظلوم وجہول ہیں ، اگرفِرَقِ سابقہ اور موجودہ کی کتابیں دیکھی جائیں تو یہ صاف معلوم ہوسکتا ہے کہ اِن لوگوں نے
قرآن کو کھلونا بنالیا ہے ۔ کیا کوئی مسلمان کہہ سکتا ہے کہ جو معنی اِن لوگوں نے اپنی مرضی کے مطابق بنالئے ہیں ، وہ خدائے تعالیٰ کی مراد ہے ؟کیا انہی تراشیدہ خیالات کا نام ، آسمانی دین ہوسکتا ہے ؟ اگر کسی شخص کو حقیقت صوم و صلوٰۃ وغیرہ حدیث سے معلوم نہ ہو اور اُس سے کہا جائے کہ وہ چند آدمیوں کے نام تھے تو اُس کو اِس اعتقاد سے انکار کرنے کا کیا ذریعہ ؟آخر ایک گروہ نے مان ہی لیا، اگر احادیث اُن کے پیش نظر ہوتیں تو کیا اُس کی دغابازی چل سکتی ؟ہرگز نہیں ۔ اسی وجہ سے ربیعہ رضی اللہ عنہاکہتے ہیںکہ حق تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا ، مگر حدیثوں کی ضرورت باقی رکھی ’’کما فی الدر المنثور اخرج ابن ابی حاتم من طریق مالک ابن انس ؒ عن ربیعۃ قال ان اللہ تبارک و تعالیٰ انزل الکتاب و ترک فیہ موضعاً للسنۃ ‘‘ مطلب یہ کہ قرآن شریف میں جو کچھ اجمالی طور پر مذکور ہے جس کی تفصیل کی ضرورت ہے ، سو وہ حدیثوں میں مذکور ہے ۔ دیکھ لیجئے قرآن شریف میں فقط نمازوں کا حکم ہے اور اُن کی تعداد اور تعین اوقات اور طریقہ حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *