شوہر، عورت کا بیٹانکلا

شوہر، عورت کا بیٹانکلا

امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاشانہ خلافت سے کچھ دور ایک مسجد کے پہلو میں دومیاں بیوی رات بھر جھگڑا کرتے رہے ، صبح کوامیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کو بلا کر جھگڑے کا سبب دریافت فرمایا، شوہر نے عرض کیا :اے امیر المؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں کیا کروں ؟نکاح کے بعد مجھے اس عورت سے بے انتہا نفرت ہوگئی ، یہ دیکھ کر بیوی مجھ سے جھگڑا کرنے لگی، پھر بات بڑھ گئی اوررات بھر لڑائی ہوتی رہی ۔آپ نے تمام حاضرین دربارکوباہر نکال دیا اور عورت سے فرمایا کہ دیکھ میں تجھ سے جو سوال کروں اس کا سچ سچ جواب دینا۔ پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے عورت! تیرا نام یہ ہے ؟ تیرے باپ کا نام یہ ہے؟ عورت نے کہا کہ بالکل ٹھیک ٹھیک آپ نے بتایا۔ پھرآپ نے فرمایا کہ اے عورت ! تو یاد کر کہ تو زناکاری سے حاملہ ہوگئی تھی اورایک مدت تک تو اورتیری ماں اس حمل کو چھپاتی رہی۔ جب دردزہ شروع ہوا تو تیری ماں تجھے اس گھر سے باہر لے گئی اور جب بچہ پیدا ہوا تو اس کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر تو نے میدان میں ڈال دیا۔ اتفاق سے ایک کتااس بچے کے پاس آیا۔ تیری ماں نے اس کتے کو پتھر مارا لیکن وہ پتھر بچے کو لگا اوراس کا سرپھٹ گیا تیری ماں کو بچے پر رحم آگیا اوراس نے بچے کے زخم پر پٹی باندھ دی۔ پھر تم دونوں وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئیں۔ اس کے بعد اس بچے کی تم دونوں کو کچھ بھی خبر نہیں ملی۔ کیا یہ واقعہ سچ ہے؟ عورت نے کہا کہ ہاں! اے امیرالمؤمنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ پورا واقعہ حرف بحرف صحیح ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے مرد!تو اپنا سرکھول کر اس کو دکھا دے ۔ مرد نے سرکھولا تو اس زخم کا نشان موجود تھا۔ اس کے بعد امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے

عورت!یہ مردتیراشوہرنہیں ہے بلکہ تیرابیٹا ہے ، تم دونوں اللہ تعالیٰ کا شکر اداکروکہ اس نے تم دونوں کو حرام کاری سے بچالیا، اب تو اپنے اس بیٹے کو لے کراپنے گھر چلی جا۔ (1)(شواہدالنبوۃ،ص۱۶۱)

تبصرہ

مذکورہ بالا دونوں مستند کرامتوں کو بغور پڑھئے اور ایمان رکھيے کہ خداوند قدوس کے اولیاء کرام عام انسانوں کی طرح نہیں ہوا کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے ان محبوب بندوں کو ایسی ایسی روحانی طاقتوں کا بادشاہ بلکہ شہنشاہ بنادیتاہے کہ ان بزرگوں کے تصرفات اور ان کی روحانی طاقتوں اورقدرتوں کی منزل بلند تک کسی بڑے سے بڑے فلسفی کی عقل وفہم کی بھی رسائی نہیں ہوسکتی ۔
خدا کی قسم!میں حیران ہوں کہ کتنے بڑے جاہل یا متجاہل ہیں وہ لوگ جو اولیاء کرام کو بالکل اپنے ہی جیسا ملّا سمجھ کران کے ساتھ برابری کادعوی کرتے ہیں اور اولیاء کرام کے تصرفات کا چلا چلا کر انکار کرتے پھرتے ہیں ۔تعجب ہے کہ ایسے ایسے واقعات جو نور ہدایت کے چاند تارے ہیں ان منکروں کی نگاہ سے آج تک اوجھل ہی ہیں مگر اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ، جو دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو بند کرلے اس کو چاند ستارے تو کیا سورج کی روشنی بھی نظر نہیں آسکتی ۔درحقیقت اولیاء کرام کے منکرین کا یہی حال ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *